انڈیا میں ازدواجی ریپ کو جرم قرار دینے کے شور و غوغا میں اضافہ

گیتا پانڈے - بی بی سی نیوز، دہلی

A protest in India against rape
Getty Images
انڈیا جہاں کا معاشرہ پدرشاہی روایات سے مضبوطی سے جُڑا ہوا ہے، وہاں شادی کے بندھن کا ایک خاص تقدس ہے، اس لیے شوہر کا بیوی کے ساتھ ریپ کو، یعنی ازدواجی ریپ یا زبردستی جنسی تعلقات بنانے کو، جرم نہیں سمجھا جاتا ہے۔

لیکن حالیہ ہفتوں میں انڈیا کی مختلف عدالتوں نے اس معاملے میں متصادم فیصلے سنائے ہیں، جس کی وجہ سے ازدواجی ریپ کو جرم قرار دینے کے لیے قانون سازی کی مہم میں ایک مرتبہ پھر سے تیزی آگئی ہے۔

پچھلے ہفتے جمعرات کو چھتیس گڑھ کی ہائی کورٹ کے ایک جج، جسٹس این کے چندرا ونشی نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ‘بیوی سے مباشرت یا کسی بھی قسم کے جنسی ملاپ کو ریپ نہیں کہا جا سکتا ہے چاہے ایسا فعل بیوی کی مرضی کے خلاف زبردست ہی کیوں نہ کیا جائے۔’

جس خاتون کی شکایت پر اس جج نے فیصلہ سنایا اُس نے کہا تھا کہ اُس کے شوہر نے اُس کے ساتھ ‘غیر فطری جنسی فعل’ کیا تھا اور مختلف اشیا کے ذریعے اُسے ریپ کیا تھا۔

اس جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اس مرد کے خلاف غیر فطری جنسی فعل کے الزام کے تحت مقدمہ چلایا جا سکتا ہے، تاہم جج نے اِس مرد کو بیوی کے ساتھ ریپ جیسے سنگین الزام سے بری کردیا کیونکہ انڈیا کے قوانین میں بیوی کے زبردستی جنسی تعلق بنانا جرم نہیں ہے۔

سوشل میڈیا پر اس فیصلے پر سخت تنقید کی گئی۔ تنقید کرنے والوں میں جنسی تفاوت جیسے معاملات پر تحقیق کرنے والی کوٹا نیلیما بھی شامل ہیں، اُنھوں نے سوال اٹھایا کہ ‘عدالتیں عورت کی کہانی کب سننا شروع کریں گی۔’

انھوں نے ایک ٹویٹ کے جواب میں کہا تھا ‘کیا انڈیا کی عدالت نر ہے؟ عدالت عورت کی کہانی کب سننا شروع کریں گی۔’ (بی بی سی ایسی ٹویٹس کی ذمہ دار نہیں ہے۔)

https://twitter.com/KotaNeelima/status/1430750737890304004

ان کی اس ٹویٹ کے جواب میں کئی لوگوں نے اپنے رد عمل میں کہا کہ انڈیا کے قوانین متروک ہیں اور ان میں بہتری کے لیے ترامیم کی ضرورت ہے۔ تاہم کئی ایسے بھی ٹویٹس تھے جو ان کی بات کی مخالفت میں تھے۔

ایک ٹویٹ میں حیرانی اظہار کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ‘یہ کیسی بیوی ہوگی جو شادی کے بندھن میں جنسی تعلقات پر شکایت کرے گی؟’ ایک اور ٹویٹ میں کہا گیا تھا کہ ‘اُس کے (یعنی بیوی کے) کردار میں کچھ خرابی ہو گی۔’ ایک تیسرے ٹویٹ میں کہا گیا تھا کہ ‘ایسی بیوی جِسے اپنے فرائض کا علم نہیں ہے وہی اس قسم کے دعوے کرے گی۔’

ایسی باتیں صرف سوشل میڈیا پر ہی نہیں ہو رہی ہیں، شادی کے بندھن میں ریپ یا ازدواجی ریپ کے اس متنازعہ موضوع پر اب عدلیہ بھی منقسم ہوتی نظر آرہی ہے۔

