افغانستان میں طالبان: مغربی ممالک کے وزرا کے پاکستان کے دوروں میں تیزی کی وجہ کیا ہے؟

فرحت جاوید - بی بی سی اردو، اسلام آباد

افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد کابل سے غیرملکیوں کے انخلا میں پاکستان کا اہم کردار سامنے آیا ہے وہیں اور پاکستان ایک مرتبہ پھر مغربی ممالک کی توجہ کا مرکز بھی بن رہا ہے۔

کابل سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے آخری دنوں اور انخلا مکمل ہونے کے بعد سے متعدد مغربی ممالک کے وزرائے خارجہ پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔

برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ جمعے کو پاکستان کے دو روزہ دورے پر اسلام آباد آئے۔ اس سے قبل نیدر لینڈ اور جرمنی کے وزرائے خارجہ بھی اگست میں افغان حکومت گرنے کے بعد پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ نیدرلینڈ کے کسی بھی وزیر خارجہ کا یہ پندرہ سال میں پہلا دورہ تھا۔

ان دوروں نے ایسی قیاس آرائیوں کو بھی جنم دیا کہ مغربی ممالک پاکستان کے مزید افغان پناہ گزینوں کو قبول نہ کرنے کے موقف میں نرمی لانے کے لیے کوشاں ہیں۔

مقامی میڈیا میں بھی ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ کئی نیٹو ممالک پاکستان میں ہی افغان پناہ گزینوں کے مستقل قیام کے لیے کیمپ بنانے پر غور کر رہے ہیں تاہم پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان افغان پناہ گزینوں کو قبول کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور اس معاملے پر پاکستان کا موقف واضح ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’افغان پناہ گزینوں کے معاملے پر پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے۔ پاکستان اس وقت چالیس لاکھ سے زائد افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے اور ہم مزید پناہ گزین نہیں لے سکتے۔‘

پاکستان میں یہ تشویش بھی پائی جاتی ہے کہ وہ ممالک جو چند ہفتے قبل افغان جنگ کا باقاعدہ حصہ تھے، وہ اپنے شہریوں کے انخلا کے بعد پاکستان کو پناہ گزینوں کے بوجھ تلے چھوڑ جائیں گے۔

افغان پناہ گزین

BBC

واضح رہے کہ پاکستان میں اس وقت بھی تیس لاکھ سے زائد افغان پناہ گزین موجود ہیں۔ 1979 کے بعد شروع ہونے والا افغان پناہ گزینوں کا سلسلہ نوے کی دہائی تک جاری رہا تھا۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین سمجھتے ہیں کہ افغانستان کا ایک اہم ہمسایہ ہونے اور طالبان پر اثر و رسوخ رکھنے کا تاثر مغربی ممالک کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ پاکستان سے رابطے کریں۔

یہ بھی پڑھیے

طالبان کے اقتدار میں آنے کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟

کابل ڈائری: ’اٹھو، اٹھو جنرل فیض آ رہے ہیں‘

پاکستان آنے والے افغان شہری ’پناہ گزین‘ کیوں نہیں ہیں؟

پاکستان آنے والے افغان پناہ گزین: ’طالبان خوفناک لوگ ہیں۔۔۔ ان کے سینوں میں دل نہیں‘

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے اب تک افغانستان سمیت چوبیس ممالک کے دس ہزار سے زائد شہریوں، جن میں بین الاقوامی اداروں کے ملازمین اور میڈیا ورکرز بھی شامل ہیں، کے انخلا میں معاونت کی ہے۔

لیکن کیا ان ممالک کے پاکستان سے روابط محض اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے قائم ہیں؟

سینیٹ کی کمیٹی برائے دفاعی امور کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت مغربی ممالک کے سربراہان یا وزرا کے رابطے اور دورے براہ راست ان کے شہریوں کے افغانستان سے انخلا کے ساتھ منسلک ہیں اور پاکستان نے اس معاملے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔

ان کے مطابق اگرچہ ان ممالک کی دلچسپی اپنے شہریوں کے تحفظ میں ہے مگر ’پاکستان امید رکھتا ہے کہ مغرب اس بار ماضی کی روش نہیں دہرائے گا کہ جب پاکستان کی ضرورت ہے، تعلق بہتر کر لیا جائے اور جب اپنا مفاد پورا ہوجائے تو وہ نظریں پھیر لیں۔‘

اس سوال پر کہ پاکستان دیگر ممالک پر کس حد تک اعتماد کر سکتا ہے، انھوں نے کہا کہ ’ہمیں دیکھنا ہو گا کہ جو اعلان اور وعدے کیے جا رہے ہیں کیا یہ ممالک ان پر عملدرآمد بھی کرتے ہیں یا نہیں۔ ہمیں ان کی ضرورت، مفاد اور حکمت عملی پر نظر رکھنا ہو گی۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان کا ’انسانی المیہ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے اور یہ خاص طور پر ان ممالک پر عائد ہوتی ہے جو ایسی صورتحال پیدا کرنے کے براہِ راست ذمہ دار ہوں۔’

افغان

Getty Images

اس سے ملتی جلتی رائے افغان امور کی ماہر سِنبل خان کی بھی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ پاکستان کے خدشات مکمل طور پر حقیقی ہیں: "جب سے طالبان نے کابل پر قبضہ کیا ہے، عالمی اور امریکی توجہ صرف اس بات پر ہے کہ کیسے ان کے شہریوں کو افغانستان سے نکالا جائے، یہ اس طرح ہے کہ جیسے 35 ملین افغان شہریوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔

’پاکستان کا خوف بجا ہے کہ اگر مناسب عالمی رابطے، ‘انگیجمنٹ‘ اور اشرف غنی کی حکومت گرنے کے بعد پیدا ہونے والے معاشی بحران پر توجہ نہ دی گئی تو پاکستان کی مغربی سرحد پر ایک بڑا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔‘

سنبل خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پاکستان انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغان شہریوں کو آنے کی اجازت دے گا اور اسے ایسا کرنا چاہیے، جیسا کہ ماضی میں کیا گیا لیکن وہ افغان جن کے پاس اسپیشل انٹرسٹ ویزا ہے یا جنھوں نے افغانستان میں اتحادی افواج کے ساتھ کام کیا، وہ انھی ممالک کی ذمہ داری ہیں۔ ان افغان شہریوں کو مغربی ممالک منتقل کیا جانا چاہیے نہ کہ پاکستان میں۔

’دوسری جانب عالمی برادری کو براہ راست طالبان کی حکومت سے رابطے کر کے ان امور پر لائحہ عمل طے کرنا چاہیے تاکہ افغان شہری افغانستان میں ہی رہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words