سید علی شاہ گیلانی کی وفات پر بھارت کا شرمناک رویہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان نے حریت پسند کشمیری لیڈر سید علی شاہ گیلانی کی تدفین کے معاملہ میں ریاستی طاقت استعمال کرنے پر بھارت سے شدید احتجاج کیا ہے اور ایسے اقدامات سے باز رہنے کا مشورہ دیاہے جس سے علاقے میں صورت حال مزید خراب ہو۔ گیلانی 92 سال کی عمر میں بدھ کے روز سری نگرمیں انتقال کرگئے تھے لیکن بھارتی حکام نے ان کی میت پر قبضہ کرلیا اور گھر کے نزدیک ہی ایک قبرستان میں خاندان کے چند افراد کی موجودگی میں انہیں دفن کردیا گیا۔
پاکستانی حکومت کا مؤقف ہے کہ بھارتی حکومت نے ریاستی طاقت استعمال کرتے ہوئے اہل خاندان کو اپنے بزرگ کی تدفین سے روکا اور مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن کے ذریعے لوگوں کو نماز جنازہ کے ذریعے عقیدت و محبت پیش کرنے سے منع کیا۔ یہ طریقہ تمام عالمی قوانین اور انسانی اقدار کے خلاف ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے اسلام آباد میں بھارتی ناظم الامور کو طلب کرکے ایک احتجاجی مراسلہ بھارتی حکومت کو ارسال کیا ہے۔ سید علی شاہ گیلانی کی وصیت کے مطابق انہیں سری نگر کے شہدا قبرستان میں دفن ہونا تھا لیکن نریندر مودی کی بدحواس حکومت گیلانی کے جنازہ پر لوگوں کے اجتماع سے اس قدر خوف زدہ تھی کہ حکام نے بدھ کی رات ہی سید علی شاہ گیلانی کی میت کو اپنے قبضے میں لے لیا اور جمعرات کو علی الصبح حیدر پورہ میں ان کی رہائش گاہ کے قریب ہی قبرستان میں ان کی تدفین کردی گئی۔
ایک عمر رسیدہ مزاحمتی لیڈر کے انتقال پر بھارتی حکومت کا رویہ سنگدلی کے علاوہ اس خوف کی بھی علامت ہے جو اسے کشمیری عوام سے لاحق رہتا ہے۔ اگست 2019 میں مقبوضہ کشمیر کو وفاقی اکائیوں میں تقسیم کرنے کے بعد سے نریندر مودی کی حکومت اس علاقے میں حالات معمول پر لانے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ اس دوران بھارت نواز لیڈروں کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی نے ملاقات کرکے سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش بھی کی ہے لیکن سید علی گیلانی کی سیاست اور نظریات سے شدید اختلاف کرنے والے لیڈر بھی مقبوضہ کشمیر کی خود مختار حیثیت پر مودی حکومت کے حملہ کو برداشت کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ کشمیری لیڈروں اور عوام کی طرف سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اگست 2019 سے پہلے کی پوزیشن بحال کی جائے تاکہ کشمیری عوام کے ساتھ اعتماد سازی کا کام شروع کیاجاسکے۔
پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان کی حکومت نے بھی بھارتی حکومت سے مذاکرات کے لئے یہی شرط عائد کررکھی ہے۔ پاکستان کا خیال ہے کہ مقبوضہ کشمیر کو وفاقی یونٹوں میں تبدیل کرکے بھارتی حکومت نے نہ صرف کشمیری عوام کے ساتھ دھوکہ کیا ہے بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بھی خلاف ورزی کی ہے جن کے تحت کشمیری عوام کو ریفرنڈم کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ بھارتی حکومت ان قراردادوں کو تسلیم کرتی رہی ہے لیکن چند دہائیوں سے اس نے کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دینے کی رٹ لگانا شروع کی تھی۔ تاہم نریندر مودی نے اگست 2019 میں بھارتی آئین کے تحت کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کا خاتمہ کیا اور کشمیر سے ریاست کا رتبہ واپس لے کر اسے وفاقی یونٹ بنانے کا اقدام کیا۔ اس سے کشمیری عوام میں بھارت کے خلاف بداعتمادی اور بے چینی میں شدید اضافہ ہؤا ہے۔
