بلوچستان میں انسانی سمگلنگ: ایک ہی خاندان کے چھ افراد جنھیں چند ہزار کی خاطر صحرا میں مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا

محمد کاظم اور شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام

’صرف ایک لاکھ 68 ہزار روپے کی خاطر میرے بھائی اور دیگر قریبی رشتہ داروں سمیت سات افراد کو موت کے منھ میں دھکیل دیا گیا۔‘

یہ کہنا تھا پنجاب کے وسطی شہر گوجرانوالہ کی تحصیل وزیر آباد سے تعلق رکھنے والے رانا زاہد حسین کا جن کے خاندان کے سات میں سے تین افراد ضلع چاغی میں غیر روایتی راستوں سے ایران جانے کی کوشش کے دوران بھوک و پیاس کی کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے۔

لیکن گھر والوں کو ان افراد کی موت کا علم تین ہفتے بعد اس وقت ہوا جب ان تینوں میں سے ایک شخص کے شناحتی کارڈ کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔

فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ ہمارے پیارے اس اذیت ناک انجام سے دوچار ہوں گے تو ہم ان کو کبھی بھی نہ جانے دیتے۔‘

ضلع چاغی کی تحصیل تفتان کے اسسٹنٹ کمشنر محمد حسین نے بتایا کہ تین دن کی مسلسل کوششوں کے بعد دو افراد کی لاشوں کو برآمد کیا گیا جو کہ تین ہفتے سے زیادہ صحرا میں پڑے رہنے کی وجہ سے 65 فیصد تک ڈی کمپوز ہو چکی تھیں۔

دونوں لاشوں کو بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کوئٹہ میں لواحقین کے حوالے کر دیا گیا تھا اور جمعے کی صبح ان کی اپنے اپنے علاقوں میں تدفین ہوئی۔

ان بدنصیبوں پر کیا بیتی؟

یہ سات افراد ایک بہتر مستقبل کا خواب لے کر پنجاب سے روانہ ہوئے تھے لیکن ویزے کی حصول میں مشکلات کی وجہ سے انھوں نے ان غیر روایتی راستوں کا انتخاب کیا تھا جہاں سے انسانی سمگلرز لوگوں کو غیر قانونی طور پر لے جاتے ہیں۔

رانا زاہد حسین کا کہنا تھا کہ ان سات افراد میں ان کے چھ رشتہ دار تھے جن میں بھائی سجاد علی، چچازاد بھائی، دو ماموں زاد بھائی، ایک بھانجا اور قریبی رشتہ دار شامل تھے۔

صحرا میں ہلاک ہونے والے بلال اور رانا سجاد

BBC
صحرا میں ہلاک ہونے والے بلال اور رانا سجاد

ان کا کہنا تھا کہ سجاد علی پہلے ہی ایران میں ایک کارخانے میں کام کرتے تھے، اس لیے باقی پانچ رشتہ دار ایک اور شخص کے ساتھ محنت مزدوری کے لیے ان کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو گئے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ لوگ تین اگست کو پنجاب سے روانہ ہوئے اور چاغی پہنچنے کے بعد پانچ اگست کو وہاں سے ایران کی جانب روانہ ہوئے تھے۔

رانا زاہد حسین کے بقول ان کے بھائی سجاد کی کوئٹہ کے ایک ایجنٹ سے اس حوالے سے بات ہوئی اور معاملہ گیارہ ہزار روپے فی کس کے حساب سے طے ہوا کہ وہ ایجنٹ انھیں تافتان کے بارڈر سے ایران داخل کروا دے گا۔

انھوں نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق مجموعی طور پر دس افراد نے ایران جانا تھا اور ایجنٹ سے ایک لاکھ دس ہزار روپے میں معاملات طے پا گئے تھے۔

رانا زاہد کا کہنا تھا کہ ان کا بھائی سجاد اور بھانجا محمد بلال اور ایک اور رشتہ دار محمد خلیق دیگر سات افراد کے ہمراہ پانچ اگست کو کوئٹہ پہنچے جہاں پر ان کی ملاقات ایجنٹ سے ہوئی جو انھیں گاڑی کے ذریعے نوکھنڈی کے راستے تافتان بارڈر کی طرف لے کر گئے۔

