سلک روڈ ویلنس: امریکہ میں حلال کاسمیٹکس متعارف کروانے والی پاکستانی نژاد امریکی خاتون عینی قیصر کون ہیں؟

محمد زبیر خان - صحافی

عینی
Courtesy Annie Qaiser
’کاسمیٹیکس کی دنیا میں ماحول دوست، ہاتھ سے تیار کردہ اور نقصان دہ اجزا سے پاک مصنوعات کا تصور بہت کم ہے۔ میں نے تقریباً 15 سال کی محنت کے بعد جڑی بوٹیوں کے علاوہ روایتی طور پر جنوبی ایشیا، عرب اور افریقہ میں استعمال ہونے والے اجزا استعمال کیے ہیں۔‘

یہ کہنا تھا پاکستانی نژاد امریکی خاتون عینی قیصر کا جنھوں نے امریکہ میں حلال کاسمیٹیکس کا کاروبار شروع کیا ہے۔

پاکستان میں موجود امریکی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ ’عینی قیصر پاکستانی نژاد امریکی ہیں اور سلک روڈ ویلنیس کی بانی ہیں جو اپنی تیار کردہ حلال کاسمیٹکیس امریکہ کی مارکیٹ میں لے کر آئی ہیں۔‘

عینی قیصر کا دعویٰ ہے کہ یہ مصنوعات الکحول، جانوروں کے اجزا اور کیمیکل سے پاک ہیں اور یہ سب حلال اور قدرتی اجزا پر مشتمل ہیں۔

عینی قیصر کا کہنا تھا کہ ’انھوں نے 2016 میں جب تجارتی بنیادوں پر کام شروع کیا تھا تو اس وقت میرا ایک یونٹ آٹھ، دس کی تعداد میں فروخت ہوتا تھا۔ اب ایک ایک یونٹ ستر اسی کی تعداد میں فروخت ہو رہا ہے۔ مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلموں میں ان منصوعات کی طلب پائی جارہی ہے۔‘

عینی قیصر اور ان کی کمپنی

عینی قیصر کی پیدائش پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ہوئی تھی۔ وہ چھ سال کی تھیں جب وہ اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے ہمراہ امریکہ منتقل ہو گئی تھیں۔

امریکہ کے علاوہ انھوں نے کینیڈا میں بھی رہائش اختیار کی تھی۔ شادی کے بعد وہ امریکہ میں مستقل رہائش رکھتی ہیں۔ وہ تین بچوں کی ماں ہیں اور انھوں نے صحافت اور ماس کمیونیکش میں گریجوئیشن کر رکھی ہے۔

امریکی تاریخ پر چار کتابوں کی مصنفہ ہونے کے علاوہ وہ لکھاری بھی ہیں۔

عینی قیصر نے جڑی بوٹیوں اور اروما تھراپی پر مختلف کورسز بھی کر رکھے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’مجھے بچپن ہی سے ان کا بہت شوق تھا۔ حلال کاسمیٹیکس کی تیاری پر تقریباً پندرہ سال تک مختلف کامیاب تجربات کیے تھے۔

’گھر میں کبھی بھی کوئی کاسمیٹکس اور جلد کی حفاظت کے لیے مصنوعات بازار سے خرید کر نہیں لائی تھیں، ہمیشہ خود تیار کرتی تھیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح اکثر و بیشتر اپنے جاننے والے دوستوں کو بھی میں یہ اشیا تحفے میں دیا کرتی تھی۔

’انھیں پسند آتیں تو وہ مزید مانگتے اور کہتے کہ آپ ہمیں تیار کر کے فروخت کر دیں۔ یہاں ہی سے میں نے اور میرے خاوند نے سوچا کہ کیوں نہ ایسی کمپنی بنائیں جس کے ذریعے سے حلال کاسمیٹیکس کو امریکہ کی مارکیٹ میں متعارف کروایا جائے۔‘

ہماری کمپنی کا نام سلک روڈ ویلنیس بھی کمپنی قائم کرنے کے مقاصد بیان کرتا ہے۔ یعنی ہم بین الاقوامی طور پر صحت مند اجزا کا استعمال کرتے ہیں۔

ہاتھ سے تیارکردہ مصنوعات

عینی قیصر کا کہنا تھا کہ میں تمام مصنوعات ہاتھ سے تیار کرتی ہوں۔ اس میں مشین کا استعمال بہت ہی کم ہے۔ مشین کا استعمال صرف اور صرف کسی جزو کو پیسنے وغیرہ کے لیے استعمال کرتی ہوں۔

’آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے آپ گھر کے کچن میں کام کر رہے ہوں تو آپ کو کوئی چیز گرائینڈ کرنی پڑتی ہے۔ باقی کا سارا کام مکسنگ وغیرہ کرنا، میں خود کرتی ہوں۔‘

ان کا دعویٰ تھا کہ ہاتھ سے تیار کردہ مصنوعات اور مشین سے تیار کردہ مصنوعات میں فرق ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