سید علی شاہ گیلانی ایک قدامت پسند لیکن مستقل مزاج لیڈر تھے۔ انہوں نے ہمیشہ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی بات کی اور علی الاعلان یہ سیاسی مؤقف اختیار کیا کہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں ان کا یہ سیاسی مؤقف کس حد تک کشمیری عوام کی اکثریت کی آواز تھی اور کسی ممکنہ ریفرنڈم میں کشمیری کیا واقعی سید علی گیلانی کے نظریہ کے مطابق رائے کا اظہار کرکے کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرتے۔ کشمیری عوام میں سیاسی تقسیم کے علاوہ اور 70 برس قبل اقوام متحدہ میں منظور ہونے والی قراردادوں کے وقت سے خطہ کے سیاسی حالات میں متعدد تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ پاکستان دو لخت ہوچکا ہے اور افغانستان میں لڑی جانے والی دو جنگوں کی وجہ سے مذہبی انتہا پسندی میں اضافہ ہؤا ہے۔ ان حالات میں کشمیریوں کی ایک بہت بڑی تعداد پاکستان یا بھارت کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کرنے کی بجائے، ایک خود مختار ریاست کی حامی ہوچکی ہے۔
اس دوران مقامی مسائل حل کر وانے اور روزمرہ معاملات میں ’قابض‘ حکومتوں سے مراعات لینے کے اصول کے پیش نظر پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں یکساں طور سے مرکز نواز سیاسی جماعتیں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ بلکہ جس طرح بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی مین اسٹریم سیاسی پارٹیاں اپنے پاؤں جمانے کی جد و جہد کررہی ہیں ، بالکل اسی طرح آزاد کشمیر میں تو سیاسی منظر نامہ پر پاکستان کی سیاسی پارٹیاں مکمل طور سے چھا گئی ہیں۔ حال ہی میں آزاد کشمیر میں منعقد ہونے والے انتخابات میں مرکز میں حکمران تحریک انصاف کو واضح اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ اس سے پہلے بھی وہی سیاسی جماعت آزاد کشمیر میں انتخابی کامیابی حاصل کرتی تھی جو اسلام آباد میں برسر اقتدار ہوتی تھی۔ مقبوضہ کشمیر کی سیاسی صورت حال ابھی تک اتنی مرکز نواز نہیں ہوئی کہ نئی دہلی میں حکمران جماعت کسی سیاسی چیلنج کے بغیر مقبوضہ کشمیر کے کسی انتخاب میں کامیاب ہوسکے۔ تاہم بی جے پی کشمیر اسمبلی توڑنے سے پہلے مقامی سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر وہاں حکومت کرتی رہی تھی۔
یہ پس منظر بتانے کا مقصد صرف اس نکتہ کو واضح کرنا ہے کہ اس سیاسی شعبدہ بازی کے باوجود سید علی گیلانی ایک صاف گو اور واضح سیاسی خیالات رکھنے والے لیڈر تھے ۔ انہوں نے کبھی فوری مفادات یا اقتدار میں شرکت کے لئے اپنے حقیقی مؤقف سے انحراف نہیں کیا۔ سیاسی زندگی کے آغاز میں انہوں نے جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر جد وجہد کا آغاز کیا تھا اور تین بار مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے تھے۔ اگرچہ اس دوران بھی وہ کشمیر کی خود مختاری کے نعرے کو ہی سامنے لاتے تھے۔ تاہم 80 کی دہائی میں انہوں نے بھارتی استبداد اور کشمیریوں کے حق مسدود کرنے کی صورت حال میں حریت کانفرنس کی بنیاد رکھی اور کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کو سیاسی نصب العین کے طور پر اختیار کیا۔ وہ آخری دم تک اس مؤقف پر قائم رہے ۔ بھارتی حکومت کی قید بند اور مالی اور انتظامی دباؤ کے باوجود ان کے پائے استقلال میں لغزش نہیں آئی۔ ان کے سیاسی مؤقف سے اختلاف کیاجاسکتا ہے لیکن ان کی کمٹ منٹ ، سیاسی استقامت اور دیانت داری پر کسی شبہ کا اظہار ممکن نہیں ۔
کشمیر کی آزادی کے معاملہ میں وہ صاف گو اور دلیر تھے۔ بھارتی حکومت نے ان کی ہمت توڑنے کے لئے نومبر 2010 میں کشمیر کی آزادی کے سوال پر منعقد ہونے والے ایک سیمینار کے بعد ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ قائم کیا۔ اسی مقدمہ میں ان کے علاوہ ممتاز بھارتی ناول نگار ارون دھتی رائے اور ایکٹیوسٹ واراوارا راؤ پر بھی ملکی قانون کی متعدد دفعات کے تحت مقدمات قائم کئے گئے۔ ان الزامات میں بغاوت، نفرت کی ترویج، قومی یک جہتی کے خلاف سازش اور تشدد پر اکسانے جیسے الزامات شامل تھے۔ بھارتی حکومت نے سید علی گیلانی کا پاسپورٹ 1981 میں ضبط کرلیا تھا اور 2006 میں حج پر جانے کی اجازت دینے کے علاوہ انہیں پھر ملک سے نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ 2007 میں سید علی گیلانی کینسر کے علاج کے لئے امریکہ جانا چاہتے تھے اور اس وقت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ کی مداخلت پر انہیں مختصر مدت کا پاسپورٹ بھی دیا گیا تھا لیکن امریکہ نے انہیں میڈیکل ویزا دینے سے انکار کردیا ۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ وہ سیاسی مقاصد کے لئے انتہاپسندانہ ہتھکنڈوں کی حمایت کرتے ہیں۔ کشمیری لیڈر اس امریکی رویہ کو کشمیر کی تحریک آزادی پر حملہ قرار دیتے رہے ہیں۔ اس طرح وہ اس موقع پر بھی بیرون ملک نہ جاسکے اور ان کا علاج ممبئی کے ایک ہسپتال میں ہؤا ۔
سید علی گیلانی اگرچہ علیحدگی پسند لیڈر تھے اور کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا مطالبہ کرتے تھے لیکن انہوں نے مسلح جہادی گروہوں کی براہ راست معاونت نہیں کی ۔ اگرچہ انتہاپسند عناصر کے بارے میں انہوں نے ہمیشہ نرم رویہ اختیار کیا۔ انہوں نے 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ اور 2008 میں ممبئی حملوں کی مذمت نہیں کی اور حملہ آوروں کی سیاسی حمایت کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا ۔ اسی طرح مئی 2011 میں انہوں نے امریکی حملہ میں عالمی دہشت گرد اور القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کی ہلاکت کو شہادت قرار دیا۔ بلکہ ہزاروں کشمیریوں کے ساتھ سری نگر میں اسامہ بن لادن کی غائبانہ نماز جنازہ بھی اداکی۔ ان کا یہ انتہا پسندانہ سیاسی طرز عمل ان کی طویل سیاسی جد و جہد کے بارے میں شبہات پیدا کرتا ہے لیکن ان کی استقامت اور کشمیر کی آزادی کے بارے میں ان کے دو ٹوک مؤقف پر کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا۔
یہ قابل فہم ہے کہ پاکستان میں ایک ایسے کشمیری لیڈر کے انتقال پر سرکاری سوگ منایا گیا جو مقبوضہ کشمیر میں بیٹھ کر اسلام آباد کی حکومت جیسا سیاسی مؤقف اختیار کرتا تھا ۔ پاکستان کے متعدد شہروں میں مرحوم لیڈر کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ اسلام آباد کی فیصل مسجد میں منعقد ہونے والی نماز جنازہ میں صدر مملکت عارف علوی، متعدد وفاقی وزرا اور فوجی قیادت نے شرکت کی اور سید علی گیلانی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ تاہم یہ بات بھی نوٹ کرنی چاہئے کہ کشمیر کو بھارت سے علیحدہ کرکے پاکستان کے ساتھ شامل کرنے کی کوشش کرنے والے اس لیڈر نے ساری زندگی بھارت میں ہی رہ کر جد و جہد کی اور اپنا وطن چھوڑ کر بھارتی حکومت کے خلاف بغاوت کا علم بلند نہیں کیا تھا۔ وہ امن کے حامی تھے اور مذاکرات کے ذریعے کشمیر کا تنازعہ حل کرنے کی بات کرتے تھے۔
بھارتی حکومت نے ان کے انتقال پر جبر و استبداد کا مظاہرہ کرکے سید علی گیلانی کے سیاسی وقار میں اضافہ کیا ہے ۔ اس اقدام سے بھارتی حکومت کا خوف اور کشمیر پر کمزور ہوتی گرفت کا اندازہ کرنا بھی مشکل نہیں ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1987 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments