’بلیوڈ ایپ‘: ایف آئی اے نے فیصل آباد میں ہم جنس افراد میں مقبول استعمال کرنے والوں کے نیٹ ورک کا پتہ کیسے چلایا؟

عمر دراز ننگیانہ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

ہم جنس پرست
BBC
پاکستان میں سائبر کرائم کی روک تھام کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے سائبر کرائم سیل نے صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد سے چار افراد کو مبینہ طور پر ہم جنس پرستی اور ایک موبائل ایپلیکیشن کے استعمال کے ذریعے مردوں کے درمیان جنسی تعلقات قائم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

ایف آئی اے سائبر کرائم سیل فیصل آباد کے مطابق چاروں ملزمان ہم جنس پرست افراد میں مقبول ‘بلیوڈ’ نامی موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے دیگر ہم جنس پرست مردوں سے رابطہ قائم کرنے کے بعد پیسوں کے عوض ان کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرتے تھے۔

سائبر کرائم سیل کے تفتیشی افسران کے مطابق گرفتار ملزمان سے دورانِ تفتیش ملنے والی معلومات کی مدد سے ایک ایسے واٹس ایپ گروپ کے بارے میں بھی معلوم ہوا جس پر چائلڈ پورنوگرافی سے متعلق مواد موجود تھا۔

فیصل آباد سرکل کے ڈپٹی ڈائریکٹر سائبر کرائم رضوان ارشد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ مواد زیادہ تر ویڈیوز پر مبنی تھا جس میں دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے بچوں کے ساتھ ساتھ پاکستان سے تعلق رکھنے والے چند بچوں کی سیکس ویڈیوز بھی موجود تھیں۔‘

یاد رہے کہ ہم جنس پرستی یا دو ہم جنس افراد کے درمیان جنسی تعلق قائم کرنا پاکستانی قوانین کے مطابق جرم ہے۔ تعزیراتِ پاکستان کے ساتھ ساتھ اسلامی قوانین کے تحت بھی ایسے افراد کے لیے سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ عام طور پر پاکستان میں موجود ہم جنس پرست افراد اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتے۔

رضوان ارشد کے مطابق پاکستان میں سائبر کرائم کے قوانین کے مطابق چائلد پورنوگرافک مواد محض اپنے پاس رکھنا بھی جرم تصور کیا جاتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’ان ویڈیوز میں کم عمر لڑکوں کو سیکس کرتے ہوئے فلمایا گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ کسی جگہ پر ایسا انتظام موجود تھا جہاں کم عمر بچوں سے ایسا کام لیا جا رہا تھا اور اس کی فلمبندی بھی کی جا رہی تھی۔‘

رضوان ارشد کا کہنا تھا کہ انھیں ملنے والی معلومات کے مطابق چائلڈ پورنوگرافی پر مبنی اس نوعیت کی ویڈیوز دیگر شہروں میں یا تو بنائی گئیں تھیں یا وہاں سے اس واٹس ایپ گروپ میں اپ لوڈ کی گئی تھیں۔

سائبر کرائم فیصل آباد نے اس حوالے سے صوبہ خیبرپختونخواہ کے شہر مردان اور صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد میں موجود ایف آئی اے سائبر کرائم کی برانچوں کو مطلع کیا اور ان کے مدد سے ایسی ویڈیوز بنانے یا حاصل کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔

ایف آئی اے نے ہم جنس افراد کے نیٹ ورک کا پتہ کیسے چلایا؟

ڈپٹی ڈائریکٹر رضوان ارشد نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی یونیورسٹی کے طلبا نے ان کی توجہ ایک موبائل ایپ کی طرف مبذول کروائی جس کو استعمال کر کے ہم جنس پرست مرد ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرتے تھے۔

’ایف آئی اے لوگوں میں آگاہی پھیلانے کی غرض سے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سیمینار وغیرہ کا انعقاد کرتا رہتا ہے۔ ایسے ہی ایک سیمینار کے بعد چند طلبا نے سائبر کرائم سیل سے رابطہ کیا۔‘

اس اطلاع کی تصدیق اور پاکستان میں اس موبائل ایپلیکیشن کو استعمال کرنے والوں تک پہنچنے کے لیے ایف آئی اے نے انتہائی بنیادی طریقہ تفتیش استعمال کیا۔ انھوں نے ادارے کے ایک سٹیشن پر موجود ایک افسر کو اس ایپلیکیشن پر رجسٹر کروایا۔

ہم جنس پرست

Getty Images

’پندرہ منٹ کے اندر اندر چھ سے سات افراد نے ہمارے آدمی سے رابطہ کیا‘

ایف آئی اے سائبر کرائم کے اس افسر نے خود کو ایک ہم جنس پرست مرد کے طور پر ’بلیوڈ‘ ایپ پر رجسٹر کیا۔ اس کا استعمال کسی بھی دوسری ڈیٹنگ ایپ کی طرح ہوتا تھا۔

