چمالانگ کی لڑائی میں کوبرا گن شپ کے استعمال کا انکشاف جس نے سیلگ ہیریسن کو بلوچستان میں ’ہیرو‘ بنا دیا

عمر فاروق - دفاعی تجزیہ کار

کوبرا ہیلی کاپٹر
Getty Images
’سنہ 1974 کے آخری دنوں میں جب لڑائی عروج پر تھی تو امریکہ کی جانب سے فراہم کردہ ایرانی لڑاکا ہیلی کاپٹرز (جنھیں ایرانی ہوا باز اڑا رہے تھے) نے پاکستانی فضائیہ کے ساتھ مل کر بلوچ باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔‘

یہ وہ الفاظ ہیں جن کی بنا پر امریکی صحافی اور محقق سیلگ ہیریسن کو آج تک بلوچ دانشور حلقوں میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

ہیریسن کے مطابق تقریباً تین ہزار پاکستانی فوجی اور پانچ ہزار بلوچ باغیوں نے اس جنگ میں حصہ لیا جبکہ 1973 سے 1977 تک جاری رہنے والی لڑائی کے دوران سینکڑوں خواتین اور بچے ’اندھی گولیوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔‘

نہتے بلوچوں پر موت برساتے کوبرا ہیلی کاپٹر کی جو منظر کشی انھوں نے کی، اس کا امریکی رائے عامہ پر گہرا اثر ہوا، جہاں کی حکومت کو ویتنام میں بغاوت کچلنے کے لیے کی جانے والی اس سے کہیں بڑی خونی جنگ سے نکلنے پر مجبور ہونا پڑا۔

پاکستان میں فیلڈ رپورٹنگ کرنے والے مقامی بلوچ صحافیوں کے مطابق جس وقت بلوچستان کے علاقے چمالانگ میں یہ لڑائی جاری تھی تو کسی پاکستانی اخبار نے اس کی خبر نہ دی اور اگر یہ کہا جائے کہ دنیا کو چمالانگ لڑائی کی خبر پہچانے والے صرف سیلگ ہیریسن ہی تھے تو غلط نہ ہوگا۔

پاکستان نے سرکاری طور پر متعدد بار ہیریسن کے اس دعوے کی تردید کی تاہم فارن پالیسی میگزین کے مطابق ’انٹرویوز سے یہ سامنے آیا کہ یہ لڑائی اس سے کہیں وسیع تھی جتنی عام طور پر سمجھی جاتی ہے اور یہ بلوچوں اور پاکستانی آرمی دونوں کے لئے انتہائی المناک یادیں چھوڑ گئی۔‘

اسلام آباد میں حکام کی طرف سے سرکاری طور پر بیان کردہ سرگزشت کے مطابق اس چھوٹے پیمانے کی غیرمعروف جنگ میں 178 بڑے اور 167 چھوٹے درجے کے واقعات پیش آئے۔

تاہم ہیریسن کا کہنا تھا کہ دونوں جانب سے حقائق مسخ ہوئے اور سنہ 1974 کے آخر میں 55 ہزار بلوچ ایک طرف جبکہ ساڑھے 11 ہزار سخت جان منظم فوجی دستے دوسری جانب تھے۔

چمالانگ بلوچستان میں ایک چھوٹا سا نیم شہری علاقہ ہے جو کوہلو سے چالیس میل دور شمال مشرق میں واقع ہے اور سنہ 1974 میں یہاں ہونے والی خون ریز لڑائی نے بلوچستان میں پھوٹنے والی بغاوت کا مستقبل طے کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ہیریسن کے مطابق ستمبر کے اوائل میں ہونے والی چمالانگ کی لڑائی میں اے ایچ ہیوئی کوبرا، جنھیں عم طور پر کوبرا گم شپ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ’نہایت تباہ کن ثابت ہوئے‘ اور اس آپریشن میں ’مری قبیلے کے 1700 باغیوں کی کثیر تعداد کو ہلاک کر دیا تھا۔‘

سلیگ ہیریسن نے یہ واقعات پاکستان میں 18 ماہ گزارنے کے بعد لکھے تھے۔ انھوں نے اپنا زیادہ تر وقت بلوچستان میں گزارا اور بلوچ باغیوں سے انٹرویو کرتے رہے۔ وہ افغانستان میں بلوچ باغیوں کے کیمپ میں بھی گئے جو پاکستان کی سرحد کے قریب بنایا گیا تھا۔

