اسلامی حکومت کا مغالطہ اور اس کی حقیقت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دانش اہل ایمان کا گم گشتہ خزانہ ہے، جہاں کہیں وہ اسے پائے اس کا پہلا حق دار وہی ہے۔ (حدیث)

سورۃ الفاتحہ کو ام الکتاب کہا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ قرآن مجید کی اصل اور اس کی تعلیمات و ہدایات کی اساس ہے۔ جدید دستوری زبان میں اسے قرآن کا ”پری ایمبل“ /سر نامہ کہا جا سکتا ہے۔ بسم اللہ کو چھوڑ کر چھ آیتوں پر مشتمل اس سورۃ میں اخیر کی تین آیتیں ہدایت سے متعلق ہیں۔

اس کے بعد سورۃ البقرۃ میں حروف مقطعات ”الم“ کے فوراً بعد آیت نمبر دو قرآن مجید کا تعارف ہے ”(ذلک الکتاب لا ریب فیھ، ہدى للمتقین)“ وہ عظیم کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، پرہیز گاروں کے لئے ہدایت ہے ”۔

سورۃ الفاتحہ اور سورۃ البقرۃ کی مذکورہ بالا آیات سے واضح ہے کہ قرآن کتاب ہدایت ہے۔ ہدایت کا مطلب رہنمائی guidance ہے۔ رہنمائی موقع و محل کے حساب سے تفصیلی بھی ہو سکتی ہے اور اجمالی بھی۔ عبادات اور اخلاقیات کے بشمول خاندان، سماج اور سیاست سے متعلق کچھ قوانین تفصیل کے ساتھ قرآن میں موجود ہیں اور کچھ نہیں بھی ہیں، جو موجود نہیں ہیں ان سے متعلق اجمالی ہدایات موجود ہیں، احادیث میں ان کی تفصیلات دستیاب ہیں۔ تاہم زمان و مکان کے اختلاف اور بعد کے سبب بہت سے سماجی و سیاسی معاملات میں پیدا ہونے والے تنوع کا تفصیلی حل احادیث میں بھی موجود نہیں ہے، البتہ اجمالی ہدایات موجود ہیں۔ انہیں اجمالی ہدایات کی روشنی میں تفصیلات کی دریافت انسانی دانش کے سپرد کر دی گئی ہے، جسے اجتہاد کا نام دیا گیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت ان سے پوچھا، فیصلے کس طرح کیا کرو گے؟ انہوں نے جواب دیا: کتاب اللہ یعنی قرآن کی روشنی میں۔ آپ نے پوچھا اگر قرآن میں موجود نہ ہو تو؟ جواب دیا: سنت رسول کی روشنی میں۔ آپ نے فرمایا اگر رسول کی سنت میں موجود نہ ہو تو؟ معاذ بن جبل نے جواب دیا: اجتہاد کروں گا اور کوتاہی نہ کروں گا۔

مذکورہ بالا حدیث کی روشنی میں فقہاء اور علمائے اصول فقہ نے اسلامی دستور کی تخریج و ترتیب اور قانون سازی میں قرآن و سنت اور اجماع و قیاس کی درجہ بندی کی ہے۔ بعض احکام کے نہ پائے جانے سے متعلق رسول اللہ ﷺ کے سوالات اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے جوابات یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ دور دراز پھیلی ہوئی انسانی بستیوں میں ہر نئے دن کے ساتھ پیش آنے والے نت نئے معاملات و مسائل کی جزئیات کا تفصیلی حل قرآن و حدیث میں موجود نہیں ہے۔ چونکہ رسول نے خود ایسا فرما دیا ہے اور صحابیٔ رسول نے اجتہاد یعنی غور و فکر میں کوتاہی نہ کرنے وعدہ بھی کر لیا ہے، لہذا اب اس نکتہ آفرینی کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ہے کہ قرآن و حدیث میں سب کچھ تفصیل کے ساتھ موجود ہے، جو نہیں پاتے ان کی اپنی نظر کا قصور ہے۔

