’گرینڈ اولڈ مین آف انڈیا‘ ممبئی کے دادا بھائی نوروجی: برطانیہ کے پہلے انڈین رکن پارلیمان جن کے لیے قائد اعظم نے بھی مہم چلائی تھی

شکیل اختر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

Dadabhai Naoroji
Getty Images
برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے حال میں ایشیائی نسل کے ساجد جاوید کو ملک کا نیا وزیر صحت مقرر کیا ہے۔ وہ برطانوی کابینہ میں ایشیائی نسل کے تیسرے وزیر ہیں۔ یہ برطانیہ کے سیاسی اور انتخابی نظام میں ایشیائی نژاد آبادی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی علامت ہے۔

برطانیہ میں ایک طویل عرصے سے انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیشی نژاد برطانوی شہری انتخابی سیاست میں حصہ لیتے آئے ہیں لیکن کم لوگوں کو اس کا علم ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ میں سب سے پہلے منتخب ہونے والے ایشیائی نژاد، ممبئی کے دادا بھائی نوروجی تھے جو سوا سو برس قبل 1892 میں لندن کے ایک اہم حلقے سے منتخب ہو کر پارلیمنٹ پہنچے تھے۔

دادا بھائی نوروجی ممبئی کے ایک نسبتًا غریب پارسی گجراتی خاندان میں 4 ستمبر 1825 میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے تعلیم ایلفنسٹن انسٹی ٹیوٹ سکول میں حاصل کی۔ وہ 28 برس کی عمر میں برطانیہ کے زیر انتظام چلنے والے ممبئی کے ایلفنسٹن کالج کے پہلے انڈین پروفیسر مقرر ہوئے جہاں وہ ریاضی اور فزکس پڑھاتے تھے۔

انھوں نے بڑودہ کے مہاراجہ کے دیوان کے طور پر بھی کچھ عرصے تک کام کیا تھا۔ وہ ایک ترقی پسند قوم پرست تھے ۔وہ انڈیا کی سب سے پرانی سیاسی جماعت انڈین نیشنل کانگریس کے بانیوں میں تھے ۔انھیں انڈیا کی آزادی کی جد وجہد کے ابتدائی اہم ترین رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

1855 میں پہلی بار برطانیہ گئے

مورخ دینیار پٹیل لکھتے ہیں کہ ’برطانیہ میں وہاں کی دولت اور خوشحالی کو دیکھ کر ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اس کے بعد وہ یہ سمجھنے کی کوشش کرتے رہے کہ آخر ان کا ملک اتنا افلاس زدہ کیوں ہے۔‘

’انھوں نے دوعشرے تک ملک کی معیشت کا گہرا مطالعہ کیا اور سامراجی برطانیہ کے اس نظریے کو مسترد کر دیا کہ نوآبادیاتی نظام عوام کے لیے خوشحالی کا ضامن ہے۔‘

دادا بھائی نے ’پاورٹی اینڈ ان برٹش رول ان انڈیا‘ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی جس میں انھوں نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ کس طرح انڈیا کی دولت رفتہ رفتہ برطانیہ منتقل ہورہی ہے ۔ اس میں انھوں نے انڈیا میں ہونے والی پیداوار اور منافع کا مفصل حساب پیش کیا تھا۔

انھوں نے تخمینہ لگایا تھا کہ برطانیہ ہر برس تین سے چار کروڑ پاؤنڈ مالیت کی دولت انڈیا سے اپنے یہاں منتقل کر رہا ہے جس سے انڈیا میں بڑے پیمانے پر غربت پھیل رہی ہے۔

انسائکلوپیڈیا برٹینیکا کے مطابق ’اس وقت انڈیا کی 25 کروڑ کی آبادی برطانوی سامراج کی آبادی کا اسی فیصد تھی لیکن برطانوی پارلیمان میں ان کی کوئی نمائندگی نہیں تھی۔ دادا بھائی دوبارہ برطانیہ آئے۔ انھوں نے برطانوی سامراج کے ایک شہری کے طور پر کئی بار انتخاب لڑا اور شکست ہوئی۔ انہیں ان انتخابات میں شدید نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا۔‘

1886 میں وہ کنزرویٹیو پارٹی کے مضبوط گڑھ ہوبرن سے لبرل پارٹی کے امیدوار کے طور پر کھڑے ہوئے اور پھر ہار گئے۔ اس وقت وزیر اعظم لارڈ سیلس بیری نے کہا ’انگریزوں کا حلقہ ایک سیاہ فام شخص کو منتخب کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔‘

دادا بھائی نے ہار نہیں مانی۔ وہ ہاؤس آف کامنز یعنی ایوان نمائندگان کے 1892 کےانتخابات میں دوبارہ کھڑے ہوئے۔ اس بار وہ جیت گئے ۔ ان کی جیت صرف پانچ ووٹوں سے ہوئی تھی۔

انجیل پر ہاتھ رکھ کر حلف لینے سے انکار کر دیا

Central Finsbury flier states Naoroji's support for trade unions and

BBC
دادا بھائی نوروجی کی حمایت کے لیے بنایا گیا پوسٹر

یہ وہ برس تھا جب پاکستان کے مستقبل کے قائد اعظم محمد علی جناح تعلیم حاصل کرنے کے لیے برطانیہ پہنچے تھے۔ ایک نوجوان سٹوڈنٹ کے طور پر انھوں نے انڈین اور انڈیا سے متعلق معاملات میں گہری دلچسپی لینی شروع کی تھی۔

انھوں نے دادا بھائی نوروجی کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ 1892 کے انتخابات میں دادا بھائی جب امیدوار کے طور پر کھڑے ہوئے تو نوجوان طالب علم محمد علی جناح نے اپنے دوسرے طالب علم ساتھیوں کے ساتھ ان کی انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ان کی انتخابی کامیابی کے لیے دن رات کام کیا۔

بالآخر اس بار دادا بھائی کو انتخاب میں کامیابی حاصل ہوئی اور وہ برطانیہ کی تاریخ میں سب سے پہلے منتخب ہونے والے ایشیائی رکن پارلیمان بنے۔

یہ بھی پڑھیے

ہندوستان کا وہ زیرک آدمی جو برطانیہ کا پہلا ایشیائی رکنِ پارلیمان بنا

برقعے کے دفاع میں بولنے والا برطانوی ایم پی تن من جیت

اقرا خالد کا بہاولپور سے کینیڈین پارلیمان تک کا سفر

برطانیہ کی پارلیمنٹ میں حلف برداری کی تقریب میں انھوں نے عیسائیوں کی مذہبی کتاب انجیل پر ہاتھ رکھ کر حلف لینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد انھیں ان کے پارسی مذہب کی کتاب خوردہ اویستا پر حلف لینے کی اجازت دی گئی تھی۔

فنس بری کے ٹاؤن ہال میں ایک تختی لگی ہوئی ہے جس میں انھیں ہاؤس آف کامنس میں منتخب ہونے والے پہلے ایشائی کے طور پر یاد کیا گیا ہے۔

ایک نوآبادیاتی شہری کھلے عام برطانوی سامراج پر سنگین الزام لگانے کی جرات کیسے کر سکتا ہے

Dadabhai Naoroji with Annie Besant

Courtesy: Dinyar Patel
ناؤروجی کی عمر 90 برس تھی جب ان کی ملاقات انڈین نژاد آئرش خاتون نیشنلسٹ اینی بیسانت سے ہوئی

ایوان نمائدگان میں انھوں نے اپنی پہلی تقریر میں ہی انڈیا کی بدحالی کا ذکر کیا تھا ۔ انھوں نے کہا ’میرا انتخاب جیتنا انڈیا کی تاریخ یا یوں کہیں کہ برطانوی سامراج کی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ ہے۔ یہ برطانوی اداروں انصاف و آزادی کی برطانوی جبلت کا نتیجہ ہے جو اس غیر معمولی جیت کی شکل میں سامنے آیا ہے۔‘

’میں یہاں انڈیا کی طرف سے برطانوی عوام کا شکریہ ادا کرنے کے لیے کھڑا ہوا ہوں جنھوں نے ایک انڈین کو اس مقام تک پہنچانے کا کام سر انجام دیا ہے۔ میں اب آزادی کے ساتھ اس ایوان میں انڈیا کے مسائل کو اٹھا سکوں گا۔ میں اکیلا ہوں لیکن مجھے امید ہے کہ کہ مجھے دوسرے ارکان کی بھی حمایت حاصل ہو گی۔‘

انھوں نے دلیل دی کہ ’برطانوی حکومت قطرہ قطرہ خون نکال کر انڈیا کو مار رہی ہے۔ سامراجی حکومت ملک میں تباہ کن قحط سالی لا رہی ہے۔‘ کئی برطانوی شہریوں کو یقین نہیں ہوتا تھا کہ ایک نوآبادیاتی شہری کھلے عام برطانوی سامراج پر اس طرح کا سنگین الزام لگانے کی جرات کر سکتا ہے۔

مورخ دینیار پٹیل لکھتے ہیں ’دادا بھائی نے برطانوی حکومت کو ’بدی کی ایسی طاقت‘ کہا تھا جس نے ان کے ملک کے شہریوں کو غلاموں میں تبدیل کر دیا ہے ۔ انھوں نے نوآبادیاتی سرکاری اعلی ملازمتوں کے نظام میں بہتری لانے اور اورانھیں انڈین شہریوں کے ہاتھوں میں دینے کے لیے قوانین وضع کرنے پر زور دیا تھا۔ ان کی ان باتوں کو ارکان پارلیمان نے یکسر نظر انداز کیا۔‘

دادا بھائی نوروجی جب 1895 میں ایک بار پھر پارلیمانی انتخاب میں کھڑے ہوئے تو انھيں اس بار شکست ہوئی ۔ لیکن اس بار بھی ایک دیگر پارسی برطانوی پارلیمنٹ میں منتخب ہو کر آیا تھا ۔

’گرینڈ اولڈ مین آف انڈیا‘ دادا بھائی نوروجی کا انتقال 30 جون 1917 کو ممبئی میں ان کی رہائش گاہ پر 92 سال کی عمر میں ہوا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words