کوبرا ہیلی کاپٹر

Getty Images

کہانی کا پسِ منظر

یہ وہ زمانہ تھا جب ذوالفقار علی بھٹو برسر اقتدار تھے تاہم جب تک چمالانگ لڑائی سے متعلق ان کا مضمون ایک بااثر امریکی جریدے میں شائع ہوا تو فوجی آمر جنرل ضیا الحق اقتدار پر قبضہ کر چکے تھے۔

سنہ 1973 میں پچھلے سال زیادہ ہی سیاسی سازشیں پک رہی تھیں اور ان میں سے زیادہ تر کرشماتی شخصیت رکھنے والے بلوچ رہنما خیربخش مری کے گرد گھوم رہی تھیں۔

ایک لاکھ 13 ہزار افراد کے قبیلے کے سردار کے طور پر خیربخش مری روایتی بلوچ طاقت کے ڈھانچے میں پہلے سے ہی ایک منفرد و ممتاز مقام کے مالک تھے۔ ذاتی حیثیت میں وہ ‘مارکسسٹ’ کے طور پر مشہور تھے اور اصلاح پسند ذہن رکھتے ہیں۔

انھوں نے اپنے قبیلے پر سابقہ سرداروں کے لگائے گئے جابرانہ ٹیکس ختم کر دیے تھے اور وہ ان اولین بلوچ رہنماوں میں سے تھے جنھیں بھٹو نے جیل میں ڈالا۔

ہیریسن کے مضمون میں کیا انکشافات تھے؟

سلیگ ہیریسن کے مضمون کا عنوان ’نائٹ مئیر ان بلوچستان‘ (بلوچستان کا ڈروانا خواب) تھا۔ اس مضمون نے واشنگٹن میں انسانی حقوق کی لابی کی توجہ حاصل کرلی جو دوست ملک کی مقامی آبادی کے خلاف امریکی ہتھیاروں کے استعمال کے سخت خلاف تھی۔

تاریخ بتاتی ہے کہ سنہ 1950 کے آغاز سے ہی امریکہ پاکستان کی مسلح افواج کو جدید ترین فوجی ہتھیار فراہم کر رہا تھا تاہم اس نے یہ شرط عائد کی کہ ان ہتھیاروں کو نہ تو انڈیا کے خلاف استعمال کیا جائے گا اور نہ ہی انھیں مشرقی سرحد پر نصب کیا جائے گا۔

دراصل امریکہ پاکستان کے خلاف مبینہ روسی عزائم سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی دفاعی صلاحیت بڑھانا چاہتا تھا البتہ واشنگٹن نے ایسی کوئی شرط عائد نہیں کی تھی کہ پاکستان اپنے داخلی خطرات سے نمٹنے کے لئے یہ ہتھیار استعمال نہیں کرسکتا۔

اگرچہ چمالانگ کی لڑائی ہی وہ مرکزی نکتہ رہی جس کے گرد ان کی کہانی گھومتی تھی تاہم ہیریسن کے مضمون میں اس لڑائی کے بارے میں بہت کم معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ہیریسن کے مضمون میں چمالانگ کی معاشی اہمیت کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے حالانکہ یہاں ایشیا کی دوسری بڑی کوئلے کی کان موجود ہے جو برطانوی دور میں دریافت ہوئی تھی۔

اُن کی تحقیق کے مطابق بلوچستان میں منتخب صوبائی حکومت نے سنہ 1973 کے اوائل میں مرکزی حکومت کی سیاسی اور معاشی مداخلت پر مزاحمت شروع کی۔

جوابی قدم اٹھاتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو نے نہ صرف صوبائی کابینہ برطرف کر دی بلکہ قابل ذکر مرکزی بلوچ رہنماؤں کو غداری کے مقدمات میں جیل بھجوا دیا اور ساتھ ہی ساتھ ہنگامی طور پر مرکزی حکومت کی حکمرانی صوبے میں لاگو کر دی۔ تقریباً 70 ہزار فوجی بھی بلوچستان بھیج دیے گئے۔

ہیریسن کے مضمون کے مطابق ’بلوچوں نے اپنی غیر منظم بغاوت سے ردعمل دیا جسے افغانستان اور انڈیا کی آدھی ادھوری حمایت ملی۔ اس کے باوجود چار سال تک یہ خون ریزی جاری رہی۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک جنرل ضیا الحق نے بھٹو کا تختہ الٹ نہیں دیا اور نومبر 1977 میں بلوچ قیادت کے ساتھ ایک انتہائی مشکل جنگ بندی کے معاہدے پر اتفاق کیا۔‘