ابھی چند ہفتے پہلے کی بات ہے جب انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالا کی ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں کہا کہ شادی کے بندھن میں بیوی سے ریپ طلاق حاصل کرنے کے لیے ایک اہم وجہ بنتی ہے۔

کیرالا ہائی کورٹ کے دو ججوں، جسٹس اے محمد مشتاق اور اور کوثر اِدھپاگاتھ نے اپنے 6 اگست کے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ ‘ایک شوہر کا غیر مہذب مزاج جس میں وہ بیوی کی خود مختاری کا احترام نہ کرے، یہ ازدواجی ریپ کہا جائے گا۔ اگرچہ اس بنیاد پر اُسے سزا نہیں دی جا سکتی ہے، تاہم ایسے رویے کو جسمانی اور ذہنی ظلم کے زمرے میں شمار کیا جائے گا۔’

ان ججوں نے وضاحت دی کہ شادی کے بندھن میں بیوی کا اُس وقت ریپ ہوتا ہے جب شوہر اُس کے جسم کو اپنی ملکیت سمجھے، اور مزید کہا کہ ‘اس طرح کی سوچ کی جدید سماجی علمِ قانون میں کوئی گنجائیش نہیں ہے۔’

A wedding in India

Getty Images
انڈیا میں شادی کے بندھن کو بہت مقدس سمجھا جاتا ہے۔

جسٹس چندرا ونشی نے جس قانون کا اطلاق کیا وہ انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 375 ہے۔

برطانوی نوآبادیاتی دور کا یہ قانون، جو سنہ 1860 سے انڈیا میں موجود ہے، کئی ‘استثنیٰ’ کا ذکر کرتا ہے – یعنی ایسے حالات جن میں جنسی تعلق بنانا جرم نہیں ہوتا ہے – اور ان میں سے ایک ‘اپنی بیوی کے ساتھ ایک آدمی کا جنسی تعلق’ جو کہ نابالغ نہیں ہے۔

یہ خیال اس سوچ سے جُڑا ہوا ہے کہ جنسی تعلقات کے لیے رضامندی شادی میں ‘مضمر’ ہے اور بیوی بعد میں اس اجازت کو واپس نہیں لے سکتی ہے۔

لیکن اس سوچ کو پوری دنیا میں تیزی سے چیلنج کیا گیا ہے اور کئی سالوں میں 100 سے زائد ممالک نے ازدواجی ریپ کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ برطانیہ نے بھی سنہ 1991 میں اسے کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘متصور رضامندی’ آج کل کے دور میں ‘سنجیدگی سے برقرار’ نہیں رہ سکتی ہے۔

لیکن ازدواجی ریپ کو جرم قرار دینے کی ایک طویل اور مسلسل مہم کے باوجود انڈیا اُن 36 ممالک میں شامل ہے جہاں ازدواجی ریپ کی اجازت یا گنجائیش آج بھی کی قانون کی کتاب میں موجود ہے، جس کی وجہ سے لاکھوں خواتین پُرتشدد شادیوں میں پھنسی رہ جاتی ہیں۔

ایک سرکاری سروے کے مطابق 31 فیصد شادی شدہ خواتین یعنی تقریباً ہر تین میں سے ایک کو، اپنے شوہروں کی جانب سے جسمانی، جنسی اور جذباتی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یونیورسٹی آف وارِک اور دہلی میں قانون کے پروفیسر اپیندر بخشی کہتے ہیں کہ ‘میری رائے میں اس قانون کو ختم کیا جانا چاہیے۔’

ان کا کہنا ہے کہ برسوں کے دوران انڈیا نے گھریلو تشدد اور جنسی ہراسانی کے خلاف قوانین لا کر خواتین کے خلاف تشدد سے نمٹنے میں کچھ پیش رفت کی ہے، لیکن ازدواجی ریپ کے بارے میں کوئی پیش رفت نہیں کی۔

