پیلوک کنجیشن سینڈروم: ’خوش قسمت ہوں کہ ایک دہائی کے بعد میرے مرض کی تشخیص اور علاج ہوگیا‘

صوفی روبیمڈ نے سنہ 2018 کا زیادہ تر عرصہ کمر کے نچلے حصے اور پیٹ کی درد میں گزارا۔ یہ وہ علامات تھیں جو اس سے پہلے بھی ظاہر ہوتی تھیں لیکن کبھی ایک ہفتے سے زیادہ عرصے تک نہ رہتیں۔ یہ علامات طویل عرصے تک رہنے کے بعد چیک اپ پر ان میں پیلوک کنجیشن سینڈروم کے مرض کی تشخیص ہوئی۔

یہ ایسا مرض تھا جس کا اس سے پہلے کسی ڈاکٹر، جنھیں وہ برسوں چیک اپ کرواتی رہیں، نے صوفی کو نہیں بتایا تھا۔ وہ بتاتی ہیں کہ:


وہ منگل کا دن تھا، اور 14 اگست سنہ 2018 کی تاریخ تھی۔ میں نشہ آور ادویات کے اثر میں آپریشن تھیٹر میں لیٹی ہوئی تھی اور میری گردن سے گزاری گئی ایک نالی کے ذریعے دھاتی تاروں کا ایک گچھا میرے جسم میں پیلوک اور اوریز کی رگوں میں داخل کیا گیا تھا۔

حال ہی میں مجھ میں پیلوک کنجیشن سینڈروم کے مرض کی تشخیص کی گئی تھی۔ یہ ایک ایسا مرض ہے جس میں خون آپ کی پیلوک اور اوریز کے گرد جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اس سے جسم کے دیگر اعضا پر دباؤ بڑھنے لگتا ہے۔

یہ مرض متعدد دیگر طبی مسائل کو جنم دے سکتا ہے، جس میں انتہائی درد کے ساتھ ماہواری، چھوٹے آنت اور پاخانے کی رگوں میں مسائل، کمر درد، تھکاوٹ اور کبھی کبھی کمر کے نچلے حصہ یعنی پیلوک (کوہلوں) میں شدید درد کے مسائل شامل ہیں۔

لیکن ڈاکٹر جس طریقہ علاج سے میرا علاج کر رہے تھے اسے وینس ایمبولائزیشن کہتے ہیں لیکن اس کی کوئی ضمانت نہیں کہ یہ طریقہ علاج کامیاب ہوگا یا نہیں۔ مگر مجھے بتایا گیا تھا کہ 80 فیصد مریضوں میں یہ طریقہ علاج درد کم کرنے یا مکمل صحتیابی کے لیے کامیاب رہا ہے۔ لہذا مہینوں کی درد اور کرب کے بعد میرے لیے یہی امید کی آخری کرن تھی۔

یہ مرض ایک دن میں مجھے نہیں ہوا تھا۔ مجھے کم عمری میں ہی بہت زیادہ خون اور درد کے ساتھ ماہواری شروع ہو گئی تھی، مجھے پاخانے یا چھوٹی آنت کے مسائل کا بھی سامنا رہا۔ پھر جب میں تیس برس کی ہوئی تو مجھے کہا گیا کہ پیلوک کنجیشن سینڈروم اس کی ایک ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے۔

جب میں 20-22 برس کی تھی تو مجھے بتایا گیا کہ شاید مجھے اینڈمیٹروسس ہے۔ یہ وہ مرض ہے جس میں رحم یا یوٹرس کے سائز میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایک ماہر گائناکولوجسٹ نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ جاننے کے لیے کہ مجھے واقعی یہ مرض ہے اس کا واحد طریقہ لیپروسکوپی ہے۔ یہ وہ طریقہ تشخیص ہے جس میں ایک چھوٹا مائیکرو کیمرہ جسم میں کٹ لگا کر پیٹ میں داخل کیا جاتا ہے اور ڈاکٹر اس سے اندرونی اعضا اور مسائل کا جائزہ لیتے ہیں۔