ہیریسن نے پاکستان میں خاصا وقت گزارا تھا اور جگہ جگہ کی خاک چھان کر انھوں نے یہ خصوصی مضمون ترتیب دیا۔ ان کے مدیر نے فارن پالیسی میگزین میں لکھا کہ ان کا یہ مضمون 18 ماہ کے مطالعے پر مبنی ہے۔ ’اس محنت میں جنوبی ایشیا میں تفصیلی فیلڈ ورک بھی شامل ہے اور اس ضمن میں نہ صرف متعلقہ حکومتی حکام بلکہ سیاسی اثرورسوخ کے حامل تمام بلوچ اور پشتون رہنماؤں سے بھی سے بات کی گئی۔‘

بلوچستان

Getty Images

انھوں نے 1973 سے 1977 کی بلوچ بغاوت میں حصہ لینے والوں سمیت 110 سے زائد انٹرویوز کئے جن میں پاکستانی فوجی افسران اور باغی گوریلا رہنما شامل تھے۔ وہ ان گوریلا رہنماوں سے بھی ملے جو شمالی افغانستان میں اپنے جنگجو کیمپس میں چھپے تھے۔

یہ مضمون 1978 کی خزاں میں شائع ہوا تھا جبکہ یہ انٹرویوز 1973 سے 1977 کے درمیان کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیے

بلوچستان میں پراری کیمپوں اور مزاحمتی تحریک کے بانی ’جنرل شیروف‘ مری کون تھے؟

جب اسکندر مرزا نے خان آف قلات کی گرفتاری کے لیے فوجی آپریشن کروایا

بلوچستان لبریشن آرمی کب اور کیسے وجود میں آئی

پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ میں چمالانگ کا ذکر کیوں نہیں ملتا؟

کوئٹہ میں مقیم سینئر صحافی انور سجاد اب ایک اخبار شائع کرتے ہیں۔ بلوچستان میں بغاوت کے دور میں وہ روزنامہ جنگ کے رپورٹر تھے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ کسی ایک بھی پاکستانی اخبار نے اس وقت ایک کالم بھی چمالانگ کی لڑائی کے بارے میں شائع نہیں کیا تھا۔

چمالانگ کی لڑائی بلوچ معاشرے میں اب لوک داستان بن چکی ہے۔ عبدالحکیم لہڑی ایک قبائیلی سردار ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ وہ خود جنگجو کے طور پر چمالانگ کی لڑائی میں موجود تھے۔

تاہم پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے دو اساتذہ، ڈاکٹر غلام مجید اور ڈاکٹر ریحانہ سعید ہاشمی، کے تحریر کردہ ایک مکالے ’ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بلوچ مزاحمت: وجوہات اور نتائج` میں اس لڑائی کا ذکر ملتا ہے۔ یہ مکالہ عالمی تحقیقی جریدے ساوتھ ایشین سٹڈیز کے لیے تحریر کیا اور اس میں پاکستانی نکتہ نگاہ سے چمالانگ کی لڑائی کے بارے میں تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

اپنی تحقیق کے ذریعے انھوں نے بھی چمالانگ کی لڑائی میں امریکی کوبرا ہیلی کاپٹرز کے استعمال کی تصدیق کی ہے۔

وہ لکھتے ہیں ’پاکستان آرمی کو حالات قابو میں لانے کے لیے بڑی قوت استعمال کرنا پڑی۔ وفاقی حکومت نے متاثرہ علاقوں میں باغیوں پر بمباری کے لیے پاکستان ایئر فورس استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستانی فضائیہ نے پہاڑی علاقوں میں جنگی کارروائیاں کیں۔ ابتدائی مرحلے میں بلوچ باغیوں پر قابو پانے کے لیے پاکستانی ایئر فورس نے بے ڈھنگے چنوک ہیلی کاپٹرز استعمال کیے۔‘

’سنہ 1974 کے وسط میں پاکستان نے ‘ہیوئی کوبرا ہیلی کاپٹرز’ استعمال کیے۔ اس بغاوت کے دوران ایرانی پائلٹس نے کوبرا ہیلی کاپٹرز اڑانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ ہیلی کاپٹرز تباہ کن فائر پاور رکھتے تھے۔ بلوچ بغاوت کو کچلنے کے لیے ایرانی حکومت نے 30 کوبرا ہیلی کاپٹرز پاکستان کی مدد کے لیے بھجوائے تھے۔‘

ان کے مطابق ’پاکستانی آرمی نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے طاقت کا بےدریغ استعمال کیا جو 1974-75 کی سردیوں میں مری قبیلے کے علاقے میں چھ دن کی چمالانگ کی خون ریز لڑائی میں فیصلہ کن تبدیلی لائی۔`

