ینگ ڈاکٹرز کے احتجاج پر کیمیائی سپرے کا الزام: لاہور میں پولیس نے ڈاکٹروں کو منتشر کرنے کے لیے کون سا سپرے استعمال کیا؟

ترہب اصغر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

لاہور میں ڈاکڑوں کے مظاہرے پر پولیس کی جانب سے کیمیائی سپرے کے استعمال کے بعد بیشتر ڈاکٹروں کی طبیعت خراب ہونے پر ڈاکٹروں کی جانب سے سوموار کو پنجاب کے چند ہسپتالوں میں احتجاجاً او پی ڈی بند کرنے کی کال دی رکھی ہے۔

اتوار کے روز لاہور کی برکت مارکیٹ میں ڈاکٹرز نیشنل لائسنسنگ کے امتحان (این ایل ای) کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے امتحانی مرکز کے باہر پہنچے تھے جس پر لاہور پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے کیمیائی سپرے کا استعمال کیا تھا۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ برکت مارکیٹ میں امتحانی مرکز کے باہر پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے جنگلے اور خار دار تاریں لگا رکھی تھیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق وہ رکاوٹوں کے اس پار کھڑے نعرے بازی کر رہے تھے کہ پولیس نے ہم پر کیمیائی سپرے کر دیا جو ان کے دعوے کے مطابق ‘پانی میں ملا سلفیورک ایسڈ تھا۔’

اس واقعے کے بارے میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے سروسز ہسپتال میں موجود ڈاکٹر حماد نے بتایا کہ ’ہمارے پاس سروسز ہسپتال میں کئی طلبہ اور ینگ ڈاکٹرز لائے گئے۔ اس فلور پر کل 11 لڑکے آئے تھے۔ جب وہ یہاں لائے گئے تو ان کی طبیعت خاصی خراب تھی اور وہ درد کی شدت کے باعث چیخیں مار رہے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ‘ان ینگ ڈاکٹروں کا معائنہ کرنے پر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ان پر کوئی ایسا کیمیکل پھینکا گیا ہے جس سے انھیں فرسٹ ڈگری برنز ہوئے ہیں اور ان کے ہاتھوں، بازوؤں اور جسم کے دیگر حصوں پر سرخ رنگ کےدھبے بنے ہوئے تھے۔’

انھوں نے بتایا کہ ‘ہم نے فوری طور پر ان کے جسم کے متاثرہ حصوں پر دوا لگائی اور ان کی آنکھوں جلن کو کم کرنے کے لیے محلول بنا کر آنکھوں میں ڈالے تاکہ انھیں کچھ آرام ملے۔’

’پولیس نے جمعے کو کیمیائی سپرے کیا تھا‘

متاثرہ ڈاکٹروں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ ہم پر کیمیائی سپرے کیا گیا ہو۔‘

ڈاکٹر ارسلان اور ڈاکٹر مدثر کے مطابق ’جمعے کو بھی پولیس نے ہم پر کیمیائی سپرے کیا تھا۔ جس سے ہمیں تکلیف اور جلن ہوئی لیکن جو سپرے پولیس نے اتوار کے روز استعمال کیا ہمارے خیال میں تو وہ یقینا سلفیورک اسیڈ تھا۔ کیونکہ اس واقعے کے اتنے گھنٹے گزرنے کے بعد بھی لگ رہا کہ جسم جل رہا ہے۔‘

یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے ڈاکٹروں کے لیے نیشنل لائسنسنگ کا امتحان جمعے کو ہوا تھا تاہم ڈاکٹروں نے اس دن بھی اس کے خلاف احتجاج کیا جس کے بعد اسے اتوار تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔

ڈاکٹر مدثر کے مطابق اتوار کو پولیس کے جانب کیے جانے والے کیمیائی سپرے سے جسم کے ساتھ ساتھ آنکھیں، ناک اور گلہ بھی بری طرح متاثر ہوا۔

پولیس کا موقف کیا ہے؟

لاہور پولیس کے ترجمان رانا عارف کے مطابق پولیس کی جانب سے مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آرتھرائزڈ پیپر سپرے کا استعمال کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ڈاکٹروں کے مجمعے نے خلاف قانون بیئرز کو ہٹاتے ہوئے امتحانی مرکز میں داخلے کی کوشش کی جس سے مشتعل ہجوم کو پرامن طور پر منتشر کرنے کے لیے محدود حد تک پیپر سپرے استعمال کیا گیا جس کے کوئی جانی نقصانات نہیں ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘پولیس کی جانب سے استعمال کیا جانے والا پیپر سپرے بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے۔

