عثمان مرزا کیس:خاتون کو ہرہنہ کر کے ویڈیو بنانے والے کیس کے ایک ملزم کی ضمانت منظور

خاکہ
BBC
اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے لڑکی کو برہنہ کر کے اس کی ویڈیو بنانے کے الزام میں گرفتار ایک ملزم کی ضمانت منظور کرلی ہے۔

ملزم ریحان پر الزام ہے کہ وہ لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو بنا رہے تھے۔ عدالت کا موقف ہے کہ چونکہ اس واقعہ سے متعلق درج کیے گئے مقدمے میں ملزم ریحان کا نام نہیں ہے اس لیے ان کی ضمانت منظور کی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ اسی بنیاد پر اس مقدمے میں گرفتار ایک اور ملزم عمر مروت کو پہلے ہی ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے۔

اس مقدمے کے مرکزی ملزم عثمان مرزا سمیت پانچ ملزمان اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہیں۔

اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج عمر عطا ربانی کی عدالت میں بدھ کے روز ملزمان ریحان اسلم اور فرحان کی ضمنانت کی درخواستوں سے متعلق سماعت ہوئی۔

ملزمان کے وکیل ملک اخلاق اعوان نے درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کا نام مقدمے میں درج نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ تفتیش کے دوران بھی ان کے موکل کا کوئی کردار سامنے نہیں آیا۔

ملزمان کے وکیل کا کہنا تھا کہ پولیس نے بھی اپنی تفتیش میں ان کے موکلان کے ایسے ناقابل تردید شواہد عدالت میں پیش نہیں کیے۔

یہ بھی پڑھیے

عثمان مرزا کیس: ملزمان کو ’سزائے موت اور عمر قید ‘کی سزائیں ہو سکتی ہیں، پولیس

’ہماری اجتماعی ناکامی ہے کہ انصاف کے لیے ویڈیو وائرل ہونے کا انتظار کرنا پڑتا ہے‘

’دس برس پرانی ویڈیو وائرل ہونے سے شادی شدہ زندگی داؤ پر لگ گئی‘

متاثرہ لڑکی کے وکیل حسن جاوید شورش نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزم ریحان پر لڑکی کی برہنہ ویڈیو بنانے کا الزام ہے۔

انھوں نے کہا کہ شناخت پریڈ کے دوران ان کے موکلہ نے ملزم ریحان کو شناخت کیا تھا کہ یہ وہی شخص ہے جو اس کی ویڈیو بنا رہا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس سے بڑھ کر اور شریک جرم اور کون ہوسکتا ہے۔ متاثرہ لڑکی کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر یہ ویڈیو نہ بنتی تو سوشل میڈیا پر وائرل کیسے ہوسکتی تھی۔

انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد پولیس نے اس پر کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا۔

انھوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ جلدی میں ملزم ریحان اسلم کا نام ایف آئی ار میں درج کرنا رہ گیا ہو لیکن جب اس کی موکلہ نے ملزم کو شناخت کیا ہے تو پھر وہ اس مقدمے کے مرکزی ملزم عثمان مرزا کا شریک جرم ہے۔

انھوں نے کہا کہ تمام حالات کو دیکھتے ہوئے دونوں ملزمان کی ضمنانت کی درخواستوں کو مسترد کیا جائے۔

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس مقدمے کے ایک ملزم عمر بلال مروت کو اس بنیاد پر ضمانت دی ہےکیونکہ اس کا نام ایف آئی ار میں نہیں تھا۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزم ریحان اسلم کی ضمانت کی درخواست کو منظور کرلیا جبکہ ملزم فرحان کی ضمانت کی درخواست کو اس بنیاد پر مسترد کر دیا کیونکہ وہ مسلسل برہنہ لڑکی کی اس ویڈیو میں میں نظر آرہا ہے۔

واضح رہے کہ لڑکی کو برہنہ کر کے اس کی ویڈیو بنانے کے مقدمے میں ملزمان کے خلاف جو دفعات لگائی گئی ہیں تعزیرات پاکستان کی دفعات کے تحت ان کی سزا تین سال سے لےکر سزائے موت تک ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words