مدر ٹریسا: ’میں اداس چہرے کے ساتھ غریبوں کے پاس نہیں جا سکتی‘

ریحان فضل - بی بی سی ہندی، دہلی

مدر ٹریسا
Reuters
نوبل انعام کے لیے مدر ٹریسا کے نام کی سفارش کرنے میں سرفہرست ورلڈ بینک کے صدر رابرٹ میکنامارا تھے۔

عالمی بینک غربت کے خاتمے کے لیے دنیا بھر کی حکومتوں کو اربوں ڈالر قرض دیتا ہے لیکن اسے یہ بھی معلوم ہے کہ دنیا کے تمام تر ترقیاتی منصوبوں میں انسانی تعلقات اور ہمدردی کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔

میکنامارا نے کہا: ‘مدر ٹریسا امن کے نوبل انعام کی سب سے زیادہ مستحق ہیں کیونکہ وہ انسانی وقار کو پامال کیے بغیر امن کو فروغ دینے میں یقین رکھتی ہیں۔’

مدر ٹریسا نے نوبل انعام کی تقریب کے بعد اپنے اعزاز میں منعقدہ ضیافت کو منسوخ کرنے کی درخواست کی تھی تا کہ اس سے بچنے والے پیسے کولکتہ کے غریبوں کی بہتری کے لیے استعمال کیے جا سکیں۔

اپنی زندگی کے آخری دنوں تک انھوں نے اپنے ہاتھوں سے غریبوں کے بیت الخلا کو صاف کیا اور خود اپنی نیلے رنگ والی ساڑھی دھوتی رہیں۔

انڈیا کے سابق چیف الیکشن کمشنر نوین چاولہ نے مدر ٹریسا کی سوانح عمری لکھی ہے۔ مدر ٹریسا سے ان کی پہلی ملاقات سنہ 1975 میں ہوئی تھی جب وہ دلی کے لیفٹیننٹ گورنر کشن چند کے سکیریٹری ہوا کرتے تھے۔

مدر ٹریسا نے لیفٹیننٹ گورنر کو اپنے ایک ادارے کے افتتاح کے لیے مدعو کیا تھا۔

نوین چاولہ نے بی بی سی کو بتایا: ‘ایک بات جو میں نے نوٹ کی وہ یہ تھی کہ مدر ٹریسا کی ساڑھی بہت صاف تھی، لیکن اسے جگہ جگہ رفو کیا گیا تھا تاکہ وہ پھٹی ہوئی نظر نہ آئے۔’

نوین چاولہ اور ریحان فضل

BBC
مدر ٹریسا کی سوانح لکھنے والے نوین چاولہ بی بی سی کے نمائندے ریحان فضل کے ساتھ محو گفتگو

‘میں نے ایک سسٹر سے پوچھا کہ مدر کی ساڑھی اتنی جگہ سے کیوں پھٹی ہوئی ہے تو انھوں نے ہمیں بتایا کہ ہمارا اصول یہ ہے کہ ہمارے پاس صرف تین ساڑھیاں ہوتی ہیں۔ ایک ہم پہنتے ہیں۔ ایک ہم دھونے کے لیے رکھتے ہیں اور تیسری خاص مواقع کے لیے ہے۔ تو مدر کے پاس بھی صرف تین ساڑھیاں ہیں۔ یعنی یہ غربت اپنی اختیار کی ہوئی تھی نہ کہ کسی مجبوری کی وجہ سے تھی۔’

جو لوگ مدر ٹریسا کو قریب سے جانتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ان کے مصافحہ میں اتنی کشش ہوتی تھی کہ لوگ ان سے جڑے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔

ہاتھ ملاتے ہی جیسے کچھ ہوجاتا تھا‘

سنیتا کمار انڈیا کے سابق ڈیوس کپ کپتان اور صنعت کار نریش کمار کی اہلیہ ہیں۔ وہ کولکتہ میں رہتی ہیں۔