مجھ سے کہا گیا اس کا متبادل یہ ہے کہ آپ اس کی دوا لے سکتی ہیں۔ لہذا میں نے اس وقت سوچا کہ لیپروسکوپی ایک خطرناک اور مشکل کام ہے لہذا میں نے دوا کھانا مناسب سمجھا۔ یقیناً جب تک میں نے یہ ادویات استعمال کیں انھوں نے میرے درد اور علامات کی شدت کو کم کیا لیکن کبھی بھی میرے مسئلہ کو مکمل ختم نہیں کیا۔

لہذا برسوں میں نے اس کا بہت علاج کروایا اور میرے ان گنت طبی ٹیسٹ کیے گئے جن میں سی ٹی سکین، ایم آر آئی، ٹرانسوجائینل الٹرا ساؤنڈ اور دیگر ٹیسٹ شامل ہیں۔ ڈاکٹروں نے مجھے فوڈ الرجی کا بھی کہا اور متعدد بار میں مخصوص پھل، سبزیاں یا خوراک اپنے روز مرہ کھانے سے نکالتی رہی۔

حتیٰ کہ ایک دن انھوں نے ایک چھوٹا کیمرہ میری بڑی آنت اور خوراک کی نالی میں بھی ڈال دیا تھا۔

پھر مجھے اس مرض کے باعث ایک نئی نوعیت کی تکلیف اور درد ہوا۔ عموماً مجھے ایک ہفتے کے لیے درد رہتا تھا لیکن سنہ 2018 کے جنوری کے اواخر میں یہ درد بتدریج پیٹ اور کمر کے نچلے حصے سے شروع ہوا اور چند ہی دنوں میں شدید پیٹ درد اور کمر کے نچلے حصے میں درد میں تبدیل ہو گیا۔

میں بستر پر اوندھے منھ پڑے رہنے اور بار بار باتھ روم جانے کے ساتھ ساتھ قے کر رہی تھیں۔ مسلسل ایک ہلکی سے درد ہوتی رہی اور اس مرتبہ وہ ختم نہیں ہوئی تھی۔ میں نے دفتر سے چھٹی لی اور مجھے درد کش ادویات دی گئی تھیں۔

خون کے ٹیسٹ سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ میرے جسم میں انتہائی سوزش ہے لیکن یہ واضح نہیں تھا کہ ایسا کیوں ہے۔ عام امراض کے ڈاکٹر کے خیال میں میرے جسم میں کوئی انفیکشن تھا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ بہت غیر یقینی تھا۔

میں نے بہت سے ڈاکٹروں کو دکھایا اور انھوں نے مجھے طرح طرح کی دوایاں دیں، کبھی اینٹی بایوٹکس تو کبھی دوسری ادویات کیونکہ ان کے خیال میں شاید مجھے پیشاب کی نالی میں انفکیشن کا مسئلہ تھا۔

میں اکثر اس حالت میں اپنے آپ کو زبردستی گھسیٹتے ہوئے دفتر جاتی۔ جہاں میں درد اور تھکاوٹ کا شکار رہتی۔ پھر آخر کار میں نے جون 2018 کو لیپروسکوپی کروانے کا فیصلہ کیا، وہ فیصلہ جو میں نے آٹھ برس قبل رد کر دیا تھا۔

جب میری لیپروسکوپی ہوئی تو میرے گائناکالوجسٹ ڈاکٹر نے بتایا کہ مجھے اینڈومیٹروسس نہیں ہے اور یہ کہ میری رگیں آپس میں الجھی ہوئی ہیں۔ میری آخری ٹرانسوجائنل الٹراساؤنڈ میں بھی پہلی مرتبہ مجھ میں ‘پیلوک کنجیشن’ کے مرض کی تشخیص کی گئی تھی اور اب میرے گائناکالوجسٹ نے خود اس کا مشاہدہ کر لیا تھا۔ مگر وہ اس بات سے متفق دکھائی نہیں دیتے تھے کہ الجھی ہوئی یہ رگیں مجھے وہ درد پہنچا سکتی ہیں جس کا مجھے سامنا تھا۔