’بیوی کے ساتھ زبردستی سیکس، جرم قرار نہ دیں‘

’فرشتہ صفت شوہر نے میرا ریپ کیا، میرا حمل ضائع ہو گیا‘

انڈیا میں زنا کا پیچیدہ قانون، اصل مجرم ہے کون؟

سنہ 1980 کی دہائی میں پروفیسر بخشی نامور وکلاء کے ایک گروپ کا حصہ تھے جنہوں نے ارکان پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کو ریپ کے قوانین میں ترمیم کے لیے کئی سفارشات پیش کی تھیں۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘انہوں نے (یعنی ارکانِ پارلیمان نے) ازدواجی ریپ کو کالعدم قرار دینے کے علاوہ باقی ہماری تمام تجاویز کو قبول کر لیا۔’

ان کی بعد ازاں حکام سے ازدواجی ریپ کو جرم قرار دینے کی کوششیں بھی ناکام ثابت ہوئیں۔

پروفیسر بخشی نے کہا کہ ہمیں بتایا گیا کہ وقت صحیح نہیں ہے۔ ‘لیکن شادی میں مساوات ہونی چاہیے اور ایک فریق کو دوسرے پر حاوی ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ آپ اپنے شریکِ حیات سے جنسی خدمات کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔’

حکومت نے مسلسل دلیل دی ہے کہ ازدواجی قانون کو جرم قرار دینے سے شادی کے بندھن کا ادارہ کو ‘غیر مستحکم’ ہو سکتا ہے اور یہ کہ عورتیں اس قانون کا مردوں کو ہراسں کرنے کے لیے غلط استعمال کر سکتی ہیں۔

لیکن حالیہ برسوں میں بہت سی ناخوش بیویوں اور وکلاء نے عدالتوں سے اِس ‘توہین آمیز قانون’ کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ، ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی انڈیا کو ازدواجی ریپ کو جرم قرار نہ دینے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بہت سے ججوں نے بھی اعتراف کیا ہے کہ وہ ایک قدیم قانون کی طرف مائل ہیں جس کی جدید معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں ہے اور انہوں نے پارلیمنٹ سے ازدواجی ریپ کو جرم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

مِس نیلیما کا کہنا ہے کہ موجودہ قانون خواتین کے حقوق کی ‘صریحاً خلاف ورزی’ ہے اور یہ مردوں کو ‘غیر فطری جنسی تعلقات’ کے لیے استثنیٰ فراہم کرتا ہے اور اس کے علاوہ عدالتی مقدمات کی بڑھتی ہوئی تعداد کی ایک بنیادی وجہ بھی یہی قانون ہے۔

‘انڈیا کے پاس بظاہر بہت جدید ہونے کا ایک چہرہ ہے، لیکن اگر اس چہرے کی سطح کو ذرا سے بھی کھرچیں تو آپ اصلی چہرہ دیکھتے ہیں۔ عورت اپنے شوہر کی ملکیت بنی ہوئی ہے۔ ہندوستان میں ریپ کو عموماً جرم قرار دیا جاتا ہے اس لیے نہیں کہ عورت نے اس کی خلاف ورزی کی، بلکہ اس لیے کہ وہ دوسرے مرد کی ملکیت ہے۔’

نیلیما کا کہنا ہے کہ ‘انڈیا کا ایک آدھا حصہ جو مرد کی آبادی پر مشتمل ہے، وہ آزاد ہوا جب انڈیا سنہ 1947 میں آزاد ملک بن گیا تھا، باقی خواتین – آدھا ملک ابھی آزاد ہونا باقی ہے۔ ہماری امید عدلیہ سے ہے’۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ حوصلہ افزا ہے کہ کچھ عدالتوں نے ‘اس استثنیٰ کی غیر فطری حیثیت کو تسلیم کیا ہے’۔ لیکن یہ ‘چھوٹی جیتیں ہیں جن پر دوسرے مخالف قانونی فیصلے غالب ہیں۔’

‘یہاں مداخلت کی ضرورت ہے اور (اِس قانون کا) ہماری زندگی میں تبدیل ہونا ضروری ہے.’

‘اس کو پہلے ہی حل کرلینا چاہیے تھا۔ ہم آئندہ نسلوں کے لیے نہیں لڑ رہے، ہم ابھی بھی تاریخ کی غلطیوں سے لڑ رہے ہیں۔ اور یہ لڑائی اہم ہے۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words