کوئٹہ میں بم حملے میں چار ایف سی اہلکار ہلاک، درجن سے زائد افراد زخمی

کوئٹہ
BBC
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک بم دھماکے میں چار سیکورٹی اہلکار ہلاک جبکہ درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق یہ واقعہ کوئٹہ میں ہزارگنجی کے علاقے میں پیش آیا ہے۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے ایف سی اہلکاروں پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ کوئٹہ کے مستونگ روڈ پر ایف سی اہلکاروں کو بارودی جیکٹ اور بارود سے بھرے موٹرسائیکل کے ذریعے ہدف بنایا۔

خیال رہے کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران بلوچستان میں سکیورٹی فورسز پر وقفے وقفے سے حملے ہوتے رہے ہیں۔

رواں برس 14 جون کو کوئٹہ میں شدت پسندوں کی طرف سے کیے گئے ایک حملے میں ایف سی کے چار اہلکار مارے گئے تھے جبکہ 11 جون کو بھی بلوچستان کے ضلع خاران میں انٹیلیجنس پر مبنی آپریشن (آئی بی او) کے دوران ایف سی کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔

کوئٹہ

BBC

یہ بھی پڑھیے

بلوچستان لبریشن آرمی کب اور کیسے وجود میں آئی

سبی: شدت پسندوں کے حملے میں پانچ اہلکار ہلاک، ایف سی بلوچستان پر حملے کیوں بڑھ رہے ہیں؟

مئی کے اوائل میں بلوچستان کے سرحدی علاقے ژوب میں ‘سرحد پار سے ہونے والے ایک حملے’ کے نتیجے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے چار جوان ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے تھے۔

اس وقت پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ افعانستان کی جانب سے شدت پسندوں نے حملہ اُس وقت کیا جب ایف سی کے جوان پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر باڑ لگانے میں مصروف تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words