افغانستان ایک بے یارو مدد گار ملک

جان سمپسن - بی بی سی ورلڈ افیرز ایڈیٹر

دنیا کے وہ ممالک جو روایتی طور پر امریکی پشت پناہی پر انحصار کرتے ہیں افغانستان کے حالات دیکھتے ہوئے انہوں نے اچانک یہ سوچنا شروع کر دیا ہے کہ کیا انہیں امریکہ کی جانب سے ایک بار پھر یقین دہانی کی ضرورت ہے۔

تائیوان خاص طور پر پریشان ہے جسے تقریباً ہر روز چین کی طرف سے حملے کی دھمکیوں کا سامنا ہے ۔ جنوبی کوریا ، جاپان ، مغربی یورپ اور برطانیہ سب حیران ہیں کہ کیا امریکہ کے ساتھ ان کی وابستگی یا وعدوں کا حال افغانستان کی طرح ہو سکتا ہے۔

صرف چار مہینے پہلے صدر جو بائیڈن نے پراعتماد انداز میں یقین دلاتے ہوئے کہا تھا ‘ہم افغانستان سے باہر نکلنے میں جلد بازی نہیں کریں گے۔ ہم یہ کام ذمہ داری کے ساتھ ، سوچ سمجھ کر اور محفوظ طریقے سے کریں گے۔ اور ہم یہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مکمل تعاون اور شراکت دار کے ساتھ کریں گے’۔

لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اور ایک ایسا ملک جس کی پوری نسل امریکی اور مغربی حمایت پر انحصار کرتی تھی اچانک خود کو تنہا اور بے یارو مدد گار محسوس کرنے لگا ہے۔

جب نومبر 2001 میں مغربی حمایت کے ساتھ معتدل افغان مجاہدین کے اتحاد نے طالبان کو اقتدار سے بے دخل کیا تھا تو نسبتا خوشحالی اور شخصی آزادی کا دور شروع ہوگیا تھا۔ کابل اور ملک کا بیشتر حصہ غربت سے باہر آگیا تھا وہ غربت جو طالبان کے پانچ سالہ اقتدار میں پھیلی تھی۔

یقینی طور پر اعلی سطح پر بڑی بدعنوانیاں ہوئیں لیکن وہاں ترقی بھی ہوئی اور لوگوں میں خوف بھی نہیں تھا۔ بچوں کی شرح اموات میں 50 فیصد کم ہوئی۔

طالبان کے خلاف جنگ ایک سکیورٹی آپریشن میں سمٹ گئی تھی۔ افغان فوجی ، پولیس اور شہری ابھی تک مشکلات کا شکار تھے لیکن بہت کم تعداد میں مغربی فوجی مارے جا رہے تھے۔ پچھلے سال ان ہلاکتوں کی تعداد گیارہ تھی۔افغانستان سے کہیں زیادہ امریکی فوجی برطانیہ میں تعینات تھے۔ محض 2500 کی چھوٹی مغربی فوج نے طالبان کو دبا کر ملک کو مستحکم رکھا ہوا تھا۔

مغربی فوجوں کو افغانستان سے واپس بلانے کی آخری تاریخ کے اعلان کے سبب طالبان ایک دم سے کابل اور ملک پر قابض ہو گئے۔

افغانستان

BBC
جان سمپسن افغانستان سے رپورٹنگ کرتے ہوئے

افغانستان میں اب سب کچھ غیر یقینی ہے۔ سکول اور کالج جہاں لڑکیاں اچھی تعلیم حاصل کر رہی تھیں تقریباً بند ہو چکے ہیں۔ ملک بھر سے موصول ہونے والی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ خواتین کو اب سڑکوں پر کم ہی دیکھا جا سکتا ہے جیسا کہ 1996 میں جب طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ہوا تھا۔

روس افغانستان میں کیا چاہتا ہے؟

افغانستان پر طالبان کا کنٹرول، سعودی عرب اب تک خاموش کیوں ہے؟

مقامی سطح پر مظالم کی اطلاعات ہیں مثال کے طور پر صوبہ بغلان میں لوک گلوکار فواد اندرابی کا قتل۔ افغانستان کے قصبے اور شہر 20 سالوں سے موسیقی سے گونج رہے تھے۔ اب طالبان نے اس پر پابندی لگا دی ہے۔

صدر اشرف غنی کی سابقہ حکومت کے کچھ حامی طالبان قیادت کے ساتھ مذاکرات شروع کر رہے ہیں اور ممکن ہے کہ ایک نیا اتحاد ابھرنا شروع ہو جائے جو کہ طالبان حکومت سے تھوڑا زیادہ اعتدال پسند ہو گا جو پہلے ملک چلا رہا تھا۔ لیکن کابل اور دیگر اہم شہروں سے باہر اصل طاقت طالبان کے حامی جنگجوؤں کے گروہوں کے ساتھ ہوگی جنہوں نے فواد اندرابی کو گلوکار ہونے کی وجہ سے قتل کر دیا۔

امکان ہے کہ نئی طالبان حکومت کو دو الگ الگ جنگوں کا سامنا کرنا پڑے گا ایک نام نہاد اسلامک اسٹیٹ خراسان کے خلاف جس نے گزشتہ ہفتے کابل ایئرپورٹ پر بم دھماکے کیے اور ایک مزاحمت سابق حکومت کے حامیوں کی تحریک کے شکل میں ہوگی۔ یہ جنگجو کابل سے سو میل دورشمال مشرق میں وادی پنجشیر میں ہیں۔

صدر بائیڈن کی جانب سے اچانک فوجیں واپس بلانے کا مطلب ہےکہ افغانستان کے لوگوں کے لیے امن پہلے سے کہیں زیادہ دور ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words