پیرالمپکس: حیدر علی نے ڈسکس تھرو مقابلوں میں پاکستان کی تاریخ کا پہلا طلائی تمغہ جیت لیا

ٹوکیو میں جاری پیرالمپکس میں پاکستان کے حیدر علی نے ڈسکس تھرو میں گولڈ میڈل جیت کر تاریخ رقم کر دی ہے۔

یہ ان مقابلوں کی تاریخ میں پاکستان کا پہلا طلائی تمغہ ہے۔ حیدر علی اس سے پہلے پیرالمپکس میں چاندی اور کانسی کے تمغے جیت چکے ہیں۔

حیدر علی نے مردوں کے سٹینڈنگ ڈسکس تھرو میں 55.26 میٹر کی تھرو پھینکی اور پہلی پوزیشن حاصل کی۔ یاد رہے کہ روایتی اولمپکس کے برعکس پیرالمپکس میں سیٹڈ ڈسکس تھرو (یعنی بیٹھ کر تھرو) کا مقابلہ بھی ہوتا ہے۔

حیدر علی اس سے قبل بھی پیرالمپکس میں پاکستان کے لیے دو میڈلز جیت چکے ہیں۔ انھوں نے 2008 میں چاندی جبکہ 2016 میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔

2016 کے پیرالمپکس کی افتتاحی تقریب میں حیدر علی پاکستان کے فلیگ بیرر یعنی پاکستان کا جھنڈا ہاتھ میں تھامے پاکستانی وفد کو میدان میں لائے تھے۔

https://twitter.com/Paralympics/status/1433632915058012167

حیدر علی کون ہیں؟

36 سالہ حیدر علی کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے اور وہ اس وقت سپورٹس کی بنیاد پر واپڈا سے وابستہ ہیں۔

حیدر علی نے کچھ سال قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پیدائشی طور پر ان کی دائیں ٹانگ بائیں ٹانگ سے دو انچ پتلی اور ایک انچ چھوٹی ہے لیکن انھوں نے کبھی بھی اس بارے میں مایوسی محسوس نہیں کی بلکہ انھیں خوشی ہے کہ وہ اس قابل بنے ہیں کہ دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کر سکیں۔

حیدر علی نے بتایا کہ وہ دیگر ایتھلیٹس کی طرح ٹریننگ کرتے ہیں اور اس سلسلے میں اپنے کوچ اکبر علی مغل کا خاص طور پر ذکر کرتے ہیں جو انھیں سخت ٹریننگ کراتے رہے ہیں۔

حیدر علی

Getty Images
لانگ جمپ میں زیادہ اچھی کارکردگی نہ ہونے کی وجہ سے انھوں نے ڈسکس تھرو میں حصہ لینا شروع کردیا

حیدر علی کا کہنا تھا کہ وہ پہلے لانگ جمپ کرتے تھے لیکن پھر انھیں محسوس ہوا کہ اس میں ان کی کارکردگی بہت زیادہ اچھی نہیں رہی ہے تو انھوں نے ڈسک تھرو میں حصہ لینا شروع کردیا۔

حیدر علی کا کہنا تھا کہ انھیں اپنے کرئیر میں مشکلات کا بھی سامنا رہا ہے۔ پچھلے چند برسوں کے دوران وہ فٹنس کے مسائل سے دوچار رہے لیکن سخت محنت کے ذریعے وہ اپنی فٹنس بحال کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی ایتھلیٹ حیدر علی گولڈ میڈل کے لیے پرعزم

دنیا کو حیران کرنے والے معذور پاکستانی کرکٹرز

ٹوکیو اولمپکس میں پاکستانی کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کی کارکردگی کیسی رہی؟

ان کے مطابق ماضی میں حکومتی سطح پر ان کی پذیرائی نہیں ہوئی لیکن اب بین الصوبائی رابطے کی وزارت اور پاکستان سپورٹس بورڈ ان سے بہت تعاون کرتے ہیں۔ تاہم ان کے شہر گوجرانوالہ میں ٹریننگ کے لیے بین الاقوامی معیار کا ٹریک نہ ہونے کے سبب انھیں اسلام آباد، لاہور اور فیصل آباد جانا پڑتا ہے۔

بین الاقوامی مقابلوں میں حیدر علی کے تمغے

حیدر علی کا بین الاقوامی کریئر سنہ 2006 میں شروع ہوا تھا جب انھوں نے ملائیشیا میں ہونے والے مقابلے میں ایک گولڈ میڈل اور دو چاندی کے تمغے جیتے تھے۔

سنہ 2008 میں بیجنگ میں ہونے والے پیرالمپکس میں انھوں نے چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔ چین کی پیرا ایشین گیمز 2010 میں وہ سونے اور کانسی کے تمغے جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

سنہ 2016 میں دبئی میں ہونے والی ایشیا اوشینا چیمپیئن شپ میں انھوں نے گولڈ میڈل جیتا اور اسی سال انھوں نے ریو پیرالمپکس میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔

2018 میں انڈونیشیا میں ہونے والے پیرا ایشین گیمز میں بھی انھوں نے دو طلائی اور ایک کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا۔

2019 میں چین میں ہونے والے مقابلے میں وہ سونے کے دو اور چاندی کا ایک تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words