افغانستان کی خواتین کی کرکٹ ٹیم: لڑکیاں جو عالمی میدانوں میں کھیل رہی تھی اب کابل میں کیا کر رہی ہیں؟

جورج رائٹ - بی بی سی نیوز

A Taliban fighter walks past a beauty salon with images of women defaced using spray paint in Shar-e-Naw in Kabul on August 18, 2021
Getty Images
ایسل اور ان کی بین الاقوامی ٹیم کی ساتھی چھپی ہوئی ہیں۔ ایسل ان کا اصلی نام نہیں ہے۔ کابل میں طالبان پہلے ہی افغانستان کی خواتین کرکٹ ٹیم کو ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔

ایسل کہتی ہیں کہ ’اس وقت کوئی بھی خاتون کرکٹ یا کوئی اور کھیل اگر کھیل رہی ہے تو وہ محفوظ نہیں ہے۔ کابل میں صورتحال کافی بری ہے۔‘

وہ بتاتی ہیں‘ہمارا واٹس ایپ پر ایک گروپ ہے اور ہم ہر رات اس میں اپنے مسائل اور مستقبل کے پلان شیئر کرتے ہیں۔ اس وقت ہم سب ناامید ہیں۔‘

طالبان کے کابل میں داخل ہونے کے بعد سے ایسل شاید ہی اپنے گھر سے نکلی ہوں اور انھوں نے اپنا کرکٹ کا سامان چھپا دیا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ کیسے ان کی ایک ساتھی کو بقول ان کے شہر میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

ایسل کہتی ہیں کہ جس گاؤں میں کرکٹ کھیلتی تھیں، وہاں پر کچھ لوگ طالبان کے ساتھ کام کرتے تھے اور جب طالبان نے کابل پر قبضہ کیا تو وہ لوگ آئے اور انھوں نے دھمکی دی کہ اگر تم لوگوں نے دوبارہ کرکٹ کھیلنے کی کوشش کی تو تمھیں مار دیں گے۔

ایک اور خاتون تقویٰ ہیں جو کہ ان کا فرضی نام ہے۔ وہ افغانستان میں خواتین کرکٹ سے کئی سالوں سے منسلک ہیں۔ کابل کے سقوط کے بعد وہ ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔ ملک سے نکلنے سے ہفتہ پہلے وہ بار بار کبھی کسی گھر میں تو کبھی کسی گھر میں چھپتی تھیں تاکہ طالبان کو ان کی لوکیشن پتا نہ چل سکے۔ طالبان نے ان کے والد کو بھی فون کیا تھا مگر والد نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں کہ میری بیٹی کہاں ہے۔

وہ کہتی ہیں ’میں سوچنا بھی نہیں چاہتی کہ کیا ہو سکتا تھا۔ جب طالبان کابل آئے تو میں ایک ہفتے تک نہ سوئی نہ کچھ کھا سکی۔‘

‘میں صرف اپنے بارے میں نہیں سوچ رہی تھی۔ میں اپنی لڑکیوں کے بارے میں بھی سوچ رہی تھی۔ وہ اپنی زندگیاں، اپنی پڑھائی سب کچھ قربان کر کے آئی تھیں۔ کچھ نے تو کھیلنے کے لیے شادی نہیں کی تھی۔ مجھے ان کی جانوں کی بڑی فکر ہے۔‘

فرضی نام کے ساتھ بی بی سی سے بات کرتے ہوئی ایک اور کھلاڑی ہریر کہتی ہیں کہ افغانستان کی خواتین کی کرکٹ ٹیم کے لیے کھیلنے کا مطلب رن بنانے اور وکٹیں لینے سے کہیں زیادہ تھا۔ ‘جب میں کھیلتی ہوں تو میں خود کو طاقتور خاتون محسوس کرتی ہوں۔ میرے میں خود اعتمادی آتی ہے اور مجھے خود پر فخر ہوتا ہے۔‘

‘میں خود کو ایک ایسی خاتون محسوس کرنے لگتی ہوں جو کہ کچھ بھی کر سکتی ہے اور اپنے خوابوں کو سچا کر سکتی ہے۔‘

مگر ہریر اور ان کی ساتھی کرکٹروں کے لیے وہ خواب شاید اب ادھورے ہی رہ جائیں گے۔

افغانستان میں کرکٹ کی مقبولیت جیسے ایک افسانہ ہے

افغانستان کو آئی سی سی کا افلیئیٹ درجہ 2001 میں اس وقت دیا گیا تھا جب طالبان نے اس پر سے پابندی ہٹائی تھی۔ جلد ہی طالبان کی حکومت ہٹا دی گئی اور کرکٹ اور فٹبال سمیت کئی کھیل مقبول ہونے لگے۔

