انڈیا میں درجنوں بچوں کی ہلاکت کی وجہ بننے والا ’پراسرار بخار‘

سوتک بسواس - نامہ نگار انڈیا

اترپردیش
BBC
اترپردیش میں گذشتہ ہفتے میں 50 افراد پراسرار بخار کے ہاتھوں جان کی بازی ہار چکے ہیں
انڈیا کی شمالی ریاست اترپردیش میں گذشتہ ایک ہفتے میں پچاس افراد جن میں اکثریت بچوں کی ہے، ’پر اسرار بخار‘ کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

بچے جب سو کر اٹھتے ہیں تو وہ پسینے سے شرابور اور شدید بخار میں مبتلا ہوتے ہیں۔

ان میں کچھ سر میں شدید درد اور جوڑوں کے درد کی شکایت کرتے ہیں جبکہ کچھ جسم میں پانی کی کمی اور متلی کا شکایت کرتے ہیں۔ کچھ بچوں کو ٹانگوں اور بازوؤں پر نشانات ہوتے ہیں۔

ریاست اتر پردیش کے چھ ضلعوں میں جہاں سینکڑوں لوگوں کو پراسرار بیماری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ہسپتالوں میں داخل کیا گیا وہیں اس پراسرار بخار سے ابھی تک پچاس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس پراسرار بخار میں مبتلا کسی مریض کا بھی کورونا ٹیسٹ مثبت نہیں آیا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب انڈیا کووڈ کی دوسری لہر سے آہستہ آہستہ باہر آ رہا ہے اس نئی بیماری نے لوگوں کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے اور اخباروں میں ’پراسرار بخار‘ کی ہیڈلائنز لگ رہی ہیں۔

ریاست کے جن ضلعوں میں اس پراسرار بخار کے زیادہ مریض سامنے آئے ہیں ان میں آگرہ، ماتھورا، مینپوری، ایتھا، کاسگنج اور فیروز آباد شامل ہیں۔ ان اضلاع کے ڈاکٹر سمجھتے ہیں کہ یہ ڈینگی وائرس ہے جو لوگوں کو بیمار کر رہا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مریضوں کو ہسپتال میں کم پلیٹلیٹ کے ساتھ لایا جا رہا ہے۔ ڈینگی وائرس سے متاثر مریضوں کے خون میں پلیٹلیٹ کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔

ضلع فیروز آباد جہاں پراسرار بیماری سے اب تک چالیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 32 بچے شامل ہیں، وہاں کے سب سے سینیئر ڈاکٹر نیتا کلشریستھا نے بتایا ہے کہ مریض خصوصاً بچے تیزی سے موت کے منھ میں جا رہے ہیں۔

ڈینگی وائرس ایک ٹراپیکل بیماری ہے جو انڈیا میں سینکڑوں برسوں سے پھیلتی رہی ہے۔ ڈینگی وائرس دنیا کے سو ممالک میں پایا جاتا ہے جن میں 70 ایشیائی ممالک ہیں۔ ڈینگی وائرس کی چار اقسام ہیں اور بچوں میں اس وائرس سے اموات بالغ لوگوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

بخار

Getty Images
اترپردیش میں ڈینگی وائرس کا پھیلاؤ عام ہے

مچھر انسانی آبادی کے قریب جمع گندے پانی میں پیدا ہوتا ہے۔ مچھروں کے ذریعے پھیلنے والے وائرس کے ماہر ڈاکٹر سکاٹ ہیلسٹیڈ کا کہنا ہے کہ ’انسان ہی مچھروں کو پیدا ہونے کے موقع فراہم کرتا ہے اور انسان ہی اس سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔‘

ہر سال دنیا میں 100 ملین سے زیادہ افراد ڈینگی وائرس سے متاثر ہوتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا کی آبادی پر ڈینگی اور کووڈ کا باہمی نقصان تباہ کن ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ریاست آندھرا پردیش میں ’پراسرار‘ بیماری سے سینکڑوں بیمار، تحقیقات جاری

ٹرمپ کے انڈیا کی ہوا کو گندا کہنے پر انڈیا میں شدید رد عمل اور مودی سے سوال

لیکن یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ اترپردیش میں ’پراسرار بخار‘ واقعی ڈینگی کی وبا سے پھیل رہا ہے۔

ریاست اترپردیش جس کی آبادی تقریباً بیس کروڑ ہے اور وہاں صحت عامہ کے نظام کا معیار بھی اچھا نہیں ہے، وہاں ہر موسم برسات کے بعد اس طرح کی پراسرار بیماریاں ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔

اتر پردیش میں سنہ 1978 میں جاپانی اینکفلائٹس یا دماغی سوزش یا دماغی سوزش کا مرض سامنے آیا تھا جس سے اب تک 6,500 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ مرض کوہ ہمالیہ کے دامن میں واقع ضلع کورکھپور میں زیادہ پھیلتا ہے جہاں سیلابی پانی کئی مقامات پر اکھٹا ہو جاتا ہے جہاں مچھروں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ہے۔

سنہ 2013 میں کورکھپور ضلع میں اینکفلائٹس یعنی دماغی سوزش سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن کی مہم شروع کی گئی تھی جس سےاینکفلائٹس کے واقعات میں واضح کمی آئی ہے۔ رواں برس کورکھپور میں اینکفلائٹس کے 428 مریض سامنے آئے ہیں جن میں 17 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔

گھورکھپور

Getty Images
ضلع کورکھپور میں کئی بچے اینکفلائٹس یا دماغی سوزش سے ہلاک ہو چکے ہیں

مون سون کے موسم کے بعد بش ٹائیفس یعنی دماغی تپ بھی یہاں پھیلتا رہا ہے۔ سائنسدانوں کو بش ٹائیفس کے جراثیم ایسی لکڑیوں پر ملے ہیں جنھیں لوگوں ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کے لیے گھروں کے اندر رکھتے ہیں۔

زیادہ تر بچے دماغی تپ میں اس وقت مبتلا ہوتے ہیں جب وہ گھروں میں رکھی ہوئی لکڑیوں کو ہاتھ لگاتے ہیں یا وہ ایسے جھاڑیوں میں رفع حاجت کے لیے جاتے ہیں جہاں یہ بش ٹائیفس کے جراثیم جھاڑیوں میں موجود ہوتے ہیں۔

سائنسدانوں نے 2015 سے 2019 تک اترپردیش کے چھ اضلاع میں موسم برسات کے بعد ڈینگی اور سکرب ٹائیفس کے پھیلنے کا پتہ چلایا تھا۔ اسی طرح جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والے چکنگنیا وائرس کی وجہ سے لوگ بخار میں مبتلا ہو رہے تھے۔.

اس خطے میں مون سون کے بعد کئی ایسی بیماریاں پھیلتی رہی ہیں جن سے لوگ بخار میں مبتلا ہوتے رہے ہیں۔

نیشنل انیسٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اور نیورو سائنس کے وائرالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر وی روی کا کہنا ہے کہ ان موسمی بیماریوں پر نظر رکھنے اور ان کا بروقت علاج کرنے کی ضرورت ہے۔

اترپردیش میں 2006 میں بھی ایک ایسی ہی پراسرار بیماری پھیلی تھی جس سے کئی بچے ہلاک ہو گئے تھے۔ بعد میں اس کے بارے میں پتا چلا تھا کہ بچے کاسیا کی پھلیاں کھانے سے بیمار ہوئے تھے۔ کاسیا اس علاقے میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔

سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ بچوں کے کاسیا کی پھلیاں کھانے کی وجوہات میں بھوک، افلاس، والدین کی غفلت اور لاپرواہی شامل ہے۔

شاید اسی طرح کے ایک مطالعے میں اس پراسرار بخار کی حقیت بھی آشکار ہو جائے گی۔

مچھر.

Getty Images
اللہ آباد لوگ مچھروں کو دور رکھنے کے لیےدھواں پیدا کرتے ہیں

ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہے کہ یہ پراسرار بخار کیسے شروع ہوا اور پھر اس میں شدت کیسے آتی ہے۔ لوگ ایک لمبا اور کٹھن سفر کر کے سرکاری ہسپتالوں تک پہنچتے ہیں اور ابھی اس کا پتا چلایا جانا ہے کہ کیا سفر کی تھکاؤٹ سے ان کی حالت مزید خراب تو نہیں ہو رہی۔

یا کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ جو بچے اس پراسرار بخار میں مبتلا ہو رہے ہیں وہ پہلے سے تپ دق یا اس جیسے کسی اور مرض میں مبتلا تو نہیں۔

اگر اس پراسرار بخار کی وجہ ڈینگی وائرس ہے تو یہ سراسر حکومت کی ناکامی ہے جو مچھروں کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ڈاکٹر سکاٹ ہیلسٹیڈ کا کہنا ہے کہ مرض کی منتقلی کی شدت کا اندازہ صرف اینٹی باڈیز ٹیسٹ سے ہی کیا جا سکتا ہے۔

وبائی امراض کے ایک انڈین ماہر جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے، کا کہنا ہے کہ اگر ہم صحیح طریقے سے اور تواتر کے تحقیق کا عمل جاری نہیں رکھیں گے تو یہاں بہت سی بیماریاں ہمیشہ پراسرار ہی رہیں گیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words