پھر بھی انھوں نے مجھے رگوں کے ایک ماہر ڈاکٹر ایڈان کو دکھانے کو کہا۔ انھوں نے تصدیق کر دی کہ میری دائیں اور بائیں جانب اویری کی رگوں میں پیلوک کنجیشن ہے۔ اور ان الجھی ہوئی رگوں میں دیگر اعضا کی رگیں بھی شامل ہیں۔

پیلوک کنجیشن کی تشخیص ایک ماہر ڈاکٹر سے ہی ممکن ہے جبکہ اس کی علامات دیگر عام بیماریوں جیسی ہی ہیں۔

رائل کالج آف ابسٹریٹیشن اینڈ گائناکالوجسٹس کے پروفیسر اینڈریو ہارنی کہتے ہیں کہ ڈاکٹرز شدید پیلوک کے درد کے مریضوں میں سے دس سے چالیس فیصد کو گائینا کالوجی میں بھیجتے ہیں۔ تاہم یہ علم نہیں ہے کہ پیلوک کنجیشن سینڈروم کی وجہ کیا ہے اور یہ جسم کے کس حصے سے منسوب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘اس مرض کو جاننے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے اور ابھی اس بارے میں بہت کم آگاہی موجود ہے۔’

میرے سابقہ معالج ایڈن شا کہتے ہیں کہ کچھ ڈاکٹرز کو پیلوک کنجیشن سینڈروم کے بارے میں علم نہیں ہے اور بعض اس کے متعلق شبہات رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’پیلوک کنجیشن سینڈروم میں مختلف دیگر امراض جیسی علامات ظاہر ہوتی ہے اور میرے خیال میں اکثر اوقات ڈاکٹرز اور نرسز اس کی غلط تشخیص کر دیتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ڈاکٹروں کو اس متعلق غور کرنا اور اس کی تشخیص کے لیے اس پر یقین کرنا چاہیے مگر افسوس یہاں کچھ ایسے ہیں جو اس جسمانی حالت یا بیماری پر یقین نہیں کرتے۔‘

یہ بھی پڑھیے

‘میرے درد کو سب لوگ تماشے کا نام دیتے تھے’

’بے چینی اور سیکس سے بیزاری مینوپاز کی عام علامات ہیں‘

ہر دس میں سے ایک عورت کو لاحق لاعلاج درد ہے کیا؟


پیلوک کنجیشن سینڈروم اور پریگنینسی

یہ مرض ان خواتین میں زیادہ عام ہے جو کم از کم ایک مرتبہ حاملہ ہوئی ہو کیونکہ خون کے زیادہ بہاؤ اور بچہ دانی کے سائز میں پھیلاؤ سے پیلوک اور بیضے پر دباؤ پڑتا ہے۔

ان میں سے کوئی بھی وجہ رگوں میں موجود خون پاس کرنے کے والوں کو بند کر سکتی ہے اور خون واپسی کی جانب بہنا شروع ہو جاتا ہے اور اس سے یہ مرض بننا شروع ہو جاتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ رگوں میں والوو کی غیر موجودگی یا کسی بھی وجہ سے خون کے بہاؤ میں رکاوٹ آ جائے تو یہ مرض جڑ پکڑ لیتا ہے۔

مردوں میں بھی پیلوک کنجیشن سینڈروم کا مرض پایا جاتا ہے البتہ یہ بہت کم ہے لیکن اس کی تشخیص مردوں کی خصیہ دانی میں بڑھی ہوئی رگوں سے کی جا سکتی ہیں جسے فوطے کی رگوں کے پھولنے سے بننے والی گِلٹی بھی کہا جاتا ہے۔