قرآن و سنت کی اسی تفہیم کے تحت ابتدائی صدیوں میں صحابہ اور فقہائے اسلام نے اپنی دانش کا استعمال کرتے ہوئے اجتہادات کیے، اور خوب کیے۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی معاشرتی و سیاسی اصلاحات اور عسکری تنظیم کو اسی اجتہاد کے زاویۂ نظر سے دیکھا جانا چاہیے۔ لیکن بعد کی صدیوں میں خاص کر بر صغیر میں ایک نیا بیانیہ سامنے آیا۔ دانستہ یا نا دانستہ مذکورہ بالا تفہیم کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا۔ یہ باور کرا دیا گیا کہ قرآن میں رہتی دنیا تک کے سارے مسائل کا تفصیلی حل اور علوم موجود ہیں۔

اس مفروضہ کی کوئی علمی بنیاد نہیں تھی، لیکن عوام و خواص میں یکساں مقبول ہوا۔ اس ضمن میں نقصان دہ بات یہ ہوئی کہ مسلمانوں نے گرہ باندھ لی کہ ان کے پاس قرآن ہے جس میں تمام ہدایات اور سارے علوم ہیں، لہذا انہیں مزید کسی علم کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں نے جدید علوم اور دریافتوں کی قدر دانی میں بہت دیر کر دی۔ کسی نے انہیں بیدار کرنے کی کوشش کی تو اسے شدید مزاحمتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ حالانکہ سائنس، تاریخ اور جغرافیہ کے جو اشارے قرآن میں پائے جاتے ہیں ان کی حیثیت ضمنی ہے اور وہ قرآن کے اصل موضوع یعنی ہدایت کی تائید وتوثیق کے لیے بطور مثال پیش کیے گئے ہیں یاضمنا آ گئے ہیں۔

لہذا ان کا تفصیلی ذکر قرآن یا حدیث میں پا لینے کا دعوی کرنا، دعوت کے منبر اور مناظرہ کے اسٹیج سے سائنس دانوں کو للکارنا اور جتانا کہ جو کچھ تم نے آج دریافت کیا ہے وہ ہمارے پاس چودہ سو سال پہلے سے موجود ہے، نہ صرف یہ کہ دانش مندی کے خلاف ہے بلکہ خدا کی کتاب کے ساتھ کھلی زیادتی ہے، کیوں کہ سائنسی انکشافات وقت کے گزرنے کے ساتھ تغیر پذیر ہوتے رہتے ہیں، لیکن قرآن میں مذکور حیاتیاتی و فلکیاتی معلومات کو وقت کے ساتھ بدلنا ممکن نہیں ہے۔

نیز قرآن کے موضوع ”ہدایت“ سے انحراف بھی ہے اور خود اپنے نکمے پن کا اعتراف بھی کہ اگر ہمارے پاس کوئی چیز چودہ سو سال پہلے سے موجود تھی تو اب تک اسے کیوں چھپائے بیٹھے تھے، سامنے کیوں نہیں لائے۔ دوسری طرف وہی مسلم دعاۃ و مبلغین جدید سماجی، معاشی اور سیاسی سائنس کو اسلام مخالف قرار دے کر ٹھکرا دیتے ہیں۔ ان میں اور قرآنی تعلیمات میں تطبیقی پہلو تلاش کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ بہر دو صورت قرآن کے اصل مقصد؛ ہدایت سے بھٹک کر دور نکل جاتے ہیں۔

