سی ٹی ڈی کا بلوچستان میں ’داعش سے منسلک‘ درجنوں ہلاکتوں کا دعویٰ، چند لواحقین کا جبری گمشدی کا الزام

محمد کاظم - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

سی ٹی ڈی
Getty Images
رواں سال اگست کے مہینے میں محکمہ انسدادِ دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کی بلوچستان میں کارروائیوں میں مجموعی طور پر 23 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کا تعلق کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیموں اور داعش سے تھا۔

سی ٹی ڈی کی جانب سے میڈیا کو فراہم کی جانے والی معلومات کے مطابق ان تمام افراد کے خلاف 10 اگست سے 30 اگست کے درمیان کارروائی کی گئی اور سی ٹی ڈی کے قیام کے بعد 20 دنوں کے دوران ہلاکتوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔

اگرچہ سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ ہلاک کیے جانے والے ‘عسکریت پسند’ تھے اور وہ مبینہ مقابلوں کے دوران مارے گئے ہیں تاہم لاپتہ افراد کے رشتہ داروں اور ان کی تنظیم نے بعض مارے جانے والے افراد کے حوالے سے سی ٹی ڈی کے اس دعوے کو چیلنج کیا ہے اور کہا ہے کہ ان میں سے بعض ایسے لوگ تھے جن کو پہلے ہی جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔

ایران سے متصل ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ایمنہ نے بی بی سی کو بتایا کہ لورالائی میں سی ٹی ڈی نے جن سات افراد کو فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ان میں ان کا بھائی صدام بھی شامل تھا جن کو 2018 میں کراچی کے علاقے ملیر سے لاپتہ کیا گیا تھا جبکہ ایک اور فرد عبدالغنی کو زیرو پوائنٹ گوادر سے 2017 میں اٹھایا گیا تھا۔

لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے کہا ہے کہ سی ٹی ڈی کی پانچ کارروائیوں میں مارے جانے والے 27 افراد میں سے 14 افراد کے بارے میں ایسی شکایات موصول ہوئی ہیں اور تنظیم نے اس سلسلے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

تاہم بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیااللہ لانگو کا کہنا ہے کہ ہماری سکیورٹی فورسز غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کر سکتیں لیکن اگر کسی کو شکایت ہے تو وہ عدالتوں سے رجوع کر سکتا ہے۔

داعش گرافیٹی بلوچستان

Getty Images

سی ٹی ڈی کی کاروائیوں میں یہ افراد کہاں کہاں مارے گئے؟

مارے جانے والے 20 میں سے پانچ افراد 10 اگست کو کوئٹہ کے نواحی علاقے ہزارگنجی میں مارے گئے۔

سی ٹی ڈی کی جانب سے میڈیا کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق خفیہ اطلاع پر اس علاقے میں فائرنگ کے تبادلے میں مارے جانے والے افراد کا تعلق کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن (بی ایل اے) سے تھا۔

پچیس اگست کو دوسری کارروائی ضلع لورالائی میں کوہار ڈیم کے نواحی علاقے میں کی گئی۔

سی ٹی ڈی کے مطابق کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ سے تعلق رکھنے والے افراد کے ایک بڑے گروہ کی افغانستان سے لورالائی کے کوہار ڈیم کے علاقے میں نقل و حرکت کی اطلاع ملی تھی۔

سی ٹی ڈی کے مطابق اس اطلاع پر انھوں نے کارروائی کی اور فائرنگ کے تبادلے میں بی ایل ایف سے تعلق رکھنے والے سات عسکریت پسند مارے گئے جن میں سے چار کی شناخت صدام حسین، عبدالغنی، عبد الاحد اور امیر جان کے ناموں سے ہوئی۔

جبکہ سب سے بڑی کارروائی 30 اگست کو ضلع مستونگ میں مزار آباد کے علاقے کلی قمر میں کی گئی جس میں 11 افراد مارے گئے تھے جن کا تعلق کالعدم داعش سے بتایا گیا۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سی ٹی ڈی کے اس دعوے کی تصدیق کی کہ مارے جانے والے ان گیارہ افراد کا تعلق داعش سے تھا۔

انھوں نے کہا کہ ‘یہ تنظیم پاکستان کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے اور ہمارے پاس ایسی اطلاعات ہیں کہ داعش کے ارکان چمن کی سرحد کے راستے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں۔’

سی ٹی ڈی

Getty Images

لاشوں کی شناخت کے لیے لواحقین کی آمد کا سلسلہ جاری

تیس اگست کو جو افراد مستونگ میں مارے گئے تھے ان کی لاشوں کو سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا تھا۔

سول ہسپتال کوئٹہ کی پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض نے بتایا کہ ‘ان میں سے دو افراد کی عمریں 40 سے 45 سال کے درمیان تھیں جبکہ باقی تمام افراد جوان تھے اور ان میں سے زیادہ تر شبیہ کے اعتبار سے بلوچ معلوم ہوتے ہیں۔’

ان افراد کی شناخت کے حوالے سے تاحال کچھ نہیں بتایا گیا تاہم جن لوگوں کے رشتہ دار لاپتہ ہیں وہ ان 11 افراد کی لاشوں کو دیکھنے کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ آ رہے ہیں۔

دس اگست کو کوئٹہ میں ہزار گنجی کے علاقے میں مارے جانے والے پانچ افراد کے بارے میں بی ایل اے نے جو بیان جاری کیا تھا اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان افراد کا ان کی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

جبکہ لورالائی میں مارے جانے والے صدام حسین اور عبدالغنی کی لاشوں کو ان کے لواحقین ایران سے متصل ضلع کیچ لے گئے۔

صدام حسین اور عبد الغنی کے بارے میں ان کے رشتہ داروں کا کہنا ہے؟

صدام حیسن کی بہن ایمنہ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ شناخت کے بعد صدام حسین اور عبد الغنی کی لاشوں کو ضلع کیچ لایا گیا جہاں دونوں کی ان کے آبائی علاقوں میں تدفین کی گئی۔

انھوں نے دونوں افراد کے کسی تنظیم سے تعلق اور مقابلے میں مارے جانے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ دونوں افراد پہلے ہی جبری طور پر لاپتہ کیے گئے تھے۔’

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ‘ان کا تعلق ضلع کیچ میں دشت کھڈان سے ہے جبکہ عبدالغنی کا تعلق دشت ہی میں بل نگور سے تھا۔’

ایمنہ نے بتایا کہ ان کے بھائی صدام 1992 میں پیدا ہوئے تھے اور انھوں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی تھی۔ چونکہ علاقے میں کوئی کام اورروزگار نہیں تھا جس کے باعث صدام کو والد نے دبئی بھیجا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اندازاً چار سال بعد 2018 میں صدام دبئی سے کراچی پہنچے تھے اور ان کو وہاں سے گھر آنا تھا لیکن ایک مبینہ چھاپے کے دوران کراچی میں ملیر کے علاقے سے27 اپریل 2018 کو انھیں اٹھایا گیا تھا۔

ایمنہ کے مطابق اسی طرح عبدالغنی کو بھی کراچی سے اپنے آبائی علاقے میں آتے ہوئے زیرو پوائنٹ گوادر سے 20 اکتوبر 2017 کو اٹھایا گیا تھا۔

داعش

Getty Images

بھائی کی جبری گمشدگی کے دوران والد کے ساتھ مسلسل جھوٹ بولتے رہے

ایمنہ نے بتایا ان کا بھائی صدام دبئی میں زیادہ خوش نہیں تھا اور گھر سے چار سال دور رہنے کے باعث وہ فون کر کے گھر آنے کے لیے اصرار کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

’قاتلوں کی پیشیاں برسوں چلتی ہیں مگر ہمارے بچوں کو دو پیشیوں بعد مار دیا گیا‘

اسداللہ مینگل: بلوچستان کا ’پہلا جبری لاپتہ‘ نوجوان جس کی موت تاحال ایک معمہ ہے

بلوچستان میں جبری گمشدگیاں: ’ابھی تک کوئی جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا‘

بلوچستان کا لاپتہ لیویز اہلکار:’ بھائی کو بازیاب کروا کر ہماری خوشیاں لوٹا دیں‘

ان کا کہنا تھا کہ والد نے ان کو اجازت دی تو وہ دبئی سے کراچی پہنچے اور وہاں ملیر میں ہمارے رشتہ داروں کے گھر گئے جہاں سے ان کو گھر آنا تھا مگر وہ ایک چھاپے کے دوران اٹھائے گئے۔

انھوں نے بتایا کہ ‘والد انتظار میں تھے کہ بیٹا بیرون ملک سے گھر آ رہا ہے لیکن ہم نے والد کو یہ نہیں بتایا کہ ان کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔ والد جب پوچھتے تھے تو ہم ان کو تین سال چار ماہ یہ بتاتے رہے کہ بھائی ابھی تک دبئی سے نہیں آیا ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘جب والد پوچھتے تھے کہ پھر بھائی کا دبئی سے فون کیوں نہیں آ رہا ہے تو ہم ان کو بتاتے تھے کہ وہ دبئی کے ان صحرائی علاقوں میں کام کرتا ہے جہاں بدو ہیں اور وہاں موبائل فون کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ان سے رابطہ نہیں ہو رہا ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے والد بوڑھے تھے ہم انھیں بھائی کی جبری گمشدگی کا بتا کر ان کو کسی صدمے سے دوچار نہیں کرنا چاہتے تھے۔’