ایک ریڈیالوجسٹ کی حیثیت سے، ایڈن شا مرض کی تشخیص کے لیے مختلف طبی امیجنگ تکنیک استعمال کرتے ہے اور پھر کم سے کم خطرناک طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے اس کا علاج کرتے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ اور ان کے دوست مسلسل اس بارے میں آگاہی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا کِیا جا سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس کا بس ایک ہی طریقہ ہے کہ ڈاکٹروں، مریضوں اور عام لوگوں کو اس بارے میں تعلیم دی جائے۔‘

میرا علاج اگست 2018 میں ہوا جب سرجری کے ذریعے دھاتی تاروں کی مدد سے میری الجھی ہوئی رگوں کو بند کیا تاکہ وہ دوبارہ خون سے بھر نہ جائیں، پھول نہ جائیں اور درد کا سبب نہ بنیں۔

تب سے میری حالت بہتر ہوئی ہے لیکن اب بھی ماہواری کے دنوں میں مجھے شدید درد ہوتا ہے۔

جنوری 2020 میں یہ عام حالات سے زیادہ برے تھے اور میں نے یہ جاننے کے لیے ایم آر آئی کروائی کے کہیں مجھے ایڈنیموسس تو نہیں، یہ وہ مرض ہے جس میں آپ کی بچہ دانی کا سائز بڑھ جاتا ہے اور وہ پٹھے سے باہر نکل آتی ہے اس کے سبب بھی رگوں میں گانٹھ پر سکتی ہے۔

خوش قسمتی سے ڈاکٹروں کو ایسا کچھ نہیں ملا اور انھوں نے میرے جسم میں مزید کوئی الجھی رگیں نہیں دیکھی۔

اس کے بعد ڈاکٹر کے معائنے کے دوران میں نے اپنے گائناکالوجسٹ سے پوچھا تھا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ برسوں تک میری درد اور بڑی آنت کی علامات پیلوک کنجیشن سینڈروم اور میری ماہواری کے مسائل کی وجہ سے تھے یا اس کی کوئی اور وجہ ہو سکتی ہے۔

ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک سینکڑوں میڈیکل ٹیسٹ کروانے کے بعد مجھے میرے جسم کے متعلق باخوبی اندازہ ہو چکا ہے لیکن انھوں نے مجھ سے کہا کہ وہ یقین کے ساتھ میرے سوال کا جواب نہیں دے سکتیں۔

لیکن میں یہ نہیں سننا چاہتی تھی۔ سرجری کے ایک سال گزرنے اور اس بات کو ایک برس ہو گیا ہے اور میں اب ٹھیک ہوں۔ میں خود کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ آخر کار میرے مرض کی تشخیص ہو گئی اور میرا علاج ہو گیا اور میں ہمیشہ ان دھاتی تاروں کا شکر گزار رہوں گی جنھوں نے میری زندگی کو آسان بنایا اور تبدیل کر دیا۔


پیلوک کنجیشن سینڈروم کیا ہے؟

رائل کالج آف ابسٹریٹیشن اینڈ گائناکالوجسٹس کے پروفیسر اینڈریو ہارنی کے مطابق یہ وہ پھولی ہوئی رگیں ہیں جو پیلوک میں ہوتی ہیں اور یہ خواتین میں شدید درد کا سبب بنتی ہیں۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ درد پھولی ہوئی رگوں کے باعث ہوتی ہیں جو اوریرز کے گرد ہوتی ہیں یا کبھی بلیڈر یا ریکٹم کے گرد۔ اس کے خواتین کو کوہلوں میں بھاری پن اور ٹانگوں میں کھیچاؤں محسوس ہوتا ہے۔

اس سے ان کی پاخانے اور پیشاب کی عادات میں بھی تبدیلی آتی ہے اور بعض اوقات پاخانے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔

اس مرض کے ادویات درد اور پھولی ہوئی رگوں کی سوزش کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اور اگر اس سے بہتری نہ آئے تو سرجری کی جا سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words