افغانستان میں طالبان: مغربی ممالک افغانستان کو دہشتگرد تنظیموں کا گڑھ بننے سے کیسے روک سکتے ہیں؟

فرینک گارڈنر - بی بی سی ، سکیورٹی نامہ نگار

افغان کمانڈوز
Getty Images
امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ دولتِ اسلامیہ خراسان کے خلاف جنگ جاری رہے گی جبکہ ایسے ہی خیالات کا اظہار برطانوی سکریٹری خارجہ ڈومینک راب بھی کر چکے ہیں جن کا کہنا ہے کہ برطانیہ ایسا کرنے کے لیے ’تمام قومی وسائل بروئے کار لائے گا۔‘

تو اس کا عملاً کیا مطلب ہے؟ مغربی ممالک کی دسترس میں وہ کون سے ایسے وسائل ہیں جن کا انخلا کے بعد بھی استعمال کیا جا سکتا ہے؟ یا جیسے کچھ ناقدین کے خیال میں کیا اس دعوے میں بالکل وزن نہیں؟

سب سے پہلے تو اس بات کا تجزیہ کرتے ہیں کہ مغرب نے اس ضمن میں اب تک کیا کچھ کھویا ہے۔

طالبان کے افغانستان کے تقریباً تمام علاقوں پر قبضے کے بعد مغربی انٹیلیجنس ایجنسیوں خاص کر سی آئی اے، ایم آئی سکس وغیرہ کے پاس افغانستان میں کوئی قابلِ اعتماد سکیورٹی سروس موجود نہیں ہے۔

گذشتہ 20 برسوں کے دوران نیٹو اور دیگر ممالک کی افواج افغانستان میں موجود تھیں اور ملک کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کی جانب سے فراہم کردہ انٹیلیجنس کے باعث انھیں القائدہ، دولتِ اسلامیہ خراسان اور دیگر جہادی تنظیموں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے میں مدد ملتی تھی۔

افغان، امریکی، برطانوی اور دیگر سپیشل فورسز ان معلومات کی روشنی میں عموماً ہیلی کاپٹر کے ذریعے رات کے اندھیرے میں ان ٹارگٹس کو نشانہ بناتے تھے اور اکثر ان ٹھکانوں کو تباہ کر دیتے تھے جن کے ذریعے یہ تنظیمیں کوئی بین الاقوامی حملہ کرنے کی اہل ہو سکتی تھیں۔

یہی وجہ ہے کہ یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ 20 سالوں میں ایک بھی ایسے بین الاقوامی حملے کے لیے افغان سرزمین کا استعمال نہیں کیا گیا۔

تو سوال یہ ہے کہ اب کیا ہو سکتا ہے؟

افغانستان میں دو فضائی اڈے اور خفیہ اہلکاروں کے ایک نیٹ ورک کے خاتمے نے اب مغرب (یعنی بنیادی طور پر امریکہ اور برطانیہ) کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ پیغامات کو ٹیلی کمیونیکیشن کے ذرائع سے جانچ سکیں یا پھر ڈرون حملے کر سکیں۔

امریکہ کی جانب سے ننگرہار صوبے میں دولتِ اسلامیہ خراسان کے ایک رکن کو جمعرات کے کابل ایئرپورٹ حملے کے کچھ ہی دیر بعد نشانہ بنانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ اب بھی اس کھیل میں ایک فریق ضرور ہے اور ایسا نہیں ہے کہ اسے معلوم نہیں ہے کہ اس کے دشمن افغانستان کے دوردراز علاقوں میں اس کے خلاف کیا منصوبے بنا رہے ہیں۔

قطر کے العدید فضائی اڈے پر امریکی سینٹرل کمانڈ کا دفتر افغانستان میں ہونے والے آپریشنز کی نگرانی کرتا ہے اور جب کسی ٹارگٹ کی نشاندہی کر دی جاتی ہے تو وہ اس خطے میں متعدد ’ذرائع‘ سے اس پر حملہ کروا سکتا ہے جن میں سب سے نمایاں مسلح ڈرون ہیں جو فضا میں کسی بھی مخصوص جگہ کے اوپر خفیہ طور پر کئی گھنٹوں تک اڑ سکتے ہیں اور اس دوران انھیں کوئی نہیں دیکھ سکتا۔

تاہم اس بات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ افغانستان اب انٹیلیجنس ایجنسیوں کے لیے ایک مشکل ملک بن چکا ہے۔ اکثر ایسے خفیہ اہلکار جو انتہا پسند تنظیموں کی سرگرمیوں کے بارے میں انھیں آگاہ کیا کرتے تھے اب یا تو افغانستان چھوڑ چکے ہیں، یا چھپ گئے ہیں۔

ایم آئی 16 اور برطانوی حکومت کا خفیہ ادارہ جی سی ایچ کیو خارجہ سیکریٹری ڈومینک راب کو ہی رپورٹ کرتے ہیں اس لیے انھیں آنے والے دنوں کے چیلنجز کے بارے میں آگاہی ضرور ہو گی۔

جی سی ایچ کیو اور امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے مل کر شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانے ڈھونڈنے میں خاصا اہم کردار ادا کیا ہے۔

تاہم ایم آئی 16 کے لیے حقیقت یہ ہے کہ اسے نئے سرے سے خفیہ اہلکاروں کا ایک نیٹ ورک بنانا پڑے گا تب ہی اس کے افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کے درمیان اپنے ایجنٹس تعینات کرنا ممکن ہو پائے گا۔ یہ ایجنٹس کسی بھی ممکنہ حملے کے بارے میں اطلاع دے سکیں گے، لیکن ایسا کرنے کے لیے کئی برس کا وقت درکار ہو گا۔

اس سے ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ کیا طالبان اور مغربی ممالک کے درمیان انٹیلیجنس معلومات کا تبادلہ ہو گا؟

جی ہاں! بالکل ایسا ہی ہے، تاہم یہ خاصا محدود ہو گا اور دونوں اطراف سے اس بارے میں عوامی طور پر کوئی بات نہیں کی جائے گی۔

یہ افغان تنازع سے متعلق متعدد عجیب باتوں میں سے ایک ہے کہ امریکہ اور طالبان جنھوں نے گذشتہ 20 برس ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے گزارے ہیں آج یہ دونوں ہی دولتِ اسلامیہ خراسان سے محاذ آرائی کے لیے ایک صفحے پر ہیں۔

دولتِ اسلامیہ خراسان گروپ القائدہ اور طالبان دونوں کا ہی باضابطہ دشمن ہے اور یہ آنے والے دنوں میں افغانستان کے نئے حکمرانوں کے لیے بڑا چیلنج بن کر سامنے آ سکتا ہے۔

لیکن جب بات القائدہ کی آتی ہے تو صورتحال خاصی دھندلی پڑ جاتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے جون میں شائع کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان اور القائدہ کے درمیان مضبوط نسلی اور خاندانی رشتے اب بھی موجود ہیں۔

اس ہفتے افغانستان میں اسامہ بن لادن کے سابق سکیورٹی چیف امین الحق کی مبینہ واپسی ایک پریشان کن پیش رفت ہے۔ اکثر ممالک میں انسداد دہشتگردی کے اہلکاروں کے لیے یہ پیش رفت اس لیے بھی پریشان کن ہو گی کیونکہ امین الحق کا نام امریکہ نے عالمی دہشتگردوں کی محضوص فہرست میں رکھا ہوا ہے اور اگر وہ افغانستان میں کھلے عام گھوم سکتے ہیں تو یہ یقیناً پریشان کن بات ہے۔

مغربی ممالک یقیناً آنے والے کئی سالوں تک افغانستان سے اپنی نظریں نہیں ہٹائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words