جدید دور کے مطابق حکومت کے تین بنیادی ستون ہیں، پارلیمنٹ، عدلیہ اور انتظامیہ۔ حالیہ دور میں میڈیا کو چوتھا ستون قرار دیا جانے لگا ہے۔ ان سب کے سلسلہ میں رہنما اصول قرآن و حدیث میں موجود ہیں۔ پارلیمنٹ کے لیے ”امرہم شورى بینھم“ (ان کے معاملات آپسی مشاورت سے طے پائیں گے ) ، عدالت کے لیے ”اذا حکمتم بین النای ان تحکموا بالعدل“ (اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کیا کرو) ، انتظامیہ کے سلسلے میں جان، مال، عزت آبرو کی حفاظت اور بیت المال سے محتاجوں کی اعانت کے ساتھ چند بڑے جرائم کی سزائیں بیان ہوئیں اور چھوٹی موٹی غلطیوں پر ”فاعف عنھم واستغفر لھم“ کے ذریعہ انہیں نظر انداز و درگزر کرنے کا حکم دیا گیا۔

دفاع کے سلسلہ میں ”اعدوا لھم ماستطعتم من رباط الخیل“ کے ذریعہ دشمن کے مقابلہ کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا اور ”لا یجرمنکم شنآن قوم ان لا تعدلوا“ کے ذریعہ نکیل ڈال دی گئی کہ کسی قوم کی دشمنی میں انصاف کا دامن ہرگز نہ چھوڑ دینا۔ ذرائع ابلاغ کے لیے ہدایت ملی کہ ”اذا جاءکم فاسق بنبا فتبینوا“ جب ایک غیر محتاط شخص کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی چھان بین کر لیا کرو، اور ”کفى بالمرء کذبا ان یحدث بکل ما سمع“ کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنے اسے بیان کرتا پھرے۔ وضاحت مناسب ہے کہ یہ آیتیں کھینچ تان کر مذکورہ مفاہیم پر منطبق نہیں کی جا رہی ہیں، عام سیاسی و سماجی حالات میں ان کے مذکورہ مطالب و مفاہیم صریح اور واضح ہیں۔ مخالف مفہوم کی حامل دوسری آیات و احادیث غیر معمولی، حالت جنگ اور دوسری ایمرجنسی کی صورت حال سے نمٹنے سے متعلق ہیں۔

مذکورہ بالا مثالوں پر بس نہیں ہے، معیشت، تجارت، صحت اور تعلیم وغیرہ تمام اہم اور غیر اہم شعبہائے زندگی کے لیے ہدایات قرآن و حدیث میں موجود ہیں۔ الجھن تب پیدا ہوتی ہے جب روز مرہ میں پیش آنے والے معاملات کا بعینہ ذکر اور اس کا حل قرآن و حدیث میں تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انسانی دانش کے ذریعہ دریافت شدہ حل بعینہ قرآن و حدیث میں مذکور ہو تو اسے ”اسلامی“ مان لیا جاتا ہے اور نہ ہونے کی صورت میں ”طاغوتی نظام“ کا حربہ قرار دے کر مسترد کر دیا جاتا ہے۔

یہ مان لیا گیا ہے کہ کوئی مسئلہ یا معاملہ ”اسلامی“ ہوگا یا ”طاغوتی“ ، ”خدائی“ ہوگا یا ”شیطانی“ ۔ ان دو صورتوں کے علاوہ کوئی تیسری صورت نہیں ہو سکتی۔ جبکہ علمائے اصول فقہ نے ایک ضابطہ متعین کیا ہے ”الاصل فی الاشیاء الاباحة“ ہر چیز اصلا جائز ہے۔ جب تک اس کی حرمت پر قرآن و حدیث سے دلیل نہ مل جائے۔ حلال ہونے کی دلیل طلب نہیں جائے گی۔ بالکل ویسے ہی جیسے عام قانون میں شہری کو اس وقت تک مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک اس کا جرم ثابت نہ ہو جائے۔