بلوچستان

Getty Images

بلوچ چمالانگ کی لڑائی کو کیسے یاد کرتے ہیں؟

قبائلی سردار ڈاکٹر عبدالحکیم لہڑی 1973 میں نیشنل عوامی پارٹی بلوچستان کے رکن تھے جب ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان کی صوبائی حکومت برطرف کر دی تھی۔ وہ اپنے قبائلیوں کے ہمراہ فوری طور پر پہاڑوں میں چلے گئے اور باغیوں سے مل گئے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’میں چمالانگ میں موجود تھا جب پاکستانی آرمی ڈویژن نے علاقے میں بمباری شروع کر دی۔‘

ان کے مطابق پاکستانی فوج نے ان کے خلاف ’امریکی ہیلی کاپٹرز استعمال کیے جن کے دونوں طرف بندوقیں نصب تھیں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ اس وقت، جب نہ تو انٹرنیٹ تھا اور نہ ہی کوئی ایسا طریقہ تھا جس کے ذریعے یہ تصدیق کی جا سکتی کہ آیا وہ کوبرا ہیلی کاپٹر ہی تھے، تو ان کا کہنا تھا کہ وہ کوبرا ہیلی کاپٹرز کو پہچانتے ہیں۔

حکیم لہڑی کے مطابق یہ راز نہیں کہ پاکستان کی فوج لیاقت علی خان کے دور سے امریکی ہتھیار لے رہی تھی اور بتایا ’جب ہم چمالانگ میں تھے تو امریکی ہیلی کاپٹرز سارا دن ہمارے سروں پر منڈلاتے رہتے۔‘

ان کے بقول ’پاکستانی فوجی دستوں کی تعداد 17 ہزار تھی جبکہ دوسری طرف چند ہزار باغی تھے۔ یہ یک طرفہ جنگ تھی۔‘

کوبرا ہیلی کاپٹر

Getty Images

انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ذاتی طور پر سیلگ ہیریسن سے ملے تھے جن دنوں وہ بلوچستان کی صورتحال پر تحقیق کر رہے تھے۔

سینیئر صحافی انور سجاد کے مطابق چمالانگ لڑائی کی کہانی اب بلوچ کی ایک لوک داستان بن چکی ہے۔ ’یہ مقامی اطلاع تھی۔ ہر کوئی ان دنوں کے بارے میں جانتا تھا کہ وہ امریکی ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ حکومت سبی اور چمالانگ کے درمیان سڑک بنانا چاہتی تھی کیونکہ یہاں تیل، گیس اور کوئلے کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ ان کے مطابق ’مقامی لوگوں نے مزاحمت کی تو اس کے جواب میں فوجی کارروائی ہوگئی۔‘

انور سجاد بتاتے ہیں کہ اس کارروائی میں پاکستانی فوج کا ایک بریگیڈ شامل تھا اور باغیوں میں تقریبا 1200 مری قبائلی موجود تھے۔ اس لڑائی میں ہلاک ہونے والوں کی درست تعداد کا تعین نہیں کیا جا سکتا تاہم عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ دونوں طرف سینکڑوں لوگ مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیے

’میری تصویر اس طرح نہ لینا کہ دشمن سمجھے بگٹی کمزور ہو گیا‘

عطا اللہ مینگل: ’ایک سردار جس نے سرداری نظام کے خلاف جدوجہد کی`

جب گوادر انڈیا کا حصہ بنتے بنتے رہ گیا

ہیریسن کے مضمون پر ردعمل

سنہ 1970 میں بلوچستان ایک انتہائی پسماندہ اور دور دراز علاقہ تھا جو ‘فارن پالیسی میگزین’ کے ریڈار پر نہیں تھا۔ الیکڑانک اور سوشل میڈیا کا انقلاب برپا ہونے میں ابھی دہائیوں کا فاصلہ تھا اور مقامی اور عالمی دنیا کو خبریں اور اطلاعات پہنچانے کا ذریعہ پرنٹ میڈیا یا اخبار ہی تھے لہذا سیلگ ہیریسن کے بلوچ بغاوت پر مضمون نے واشنگٹن کے خارجہ پالیسی حلقوں میں بے پناہ ہلچل مچا دی۔

اس مضمون نے واشنگٹن میں پاکستان مخالف دھڑے کو اُکسایا کہ پاکستانی فوج کے خلاف کارروائی کی جائے۔ پاکستان کے سلامتی سے متعلق امور پر مہارت رکھنے والے امریکی دانشوروں میں اس وقت بڑی دلچسپ اور جاندار بحث چھڑ گئی کہ کیا پاکستان کی فوج بلوچ باغیوں کے خلاف امریکی یا چینی ہتھیار استعمال کر رہی ہے یا نہیں۔

