افغانستان میں طالبان: ’افغانستان سے نکلا تو جیب میں صرف ایک ہزار افغانی تھے، اب ان کا تعویز بناؤں گا‘

خدائے نور ناصر - بی بی سی، اسلام آباد

افغانی نوٹ
BBC
’مجھے کال آئی کہ آپ کابل ایئرپورٹ پہنچ جائیں۔ میں نے اپنے اور اپنے بچوں کے دو دو جوڑے ایک بیگ میں ڈالے اور اپنی بیوی اور چار بچوں سمیت ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہوا۔ میرے جیب میں تین ہزار افغانی تھے، صرف تین ہزار۔‘

ولی احمد (فرضی نام) گذشتہ کئی سال سے کابل میں ایک برطانوی ادارے کے ساتھ کام کرتے تھے۔

جوں جوں طالبان کابل کے قریب آتے گئے کابل میں لوگوں میں خوف و ہراس بڑھتا گیا۔ طالبان کے آنے سے دو دن قبل بینکوں نے اپنے صارفین کو محض کئی سو ڈالر تک پیسے دیے اور کوئی بھی شہری اپنے ہی اکاونٹ سے اس سے زیادہ رقم نہیں نکلوا سکتا تھا۔

ولی احمد کے مطابق 13 اگست کو اُنھوں نے بینک سے پانچ یا چھ ہزار افغانی نکالے اور پندرہ تاریخ کو صدر اشرف غنی کے جانے کے بعد ملک کے تمام اکاونٹس منجمند ہوئے اور کوئی بھی صارف بینک سے رقم نہیں نکال سکتا تھا۔

’پانچ یا چھ ہزار افغانی پہلے ہی لگ گئے لیکن جس وقت میں ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہوا تو میرے جیب میں صرف تین ہزار افغانی رہ گئے تھے۔‘

کابل پر طالبان کنٹرول کے بعد رواں ماہ کی پندرہ تاریخ سے ہزاروں افغان، طالبان کے خوف سے اپنا ملک چھوڑ کر دوسرے ممالک جا چکے ہیں اور کئی ہزار اب بھی اس انتظار میں ہیں کہ کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ائیرپورٹ دوبارہ کمرشل فلائٹس کے لیے کھل جائے تاکہ وہ بھی بیرون ملک جاسکیں۔

ولی احمد اُن ’خوش قسمت‘ افغانوں میں سے تھے جو تین دن قبل اپنی فیملی کے ہمراہ لندن پہنچ چکے ہیں اور اس وقت وہ ایک مقامی ہوٹل میں قرنطینہ کا وقت گزار رہے ہیں۔

کابل ایئرپورٹ

Getty Images

ایئرپورٹ کی قطار میں تیس گھنٹے

ولی احمد کہتے ہیں کہ اُنھیں اپنی دفتر اور برطانوی حکومت کی جانب سے ای میل اور ٹیلی فون کالز آنے کے بعد وہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ شام آٹھ بجے کابل ائیرپورٹ پہنچے جہاں اُنھیں بتایا گیا کہ ’باران کیمپ‘ گیٹ سے اندر داخل ہو جائیں۔

’باران کیمپ گیٹ تک چار یا پانچ کلومیٹر کا فاصلہ تھا اور یہ فاصلہ پیدل طے کرنا تھا۔ دو گھنٹے میں ہم گیٹ پر پہنچے اور صبح تین بجے تک وہاں انتظار کرتے رہے کہ ہو سکتا ہے اس رش میں ہمیں کوئی راستہ دیا جائے گا کیونکہ ہمارے پاس ای میلز اور دستاویزات تھے۔‘

ولی احمد کے مطابق اُس کے بعد اُنھیں پتہ چلا کہ راستہ صرف یہی ایک ہے اور لوگوں کی بھیڑ میں وہ بھی قطار میں کھڑے ہو گئے۔ یہ وہی راستہ تھا جہاں اُن کے جانے کے دو دن بعد خودکش حملہ ہوا۔

بینر

BBC

افغانستان: کیا طالبان پر دیگر ممالک سے تجارت جاری رکھنے کا دباؤ ہوگا؟

’طالبان کہتے ہیں نوکریوں پر جائیں لیکن جب لوگ کام پر جاتے ہیں تو اُنھیں واپس بھیج دیتے ہیں‘

افغانستان کی صورتحال نے کیسے چین کے حوصلے بلند کیے اور دیگر ایشیائی ممالک کو ہلا کر رکھ دیا


ولی احمد بتاتے ہیں کہ وہ اس قطار میں آہستہ آہستہ آگے جاتے رہے اور صبح آٹھ بجے وہ اُن برطانوی فوجیوں کے قریب پہنچے جو دستاویزات چیک کر رہے تھے۔

’ہماری ای میلز اور دستاویزات چیک کرنے کے بعد ہمیں اندر باران کیمپ کے راستے تک جانے دیا گیا جہاں پھر ہم کئی گھنٹے تک قطار میں کھڑے رہے۔‘