لاہور پولیس کے ترجمان رانا عارف کا مزید کہنا تھا کہ ‘پنجاب پولیس کو یہ سپرے حکومت کی جانب سے مہیا کیا جاتا ہے تاکہ بوقت ضرورت مشتعل ہجوم کو منشتر کیا جا سکے۔ اس لیے قانونی طور پر پولیس اس کا استعمال کر سکتی ہے۔’

ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا بھر میں مشتعل ہجوم کو پرامن طریقے سے منتشر کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جاتے ہیں جن میں اس پیپر سپرے کا استعمال بھی ہے۔

اس سپرے میں کون کون سے کیمیکل پائے جاتے ہیں؟

لاہور پولیس کے ترجمان کے مطابق پاکستان میں مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے اوسی گیس ٹیوب پیپر سپرے کٹ کا استعمال کیا جاتا ہے۔

پولیس ترجمان اور کیمیائی اجزا کے ماہرین کے مطابق عمومی طور پر اوسی گیس ٹیوب پیپر سپرے میں اولیورسن شملہ مرچ، ایک ٹیوب نما سلنڈر میں مائع نائٹروجن گیس کے پریشر سے بھرا جاتا ہے۔

’اس پیپر سپرے کے اجزا میں اولیورسن شملہ مرچ کا تیل جس میں مرچ شامل ہوتی ہے۔ اور کیپسائسن نامی جزو شامل ہوتا ہے۔ یہ وہ ہی کیمیکل ہے جو زیادہ تر مرچوں میں پایا جاتا ہے اور یہی سپرے میں شدت لاتا ہے۔‘

کیمیائی ماہرین کے مطابق ’اس کیمیکل میں مرچ کے مقابلے میں کیپسائسن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور اگر اس کیمیل کی مقدار زیادہ کر دی جائے تو اس اثرات کے کئی گھنٹوں تک رہتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس سپرے میں کیمیکلز کی مقدار کم اور زیادہ کی جا سکتی ہے۔‘

’یہ تیزاب کے زخم نہیں ہیں

اتوار کی رات اس سپرے سے متاثرہ چند ڈاکٹرز سروسز ہسپتال اپنا میڈیکل کروانے پہنچے تھے ان میں سے ایک متاثرہ ڈاکٹر نے مجھے اپنا بازو اور ہاتھ دکھاتے ہوئے کہا کے ‘اس واقعے کو گزرے تقریباً دس بارہ گھنٹے ہوگئے ہیں لیکن یقین کریں ابھی ایسے جلن ہو رہی ہے کہ جیسے میری جلد بری طرح جلی ہوئی ہو۔’

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم یہاں اپنا میڈیکل کروانے اس لیے آئے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ پولیس نے ہم پر کون سا کیمکل استعمال کیا ہے۔‘

واضح رہے کہ قانونی طور پر ہسپتال سے میڈیکیولیگل کروانے کے لیے پولیس کی جانب سے خصوصی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔

سروسز ہسپتال میں موجود میڈیکیولیگل آفسر نے متاثرہ ڈاکٹروں کا معائنہ کرنے کے بعد کہنا تھا کہ ‘ان پر کیمیائی سپرے کے استعمال کو کافی وقت گزر چکا ہے اور سپرے میں استعمال کیا جانے والا کیمیکل انسانی جسم کے پسینے سے مل چکا ہوگا لہذا یہ جاننا مشکل ہوگا کہ ان پر اصل میں کون کا کیمیکل استعمال کیا گیا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘بظاہر ابھی تو یہ ایسڈ برن نشانات نہیں لگ رہے لیکن جو بھی کیمکل استعمال ہوا اس کے اثرات تکلیف دہ ہیں اس کا استعمال کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔‘

’پولیس نے ایسا سپرے استعمال کیا ہو جس کے معیاد ختم ہو چکی تھی‘

تاہم پولیس کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں پولیس کے لیے پیپر سپرے کا استعمال کچھ زیادہ پرانا نہیں ہے۔