راستے میں ان دس افراد نے اس ایجنٹ کو گیارہ ہزار روپے فی کس کے حساب سے ادا کیے تو رانا زاہد کے بقول اس ایجنٹ نے کہا کہ اس کا سودہ تو 35 ہزار روپے فی کس کے حساب سے ہوا تھا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سفر سے متعلق رانا زاہد حسین کو یہ تمام معلومات اس واقعے میں زندہ بچ جانے والے افراد نے دی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بحث و تکرار کے بعد اس ایجنٹ نے ایک لاکھ دس ہزار روپے رکھ لیے اور پھر کچھ دور جانے کے بعد ان تمام افراد کو یہ کہہ کر گاڑی سے اتار دیا کہ وہ کچھ دیر کے لیے یہاں رکیں، تو وہ دوسرے لوگوں کو لے کر آتا ہے۔

رانا زاہد جس وقت بی بی سی سے بات کر رہے تھے تو وہ اس وقت اپنے بھائی اور بھانجے کی میتوں کو تافتان بارڈر سے لے کر اپنے آبائی علاقے میں آرہے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ایجنٹ کے رویے میں تبدیلی دیکھتے ہوئے ایران جانے والے ان دس افراد نے خطرے کو بھانپ لیا اور اس ایجنٹ سے کہا کہ وہ انھیں 35 ہزار روپے فی کس کے حساب سے دینے کے لیے تیار ہیں لیکن وہ انھیں اس صحرا میں چھوڑ کر نہ جائیں جہاں پر نہ کوئی درخت ہے اور نہ کوئی کھانے پینے کی چیز۔

رانا زاہد حسین کے بقول اس ایجنٹ نے قسمیں کھا کر ان دس افراد کو یقین دہانی کروائی کہ وہ دیگر افراد کو لے کر ان کے پاس آدھے گھنٹے میں پہنچ جائے گا۔

بلال

BBC
ہلاک ہونے والے بلال کے گھر پر تعزیت کے لیے آنے والے لوگ

انھوں نے کہا کہ یہ دس افراد اس ایجنٹ کا انتظار کرتے رہے اور آدھا گھنٹہ تو کیا، وہ اگلے چھتیس گھنٹوں میں بھی نہیں آیا۔

ضلع چاغی کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جس کی طویل سرحد ایران اورافغانستان دونوں سے لگتی ہے۔

اس کے زیادہ تر علاقے صحرا اور ریگستان پر مشتمل ہیں۔ بالخصوص گرمیوں میں دن کو شدید گرمی پڑتی ہے جس میں سفر کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر تفتان محمد حسین نے بتایا کہ چاغی پہنچنے کے بعد یہ لوگ ایک گاڑی میں سرحد کی جانب روانہ ہوئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ علاقے سے واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ ایک دوسرے سے نہ صرف الگ ہوئے تھے بلکہ شدید گرمی میں پیاس اور بھوک کی وجہ سے ان کی حالت خراب ہوگئی تھی۔

اس بارے میں

افغانستان کے انسانی سمگلر کی کہانی: ’پتا نہیں خدا معاف کرے گا یا نہیں!‘

’کورونا کے بعد پھر پاکستان سے انسانی سمگلنگ میں اضافہ‘

بلوچستان سے 27 غیر ملکی مغوی باشندے بازیاب

صحرا میں بھوک و پیاس

رانا زاہد حسین نے کہا کہ ان افراد کے پاس کھانے پینے کا بھی کوئی سامان نہیں تھا اور جو تھوڑا بہت سامان ان کے پاس تھا وہ ایجنٹ اپنی گاڑی میں ہی لے گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس دوران یعنی سات اگست کو جب ان افراد کو بھوک اور پیاس ستانے لگی تو وہ کھانے کی تلاش میں دو، دو کر کے مختلف سمتوں میں چلے گئے لیکن کچھ دور جا کر جلد ہی ناکام ہو کر واپس آ گئے کیونکہ ان میں آگے جانے کی سکت نہیں تھی۔

رانا زاہد کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی سجاد جو کہ عارضہ قلب میں مبتلا تھے ان کی حالت خراب ہو گئی اور دیگر افراد ان کے اردگر بےبسی کی تصویر بنے ہوئے کھڑے تھے کیونکہ وہ کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ کچھ دیر کے بعد ان کے بھائی محمد سجاد بھوک اور پیاس کی شدت کو برداشت نہ کرتے ہوئے چل بسے ہو گئے۔

رانا زاہد حسین کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے وہیں پر ایک گڑھا کھود کر سجاد کی میت کو دفنا دیا اور ایک جانب چل پڑے۔

انھوں نے کہا کہ کچھ گھنٹوں کے بعد ان کا ایک اور رشتہ دار محمد خلیق بھی بھوک کی شدت کو برداشت نہ کرتے ہوئے دم توڑ گیا۔

رانا زاہد حسین کے مطابق ان تمام افراد کی جینے کی امیدیں ختم ہو رہی تھیں اور ان کے بھانجے محمد بلال کی طبیعت بھی بگڑ چکی تھی کیونکہ اس نے اپنے ماموں اور رشتہ دار کو اپنے سامنے مرتے دیکھا تھا۔

انھوں نے کہا کہ بچ جانے والے افراد سخت دھوپ میں صحرا میں بیٹھے ہوئے اپنی موت کا انتظار کرنے لگے کہ اس دوران ایک گاڑی وہاں سے گزری جس کو انھوں نے اشارہ کر کے روکا۔

گاڑی میں موجود افراد نے پہلے تو محمد خلیق کی میت کو وہیں پر ہی دفنایا اور باقی افراد کو گاڑی میں ڈال کر نوکھنڈی لے گئے اور محمد بلال کو، جس کی حالت کافی خراب ہو گئی تھی، ہسپتال میں داخل کروایا جہاں وہ بھی زندگی کی بازی ہار گیا۔

رانا زاہد حسین کے مطابق اس عرصے کے دوران انھوں نے ایجنٹ سے بھی متعدد بار رابطہ کیا تھا لیکن اس نے فون کا جواب ہی نہیں دیا جس کی وجہ سے ان کے گھر والوں کو تشویش ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران بلوچستان کے مقامی صحافیوں نے سوشل میڈیا پر محمد خلیق کے شناختی کارڈ کی کاپی شیئر کی۔ اس کے بعد انھوں نے اس صحافی سے رابطہ کیا اور پھر صورتحال جاننے کے بعد محمد خلیق کے رشتہ دار بلوچستان پہنچ گئے۔

رانا زاہد حسین کے بقول اس مقامی صحافی نے ان کی اُس لڑکے سے ملاقات کروائی جس نے لوگوں کو محمد خلیق کی لاش کو دفناتے ہوئے دیکھا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس لڑکے کی نشاہدہی پر محمد خلیق کی لاش کو تلاش کر کے اس کی میت کو ان کے آبائی علاقے میں لا کر دوبارہ سپرد خاک کیا گیا۔

ایران سرحد

BBC

باقی لوگ کیسے بچ گئے؟

رانا زاہد حسین نے بتایا کہ ایجنٹ نے جتنے بھی لوگوں کو اس صحرا میں چھوڑا تھا ان کے پاس کھانے کے لیے تو ویسے بھی نہیں تھا لیکن جو تھوڑا بہت پانی تھا وہ بھی ختم ہو گیا تھا۔

’جہاں کسی کے لیے اپنی جان بچانا مشکل ہو وہاں یہ لوگ پہلے میرے بھائی کو اٹھا کر پھرتے رہے پھر ان کو چھوڑ کر اپنے آپ کو بچانے کے لیے محفوظ مقام کی تلاش کرتے رہے۔‘

اسسٹنٹ کمشنر تفتان نے بتایا کہ بلال اور سجاد علی کی لاشیں ایک دوسرے سے اندازاً دو سے ڈھائی کلومیٹر دور ملی تھیں۔

رانا زاہد حسین کا کہنا تھا کہ بچنے والے رشتہ داروں نے جو اذیت ناک کہانی سنائی اگر ہمیں اس کا تھوڑا بہت بھی ادراک ہوتا تو ہم ان کو جانے نہیں دیتے بلکہ یہاں ہی گزربسر کرتے۔

بلوچستان میں انسانی سمگلنگ کا کاروبار

زمینی راستے سے پاکستان سے غیر قانونی طور بیرون ملک جانے کی کوشش کرنے والوں کو سب سے پہلے انسانی سمگلر ایران لے جاتے ہیں۔ ایران کے بعد وہ ترکی پہنچتے ہیں جبکہ ترکی سے یونان میں داخل ہو کر یورپی ممالک کا رخ کرتے ہیں۔

چونکہ ایران کے ساتھ بلوچستان کے پانچ اضلاع کی ساڑھے نو سو کلومیٹر سے زائد کی سرحد لگتی ہے اس لیے انسانی سمگلر انھیں ان اضلاع سے ایران میں داخل کراتے ہیں۔ ان اضلاع میں چاغی، واشک، پنجگور، کیچ اور گوادر شامل ہیں۔

ایف آئی اے کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران سے متصل ان پانچ اضلاع کی سرحدی علاقے انتہائی دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہیں اس لیے وہ ان راستوں سے پہلے ان کو ایران میں داخل کراتے ہیں۔

پانچ چھ سال قبل غیر قانونی طور پر ایران جانے کی کوشش کرنے والے لوگوں کی اکثریت کو مکران ڈویژن کے دو اضلاع کیچ اور گوادر سے ایران لے جایا جاتا تھا۔

یہ افراد پہلے کراچی میں جمع ہوتے تھے جہاں سے گاڑیوں کے ذریعے کیچ اور گوادر کے سرحدی علاقوں سے ان کو ایران میں داخل کرایا جاتا تھا۔

ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق اب انسانی سمگلروں نے اس روٹ کے بجائے کوئٹہ-تفتان روٹ کو زیادہ استعمال کرنا شروع کیا ہے۔

ضلع چاغی سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی علی رضا رند نے بتایا کہ کوئٹہ-تفتان روٹ پر زیادہ انحصار کی شاید ایک بڑی وجہ کیچ اور اس سے متصل علاقوں میں ہونے والے وہ حملے تھے جن میں غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے کی کوشش کرنے والے بھی نشانہ بنتے رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب چاغی آنے کے بعد ان افراد کو چاغی یا اس سے متصل واشک کے علاقے ماشکیل اور اس سے جڑے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقوں سے ایران پہنچایا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ ضلع کیچ اور اس سے متصل بعض علاقے شورش سے زیادہ متاثر ہیں۔ چند سال قبل ضلع کیچ کے سرحدی علاقوں سے غیر قانونی طور پر ایران جانے والے پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد پر ہونے والے حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔

ایف آئی اے کے اہلکار نے بتایا کہ انسانی سمگلر اب لوگوں کو پاکستان کے مختلف علاقوں سے کوئٹہ لاتے ہیں اور پھر یہاں سے ان کو گاڑیوں کے ذریعے چاغی لے جایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یورپ کا خطرناک خواب

بلوچستان کے مڈل کلاس طلبہ جو آزادی کی خاطر لڑ رہے ہیں

ترکی اپنی سرحدوں پر سینکڑوں کلومیٹر طویل دیواریں کیوں تعمیر کر رہا ہے؟

غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے کی کوشش کرنے والے کہاں کہاں سے آتے ہیں؟

ایف آئی کے اہلکار نے بتایا کہ یہ افراد زیادہ تر پنجاب سے ہوتے ہیں لیکن غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے کی کوشش کرنے والوں میں خیبر پختتونخوا اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاوہ افغانستان کے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں۔

چونکہ پنجاب میں بے روزگاری زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں معاوضے انتہائی کم ہوتے ہیں اس لیے لوگ بہتر روزگار اور معاوضوں کی تلاش میں یورپی ممالک جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق انسانی اسمگلر لوگوں کی اس مجبوری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اہلکار کے مطابق جب تک پنجاب میں انسانی اسمگلروں کے خلاف موثر کاروائی نہیں کی جاتی اس وقت تک انسانی اسمگلنگ کا خاتمہ ممکن نہیں۔

ایف آئی اے کے اہلکار نے بتایا کہ افغانستان سے بھی جو لوگ غیر قانونی طورپر یورپی ممالک یا ایران جانا چاہتے ہیں ان کو بھی انسانی اسمگلر بلوچستان کے راستوں سے لے جاتے ہیں۔

یورپ تک پہنچنے کا کٹھن سفر

یورپ تک کا زمینی راستوں سے یہ سفر نہ صرف انتہائی مشکل بلکہ زندگی کو داؤ پر لگانے والا سفر ہوتا ہے۔

غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والوں کے لیے اس مشکل سفر کا آغاز کوئٹہ یا کسی اور علاقے سے ایرانی سرحدی علاقوں کے سفر کے ساتھ شروع ہوتا ہے لیکن اصل مشکل کا سامنا ایران سے متصل سرحدی علاقوں میں اور اس کے بعد کرنا پڑتا ہے۔

کوئٹہ سے ایران تک سفر کے دوران ان افراد کی ایک بڑی تعداد کی گرفتاری بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھ ہوتی ہے۔

بلوچستان کے بعد ایرانی حدود میں آنے والے سرحدی علاقے نہ صرف دشوار گزار ہوتے ہیں بلکہ ایرانی سرحدی فورسز کے اہلکار غیر قانونی طور پر داخل ہونے والی گاڑیوں اور لوگوں پر فائرنگ بھی کرتے ہیں جس میں بعض لوگ ہلاک اور زخمی ہوتے ہیں۔

چونکہ ان افراد کو ایران میں ایک بڑے علاقے سے گزرنا ہوتا ہے اس لیے ان کی ایک بہت بڑی تعداد کی ایرانی سیکورٹی فورسز کی ہاتھوں گرفتاری بھی عمل میں آتی ہے۔

ایف آئی اے کے اہلکار نے بتایا کہ یہی وجہ ہے کہ آئے روز ایرانی حکام ان افراد کو بلوچستان کے سرحدی شہر تفتان میں پاکستانی اہلکاروں کے حوالے کرتے رہتے ہیں۔

سرحدی شہر تفتان میں لیویز فورس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ رواں سال بھی ایران سے اب تک ایسے ساڑھے چھ سے سات ہزار افراد کو ڈیپورٹ کیا گیا جو کہ غیر قانونی طور پر ایران یا ایران کے راستے یورپ جانے کی کوشش کے دوران ایران میں پکڑے گئے تھے۔

ایف آئی اے کے اہلکار نے بتایا کہ ایسے لوگ جو پاکستان میں گرفتار ہوتے ہیں یا ایران میں گرفتار ہونے کے بعد ڈیپورٹ کیے جاتے ہیں ان کی اوسطاً سالانہ تعداد 20 ہزار سے زائد ہوتی ہے۔

ایف آئی کے اہلکار کا کہنا تھاکہ جس طرح پاکستان اور ایران کے سرحدی علاقے دشوار گزار ہیں اسی طرح ایران اور ترقی کے سرحدی علاقے بھی انتہائی دشوارگزار ہونے کے ساتھ سردیوں میں برف سے بھی ڈھکے رہتے ہیں۔

اہلکار کے مطابق ان علاقوں میں کبھی کبھار پھنس جانے کی وجہ سے متعدد افراد کی موت بھی واقع ہوتی ہے جن کو انہی علاقوں میں دفن کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح ان لوگوں کو ترکی اور یونان کے سرحدی علاقوں میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایف آئی اے کے اہلکار نے بتایا کہ مشکلات کے باوجود بہت سارے لوگ ان راستوں سے یورپ پہنچ جاتے ہیں لیکن ان کے مقابلے میں ایک بہت بڑی تعداد کو گرفتاریوں کا سامنا کرنے کے علاوہ جمع پونجھی سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے کیونکہ انہیں ایک بہت بڑی رقم انسانی اسمگلروں کو پیشگی دینی ہوتی ہے۔ 

Comments - User is solely responsible for his/her words