دو پاکستانی بھائیوں کی کمپنی ایمازون کی ٹاپ سیلرز لسٹ میں کیسے شامل ہوئی؟

امریکہ میں کم عمری کی شادی پر پابندی کو ’نائلہ کا قانون‘ کیوں کہا جا رہا ہے؟

ایم آئی ٹی کے شعبہ سائنس کی نئی سربراہ پاکستانی نژاد نرگس ماولوالا کون ہیں؟

کیا لینا خان دیو ہیکل امریکی کمپنیوں کی اجاراداری ختم کر پائیں گی؟

عینی قیصر کا کہنا تھا کہ ’ابھی تک تو میں اکیلی ہی یہ مصنوعات تیار کرتی رہی ہوں۔ ان کے فارمولے بھی خود تیار کیے ہیں۔ پرانی کتابوں سے بھی مدد لی ہے۔ انٹرنیٹ پر مارکیٹنگ پر میرے خاوند مدد کرتے تھے۔ ‘

’پیکنک وغیرہ میں کبھی کبھار میرے بچے بھی مدد کر دیتے۔ اب ہم نے ایک مارکیٹ کے اندر جگہ بھی حاصل کی ہے۔ جہاں پر میں نے اپنی مصنوعات رکھی ہوئی ہیں۔ وہاں سے بھی اچھی فروخت ہو رہی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مستقبل میں بھی مشین استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اب ہمارا کام بڑھ چکا ہے تو کچھ لوگوں کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔ جو مصنوعات کی ہاتھ سے تیاری میں مدد فراہم کریں گے۔‘

مصنوعات میں استعمال ہونے والے اجزا

عینی قیصر کا کہنا تھا کہ مسلمانوں، جنوبی ایشیا، عرب اور افریقہ کی دنیا میں صدیوں سالوں سے کچھ جڑی بوٹیاں استعمال کی جا رہی ہیں۔

’ہم لوگ تو ان کے فوائد جانتے ہیں مگر جدید دنیا کے اندر اب ان کے فوائد پر تحقیق ہو رہی ہے اور ان کے فوائد کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔‘

عینی قیصر کا کہنا تھا کہ جب ہم نے کمپنی قائم کی اور تجارتی بنیادوں پر مصنوعات کی تیاری شروع کی تو اپنی مصنوعات کو متعارف کروانے کے لیے مختلف تجارتی نمائشوں میں حصہ لیا تو وہاں پر کئی لوگوں کو اپنی مصنوعات پر بریفنگ دی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے بتایا کہ ’میں ان میں کلونجی، زیتوں کا تیل، لوبان، ہلدی، مورنگا، گلاب، جیسمین، زغفران جیسے اجزا استعمال کرتی ہوں جو قدرتی طور پر حاصل کیے جاتے ہیں تو بہت سے لوگوں نے ان کے نام بھی نہیں سنے ہوتے تھے۔

’مگر کچھ ایک نے خریداری کی تھی۔ اب وہ لوگ ہمارے مستقل گاہگ بن چکے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ وہ زیادہ تر مصنوعات میں کلونجی استعمال کرتی ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’مسلمانوں، عرب، افریقہ اور جنوبی ایشیا میں کلونجی کو صدیوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔ کلونجی میں جلد کی حفاظت کے لیے اپنے تیار کردہ ایک لوشن میں استعمال کرتی ہوں۔ اس لوشن کی فروخت باقی مصنوعات سے بہت زیادہ ہے۔ بہت سے لوگ اس کو استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔‘

عینی قیصر کا کہنا تھا کہ ان میں سے کچھ اشیا تو امریکہ میں مل جاتی ہیں مگر زیادہ تر مجھے پاکستان، انڈیا، عرب دنیا اور افریقہ سے منگوانی پڑتی ہیں۔

’اس میں یہ خیال بھی رکھنا پڑتا ہے کہ اشیا مکمل طور پر خالص ہوں اور محفوظ ہوں۔ کچھ مشکلات تو ہوتی ہیں مگر میں بہتر طریقے سے کام کر رہی ہوں۔‘

حلال کاسمیٹکس کا مستقبل

عینی قصیر کا کہنا تھا کہ باقی دنیا کا تو پتا نہیں ہے مگر میرا خیال ہے کہ امریکہ میں حلال سرٹیفکیشن حاصل کرنے والی ہماری کمپنی پہلی میک اپ کمپنی ہے۔

امریکہ اور دنیا بھر میں کھانے پینے کی اشیا پر تو حلال مصنوعات کی مارکیٹ آگے بڑھ رہی ہے۔ مگر میرا خیال ہے کہ کاسمیٹیکس میں ابھی ایسا نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے 2018 میں حج کا موقع ملا تھا۔ وہاں پر ہم نے دیکھا کہ کامسیٹیکس بھی صرف وہ ہی لے کر جانے کی اجازت دی تھیں جو حلال تھیں۔ جس سے بھی مجھے کاسمیکٹس کی دنیا میں حلال سرٹیفکیشن کی اہمیت کا اندازہ ہوا تھا۔‘

عینی قیصر کا کہنا تھا کہ ’اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ضروری ہے کہ مارکیٹ میں کاسمیٹکس کی ایسی قابل اعتماد اشیا دستیاب ہوں جن کو ہر مذہب اور عقیدے کے لوگ استعمال کر سکیں اور وہ مضر اجزا سے بھی پاک ہوں۔‘

’جب حلال اجزا کی بات کرتی ہوں تو اس کا مطلب واضح ہے کہ تیار کردہ مصنوعات ماحول دوست اور نقصان دہ اجزا سے پاک ہونے کے علاوہ فائدہ مند بھی ہیں۔ جن کو مسلمان تو اعتماد کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں مگر باقی مذاہب اور عقیدے کے لوگ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words