ولی احمد کہتے ہیں کہ یہاں شدید گرمی کی وجہ سے بہت سارے بچے بے ہوش بھی ہوئے۔ ولی کے مطابق اُن کی سب سے چھوٹی بیٹی صرف چھ ماہ کی ہے اور وہ بھی کئی بار بے ہوش ہوئی۔

’کھانا نہیں تھا لیکن پانی وافر مقدار میں ملتا رہا اور ہم بار بار اپنی بچی پر پانی ڈالتے رہے کیونکہ وہ شدید گرمی کی وجہ سے بے ہوش ہو رہی تھی۔‘

کابل ایئرپورٹ

Getty Images

دوپہر ایک بجے ولی احمد اور اُن کی فیملی آخر کار باران کیمپ گیٹ کے اندر جانے میں کامیاب ہوئے۔ رات سے کسی نے کھانا بھی نہیں کھایا تھا اور نہ ہی کھانے کے لیے کوئی چیز دستیاب تھی۔

ولی احمد کے مطابق یہاں پر ایک دکان ملی جہاں پانچ افغانی کے بسکٹ اب دو سو افغانی میں فروخت ہو رہے تھے لیکن چونکہ اور کوئی راستہ نہیں تھا اسی لیے اُنھوں نے اپنے بچوں کے لیے دو ہزار افغانی کے بسکٹ خریدے۔

’دو ہزار افغانی میں دس چھوٹے پیکٹ بسکٹ خریدے۔ کچھ اپنے بچوں کو دیے اور کچھ ہمارے آس پاس بچوں کو دیے کیونکہ اُنھوں نے بھی کچھ نہیں کھایا تھا۔‘

ولی احمد کے مطابق شام آٹھ بجے اُن کے بائیومیٹرک کرنے کی باری آئی اور وہاں سے صبح تین بجے ایک گاڑی میں بٹھا کر ہوائی اڈے کی طرف لے گئے اور اُس کے دو یا تین گھنٹے بعد اُنھیں لینے جہاز آیا۔

بغیر سیٹوں والے جہاز میں سفر

ولی احمد کے مطابق جہاز کے اندر داخل ہوئے تو سیٹوں کے بغیر والے اس جہاز میں انھیں تنگ تنگ بٹھا دیا گیا۔

’ایک تو جگہ بہت تنگ تھی اوپر سے جہاز کی اتنی تیز آواز آ رہی تھی کہ بچے سارے راستے روتے رہے۔‘

ولی احمد کہتے ہیں کہ جہاز میں بیٹھنے کے بعد کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ ہمیں کہاں لے کر جا رہے ہیں تاہم اُن کے مطابق اُنھیں ای میل کے ذریعے پہلے سے بتا دیا گیا تھا کہ اُن کو قطر منتقل کیا جائے گا اور اس کے بعد اُنھیں انڈیا، پاکستان یا ترکی بھیج دیا جائے گا۔

کئی گھنٹے بعد جہاز دبئی پہنچا اور وہاں پہنچنے پر ایک پورا ٹرمینل افغانستان سے نکلنے والے افراد کے لیے خالی کر دیا گیا اور ولی احمد کی فیملی سمیت کئی افغان خاندانوں کو وہاں اُتار دیا گیا۔

کابل ایئرپورٹ

Getty Images

ولی احمد کہتے ہیں ’دبئی پہنچنے کے بعد ہم سب کو کھانا کھلایا گیا اور ہم نے لگ بھگ چالیس گھنٹوں کے بعد جی بھر کر کھانا کھایا۔‘

ولی احمد بتاتے ہیں کہ دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل پر بھی اُنھیں منزل کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا لیکن تین یا چار گھنٹے کے بعد ایک اور جہاز میں بٹھاتے وقت اُنھیں بتایا گیا کہ ’ہم لندن کی طرف جا رہے ہیں‘ اور یوں ولی احمد سمیت کئی افغان خاندان کابل سے لندن پہنچنے میں کامیاب ہوئے لیکن ولی احمد کہتے ہیں کہ ’اب اُن کی زندگیاں تو محفوظ ہیں لیکن وطن کی یاد اُنھیں ستاتی رہے گی۔‘

وطن کی آخری یاد ’ایک ہزار افغانی‘

کابل میں ولی احمد نے اپنا پورا گھر ویسے ہی چھوڑ دیا۔ کابل ایئرپورٹ میں داخل ہونے کے بعد اُنھوں نے اپنے بھائیوں کو فون کیا اور بتایا کہ وہ اپنی بیوی بچوں سمیت اپنا گھر اور سب کچھ چھوڑ کر کابل ایئرپورٹ پر ملک چھوڑنے کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔

ولی احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ لندن پہنچنے کے بعد اُنھیں پتہ چلا کہ اُن کی جیب میں ایک ہزار افغانی کا نوٹ اب بھی ہے اور اب اس نوٹ کو وہ ’ساری عمر اپنے پاس رکھیں گے۔‘

وہ کہتے ہیں ’میرے پاس میرے ملک کا صرف ایک کرنسی نوٹ ہے اور اس نوٹ کو میں تعویز بنا کر اپنے گلے میں لٹکاؤں گا تاکہ میرے وطن کی یہ آخری نشانی مجھ سے کھو نہ جائے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words