شوبز ڈائری: فرح خان کو سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں سے کیا شکایات ہیں؟

نصرت جہاں - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

’مجھے سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ وہ تبصرے چُبھتے ہیں جن میں لوگ مجھے موٹی کہتے ہیں یا پھر میرے بچوں کا مذہب پوچھتے ہیں اس لیے اب میں نے عید اور دیوالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا بند کر دی ہیں۔‘

’کسی کو موٹی کہنا آسان ہے لیکن پہلے تین بچے پیدا کرو پھر جواب دو‘ فلمساز اور کوریو گرافر فرح خان نے ارباز خان کے ٹی وی شو ‘پنچ ‘ پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔

یوں تو فرح خان اصل زندگی ہو یا سوشل میڈیا ترکی بہ ترکی جواب دینے کے لیے مشہور ہیں تاہم فرح کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا ایک دو دھاری تلوار کی طرح ہے جس پر چلنا بہت مشکل ہے اورکئی بار کچھ تبصرے آپ کو بہت چبھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ٹوئٹر ایک جنگل کی طرح ہے تو انسٹا سپا کی طرح۔ انسٹا پر اگر آپ ہیلو لکھو تو اچھا ردِ عمل ملتا ہے اور وہی ہیلو ٹوئٹر پر لکھا تو ٹرولرز حرکت میں آجاتے ہیں کہ نمستے کیوں نہیں لکھا اس لیے میں نے ٹوئٹر پر جانا ہی چھوڑ دیا۔‘

’سوشل میڈیا پر ہر اس بیوقوف کو رائے دینے کا حق مل جاتا ہے جس کے پاس فون ہے‘

ارباز حان کے اس سوال کے جواب میں کہ ایک ہماری اصل زندگی ہوتی ہے اور ایک امیج ہم سوشل میڈیا پر دکھاتے ہیں تو کیا ہم سوشل پر وہی دکھاتے ہیں جو ہم ہوتے ہیں ۔ فرح نے ہنستے ہوئہ کہا کبھی نہیں۔۔۔۔۔ اگر اپنی اصل زندگی دکھائی تو سوشل میڈیا بند ہو جائے گا۔

’جس طرح کی تصاویر ہم فلٹر کے ساتھ سوشل میڈیا پر لگاتے ہیں اگر بغیر میک اپ کے اصل تصویر لگادی تو لوگ سوشل میڈیا چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔‘

فرح کہتی ہیں کہ لوگ بڑی بے دردی کے ساتھ سلبریٹیز کو ٹرول کرتے ہیں، اقربا پروری کے خلاف بولتے ہو لیکن تصویر آپ کو تیمور یا شاہ رخ خان کی ببیٹی کی ہی دیکھنی ہوتی ہے۔

فرح کا کہنا تھا ’سوشل میڈیا پر ہر اس بیوقوف کو رائے دینے کا حق مل جاتا ہے جس کے پاس فون ہے۔‘

ارباز خان کے شو پنچ میں ان باتوں پر بات کی جاتی ہے جو سوشل میڈیا پر پنچ کرتی ہیں۔اس شو پر فرح نے سوشل میڈیا کی اچھائیوں اور برائیوں کا ذکر کرتے ہوئے ایک پتے کی بات کی کہ اس کی سب سے اچھی خوبی یہ ہے کہ اس پر ’بلاک‘ کا بٹن بھی ہوتا ہے۔

جاوید اختر، کنگنا رناوت کو عدالت کو لے گئے؟

ویسے ٹوئٹر پر ’بلاک‘ ہونے والی اداکارہ کنگنا رناوت سوشل میڈیا پر لڑتے لڑتے اب عدالت تک پہنچ گئی ہیں یا یوں کہا جائے کہ پہنچا دی گئی ہیں۔

بالی ووڈ کی مشہور اور معتبر شخصیت کہے جانے والے جاوید اختر کی جانب سے کنگنا کے خلاف ہتکِ عزت کا معاملہ ابھی جاری ہے اور ممبئی ہائی کورٹ نے اس مقدمے کو خارج کرنے کی کنگنا کی درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کر دیا ہے۔

یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا تھا جب کنگنا اور رتک روشن کے مبینہ عشق یا مبینہ بریک اپ کے بعد کنگنا اور رتک دونوں ہی میڈیا میں ایک دوسرے کے خلاف الزامات اور جوابی الزامات لگا رہے تھے۔ اس حوالے سے ای میلز سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جا رہی تھیں اور بات قانونی چارہ جوئی تک پہنچ گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

’میں آپ لوگوں کو انٹرٹین کرتی رہوں گی‘

بالی وڈ میں اقربا پروری کا سرغنہ کون ہے

’میں ایک اچھی بیوی اور اچھی ماں بننا چاہتی ہوں‘

ایسے میں بالی ووڈ کے ’بزرگ‘ جاوید اختر نے کنگنا سے بات کی اور اس معاملے کو خوشگوار طریقے سے حل کرنے کی درخواست کی کیونکہ اس سے بقول ان کے بالی ووڈ کی شبیہہ خراب ہو رہی تھی۔

لیکن سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کے ہنگامے میں کنگنا جب بالی ووڈ کو آئینہ دکھانے میں مصروف تھیں تب انھوں نے جاوید اختر پر بھی الزامات لگائے جس کے جواب میں جاوید صاحب انھیں عدالت لے گئے۔

’دلیپ کی موت کے بعد سائرہ بانو کو خالی پن کا احساس ہو رہا ہو گا‘

شہنشاہ جذبات کہلائے جانے والے عظیم اداکار دلیپ کمار بیگم اور اداکارہ سائرہ بانو اس وقت ہسپتال میں داخل ہیں۔

انھیں سینے میں درد کی شکایت بتائی جا رہی ہے اور نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔ سائرہ بانو کے ترجمان فیصل فاروقی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے کچھ ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دیا ہے لیکن ابھی ان کی حالت سنبھلی ہوئی ہے۔

دلیب صاحب اور سائرہ بانو کے قریبی دوست اور اداکار دھرمیندر نے سائرہ بانو کی طبیعت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دلیپ صاحب کی موت کے بعد انھیں خالی پن کا احساس ہو رہا ہو گا۔

سائرہ بانو اور یوسف خان یعنی دلیپ کمار کی شادی 1966 میں ہوئی تھی اور ان 54 سال کی رفاقت اور محبت کا یوں چھوٹ جانا کسی المیے سے کم نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words