بی بی سی پشتو کے ایڈیٹر ایمل پاسارلی کہتے ہیں کہ ’اگر آپ گذشتہ 20 سالوں میں دیکھیں تو ہمارے پاس جنگ تھی، خودکش بمبار تھے مگر وہ واحد موقع جب پورا ملک خوش تھا جذباتی طور پر جڑے ہوئے تھے، تو وہ کھیلوں کے موقعے پر ہوتا تھا۔‘

’صرف سپورٹس ہمیں وہ ٹائم دیتی تھی جب لوگ خوش ہو سکتے تھے اور دنیا میں کیا ہو رہا ہے وہ سب بھول جاتے تھے۔‘

افغانستان میں کرکٹ کا جنون 2000 کی دہائی میں بڑھتا رہا۔ 2015 میں جب مردوں کی ٹیم نے کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا تو ملک بھر میں سڑکوں پر جشن منایا گیا۔ 2017 میں انھیں ٹیسٹ سٹیٹس ملا اور آج ان کے کھلاڑی راشد خان اور محمد نبی انٹرنیشنل سٹار ہیں۔

افغانستان میں خواتین کی قومی کرکٹ ٹیم 2010 میں بنائی گئی تھی اور انھیں شروع سے ہی مسائل کا سامنا تھا۔

’ابتدائی سالوں میں افغانستان کرکٹ بورڈ نے خواتین کو انٹرنیشنل ٹورنامنٹوں میں شرکت کی اجازت اس لیے نہیں دی کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ انھیں طالبان سے دھمکیاں ملتی ہیں۔‘

2012 میں خواتین کی ٹیم تاجکستان میں چھ ملکی ٹورنامنٹ کے لیے گئی تھی اور جیتی بھی تھی مگر دو سال بعد ان پر پھر پابندی لگائی گئی اور وجہ طالبان کی دھمکیاں ہی بتائی گئیں۔

Afghan girls play cricket on the school grounds in Kabul on December 28, 2010

Getty Images

ٹیم پر پابندی کے باوجود لڑکیاں اور نوجوان خواتین افغانستان میں کرکٹ کھیلتی رہیں۔ افغان کرکٹ بورڈ نے پھر بھی کچھ سٹاف رکھا ہوا تھا جو لڑکیوں کے میچ کرواتا تھا۔

مگر آج کی خواتین کرکٹروں کو بھی وہی مسائل ہیں جو ابتدائی ٹیم کو تھیں۔

ہریر کہتی ہیں کہ افغان کرکٹ بورڈ میں بہت سے لوگ ان کے حامی نہیں تھے اور صرف تب ہی لڑکیوں کے میچ کرواتے تھے جب ان سے بار بار میچ کی بھیک مانگی جائے۔ وہ کہتی ہیں کہ بورڈ کے ممبران لڑکیوں کو یہ بھی بتاتے تھے کہ جب وہ میدان میں ہوں تو کیسا رویہ رکھیں۔

وہ کہتی ہیں ’میں ایک بولر ہوں۔ جب میں وکٹ لیتی ہوں تو میں خوشی کا اظہار نہیں کر سکتی، یا چیخیں نہیں مار سکتی کیونکہ مرد ہمیں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا ہے کہ میں اپنی ٹیم کی دوسری کھلاڑیوں کی سپورٹ میں نعرے نہیں لگا سکتی۔ وہ کہتے تھے کہ آپ کو جشن نہیں منانا چاہیے، نعرے نہیں لگانے چاہیئیں، کوئی پوز نہیں بنانا چاہیے۔‘

مگر جیسے جیسے مردوں کی ٹیم کی پروفائل بڑھتی گئی کرکٹ بورڈ کو خواتین کی ٹیم کو زیادہ سنجیدگی سے لینا پڑا۔ 2017 میں افغانستان آئی سی سی کا فل ممبر بن گیا۔ آیی سی سی ے مطابق ہر فل ممبر کو خواتین کی ٹیم بنانا لازمی ہے۔ اسی لیے نومبر 2020 میں 25 خواتین کرکٹروں کو کانٹریکٹ دیے گئے۔

صرف دس ماہ قبل افغانستان میں خواتین کی کرکٹ کی ایک نئی صبح ابھرتی نظر آ رہی تھی۔ مگر یہ امید کی کرن کم وقت ہی رہی۔

