سقوطِ کابل سے تین ہفتے پہلے بائڈن اور غنی نے ایک دوسرے کو کیا کہا؟

امریکی صدر جو بائڈن اپنے افغان ہم منصب اشرف غنی کے ساتھ
Reuters
امریکی صدر جو بائڈن اپنے افغان ہم منصب اشرف غنی کے ساتھ
خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے امریکی صدر جو بائڈن اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان 23 جولائی کو ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے اقتباسات جاری کیے ہیں۔ یہ گفتگو 15 اگست کو افغان دارالحکومت کابل میں طالبان کے داخلے اور صدر غنی کے ملک سے فرار ہونے سے تقریباً تین ہفتے قبل ہوئی تھی۔

بائڈن: جنابِ صدر۔ جو بائڈن۔

غنی: بالکل، جنابِ صدر، آپ کی آواز سن کر نہایت مسرت ہوئی۔

بائڈن: آپ جانتے ہیں، مجھے ایک لمحہ تاخیر ہوئی۔ لیکن میرا مطلب مخلصانہ ہے۔ دیکھیں، میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں آپ سے زیادہ فوجی آدمی نہیں ہوں، مگر میں اپنے پینٹاگون (محکمۂ دفاع) کے لوگوں، اور قومی سلامتی کے ساتھیوں سے ملتا رہا ہوں، جیسا کہ آپ ہمارے اور اپنے لوگوں سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں، اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں اور مجھے اس تاثر کے بارے میں آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے جو دنیا بھر میں اور افغانستان کے مختلف حصوں میں پایا جاتا ہے، وہ یہ کہ طالبان کے خلاف جنگ کے سلسلے میں معاملات صحیح سمت میں نہیں جا رہے ہیں۔

اور ضرورت اس بات کی ہے، چاہے یہ (تاثر) درست ہے یا نہیں، ایک مختلف تصویر کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

۔۔۔

بائڈن: اگر آپ بسم اللہ (وزیر دفاع بسم اللہ خان محمدی) کو آبادی کے کلیدی مراکز پر مرکوز حکمتِ عملی پر عمل درآمد کرنے کا اختیار دیں، اور میں فوجی آدمی نہیں ہوں، اور میں آپ سے نہیں کہہ رہا کہ وہ منصوبہ کیسا ہونا چاہیے، اس سے نہ صرف آپ کو مزید امداد ملے گی، بلکہ وہ تاثر بھی بدل جائے گا۔۔۔ (آواز مبہم) ۔۔۔ جو ہمارے حلیفوں اور یہاں امریکہ اور دوسری جگہوں میں آپ کی کارکردگی کے بارے میں پایا جاتا ہے۔

ظاہر ہے کہ آپ کے پاس بہترین فوج ہے، آپ کے پاس ستّر سے اسّی ہزار کے مقابلے میں اسلح سے لیس تین لاکھ فوجی ہیں، اور واضح طور پر ان میں لڑنے کی صلاحیت بھی ہے، اور اگر ہمیں پلان کے بارے میں علم ہو اور یہ کہ ہم کیا کر رہے ہیں تو ہم فضائی مدد بھی دیں گے۔ اور یہ سب اگست کے آخر تلک، اور پھر کسی خبر ہے اس کے بعد کیا ہوگا۔

ہم یقینی بنائیں گے کہ آپ کی فضائیہ کی اڑنے اور فضائی مدد فراہم کرنے کی صلاحیت برقرار رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم سفارتی، سیاسی اور معاشی جنگ کا سلسلہ جاری رکھیں گے تاکہ آپ کی حکومت کی بقا کو یقینی بنائیں، بلکہ وہ قائم رہے اور مضبوط ہو کیونکہ صاف ظاہر ہے کہ یہ ہی افغان عوام کے مفاد میں ہے کہ آپ کامران ہوں اور رہبری کریں۔ اگرچہ میں جانتا ہوں کہ آپ سے براہ راست یہ باتیں کہنا میری جانب سے بے باکی ہے، میں آپ کو بہت عرصے سے جانتا ہوں، میں نے آپ کو روشن فکر اور باوقار پایا ہے۔