’آج سے پانچ سال پہلے تک ایسا کوئی سپرے پولیس کے پاس نہیں تھا اور نا ہی ہم اس کا استعمال کرتے تھے۔ جبکہ اسے شہباز شریف دور میں پہلی مرتبہ پاکستان منگوایا گیا جسے پہلے ترکی اور اب امریکہ سے درآمد کیا جاتا ہے۔ یہ سپرے پاکستان میں تیار نہیں کیا جاتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ عموماً پاکستان میں پولیس ایسے سپرے کا استعمال بہت زیادہ نہیں کرتی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ‘میرے خیال میں جمعے کے روز ڈاکٹروں پر جس سپرے کا استعمال کیا گیا اس میں کیمیکل مقدار کم تھی اور اتوار کے روز استعمال ہونے والے سپرے میں کمیکل مقدار عام مقدار سے زیادہ تھی۔ جس کی وجہ سے ڈاکٹرز اسے سلفیورک ایسڈ کہہ رہے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

خیبر پختونخوا: ڈاکٹروں، حکومت کا تنازع کیا ہے؟

’دونوں ڈاکٹر وقت پر مدد کو نہ آتے تو بہت بڑا نقصان ہو جاتا‘

’مریض بےچارہ کیا کر سکتا ہے لڑ تو نہیں سکتا‘

انھوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ ہو سکتا ہے کہ ‘پولیس نے ایسا سپرے کیا ہو جس کی میعاد ختم ہو چکی ہو، کیونکہ یہ سپرے زیادہ استعمال نہیں ہوتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ماضی میں لاہور میں کسانوں کی طرف سے کیے جانے والے احتجاج میں بھی یہ ہی سپرے استعمال کیا گیا تھا۔

ڈاکٹرز لائسنسنگ کا امتحان کیوں نہیں دینا چاہتے؟

بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سلمان حسیب کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں ڈاکٹروں سے سب سے زیادہ امتحانات لیے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ ڈاکٹروں کی قابلیت اور اہلیت کو جانچنے کے لیے امتحانات کی تعداد بڑھانے کی بجائے پہلےسے لیے جانے والے امتحانات کا معیار بہتر کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ نیا امتحان صرف ڈاکٹروں پر ایک اضافی بوجھ ہے اور پی ایم سی کے لیے پیسے بننانے کا ایک اور ذریعہ ہے۔’

’ڈاکٹروں کو امتحان سے مسئلہ ہے تو متعلقہ فورم سے رابطہ کرے‘

پنجاب حکومت کے ترجمان فياض الحسن چوہان نے اس معاملے پر بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر انھیں کسی قسم کا امتحان دینے سے مسئلہ ہے تو وہ عدالت یا متعلقہ ادارے سے رجوع کریں جو اس معاملے کو دیکھ کر اس پر کارروائی کرنے کا اختیار رکھتا ہو۔

انھوں نے کہا کہ ‘ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم سی) نے ان سے اضافی امتحان لینے کا فیصلہ کیا اور یہ یہاں امتحانی مرکز پر آکر امتحان کو زبردستی رکوانے کی کوشش کر رہے تھے جس پر انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے پیپر سپرے کا استعمال کیا۔

انھوں نے سیاسی حریف جماعت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ‘اب ہم شہباز شریف تو ہیں نہیں جو سیدھی گولیاں ماریں، منتشر کرنے کے لیے ہم تو زیادہ سے زیادہ پیپر سپرے ہی کر سکتے تھے۔’ ‘

مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کیمیکل یا گیس کا استعمال کرنا جائز ہے؟

سنہ 1925 کے جنیوا پروٹوکول نے پہلی جنگ عظیم کے فورا بعد آنسو گیس اور دیگر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی تھی۔

اقوام متحدہ کی ویب سائٹ کے مطابق جنیوا میں منعقدہ ایک کانفرنس میں اس پابندی کو عمل میں لانے کے لیے آٹھ فروری، 1928 کو دستخط کیے گئے تھے۔ تاہم اس کے بعد بھی ان کا استعمال کئی ممالک میں ہوتا رہا۔

سنہ 1993 میں ، اقوام متحدہ کے کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کے تحت ہنگامہ آرائی کے دوران استعمال ہونے والے تمام ایسے نقصان دہ ایجنٹوں کے بارے میں کہا گیا کہ ‘کوئی بھی کیمیکل جو انسانوں میں تیزی سے جلن پیدا کرے یا جسمانی اثرات کو غیر فعال کر سکتا ہے اور اس کے استعمال کے بعد مختصر وقت میں غائب ہو جاتا ہے اس کے استعمال پر پابندی ہے۔’

البتہ پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک جن میں امریکہ بھی شامل ہے آج تک ان حربوں کا استعمال کر رہے ہیں جبکہ چند ملکوں میں ان کے استعمال پر سخت پابندی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words