مذکورہ ضابطہ کے تحت کسی بھی نظام، دستور یا قانون کے قرآن وحدیث میں مذکور نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ جائز ہے، کیوں کہ اس کے جواز پر دلیل نہیں ہے تو عدم جواز پر بھی نہیں ہے۔ قرآن و حدیث سے ثابت نہیں ہے تو قرآن وحدیث کا مخالف بھی نہیں ہے۔ انسانی دانش کے نتیجہ میں وجود پذیر ہونے والا نظام، دستور اور قانون انسان دوست، اسلام سے ہم آہنگ اور شرعا جائز بھی ہو سکتا ہے، جیسے ایک شخص مسلمان نہ ہونے کی صورت میں اسلام یا مسلمانوں کو دشمن ہو یہ ضروری نہیں ہے، دوست بھی ہو سکتا ہے۔ معاہد اور محارب کا فرق اہل علم پر روشن ہے۔ اس پر غور و فکر وقت کا مطالبہ ہے۔

اسلام کے شورائی نظام میں جدید جمہوریت کی اساس موجود ہے۔ پر امن بقائے باہم اور دین کے معاملہ میں جبر کی نفی ”لکم دینکم ولی دین“ (تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین) اور ”لا اکراہ فی الدین“ (دین کے معاملہ میں کوئی زور زبردستی نہیں ) میں سیکولر ازم کی اساس موجود ہے۔ اسی طرح جدید عدالتی اور دفاعی نظام بھی اسلام کے عدالتی و دفاعی نظام کا مخالف نہیں ہے۔

قدیم حکومتوں، خواہ مسلم ہوں یا غیر مسلم، اور جدید دنیا میں بنیادی فرق یہ ہے پرانے ادوار میں جو ادارے فرد واحد کے حکم پر اور اس کی منشا کے مطابق چلتے تھے انہیں جدید دنیا میں نظام کا پابند کر دیا گیا ہے۔ فرد واحد کے تابع ہونے اور نظام کے تحت چلنے میں کیا فرق ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے، انسانی تاریخ عبرتناک کہانیوں سے بھری پڑی ہے۔ متمدن دنیا میں تمام ادارے اپنے داخلی نظام کے پابند ہیں۔ ان کے حدود کار و دائرۂ اختیار متعین ہیں، جن سے وہ تجاوز نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان میں کوئی دخل دے سکتا ہے، خواہ حاکم ہی کیوں نہ ہو۔

اسلام نے بھی ان کی ضرورت اور اہمیت کے پیش نظر بنیاد فراہم کر دی اور تفصیل طلب امور مثلاً شوری، عدلیہ، افواج اور انتظامیہ کا ڈھانچہ، ذمہ داران کا انتخاب، عہدیداران کا تقرر، احتساب، معزولی، ریٹائرمنٹ، ذمہ داریاں اور حقوق طے کرنا انسانی دانش کے حوالے کر دیا۔ غیر مسلم دانشوروں کی خوش بختی کہیے کہ یہ نمایاں کارنامے ان کے حصے میں آئے۔ انہوں نے انسانی تمدنی تاریخ میں ان اہم ضرورتوں کو ادارہ جاتی شکل دے کر نظام کے تابع کیا اور انسانی دنیا پر عظیم احسان سے سر فراز ہوئے۔ نظام کے تابع ہونے کے باوجود بد نظمی کی مثالیں مل جائیں گی لیکن حسن نظم کی برکت کی مثالوں سے بھی دنیا بھری پڑی ہے۔

اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا ”الحکمة ضالة المؤمن انى وجدھا ہو احق بھا“ ”دانش اہل ایمان کا کھویا ہوا خزانہ ہے، وہ جہاں کہیں اسے پائے اس کا زیادہ حق دار ہے۔“ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ ضروری طور پر اہل ایمان ہی دانش کی دریافت کریں گے، بلکہ یہ فرمایا کہ دریافت خواہ کوئی بھی کرے، اہل ایمان کا پہلا حق ہے کہ وہ اسے اپنا لے۔ اہل ایمان نے معاملہ الٹا پلٹا کر دیا۔ غیر مسلم دانشوروں کی بیشتر مادی تعیشاتی ایجادات کو بسر و چشم قبول کیا، حسب توفیق خوب داد عیش دی، بعض کی بابت ایک عرصہ تردد کا شکار رہے اور پھر اپنایا تو ایسا اپنایا کہ ”پیس ٹی وی“ اور ”مدنی چینل“ تک وجود میں آ گیا، ٹی وی چینل بھی مدنی ہو گیا۔