اپنے گذشتہ دورِ اقتدار میں طالبان نے 1996 سے 2001 کے دوران خواتین کی تعلیم پر تقریباً مکمل پابندی لگا دی تھی اور خواتین مردوں کے بغیر نہ گھر سے نکل سکتی تھیں اور نہ ہی کوئی نوکری کر سکتی تھیں۔

اب حالانکہ طالبان نے کوشش کی ہے کہ وہ دنیا کے سامنے اعتدال پسند بن کے ابھریں، خواتین کے کھیلوں میں شرکت کرنے کے امکانات کم ہی ہیں۔ افغان کرکٹ بورڈ کے سی ای او حامد شنواری کا کہنا ہے کہ طالبان نے مردوں کی کرکٹ ٹیم کی حمایت کا تو اعلان کیا ہے اور اسی لیے وہ نومبر میں آسٹریلیا کا دورہ کریں گے مگر انھیں توقع ہے کہ خواتین کی ٹیم کو روک دیا جائے گا جس کی وجہ سے آئی سی سی کے قوائد کی خلاف ورزی ہوگی۔

An American military plane prepares to depart Kabul airport carrying evacuees, on 21 August

Getty Images

افغانستان کی خواتین کی کرکٹ ٹیم کی کوشش ہے کہ وہ ملک سے فرار ہوجائیں جیسے کہ آسٹریلوی حکومت نے اگست میں 50 خواتین کھلاڑیوں کو نکالا تھا۔ ادھر عالمی سطح پر فٹبال کے نگراں ادارہ فیفا نے کہا ہے کہ وہ افغانستان سے فٹبالروں اور دیگر کھلاڑیوں کے انخلا پر کام کر رہا ہے۔

آئی سی سی کی ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ رابطے میں ہیں اور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

مگر تقویٰ کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کسی بھی خاتون کرکٹر کے ساتھ براہِ راست رابطے میں نہیں ہے اور افغانستان کرکٹ بورڈ نے خواتین کرکٹروں کے حوالے سے کوئی دلچسپی نھیں دکھائی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’آئی سی سی ہماری کبھی مدد نہیں کرتا۔ وہ ہمشیہ ہمیں ناامید کرتا ہے۔ آئی سی سی جن لوگوں سے بات کر رہا ہے وہ خواتین کے کرکٹ کے خلاف ہیں جیسے کہ نئے افغان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین۔‘ ان کا اشارہ عزیز اللہ فزلی کی طرف تھا جنھیں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد تعینات کیا گیا ہے۔

جب شنواری سے پوچھا گیا کہ کیا افغانستان کرکٹ بورڈ اب بھی خواتین کرکٹ کا حامی ہے تو ان کا کہنا تھا مستقبل کی حکومت اس کا فیصلہ کرے گی۔

اس صورتحال کے باوجود ایسل کا خیال ہے کہ ان کی کرکٹ ٹیم اکھٹی ہو سکتی ہے۔ ہریر جب مستقبل میں اپنے خوابوں کے بارے میں بات کرتی ہیں تو ان میں ایک چمک آ جاتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں ایک انٹرنیشنل کھلاڑی بننا چاہتی ہوں۔‘

میں وہ مضبوط افغان عورت بننا چاہتی ہوں جو لوگوں کی زندگیاں بدلے سکتی ہو۔ میں افغان لڑکیوں اور خواتین کے لیے رول ماڈل بننا چاہتی ہوں۔ میں افغانستان میں کم از کم کچھ مردوں کے نظریات کو بدلنا چاہتی ہوں۔ میں خود پر فخر کرنا چاہتی ہوں۔‘

ایسل کہتی ہیں ’افغان کلچر میں خواتین کے لیے کھیلوں میں رکاوٹیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خواتین کمزور ہیں اور وہ کرکٹ کھیلنے کے لیے نہیں بنی ہیں۔ انھیں شادی کرنی ہے، بچے پیدا کرنے ہیں، گھر کا کام کرنا ہے اور بچے پالنے ہیں۔ انھیں اپنے شوہروں کا خیال رکھنا ہے۔‘

’میری فیملی میں بھی لوگ میرے کھیلنے کے خلاف ہیں مگر مجھے اس سے پیار ہے۔ ہمارے لیے صورتحال بری ہے مگر جب تک ہماری سانسیں چل رہی ہیں، ہمیں امید ہے۔ اگر ہمیں اس ملک سے نکال لیا جائے اور کہیں اور لے جایا جائے تو ہم دوبارہ شروع کر سکتی ہیں۔ ہم انشا اللہ اپنے خواب نہیں چھوڑیں گے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words