‘بھائی بے گناہ تھا اس لیے ہمیں امید تھی کہ وہ جب چھوٹ کر آجائے گا یا ان کو منظرعام پر لایا جائے گا تو ہم والد کو بتا دیں گے لیکن اب بوڑھے والد کو اس سے بڑا صدمہ مل گیا جب بیٹے کی لاش اچانک ان کے سامنے آ گئی۔’

ایمنہ کا کہنا تھا کہ جوان بیٹے کی اچانک لاش سامنے آنے پر والد کی حالت غیر ہو گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ عبدالغنی بھی جوان تھا اور وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ ‘ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا بھائی اورعبدالغنی بے گناہ تھے، اگر انھوں نے کوئی گناہ یا جرم کیا تھا تو ان کو عدالتوں میں پیش کر کے سزا دلوائی جاتی۔’

بھائی کی لاش کی حالت ٹھیک نہیں تھی

ایمنہ کا کہنا تھا کہ وہ عبد الغنی کی لاش کو تو نہیں دیکھ سکے تاہم ان کے بھائی کی لاش کی حالت ٹھیک نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں ان کے جسم پر گولیوں کے بہت زیادہ نشانات تھے وہاں ان کے پیٹ کو بھی چاک کیا گیا تھا ‘ہم حیران ہیں کہ ان کے پیٹ کو کیوں چاک کیا گیا تھا۔’

لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم کی جانب سے تحقیقات کا مطالبہ

بلوچستان

Getty Images

بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بتایا کہ اب تک سی ٹی ڈی نے پانچ مختلف واقعات میں کالعدم تنظیموں کے 27 افراد کو مارنے کا دعویٰ کیا جن میں سے 14 افراد کی شناخت ہوئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ان افراد کے رشتہ داروں نے تنظیم کو شکایت کی ہے کہ یہ 14 افراد پہلے سے لاپتہ تھے اور ان کو مبینہ طور پر جعلی مقابلوں میں مارا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ انسانی جانوں کا مسئلہ ہے۔ ‘ملکی قوانین کی روشنی میں اگر ایک مسئلے میں دو فریق بن جاتے ہیں تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے کے حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دے اور دونوں فریقین کے بیانات کو ریکارڈ کروائے۔’

نصراللہ بلوچ نے بتایا کہ ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ حکومت ان کے حوالے سے حقوق انسانی کی تنظیموں، وکلا اور صحافیوں پر مشتمل ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائے جو تحقیقات کر کے اصل حقائق عوام کے سامنے لائے۔

سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟

بلوچستان کے وزیر داخلہ میرضیا اللہ لانگو نے کہا کہ ہمارے ملک کو دہشتگردی نے بری طرح سے متاثر کیا ہے اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ ملک سے جتنی جلدی دہشت گردی کا خاتمہ ہو وہ ملک اور لوگوں کے لیے ایک اچھی بات ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ کشت خون سے انھیں نفرت ہے خواہ یہ قبائلی ہوں یا کسی اور نام پر۔ ‘ہم خود اس قبائلی تنازعات کی وجہ سے ایک اذیت ناک صورتحال سے گزرے ہیں۔’

وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے اپنے سیکورٹی اداروں کو کہا ہے کہ کسی کو بلاجواز تکلیف نہیں دینی ہے لیکن ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنا ہے۔

سی ٹی ڈی کی کارروائیوں پر اٹھنے والے سوالات سے متعلق وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر کسی کو کوئی شکایت ہے تو ریاست، اس کے قوانین اور عدالتیں ہیں۔

‘اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ان کے ساتھ بے انصافی ہوئی ہے تو وہ قانونی راستہ اختیار کرکے عدالتوں سے رجوع کرے۔’

وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمارے ملک کے سیکورٹی کے ادارے ذمہ دار ہیں اور وہ آئین اور قانون کے پابند ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے سیکورٹی کے ادارے کسی قسم کی غیر قانونی اور غیر ذمہ داری کا کام نہیں کرسکتے اور نہ ہی ہمیں ان سے کسی غیر ذمہ داری کی توقع ہے۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words