کبوتر سیٹلائٹ براڈ بینڈ کی کارکردگی کو کیسے متاثر کرتے ہیں؟

کرس ویلنس - ٹیکنالوجی رپورٹر

pigeons on a satellite dish
Getty Images
یونیورسٹی آف سرے میں سائبر سیکورٹی کے پروفیسر ایلن ووڈ ورڈ کا کہنا ہے کہ بغیر تعطل کے نشریات ایک بہت اچھی چیز ہیں مگر ان کے تجربے میں مختصر اور طویل دورانیے کا تعطل بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ یونیورسٹی آف سرے میں سائبر سیکورٹی کے ماہر اپنی نئی سیٹلائٹ براڈ بینڈ سروس سے متعلق بات کرتے ہوئے اپنے تجربات شیئر کر دیے۔ یہ سروس انھوں نے ایلن مسک کی سٹار لنک کمپنی سے حاصل کی ہے۔

ان کے خیال میں اس تعطل کی وجہ بہت سارے اداس کبوتر جو ڈش انٹینا پر بیٹھ کر ایسا ممکن بناتے ہیں۔

انھوں نے کچن کی چھت کے اوپر گرے رنگ کی ڈش رکھی ہے۔ کبوتر شاید اسے ایک جدید پرندوں کے نہانے کا ٹب سمجھتے ہیں جس میں بس صرف پانی کی کمی ہے۔

یہ سٹار لنک سیٹلائٹ سسٹم کا ایک ارتھ باؤنڈ اینڈ ہے۔

ایک ایسی جگہ پر زندگی گزارنا جہاں وہ فائبر براڈ بینڈ کنکشن کا صرف خواب دیکھ سکتے ہیں، پروفیسر ووڈورڈ کا کہنا ہے کہ وہ لو ارتھ آربٹ (ایل ای او) سیٹلائٹ براڈ بینڈ سسٹم کے بیٹا ٹیسٹرز میں سے ایک کے مالک ہونے پر خوشی محسوس کرتے ہیں۔

ایلون مسک نے حال ہی میں یہ اعلان کیا ہے کہ وہ ایک لاکھ ٹرمینل (صارفین کے لیے) بھیج دیے ہیں۔

چھوٹی ڈش سیٹلائٹس کو وصول کرنے اور بھیجنے کے لیے سگنل بھیجتی ہے، جو 1700 کے ایک اوورہیڈ کا حصہ ہے جو تقریباً 340 میل (550 کلومیٹر) کی بلندی پر اوور ہیڈ کو ٹکرارہا ہے۔ وہ ہر 90 منٹ یا اس کے بعد زمین کا چکر لگانے کے لیے کافی تیزی سے سفر کرتے ہیں۔

مزید ہزاروں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، لیکن اسٹار لنک چلانے والی ایرو اسپیس کمپنی اسپیس ایکس کے صدر گینی شاٹ ویل نے تسلیم کیا ہے کہ چپس اور مائع آکسیجن ایندھن کی قلت سے نئے لانچز متاثر ہو رہے ہیں۔

کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کی غرض سے آکسیجن کی فیول کے بجائے کمرشل طلب میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

بڑے پیمانے پر ہونے والا نشریات میں تعطل

پروفیسر ووڈ ورڈ ابھی بھی تعطل کی وجوہات پر تحقیق کر رہے ہیں، اگرچہ ایک ماہر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اگر سٹار لنک انٹینا پر ایک کبوتر بیٹھا ہوا ہے تو پھر ہو یقیناً اس کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔

تاہم کبوتر ہی اس تعطل کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اس ہفتے دنیا بھر میں سٹار لنک کے صارفین کو تعطل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پروفیسر ووڈ ورڈ کے مطابق کمپنی کا براڈ بینڈ کنکشن مکمل طور پر غائب ہو گیا تھا۔

اس کمپنی کی سروس ابھی بھی بیٹا ہے جو کئی صارفین کو ایک گھنٹے تک دستیاب نہیں تھی اور سٹار لنک کمپنی نے اس تعطل کی کوئی وجوہات نہیں بتائی ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہوا تھا؟

A rocket

Roscosmos Press Office

سٹار لنک ایسی بہت سی کمپنیوں میں سے ایک ہے جو انٹرنیٹ سروسز مہیا کرتی ہے۔

پھر ایسی ہی ایک کمپنی ون ویب ہے، جس کا کچھ شیئر ٹیکس ادا کرنے والے برطانوی شہریوں کے پاس ہے۔ ون ویب کمپنی کا بھی خلا میں ہارڈ ویئر پہلے سے موجود ہے۔

اس کمپنی اس ہفتے 34 سیٹلائٹ لانچ کیے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت خلا میں 150 کلو گرام کے 288 اوبجیکٹ موجود ہیں۔

ون ویب کی توجہ کاروباری حضرات، میری ٹائم صارفین اور حکومت کو انٹرنیٹ کی سہولیات مہیا کرنا ہے۔ تاہم یہ کمپنی دیہی علاقوں کے صارفین کو ان کی طلب کے عین مطابق فائیو جی جیسی براڈ بینڈ سروسز کی فراہمی بھی یقینی بنا سکتی ہیں۔

دیہی علاقوں میں بہت سے لوگ سیٹلائٹ کے ذریعے براڈ بینڈ کی سروسز حاصل کر رہے ہیں چاہے انھیں اس کا ادراک ہے یا نہیں ہے۔ ایکسس پارٹنرشپ کے ڈائریکٹر فار ٹیکنیکل ڈویلپمنٹ مائیک تھامپسن کے مطابق صارفین کو شاید اس ٹیکنالوجی کے بارے میں سب معلومات دستیاب نہ ہوں۔

براڈ بینڈ سروسز مہیا کرنے والی کمپنیاں ہو سکتا ہے کہ ایسی جگہوں پر سیٹلائٹ لنک سے کام چلا رہی ہوں جہاں فائبر دستیاب نہیں ہے۔

یہ کتنی مہنگی ٹیکنالوجی ہے؟

اس سب کی آخر کوئی قیمت بھی ہے۔

پروفیسر ووڈ ورڈ کا کہنا ہے کہ اس کی قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ بیٹا ٹیسٹر کے اوزار حاصل کرنے کے لیے 500 پاؤنڈ خرچ کرنا ہوں گے یعنی ہر ماہ کے 89 پاؤنڈز۔

بہت سے نئے صارفین کے لیے نئی ٹیکنالوجی خرید کر پھر اس ٹیکنالوجی میں جدت کے ساتھ قیمتوں میں گراوٹ کو دیکھنا بہت تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔ شاٹ ویل نے اس ہفتے انکشاف کیاہے کہ نئے سال کے آخر تک نئے ڈِش کے ماڈل آدھی قیمت پر دستیاب ہوں گے۔ تاہم پروفیسر ووڈ ورڈ کو سٹار لنک کا استعمال ہی آسان لگتا ہے۔

ان کے مطابق وہ اس ڈِش جو کچن کے چھت پر رکھ کر بہتر نتائج حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سٹار لنک کمپنی ایک ایپ بھی مہیا کرتی ہے جس سے یہ پتا چلایا جا سکتا ہے کہ سروسز میں کوئی تعطل تو نہیں پایا جاتا ہے تاکہ ڈِش کے لیے صارفین کسی بہتر جگہ کا انتخاب کر سکیں اور یوں گھنٹوں عزیمت اٹھانے سے بچ سکیں۔ ان کے مطابق روٹر کے ساتھ اسے جوڑنے کے بعد اچھے سگنلز کی وجہ سے ان کے انٹرنیٹ کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔

پروفیسر ووڈ ورڈ کے مطابق یہ رفتار ڈاؤن لوڈ او اپلوڈ کے لیے معیاری ہوجاتی ہے، جس سے ٹی وی نشریات بھی باآسانی دیکھی جا سکتی ہیں۔ فروری میں ایلن مسک نے ٹوئٹر پر بتایا کہ سٹار لنک کو یہ امید ہے کہ وہ اپنی اس رفتار کو دُگنا کر کے 300 ایم بی پی ایس تک لے جائیں گے۔

ایل ای او کے زریعے سروسز حاصل کرنے والے صارفین کو کئی تجربات کا سامنا کرنے پڑے گا۔ ماہرین کے مطابق ان میں سے ایک یہ ہے کہ اردگرد کتنی اور ڈشز دستیاب ہیں۔ سٹار لنک نے حال ہی میں مخصوص علاقوں میں صارفین کی تعداد بھی متعین کر دی ہے۔

یونیورسٹی آف سرے کے پروفیسر مائیکل فچ کا کہنا ہے کہ ایک مخصوص علاقے میں ایک ساتھ تمام صارفین تیز تر رفتار حاصل نہیں کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق قریب قریب میں صارفین کی تعداد بڑھ جانے سے اوسط بٹ۔ریٹ جو انفرادی صارفین استعمال کر رہے ہیں اس کی رفتار کم ہو جائے گی چونکہ سسٹم کی ایک محدود صلاحیت ہے جو یہ کسی بھی علاقے میں فراہم کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رفتار میں کمی کا انحصار کئی چیزوں پر ہے، جس میں ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں سسٹم کی کارکردگی کا عمل دخل بھی شامل ہے۔

ان براڈ بینڈ کمپنیوں کے نگران ادارے آف کام نے حال ہی میں سیٹلائیٹ سسٹمز کے ایک دوسرے کے کام میں مداخلت پر تحفظات کو اظہار کیا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے صارفین کو تعطل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم پروفیسر مائیکل فچ کے مطابق یہ ممکنہ طور پر اتنا سنجیدہ معاملہ نہیں ہے۔

تاہم اس پر ماہرین کی رائے منقسم ہے۔

تھامپسن کا کہنا ہے کہ عام طور پر سست رو اور قابل اعتماد انٹرنیٹ کنکشن تیز مگر ناقابل بھروسہ سے بہتر ہے۔ ان کے مطابق ویڈیو کانفرنسز کے دوران مستحکم انٹرنیٹ کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔

Starlink trail

Getty Images

بھرا آسمان

ایل ای او ایک بہت مصروف جگہ ہے اور ماہرین فلکیات نے پہلے ہی ان کے مشاہدات کو خراب کرنے والے مصنوعی سیاروں (سیٹلائیٹ) کے راستوں کے بارے میں شکایت کی ہے۔

لیکن کچھ ایسے ہیں جنھیں تصادم کی فکر لاحق ہے۔

یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن کے پروفیسر ہیو لوئس کا کہنا ہے کہ ہم پہلے ہی اسٹار لنک کے مدار میں بڑی تعداد میں قریبی مسز کو دیکھنے کے لیے شروع کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

وہ جاسوس ٹیکنالوجی جو ہم سب استعمال کر رہے ہیں

دنیا کی متعدد بڑی ویب سائٹس کی بندش کے بعد بحالی کا کام جاری

بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں زیرسمندر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ میں کیوں مصروف ہیں؟

انھوں نے خبردار کیا ہے کہ بہت سارے سیٹلائٹ برجوں کے درمیان تصادم کو روکنا جلد ہی اس سے آگے بڑھ سکتا ہے جو انسان یا سادہ الگورتھم محفوظ طریقے سے ایسا کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ خلائی جہاز کو محفوظ رکھنے کے لیے مزید جدید تکنیکی حل درکار ہو سکتے ہیں۔ زمین کے چکر لگانے والے کتنے سیٹلائٹ جزوی طور پر ان کی براڈ بینڈ خدمات کی طلب پر منحصر ہوں گے۔

پروفیسر ووڈورڈ کے لیے سٹار لنک ایک مہنگی لیکن خوشگوار حیرت انگیز نئی خریداری تھی۔ کچھ دنوں کے استعمال کے بعد انھوں نے کہا کہ میں اس کے بارے میں شک میں مبتلا تھا کہ (یہ کیسے ممکن ہے مگر یہ) کتنی اچھی بات ہوگی کہ یہ آپ کو زمین کے کم مدار میں گزرنے والی اشیاء سے سگنل وصول کر کے دے گی۔

ان کے مطابق ان کے تجربے نے انھیں پرامید کر دیا ہے۔

چاہے وہ اس طرح سوچتا رہے مگر اس سب کا انحصار اس بات پر بھی ہو گا کہ ٹیکنالوجی کس طرح ترقی کرتی ہے۔۔، اور پھر یقینا کبوتر بھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words