افغانستان میں رہ جانے والوں کی کہانیاں: ’اگر وہ مجھے پکڑ لیتے ہیں تو وہ بہت سے لوگوں کے نام حاصل کر سکتے ہیں جنھیں وہ نشانہ بنانا چاہتے ہیں‘

سوامی ناتھن نٹاراجن - بی بی سی ورلڈ سروس

Taliban militant with a rifle
Getty Images
بہت سے افغان جو طالبان کو پسند نہیں کرتے تھے اب خوف کے سائے میں رہ رہے ہیں
گزشتہ دو ہفتوں میں ہزاروں افغان باشندوں نے طالبان کے قبضے کے بعد ملک سے فرار ہونے کی کوشش میں کابل ایئرپورٹ کا رخ کیا ہے۔

انھوں نے بے چینی سے رات دن بغیر کچھ کھائے پیے اور بغیر کسی مناسب بیت الخلاء کے وہاں انتظار کیا۔ بہت سوں نے آئی ایس کے گروپ کے خودکش حملے اور بعد میں امریکی ڈرون حملے کے بعد موت کو بہت قریب سے بھی دیکھا۔

امریکی حکام کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر 31 اگست کی ڈیڈ لائن سے پہلے ایک لاکھ 23 ہزار افراد کو کابل سے نکالا ہے۔ لیکن اب بھی بہت سے، جن میں افغان حکومت کے ساتھ کام کرنے والے، خواتین سرگرم کارکن، صحافی اور مذہبی اور جنسی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں، پیچھے رہ گئے ہیں۔

بی بی سی نے ایسے تین افراد سے بات کی ہے جو ملک نہیں چھوڑ سکے۔ وہ اب چھپے ہوئے ہیں، اس لیے ان کے اصلی ناموں کو ان کی شناخت کے تحفظ کے لیے بدل دیا گیا ہے۔


طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد نضیف اپنی بیوی اور ایک بچے کو لے کر گھر سے نکل گئے۔

نضیف نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بدقسمتی سے میں کہیں قیام نہیں کر سکتا۔ میں نے اپنا گھر چھوڑ دیا ہے اور اِدھر اُدھر بھٹک رہا ہوں۔ میں ہر روز اپنی جگہ بدلتا ہوں۔ اب میں ایک رشتہ دار کے گھر چھپا ہوا ہوں۔‘

An Afghan family arriving at Dulles International Airport, Virginia, US

Getty Images
اس طرح کے کئی خاندان افراتفری میں اپنے گھروں کو چھوڑ کر نکلے ہیں

طالبان کا اس سرکاری مینیجر کے ساتھ بہت پرانا بیر ہے۔ ان کی مشکلات اس وقت شروع ہوئیں جب انھیں دیہی علاقوں کے کسانوں کو دیے گئے قرضوں کے آڈٹ کے لیے بھیجا گیا۔ یہ علاقے طالبان کے زیر اثر تھے۔

’اس حیثیت میں تقریباً دو برسوں میں کسانوں سے بات چیت کے لیے میں نے 18 صوبوں کا سفر کیا۔ طالبان اس منصوبے کو پسند نہیں کرتے تھے کیونکہ اس کو بیرونی ممالک نے فنڈ کیا تھا۔ اپنے کام کے دوران میں نے طالبان کی سرگرمیاں دیکھیں اور یہ معلومات میڈیا میں اپنے دوست کو پہنچائیں۔‘

نضیف نے کہا کہ جب طالبان کو پتہ چلا کہ وہ ان کہانیوں کا ماخذ ہیں تو انھوں نے ان کے بھائی کے ذریعے انھیں ایک وارننگ دی۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے ان کی وارننگ کو نظر انداز کیا اور عسکریت پسندوں کے خلاف اپنی مخالفت جاری رکھی، جس میں سوشل میڈیا پر طالبان پر براہ راست تنقید بھی شامل تھی۔

لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ انھیں حکومت میں ان کے کام کی وجہ سے ہدف بنایا جا رہا ہے۔

’میں ایک انتہائی حساس شعبے میں تھا جہاں لوگوں کے سروس ریکارڈ کا حساب رکھا جاتا تھا۔ طالبان جانتے ہیں کہ اگر وہ مجھے پکڑ لیتے ہیں تو وہ ان بہت سے لوگوں کے نام اور پتے حاصل کر سکتے ہیں جنھیں وہ نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔‘

Taliban militants on patrol

Getty Images
بیس سال بعد طالبان جنگجو دوبارہ کابل کی سڑکوں پر واپس آ گئے ہیں

ان کے ہمسایوں نے انھیں بتایا ہے کہ پچھلے دو ہفتوں میں طالبان کم از کم تین مرتبہ ان کے گھر آئے ہیں۔

’میرے پاس اطلاع ہے کہ انھوں نے صرف دو دن پہلے کم از کم سات ایسے افراد کو قتل کیا ہے جو سابق حکومت کے ساتھ کام کر رہے تھے۔‘

چونکہ وہ کسی غیر ملکی حکومت کے لیے کام نہیں کرتے تھے اس لیے انھیں کسی مغربی حکومت نے ایئرپورٹ کی طرف آنے کا فون نہیں کیا۔ لیکن نضیف نے ایک چانس لیا اور اپنی بیوی اور بچے کو لے کر خود ہی ہوائی اڈے پہنچ گئے۔

’میں نے چار مرتبہ کوشش کی لیکن نہیں جا سکا۔ میرے پاس دکھانے کے لیے دستاویزات تھیں کہ میں حساس شعبے میں کام کرتا تھا اور میری جان کو خطرہ ہے لیکن میں سفارت خانے کے کسی بھی عہدیدار تک نہیں پہنچ سکا۔ میں تو ہوائی اڈے کے دروازے تک بھی نہیں پہنچ سکا۔‘

نضیف کو خدشہ ہے کہ جب طالبان نے کابل میں اپنی نفری بڑھا دی تو وہ زیادہ حرکت نہیں کر سکیں گے۔ وہ اب اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ سمگل کرنے والوں کو پیسے دے کر اس خطرناک سفر پر نکلنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

وہ جانتے ہیں کہ یہ ایک کٹھن سفر ہے، جس میں بہت سے تارکین وطن مارے جا چکے ہیں اور جہاں خواتین خاص طور پر جنسی حملوں کا شکار ہو سکتی ہیں۔

نضیف کو معلوم ہے کہ ’یہ بھی آسان نہیں ہوگا‘ کیونکہ طالبان نے کہا ہے کہ انھوں نے پڑوسی ممالک کے ساتھ تمام سرحدی کراسنگز (گزرگاہوں) کو سیل کر دیا ہے۔

پھر بھی نضیف یہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہیں۔

’وہ مجھے کبھی معاف نہیں کریں گے۔ اگر میں کابل میں رہا تو طالبان مجھے تلاش کرنے کے بعد مار ڈالیں گے۔‘


احمد کہتے ہیں کہ ’میں نکلنا چاہتا ہوں کیونکہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ میری زندگی (یہاں) محفوظ ہے۔‘

احمد نے کئی سال تک بطور صحافی کام کرنے کے بعد افغان حکومت کے ایک شعبے میں میڈیا ایڈوائزر کے نوکری کر لی تھی۔

An Afghan woman greets her relative at the Vienna airport

Getty Images
بہت سے مغربی ممالک نے افغان پناہ گزینوں کو پناہ دی ہے لیکن ابھی بھی بہت سے لوگوں کو افغانستان سے نکالنے کی ضرورت ہے

انھیں براہ راست موت کی دھمکیاں تو نہیں ملی ہیں لیکن وہ اس لیے خوفزدہ ہے کہ طالبان ان کے دفتر سے تمام دستاویزات اٹھا کر لے گئے ہیں جس میں عملے کے ناموں کی فہرست بھی شامل ہے جس میں ان کا نام بھی ہے۔

’طالبان ابھی کسی قسم کا کوئی غیر معمولی برتاؤ نہیں کر رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب وہ حکومت بنا لیں گے تو کیسا رویہ اختیار کریں گے۔‘

انھیں شبہ ہے کہ طالبان ابھی اپنی گرفت مضبوط کر رہے ہیں اور مناسب وقت کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ ’ان کو اٹھا لیں جنھیں وہ اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیئے

’وہ شہر جس سے مجھے محبت تھی اب وہاں کچھ محفوظ نہیں تھا‘

امریکہ جانے کی امید میں کابل جانے والا پناہ گزین جس کا پشاور لوٹنا بھی مشکل ہو گیا

لوگ صرف ایک سوٹ کیس تھامے طالبان سے بھاگ رہے ہیں

احمد کو طالبان کی طرف سے دی گئی عام معافی پر بالکل یقین نہیں ہے۔

ان کی بیوی اور بھائی نے انھیں نکل جانے کا مشورہ دیا۔ چونکہ ان کے پاس برطانیہ کا ویزا تھا اس لیے انھوں نے جمعرات کو کابل ایئرپورٹ جانے کا فیصلہ کیا لیکن جب وہ وہاں پہنچے تو مین گیٹ کے باہر پوری سڑک لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔

مزید آگے بڑھنے کی بیتابی میں انھوں نے قطار سے بچنے کے لیے سڑک کے متوازی نالے میں چھلانگ لگا دی۔

ابھی وہ گھٹنوں تک گندے پانی میں چل رہے تھے کہ انھیں ایک زوردار دھماکے کی آواز سنائی دی۔

’وہ اتنا زور دار تھا کہ شاک ویوز (جھٹکے) نے مجھے زمین پر پٹخ دیا۔ میرے ہاتھوں اور چہرے پر زخم ہیں۔ بم دھماکہ صرف 150 میٹر دور ہوا تھا۔‘

اس بم حملے میں 170 افراد بشمول 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے اور اس کی وجہ سے انخلاء کی کارروائیوں کو عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔

احمد نے اس واقع کی جو ویڈیو اپنے فون سے بنائی ہے اس میں قتل عام کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، جہاں بکھری ہوئی لاشیں، صندوقوں اور جوتوں پر پڑی ہوئی ہیں۔

احمد کو ان کے بھائی آ کر لے گئے اور چند گھنٹوں کے بعد وہ گھر پر تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ حکومت کے مختلف میڈیا کے شعبوں میں کام کرنے والے تقریباً ایک درجن کے قریب لوگ انخلا کی پروازوں کے ذریعے مختلف ممالک چلے گئے ہیں۔

احمد جلد از جلد باہر نکلنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھیں نہیں پتہ کہ کب سویلین پروازیں کابل ایئرپورٹ سے دوبارہ شروع ہوں گی، اس لیے وہ سرحد پار کرکے پاکستان جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، جہاں سے وہ دوبارہ اپنی قسمت آزمائیں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ خوفناک ہے۔‘

’طالبان گاڑیاں روک کر سب کو چیک کر رہے ہیں اور قومی شناختی کارڈ مانگ رہے ہیں۔‘


برطانوی حکومت کی طرف سے فون کال آنے کے بعد پروانہ فوراً کابل ایئرپورٹ کی طرف نکلیں۔

’میری اس سے شادی ہوئی ہے جو غیر ملکی فوج کے لیے کام کرتا تھا۔ اسی لیے مجھے خطرہ ہے۔‘

لیکن وہ افغانستان میں پھنسی ہوئی ہیں اور وہاں سے ابھی باہر نہیں نکل سکتیں۔

Map of Afghanistan

Getty Images
افغانستان کے مستقبل پر ابھی ایک سوالیہ نشان ہے

پروانہ کی شادی ایک مترجم کے ساتھ ہوئی تھی جو افغانستان میں برطانوی فوج کے لیے کام کرتے تھے۔

ان کے شوہر کئی سال پہلے برطانیہ ہجرت کر گئے تھے اور طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد بالآخر انھیں اپنی بیوی کو برطانیہ بلانے کی منظوری مل گئی تھی۔

لیکن وہ اپنے پاسپورٹ پر ویزا کی مہر نہیں لگوا سکیں اور اب انھیں اپنی جان کا خطرہ ہے۔

مزید پڑھیئے

’طالبان پہلے ساتھ والے گھر میں داخل ہوئے پھر رات کو ہمارا دروازہ بھی کھکھٹایا‘

داڑھی سے ’استثنیٰ کا سرٹیفیکیٹ‘ اور طالبان کی کاسمیٹکس کی دکان سے بیویوں کے لیے خریداری

افغانستان کی صورتحال نے کیسے چین کے حوصلے بلند کیے اور دیگر ایشیائی ممالک کو ہلا کر رکھ دیا

وہ کہتی ہیں کہ ’یہاں سفارت خانے بند ہیں۔ برطانوی حکومت کس طرح نقل مکانی کی سکیم کو چلائے گی؟ مجھے نہیں معلوم کہ تیسرے ملک سے نقل مکانی کیسے کام کرے گی۔ حالات بہت خراب ہیں اور میں اب ناامید ہوں۔ میں برطانیہ نہیں جا سکتی۔‘

14 اگست سے اب تک برطانیہ نے 15 ہزار سے زائد افراد کو افغانستان سے نکالا ہے۔ لیکن پروانہ ان لوگوں میں شامل نہیں تھیں جو محفوظ مقامات تک پہنچ سکے۔

’میں وہاں چھ دن اور چھ راتیں رہی لیکن میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ وہاں بہت ہجوم تھا۔ میں مٹی پر بیٹھتی تھی۔ وہ بالکل محفوظ نہیں تھا۔ میں نے اندر داخل ہونی کی بہت کوشش کی لیکن ایک انچ بھی آگے نہ بڑھ سکی۔‘

جب مزید لوگ ہوائی اڈے میں داخل ہونے لگے تو وہاں کھانے اور پانی کی قلت ہو گئی۔

’میں نے کوشش کی نہ کچھ کھاؤں نہ پیوں کیونکہ وہاں بیت الخلا نہیں تھے۔ دن کے وقت وہاں بہت گرمی تھی اور مکمل طور پر تھکاوٹ محسوس کر رہی تھی۔‘

ایک موقع پر وہ بیت الخلاء استعمال کرنے کے لیے ہوائی اڈے سے اپنے ایک رشتہ دار کے گھر گئیں۔

’جب میں واپس آئی تو ہجوم بڑھ چکا تھا اور میں اپنی پچھلی پوزیشن سے مزید پیچھے آ گئی تھی۔ یہ گیٹ سے بہت دور تھا۔‘

پروانہ بالآخر ناامید ہو گئیں اور گھر آ گئیں، اگرچہ وہ سمجھتی ہیں کہ مستقبل میں جب انخلا کے لیے دوبارہ پروازیں چلیں گی تو ہوائی اڈے پر لوگوں کا بہت زیادہ ہجوم ہو جائے گا، چاہے یہ جب کبھی بھی ہو۔

Afghan Diaspora in Canada holding a protest

Getty Images
غیر ممالک میں رہنے والے افغان لوگوں کے گروہ کہتے ہیں کہ دنیا طالبان پر بھروسہ نہ کرے

ابھی تو سڑکوں پر طالبان جنگجوؤں کی موجودگی کی وجہ سے پروانہ نے اپنی نقل و حرکت کو کم کر دیا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’گلیاں تقریباً خالی ہیں۔‘

’ہر کوئی گھر پر رہ رہا ہے۔ مشین گن اور آر پی جی سے لیس طالبان جنگجو سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں اور ان لوگوں سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں جو افغانستان چھوڑنا چاہتے ہیں۔‘

پروانہ ایک انتہائی قدامت پسند خاندان سے ہیں اور برقع پہننے اور چہرے کو ڈھانپے کی عادی ہیں۔ وہ کام نہیں کر رہیں اور معلومات کے لیے سوشل میڈیا پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

’طالبان کہہ رہے ہیں کہ کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ لیکن میں نے ایک ویڈیو میں انھیں کابل میں ایک فوجی افسر کو قتل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں ان پر بھروسہ نہیں کر سکتی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ انخلاء کی آخری پرواز کی روانگی کے بعد ان کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ مغربی ممالک طالبان پر دباؤ ڈالیں کہ وہ افغانستان سے نکلنے کے خواہشمند افراد کے لیے محفوظ راستے کی اجازت دیں۔

’بین الاقوامی برادری کو ہمیں نہ بھولنا چاہیئے اور ہماری مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیئے۔ اگر وہ اس طرح وقت ضائع کرتے رہے تو میرے جیسے لوگ زندہ نہیں رہیں گے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words