لیکن بد قسمتی ہی کہیں گے کہ جدید تمدن کی اساس جس دانش پر رکھی جانی تھی اور اس کی اصل قرآن و حدیث میں موجود بھی تھی، مسلم مفکرین نے بڑی بے دردی سے اسے نہ صرف ٹھکرا دیا، اسلام مخالف، طاغوتی اور شیطانی کہہ کر اس کی توہین کی بلکہ فرمان رسول ”الحکمۃ ضالۃ المؤمن“ کو عملی طور پر جھٹلا دیا۔ ایسا شاید اس لیے ہوا کہ شورائی، عدل ومساوات پر مبنی اور جبر سے خالی اسلامی سیاسی نظام ان کی ذہنی ساخت سے میل نہیں کھاتا تھا یا یہ کہ ”غیروں“ کی دریافت تھا۔

تشویشناک صورت حال یہ ہے کہ اسلام پسند اور غیر اسلام پسند کی اصطلاح کے ذریعہ اسلامی احیا پسند جماعتیں ہر اس شخص کو دوسرے درجہ کا مسلمان سمجھتی ہیں جو ان کی تحریک سے وابستہ نہ ہو، اندھیرا اور بڑھ جاتا ہے جب وہ حکومت حاصل کرتے ہیں اور ہم خیال نہ ہونے کے سبب اپنے ہم مذہب کو بھی دوسرے درجہ کا شہری قرار دیتے ہیں۔ کار گاہ حیات کے تمام شعبوں میں ان کے ساتھ بھید بھاؤ اور سوتیلے پن کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔

ایسی سوچ اور بیانیہ کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ جو حکمران اسلام کا نام لیے بغیر حکومت کرتے ہیں بسا اوقات اپنی کم علمی کے سبب قانون سازی کے اپنے عمل کو اسلام مخالف سمجھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شعوری طور پر اسلام کو از کار رفتہ سمجھتے ہوئے اس کے خلاف جری ہو جاتے ہیں یا احساس جرم میں مبتلا رہتے ہیں اور عام مسلم طبقہ بھی انہیں مجرم ہی سمجھتا ہے۔ خواہ ان کے بنائے گئے قوانین در حقیقت اسلام کی نظر میں درست اور انسان دوست ہی کیوں نہ ہوں۔

مسلمان جدید تعلیم کو قبول کرنے پر جب آمادہ ہوئے تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ مسلم سیاسی قیادت اور احیاء پسند مفکرین کا رویہ سیکولر جمہوری نظام کے ساتھ حالیہ دنوں ویسا ہی ہے۔ تھک ہار کر جب وہ قبول کرنے پر آمادہ ہوں گے، تب تک بہت دیر ہو چکی ہوگی، حالانکہ اب تک جو نقصان ہو چکا ہے وہ بھی کچھ کم نہیں ہے۔

جدید سیکولر جمہوری نظام میں بھی کچھ خامیاں ہو سکتی ہیں، اس سے انکار ممکن نہیں ہے۔ من و عن قبول کرنے کی وکالت کون کر سکتا ہے، یا کون یہ دعوی کر سکتا ہے کہ اس میں اصلاح کی گنجائش نہیں ہے! یقینی ہے کہ اس نظام کے تحت چلنے والے ممالک میں بھی ساخت اور نفاذ کے طریقے مختلف ہوں گے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ کناڈا، نیوزی لینڈ اور جرمنی کا نظام برا ہے تو جسٹن ٹروڈو، جسینڈا آرڈن اور انجیلا میرکل اچھے کیسے ہیں، اور وہاں بسنے والے مسلم مہاجرین کو ان پر فخر کیوں ہے، یہ ایک سوال بھی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments