چین اور جاپان کی دشمنی کی کہانی: ’1500 سال میں ایک مرتبہ بھی تعلقات اچھے نہیں رہے‘

چین
Getty Images
1931 میں منچوریا کی جنگ کے قیدی
چین نے چینی عوامی جنگ کی 76ویں سالگرہ کے موقع پر کہا ہے کہ یہ فتح فاشسٹ طاقتوں کے خلاف تھی، چین اور روس دونوں کو جاپان کی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

جمعہ کو یومیہ پریس کانفرنس میں چینی وزارت خارجہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ فتح چین اور روس دونوں کے لیے اہم تھی۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی کا کہنا تھا کہ ایک بار پھر کچھ لوگ تاریخ کو بھولنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن چین ایسا نہیں ہونے دے گا۔

چین اور جاپان کی دشمنی کی کہانی تھی کیا؟

جب بھی جاپان اور چین کے درمیان معاندانہ تعلقات اور تاریخ کی بات ہوتی ہے تو دسمبر 1937 میں چینی شہر نانجنگ میں شروع ہونے والا قتل عام کا حوالہ یقینی طور پر دیا جاتا ہے۔

جاپانی فوجیوں نے نانجنگ شہر کو اپنے کنٹرول میں لے لیا اور قتل، ریپ اور لوٹ مار کی وارداتیں شروع کر دی تھیں۔ یہ قتل عام دسمبر 1937 میں شروع ہوا اور مارچ 1938 تک جاری رہا۔

نانجنگ میں اس وقت کے مؤرخین اور رفاہی تنظیموں کے اندازوں کے مطابق ڈھائی سے تین لاکھ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ ان میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے۔

تاہم جاپان کے اکثر مؤرخین بڑے پیمانے پر قتل عام کی تردید کرتے ہیں۔ وہ ریپ اور قتل کی بات کو قبول کرتے ہیں لیکن اتنی بڑی تعداد سے انکار کرتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ تمام واقعات جنگ کے دوران ہوئے۔

دیرینہ رقابت

Getty Images
چین-جاپان رقابت

چین اور جاپان کی جنگ

1931 میں جاپان نے چین علاقے منچوریا پر حملہ کر دیا۔ یہ حملہ جاپان کے زیر کنٹرول ریلوے لائن کے قریب ہونے والے دھماکے کے بعد کیا گیا۔ چینی فوجی جاپانی سپاہیوں کا مقابلہ نہ کر سکے اور جاپان نے کئی چینی علاقوں کو اپنے قبضے میں لے لیا۔

جاپان نے چین پر اپنی گرفت مضبوط کر لی جبکہ چین کمیونسٹوں اور قوم پرستوں کی خانہ جنگی میں الجھا ہوا تھا۔ چین کے قوم پرست رہنما چیانگ کائی شیک نے نانجنگ کو قومی دارالحکومت قرار دیا۔

بہت سے جاپانیوں کو لگتا ہے کہ چین میں جاپان کی زیادتیوں کو وہاں کی درسی کتابوں میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ 1931 میں جاپان نے بڑی جارحیت کے ساتھ چین کے منچوریا پر قبضہ کیا تھا۔

اس کے نتیجے میں 1937 میں ایک وسیع جنگ کا آغاز ہوا جس کا خاتمہ 1945 میں دوسری جنگ عظیم ساتھ ہوا۔ اس دوران لاکھوں افراد جنگ کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

دوسری جنگ عظیم میں مشرقی ایشیا میدان جنگ تھا۔ دوسری عالمی جنگ نے اس علاقے میں قومی وقار کو مرکز میں لانے میں بڑا کردار ادا کیا۔ چین آج کی تاریخ میں معاشی اور عسکری طاقت میں بہت آگے نکل چکا ہے لیکن اس کے ماضی نے بھی اس سفر میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

درسی کتابوں میں توہین کی تاریخ

جاپان

Getty Images
1941 میں جاپانی فوجی جشن مناتے ہوئے

چین نے اپنی ذلت آمیز تاریخ کو اپنی درسی کتب کا حصہ بنایا اور آنے والی نسل کو بتایا کہ ان کے ملک کو کتنی ذلت برداشت کرنا پڑی تھی۔

چین اپنے شہریوں کو یاد دلاتا رہتا ہے کہ اسے 1839 کی پہلی افیون جنگ سے لے کر دوسری عالمی جنگ تک کس طرح نقصان اٹھانا پڑا۔ چینی شہریوں کو یہ نہیں بھولنے دیا جاتا کہ جاپان اور مغربی استعمار کتنے ذلیل ہوئے ہیں۔

2014 میں چین نے 13 دسمبر کو نانجنگ میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں ہر سال چھٹی کا اعلان کیا اور جاپان سے نانجنگ قتل عام پر معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کیا۔

چین نے کہا تھا کہ جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے کو نانجنگ میموریل بلڈنگ میں آکر معافی مانگنی چاہیے۔ جب یونیسکو نے نانجنگ قتل عام سے متعلق دستاویزات کو عالمی ریکارڈ کے طور پر محفوظ کرنے کا فیصلہ کیا تو جاپان نے سخت اعتراض کیا اور یونیسکو کی فنڈنگ روک دی۔

تلخی

سائنو-جاپان

Getty Images

پیو ریسرچ کے مطابق جاپان اور چین کے شہریوں میں بھی کافی تلخی پائی جاتی ہے۔ پیو ریسرچ کے مطابق صرف 11 فیصد جاپانی چین کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں جبکہ 14 فیصد چینی جاپان کے بارے میں اچھی رائے رکھتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ 1949 اور 1976 کے درمیان ماؤ کے دور میں نانجنگ میں قتل عام کو نظر انداز کیا گیا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس دوران چین میں کمیونسٹوں اور قوم پرستوں کے درمیان خانہ جنگی ہور رہی تھی۔

قوم پرستوں نے نانجنگ کو قومی دارالحکومت قرار دیا تھا اور 1930 کی دہائی میں اس شہر میں بہت کم کمیونسٹ رہتے تھے۔

چین میں قوم پرستوں کی شکست کے بعد 1949 میں اتحاد کا آغاز ہوا۔ کمیونسٹوں کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے جاپانیوں کے ساتھ جنگ بھی جیتی اور خانہ جنگی بھی جیتی۔

ماؤ کی موت کے چھ سال بعد حالات تیزی سے بدل گئے۔ جولائی 1982 میں جاپان کے وزارت تعلیم نے ایک ٹیکسٹ بک شائع کی جس میں دوسری جنگ عظیم میں جاپان کے کردار کا احاطہ کیا گیا۔

شہریوں کی سطح پر مسائل

سائنو-جاپان

Getty Images

چین نے محسوس کیا کہ اگر جاپان اپنا کردار بھول رہا ہے تو وہ اسے بھولنے نہیں دے گا۔ چین نے اس قتل عام سے متعلق ایک میوزیم کھولا۔ یہ جاپانی نصابی کتاب کے چند ہفتے بعد ہوا۔ 1982 سے پہلے چین میں نانجنگ قتل عام کے بارے میں کوئی دستاویزات شائع نہیں کی گئی تھیں۔

چین اور جاپان دنیا کی دوسری اور تیسری بڑی معیشت ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مسئلہ نہ صرف سفارتی سطح پر ہے بلکہ شہریوں کی سطح پر بھی ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان دو چھوٹے جزیروں پر تنازع تھا۔ ایک جزیرہ سینکاکو ہے جو جاپان میں ہے اور دوسرا جزیرہ دیاویو ہے جو چین میں ہے۔ دونوں ممالک نے اپنی اپنی بحری افواج کا گشت بڑھا دیا تھا۔

جب بھی دونوں ملکوں کے درمیان کوئی تنازع اٹھ کھڑا ہوتا ہے تو گڑھے مردے اکھاڑے جاتے ہیں اور جب تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پھر بھی ماضی کو یاد کیا جاتا ہے۔

’1500 سال میں ایک مرتبہ بھی تعلقات اچھے نہیں رہے‘

سائنو-جاپان

Getty Images

جاپان کے نائب وزیر اعظم تارو آسو نے 2006 میں انڈیا کا دورہ کیا تھا۔ اس وقت انھوں نے ایک بیان میں کہا تھا، 'ماضی میں 1500 سے زیادہ سالوں تک، تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا جب چین کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے رہے ہوں۔'

1972 میں جاپانی وزیراعظم کا کوئی تناکا نے چین کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے اس دورے کے دوران چین کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی تھی۔ جاپان جس نے 1930 سے 40 کی دہائی تک چین پر فوجی جارحیت کا مظاہرہ کیا تھا، چینی ہیرو ماؤ نے جاپانی وزیر اعظم کو ہسپتال میں داخل کرایا تھا۔

جب ماؤ سے جاپانی وزیر اعظم کا کوئی سے معافی کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ماؤ نے کہا کہ چین میں کمیونسٹ انقلاب جاپانی حملے کے بغیر ممکن نہیں تھا۔

دشمن کا دشمن، دوست؟

سائنو-جاپان

Getty Images
نانجنگ قتل عام کی یاد میں رکھے گئے جوتوں کے ہزاروں جوڑے

آج بھی چین پر کمیونسٹ پارٹی کی حکومت ہے اور شی جن پنگ کو ماؤ جیسا درجہ دیا گیا ہے۔ ماؤ جاپان کے ماضی کے حملے کو بھول گئے ہوں گے لیکن شی جن پنگ نے اسے تازہ کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مشرقی چین کے بارے میں کشیدگی سب کو معلوم ہے۔ جاپان جنوبی چین کے سمندر پر تائیوان، امریکہ اور ملائیشیا کے ساتھ بھی ہے۔

چین، انڈیا کے ساتھ جاپان کے بڑھتے ہوئے تعلقات کے بارے میں بھی فکرمند ہے۔ انڈیا جاپان کی مدد سے چین کے ساتھ سرحد پر انفراسٹرکچر تیار کر رہا ہے۔ دوسری جانب شمالی کوریا جاپان کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ شمالی کوریا اور چین کے درمیان اچھے تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ اگر چین اور جاپان کے درمیان دشمنی کی کوئی تاریخ ہے تو انڈیا اور چین کے درمیان بھی ایسا ہی ہے۔ ایسی صورتحال میں انڈیا اور جاپان کی دوستی کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words