مگر میں واقعی سمجھتا ہوں، مجھے نہیں جانتا کہ آپ کو پتہ ہے یا نہیں، دنیا بھر میں یہ تاثر کتنا زیادہ پایا جاتا ہے کہ اس کا انجام شکست کے سوا کچھ نہیں، جو کہ نہیں ہے، ضروری نہیں کہ ایسا ہی ہو، تو آخر میں بس آپ سے یہ ہی کہوں گا کہ آپ دوستم، کرزئی اور دوسرے سب کو متحد کریں، اگر وہ آپ کے ساتھ کھڑے ہو جائیں اور کہیں کہ وہ آپ کی بنائی ہوئی حکمت عملی کی حمایت کرتے ہیں، اور اس حکمت عملی کو عملی جامہ پہنانے کا چارج آپ ایک سپاہی کو دیدیں، آپ اس فوجی کو جانتے ہیں، (وزیر دفاع بسم اللہ) خان کو اس منصوبے پر عمل درآمد کا اختیار دیدیں، تو اس سے یہ تاثر بدل جائے گا، میرے خیال میں بہت کچھ بدل جائے گا۔

۔۔۔

غنی: جانب صدر، ہمیں طالبان، پاکستانی منصوبے اور فوجی مدد، اور کم سے کم 10 سے 15 ہزار بین الاقوامی دہشت گردوں، جن میں اکثریت پاکستانی ہے، کی جانب سے ایک مکمل یلغار کا سامنا ہے، اس پہلو کو بھی نظر میں رکھنے کی ضرورت ہے۔

دوئم، جو نہایت اہم ہے وہ فضائی مدد ہے، اور میں آپ سے درخواست کروں گا، آپ پہلے بھی فراخ دلی کا مظاہرہ کر چکے ہیں، اگر آپ کی امداد، خاص طور سے ایئر فورس کے لیے پہلے مرحلے میں زیادہ ہو، کیونکہ اس وقت ہمیں جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ یہ کہ فضائیہ پر ہمارا انحصار بہت زیادہ ہے، اور ہم نے اسے اپنی ترجیح بنایا ہے کہ اگر ابتدائی مرحلے میں زیادہ تو ہم بہت ممنون ہوں گے۔

اور سوئم، دوسری امداد کے بارے میں طریقۂ کار سے متعلق، مثلاً، فوج کی تنخواہ دس برس سے زیادہ عرصے سے نہیں بڑھی ہے۔ ہمیں سب کو ساتھ ملانے کے لیے کچھ کرکے دکھانا ہوگا تو اگر آپ اپنے قومی سلامتی کے مشیر یا پینٹاگون، جسے بھی آپ چاہیں ہمارے ساتھ تفصیلات طے کرنے کے لیے مقرر کر دیں، اور خاص طور سے آپ کی فضائی مدد سے متعلق ہماری توقعات کے لیے بھی۔ طالبان کے ساتھ سمجھوتے ہیں جن کے بارے میں ہم (یا ‘آپ’ واضح نہیں ہے) پہلے سے با خبر نہیں تھے، اور جن کی وجہ سے آپ کی ایئر فورس ان پر حملے کرنے میں بہت احتیاط سے کام لیتی ہے۔

اور آخری بات، میری ابھی ابھی ڈاکٹر عبداللہ سے بات ہوئی ہے، وہ طالبان سے مذاکرات کرنے گئے تھے، طالبان نے کسی دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ امن کی بات اسی وقت ہو سکتی ہے اگر ہم فوجی توازن بحال کرنے میں کامیاب ہوں۔ اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں۔۔۔

بائڈن: (گفتگو میں خلل)

غنی: اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں میں اپنے چار اہم شہروں میں گیا، میں اپنے نائب صدر اور دوسروں کے ساتھ مسلسل سفر کر رہا ہوں، ہم یکجا ہو جائیں گے۔ آپ کی جانب سے تائید و حمایت کی یقین دہانی کا ہمیں حقیقی معنوں میں متحرک کرنے میں بہت اہم کردار ہے۔ شہری مزاحمت، جناب صدر، بہت شاندار رہی ہے، ایسے شہر بھی ہیں جو 55 روز سے محصور ہیں مگر ہتھیار نہیں ڈالے۔ میں دوبارہ آپ کا شکر گزار اور ہمیشہ آپ سے ایک فون کال کی دوری پر ہوں۔ ایک دوست دوسرے دوست کو یہ ہی کہتا ہے، اس لیے براہ مہربانی آپ محسوس نہ کریں کہ آپ مجھ پر کچھ مسلط کر رہے ہیں۔

بائڈن: ارے نہیں، دیکھیں، میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ دیکھیں، فضائی مدد اس وقت کام آتی ہے جب زمین پر کوئی فوجی حکمت عملی موجود ہو جس کی مدد کی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words