اس بحث میں پاکستانی مؤقف کا بھرپور دفاع کرنے میں پروفیسر رابرٹ ورسنگ پیش پیش تھے جو ساوتھ کیرولائنا یونیورسٹی میں بین الاقوامی امور کے پروفیسر تھے۔

انھوں نے اصرار کیا کہ پاکستان نے بلوچ بغاوت کچلنے کے لیے امریکی نہیں بلکہ چینی ہتھیار اور طیارے استعمال کیے۔ پروفیسر ورسنگ نے اپنی کتاب ’پاکستان سکیورٹی انڈر ضیا‘ میں پاکستانی موقف کا دفاع پیش کیا ہے۔

ورسنگ کا مؤقف

ان کی کتاب 1991 میں شائع ہوئی تھی۔ یہ وہ سال تھا جب پاکستان پریسلر ترمیم کے تحت امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہا تھا۔

انھوں نے بلوچستان میں بغاوت کے دوران موجود فوجی اور سول حکام کے ساتھ انٹرویوز کی دعویٰ کیا کہ ’ہیریسن کے دعوے درحقیقت غلط اور انتہائی گمراہ کن تھے۔‘

ایک عالمی فوجی ماہر کا حوالہ دیتے ہوئے پروفیسر ورسنگ لکھتے ہیں کہ سنہ 1970 تک چین کے فراہم کردہ طیارے پاکستان فضائیہ کا 33 فیصد تھے۔ ان کے مطابق سنہ 1973 میں جب بلوچستان میں بغاوت ہوئی تو پاکستان ایئر فورس کے طیاروں کی فہرست میں چین سے حاصل کیے گئے ایف 6 (مگ 19) موجود تھے۔

وہ لکھتے ہیں ’پاکستان ائیر فورس پوری کی پوری بلوچستان کی لڑائی میں شریک تھی اوراس بات کا امکان کم ہی ہے کہ وہ کورین ساختہ ایف 86 سیبر جیٹ استعمال کرے اور اپنے نئے اور بہت مختلف اقسام کے چینی طیاروں کو نہ استعمال کرے۔‘

وہ بلوچ باغیوں کے خلاف کوبرا گن شپ ہیلی کاپٹرز کے استعمال کے دعوی کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان کے پاس اس قسم کے ہیلی کاپٹر تھے ہی نہیں۔ ان کے مطابق ایران کے شاہ نے پاکستان کو محدود مقدار میں غیرمسلح چنوک ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹرز ایرانی پائلٹ سمیت فراہم کیے تھے۔

’باوثوق ذرائع‘ کا حوالہ دیتے ہوئے ورسنگ نے دعوی کیا کہ ان ہیلی کاپٹروں کا بلوچستان کی لڑائی میں بہت چھوٹا کردار تھا انھیں تقریباً آٹھ ماہ استعمال کرنے کے بعد مئی 1974 میں ایران کو واپس کر دیا گیا تھا۔

ورسنگ لکھتے ہیں کہ چمالانگ کی لڑائی میں ’ان ہیلی کاپٹروں نے کوئی کردار ادا نہ کیا کیونکہ یہ اس وقت ہوئی جب ایرانی ہیلی کاپٹرز واپس کیے جا چکے تھے۔‘

کوبرا ہیلی کاپٹر

Getty Images

امریکی ہتھیاروں کے استعمال کا ’جواز موجود تھا‘

دفاعی امور کے تجزیہ کار ریٹائرڈ جنرل طلعت مسعود کے خیال میں سلیگ ہیریسن نے پاکستانی فوج کے خلاف ایک پوری مہم چلائی تھی۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ بلوچ باغیوں نے علیحدگی کے ارادے سے بغاوت شروع کی تھی اور پاکستانی فوج اس بغاوت کو کچلنا چاہتی تھی۔

’ایسی صورتحال میں امریکی ہتھیار استعمال کرنے کا پورا جواز موجود تھا۔ یہ تمام (ہتھیار) یقیناً نمائشی مقصد کے لیے تھے اور نہ ہی کھلونے تھے۔‘

ان کے مطابق ’امریکی حکومت نے اس وقت اس مسئلہ پر پاکستانی حکومت سے بات نہیں کی تھی کیونکہ انھیں اس پر اعتراض نہیں تھا۔

یاد رہے کہ جس وقت بلوچستان میں فوجی کارروائی ہو رہی تھی اس وقت لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعود فوج میں ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words