رجسٹرڈ صارفین اپنی دلچسپی کے افراد کو تلاش کرنے کے بعد ان سے رابطہ قائم کر سکتے تھے یا پھر وہاں پہلے سے موجود دوسرے صارفین براہِ راست ان سے رابطہ کرتے تھے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر رضوان ارشد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ اس ایپ پر رجسٹر کرنے کے محض پندرہ منٹ کے اندر ہی چھ سے سات افراد نے ہمارے ’آدمی’ سے رابطہ قائم کیا۔ اس کے بعد انھوں نے ہمارے آدمی کو اپنی تصاویر بھیجیں اور اپنی دلچسپی کے حوالے سے بتایا۔‘

سائبر کرائم کے ’ایجنٹ‘ نے ان افراد کو ایک مختلف اوقات میں ایک خاص مقام پر آنے کا کہاں اور اس مقام کی لوکیشن ان کے ساتھ شیئر کی۔ ڈپٹی ڈائریکٹر رضوان ارشد کے مطابق اگلے چند گھنٹے کے اندر ہی وہ افراد بتائی گئی لوکیشن پر پہنچ گئے تھے۔

’ایک شخص کارخانے میں کام کرتا تھا وہ کام چھوڑ کر دو گھنٹے کے اندر اندر وہاں پہنچ گیا۔ اسی طرح ایک شخص شادی شدہ تھا وہ بھی ایک گھنٹے کے اندر اندر وہاں پہنچ گیا۔‘

وہاں پہلے سے موجود ایف آئی اے سائبر کرائم کے اہلکاروں نے ان افراد کو حراست میں لے لیا۔

گرفتار

Getty Images

’یہ کام بھی جسم فروشی کی طرح کیا جا رہا تھا‘

ڈپٹی ڈائریکٹر سائبر کرائم فیصل آباد رضوان ارشد نے بی بی سی کو بتایا کہ گرفتار افراد میں ایک شخص کی عمر 20 سال کے لگ بھگ جبکہ باقی تینوں کی عمریں 30 برس سے زیادہ تھیں۔

ان چاروں افراد کا تعلق فیصل آباد سے تھا تاہم ’وہ ایک نیٹ ورک کا حصہ تھے جو ملک کے دوسرے حصوں میں بھی پھیلا ہوا تھا۔ یہ کام بھی جسم فروشی کی طرح کیا جا رہا تھا۔‘

رضوان ارشد کے مطابق گرفتار ہونے والے چاروں مردوں نے تفتیشی افسران کو بتایا کہ بلیوڈ ایپ اور واٹس ایپ گروپ پر وہ خود کو ہم جنس پرست مردوں کے درمیان جنسی تعلق قائم کرنے کے حوالے سے استعمال ہونے والی اصطلاع ’ٹاپ‘ کے ساتھ منصوب کرتے تھے۔

’اس طرح ان نیٹ ورکس پر موجود جو افراد ان کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے تھے یہ افراد ان سے پیسوں کا مطالبہ کرتے تھے۔ یہ رقم عموماً 500 روپے سے لے کر 2000 روپے تک ہوتی تھی۔ رقم طے ہو جانے کے بعد یہ ان سے ملاقات کرتے تھے۔‘

سائبر کرائم کے ’ایجنٹ‘ نے بھی اسی پہلو کو استعمال کرتے ہوئے ملزمان کو اس مقام پر بلایا تھا جہاں سے انھیں گرفتار کیا گیا تھا۔

’یہ نیٹ ورک ہمارے اندازے سے زیادہ بڑا ہے‘

سائبر کرائم کے تحقیقاتی افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ گرفتار ملزمان کے ذریعے انھیں معلوم ہوا تھا کہ پاکستان کے کئی شہروں میں موجود ہم جنس پرست مردوں کی ایک بڑی تعداد بلیوڈ ایپلیکیشن کو استعمال کر رہی تھی۔

’ہمارے ایجنٹس نے مختلف شہروں کے اندر بھی اس ایپلیکیشن کے ذریعے ایسے افراد کی نشاندہی کر رکھی تھی۔ حیرت انگیز طور پر ہم جنس پرست مردوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے ہمارے ایجنٹوں سے رابطہ قائم کیا تھا۔ یہ نیٹ ورک ہمارے اندازے سے زیادہ بڑا ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ فیصل آباد میں جو افراد بلیوڈ ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے ملے تھے انھوں نے ایک واٹس ایپ گروپ بھی قائم کر رکھا تھا جس میں وہ اپنی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے تھے۔ اسی گروپ کے اندر چائلڈ پورنوگرافک مواد بھی شیئر کیا گیا تھا۔

سائبر کرائم کے تحقیقاتی افسر کو شبہ تھا کہ اس گروپ کے ذریعے شیئر کی جانے والی ویڈیوز بشمول چائلڈ پورنوگرافک مواد ’ڈارک ویب‘ پر فروخت کی جاتی تھیں تاہم وہ اس پہلو کی مزید چھان بین کر رہے تھے۔

ڈارک ویب انٹرنیٹ پر ایک ایسی جگہ ہے جہاں تک رسائی مخصوص سافٹ ویئرز یا اجازت ناموں کے ذریعے ممکن ہوتی ہے اور روایتی طریقوں سے ان کا پتہ نہیں لگایا جا سکتا۔ ان میں کئی پورنوگرافک ویب سائیٹس بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

افغانستان کے ہم جنس پرست: ‘مجھے دیکھتے ہی مار دیا جائے گا’

انڈین نژاد امریکی ہم جنس پرست جوڑے: ’جب کوئی راضی نہ ہوا تو مجھے خود ہی پنڈت بننا پڑا‘

’لڑکی ہوں اور لڑکی سے شادی کر لی تو کیا قیامت ٹوٹ پڑی؟‘

ہم جنس جوڑے کو ’خاندان‘ تسلیم کرنے میں ڈر کیوں

چائلڈ پورنوگرافک مواد کہاں سے آیا؟

تحقیقاتی افسر کے مطابق چائلڈ پورنوگرافک مواد کا زیادہ تر حصہ پاکستان سے باہر سے آیا تھا یعنی ان ویڈیوز میں نظر آنے والے کم عمر بچے پاکستان سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ تاہم رضوان ارشد کے مطابق ان کے لیے ’زیادہ تشویشناک بات یہ تھی کہ ایسی ویڈیوز بھی موجود تھیں جن میں مقامی بچے بھی نظر آئے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیوز یہ ظاہر کرتی تھیں کہ پاکستان میں کچھ علاقوں میں چائلڈ پورنوگرافک مواد باقاعدہ طور پر فلمایا جا رہا تھا جس میں مقامی بچے استعمال کیے گئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ اس حوالے سے ان کی تحقیقات جاری تھیں اور وہ تاحال کسی ایسے ’نیٹ ورک‘ تک نہیں پہنچ پائے تھے۔

’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اس نیٹ ورک تک بھی پہنچا جائے جس کو استعمال کر کے پاکستان میں بلیوڈ ایپ جیسے سافٹ ویئر کو استعمال کرنے والے افراد پورنوگرافک مواد اپ لوڈ کر رہے تھے۔ کوئی نہ کوئی ایسا (انٹرنیٹ) سرور ضرور موجود ہے جہاں سے یہ ویڈیوز اپ لوڈ کی جاتی تھیں۔‘

رضوان ارشد نے بتایا کہ گرفتار افراد کے خلاف الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے قانون یعنی پیکا کی دفعات 22، 23 اور 24 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا رہی تھی۔

ڈارک ویب

Getty Images

بلیوڈ ایپ کیا ہے اور کیسے کام کرتی ہے؟

بلیوڈ ایپ بنیادی طور پر ایک ’گے‘ یا ہم جنس پرست افراد کی ڈیٹنگ ایپ ہے جس کا مرکز چین میں بتایا جاتا ہے۔ اس کو زیادہ تر ہم جنس پرست مرد استعمال کرتے ہیں اور اس کے صارفین کا تعلق دنیا بھر کے کئی ممالک سے ہے۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں اس ایپ کو استعمال کرنے والوں کی تعداد چار کروڑ کے لگ بھگ ہے۔

ایف آئی اے سائبر کرائم فیصل آباد کے ڈپٹی ڈائریکٹر رضوان ارشد نے بی بی سی کو بتایا کہ کسی بھی دوسری ڈیٹنگ ایپ کی طرح صارف کو خود کو اس پر رجسٹر کرنا ہوتا ہے اور اس کے بعد وہ اپنی دلچسپی کے افراد کے ساتھ رابطہ قائم کر سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پر موجود صارفین زیادہ تر اس ایپ کو جنسی تعلقات قائم کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ حالیہ گرفتاریوں سے قبل پاکستان میں سائبر کرائم حکام کو اندازہ نہیں تھا کہ ملک میں کتنی بڑی تعداد میں ہم جنس پرست افراد اس ایپ کو استعمال کر رہے تھے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر رضوان ارشد نے بتایا کہ انھوں نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو آگاہ کر دیا ہے کہ بلیوڈ ایپ کو پاکستان میں بند کر دیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words