ان کا اور مدر ٹریسا کا 35 برس کا ساتھ رہا اور انھوں نے مدر ٹریسا کی موت تک مشنریز آف چیریٹی کے ترجمان کے طور پر خدمات انجام دیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ پہلی بار مدر ٹریسا کے ساتھ کب رابطے میں آئی تھیں تو سنیتا کمار کہتی ہیں: ‘جب شادی کے بعد میرا پہلا بچہ ہوا تو میں نے سوچا کہ میں کچھ اور بھی کروں گی۔ میں نے خواتین کی ایک تنظیم میں شمولیت اختیار کی جہاں میں پہلی بار مدر سے ملی۔ مدر ہمیں جذام کے مریضوں کی دوا کے لیے کاغذ کی پیکیجنگ سکھا رہی تھیں۔’

‘جب میرا ان سے تعارف کرایا گیا تو ان کا مصافحہ ہی تھا جس نے مجھے ہمیشہ کے لیے ان کے ساتھ جوڑ دیا۔ ان کا مصافحہ بہت مضبوط تھا۔ بہت سے لوگوں نے مجھے بتایا کہ جب انھوں نے پہلی بار مدر سے مصافحہ کیا تو انھیں کچھ محسوس ہوا تھا۔’

ہلیری کلنٹن مدر ٹریسا کے ساتھ

Reuters
امریکہ کی سابق خاتون اول ہلیری کلنٹن مدر ٹریسا کے ساتھ

مدر ٹریسا نے سنہ 1947 میں ہی انڈیا کی شہریت لے لی تھی۔ وہ روانی سے بنگالی بولتی تھیں۔

سنیتا کمار کہتی ہیں: ‘مدر کو چار یا پانچ گھنٹے سے زیادہ نیند کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ میں نہیں جانتی کہ ان میں اتنی توانائی کہاں سے آتی تھی۔ اگر میں رات 12 بجے بھی فون کرتی تو وہ فون اٹھاتی تھیں۔ یہاں تک کہ وہ گھر میں بھی سادہ طریقے سے رہتی تھیں، نہ کوئی سکیریٹری اور نہ کوئی معاون۔’

سنیتا کہتی ہیں: ‘وہ صبح 5.30 سے 7.30 بجے تک عبادت میں مشغول رہتی تھیں۔ پھر ناشتہ کرنے کے بعد باہر جاتیں۔’

مدر ٹریسا کا حس مزاح زبردست تھا

نوین چاولہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سنجیدہ کام کرنے اور غمزدہ و پریشان لوگوں کے ارد گرد ہونے کے باوجود ان کی حس مزاح نے انھیں کبھی نہیں چھوڑا۔

انھوں نے بتایا: ‘وہ ہر سنجیدہ صورت حال کو ہلکے انداز میں لیتی تھیں۔ جب وہ کسی سسٹر کی تقرری کرتیں تو ایک شرط یہ بھی تھی کہ اس میں مزاح کی حس ہونی چاہیے۔ وہ ہمیشہ لطیفے سناتیں۔ جب کوئی چیز بہت مزاحیہ ہوتی تو وہ کمر پر ہاتھ رکھ کر ہنستے ہنستے دوہری ہو جاتیں۔’

نوین چاولہ کا کہنا ہے کہ ‘میں نے ان سے پوچھا کہ آپ اتنا سنجیدہ کام کرتی ہیں اور پھر بھی آپ ہنستی، مسکراتی، لطیفے سناتی رہتی ہیں۔

مدر ٹریسا

Reuters

'ان کا جواب تھا کہ میں اداس چہرے کے ساتھ غریبوں کے پاس نہیں جا سکتی۔ مجھے خوش چہرے کے ساتھ ان کے پاس جانا ہوتا ہے۔'

یہ سچ ہے کہ مدر بہت ہنستی تھیں، لیکن کیا وہ کبھی غصے بھی ہوتی تھیں؟

سنیتا کمار کہتی ہیں: ‘بالکل بھی نہیں۔ یہ حیرت کی بات ہے کہ وہ بضد ہوتی تھیں، لیکن کبھی چیخا نہیں، نہ ہی انھوں نے کسی کو ڈانٹا جیسے ہم اپنے بچوں کو ڈانٹ دیتے ہیں۔

‘میں نے ان کے ساتھ 32 سال گزارے۔ اس دوران ہم نے کبھی ان کی بلند آواز نہیں سنی۔’

جب مدر ٹریسا رگھو رائے سے ناراض ہو گئیں تھیں

لیکن انڈیا کے معروف فوٹوگرافر رگھو رائے کے مطابق ایک موقعہ ایسا آیا جب مدر ٹریسا ناراض ہوئی تھیں، لیکن انھوں نے جلد ہی اپنے غصے پر قابو پا لیا تھا۔

رگھو رائے نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ‘مدر بہت پیار کرنے والی، بہت مہربان، لیکن اتنی سخت تھیں کہ وہ دھواں باہر کر دیتی تھیں۔ یہ پہلا موقعہ تھا جب سٹیٹسمین اخبار کے ڈیسمنڈ لاؤگ اور میں ان کے دفتر میں بیٹھے تھے۔ ڈیسمنڈ انھیں بتا رہے تھے کہ رگھو رائے ان تینوں کی تصویر کھینچیں گے۔

مدر ٹریسا

Reuters

'اسی دوران میں نے ایک دروازے پر آدھا پردہ لٹکا دیکھا جو اڑ رہا تھا۔ اس میں نظر آرہا تھا کہ پہلی منزل پر دو سسٹرز ہاتھوں میں بائبل لیے دعا کر رہی تھیں۔'

رگھو نے بتایا: ‘میں نے سوچا کہ اگر میں نیچے بیٹھ جاؤں تو مجھے ایک اچھا زاویہ ملے گا۔ میں مدر سے پوچھے بغیر اچانک بیٹھ گیا اور ان کی تصویر لینے لگا۔ مدر اچانک غصے میں آگئیں اور کہا کہ تم زمین پر کیا کر رہے ہو؟ میں نے کہا مدر لک ایٹ دوز سسٹرز، دے لک لائک اینجلز۔۔۔ پھر انھوں نے کہا ٹھیک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ نے اپنی ایمانداری اور عزم کے ساتھ کچھ کیا ہے تو وہ ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں۔’

گناہ سے نفرت کرو گنہگار سے نہیں

مدر ٹریسا کا خیال تھا کہ انسان کو گناہ سے نفرت کرنی چاہیے نہ کہ گنہگار سے۔

نوین چاولہ ایک دل ہلا دینے والا قصہ بیان کرتے ہیں: ‘ایک بار میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اپنی زندگی میں کون سا افسوسناک واقعہ دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا کہ ایک بار میں اور میرے ساتھ ایک سسٹر کولکتہ میں سڑک پر چلے جا رہے تھے۔ مجھے ایک ڈھلوان پر ایک ہلکی سی آواز سنائی دی۔

"جب ہم پیچھے گئے تو ہم نے دیکھا کہ ایک عورت کوڑے کے ڈھیر پر پڑی ہوئی تھی۔ چوہے اور کاکروچ اس کے اوپر گھوم رہے تھے۔ وہ مرنے کے دہانے پر تھی۔ مدر نے اسے اٹھایا اور اسے ہوم فار ڈائنگ (مرنے والے کمرے) میں لے گئیں۔ انھوں نے اسے صاف کیا۔ کپڑے تبدیل کیے اور اسے جراثیم کُش سے صاف کیا۔ پھر مدر نے پوچھا کہ یہ تمہارے ساتھ کس نے کیا؟ عورت نے جواب دیا، ‘میرے اپنے بیٹے نے۔’

مدر ٹریسا

Reuters

نوین بتاتے ہیں: 'مدر نے عورت سے کہا کہ اسے معاف کر دو کیونکہ اب یہ لمحوں کی بات ہے۔ تمہاری روح تمہارے خدا کے ساتھ مل جائے گی۔ تم اپنے خدا سے دعا کرو میں اپنے خدا سے دعا کروں گی۔ تم اپنے خدا کے قریب ہلکے دل کے ساتھ جاؤ۔ اس نے کہا مدر میں اسے معاف نہیں کر سکتی میں نے اس کے لیے بہت کچھ کیا، اسے پالا پوسا، پڑھایا لکھایا اور آخر میں جب میں نے اپنی جائیداد اس کے نام کر دی تو وہ مجھے اپنے ہاتھوں مجھے وہاں چھوڑ گيا۔

‘مدر نے پھر اصرار کیا۔ اس کے بعد عورت نے دو چار منٹ تک کچھ نہیں کہا۔ پھر اس نے آنکھیں کھولیں۔ اس نے مسکرا کر کہا کہ میں نے اسے معاف کر دیا۔ وہ یہ کہہ کر مر گئی۔ جب مدر مجھے یہ کہانی سنارہی تھیں تو ان کے چہرے پر اداسی تو تھی لیکن وہ یہ بھی کہنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ کوئی کسی کے ساتھ ایسا کیسے کرسکتا ہے؟’

‘یہ ایک فرسٹ کلاس معجزہ ہے’

بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ انھوں نے مدر ٹریسا کو معجزے کرتے دیکھا ہے۔

نوین چاولہ معجزات پر یقین نہیں رکھتے۔ لیکن انھوں نے بھی ایک بار مدر کے ہاتھوں معجزہ ہوتے دیکھا ہے۔

چاولہ کہتے ہیں: ‘ایک بار وہ روم سے ایئر انڈیا کی فلائٹ سے آئی تھیں۔ انھوں نے مجھے ائیر پورٹ بلایا تھا۔ ان کا جہاز پچیس منٹ تاخیر سے آیا تھا۔ وہ جیسے ہی اتریں انھوں نے کہا کہ انھیں کولکتہ جانے کے لیے کنیکٹنگ فلائٹ لینی ہے۔ ان دنوں شام میں کولکتہ کے لیے صرف ایک پرواز ہوتی تھی۔’

مدر ٹریسا

Reuters

انھوں نے بتایا: 'میں نے کہا کہ کولکتہ جانے والے طیارے میں تو بورڈنگ ہو رہی ہے۔ آج آپ اپنے آشرم پر رکیں۔ کل صبح چھ بجے آپ کو کولکتہ بھیجیں گے۔ مدر نے کہا کہ میں کل تک انتظار نہیں کر سکتی۔ میں ایک بچے کے لیے ایک دوا لائی ہوں۔ اگر اسے آج یہ دوا مل جائے تو وہ بچ سکتا ہے۔ مجھے پسینہ آ رہا تھا۔ بہت سے لوگ وہاں ان کے آٹو گراف لینے کے لیے آ رہے تھے۔ وہ سب سے کہہ رہی تھی کہ کسی طرح تم مجھے کولکتہ پہنچا دو۔'

چاولہ نے کہا: ‘یہ بات کسی طرح کنٹرول ٹاور تک پہنچی اور وہاں سے پائلٹ کو بھی اس کا علم ہوا۔ آپ حیران ہوں گے کہ پائلٹ نے ٹیکسی کرتے ہوئے جہاز کو روک دیا۔ مجھے بتایا گیا کہ میں مدر ٹریسا کو گاڑی پر بٹھا کر ٹیرمک پر لے جاؤں۔ مدر کے پاس سوٹ کیس نہیں تھا۔ ان کے پاس پانچ چھ گتے کے ڈبے تھے۔ ایک میں اس کے کپڑے اور باقی میں دوائیں تھیں۔ میں نے گاڑی میں سب کچھ لاد دیا۔ ایک سیڑھی کہیں سے آئی اور مدر ٹریسا ہوائی جہاز میں سوار ہو کر کولکتہ کے لیے روانہ ہو گئیں۔’

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کی مدر ٹریسا چل بسیں

2018 کا مدر ٹریسا ایوارڈ ایک پاکستانی کے نام

”ڈاکٹر روتھ کو مدر ٹریسا سے نہ ملائیں‘

انھوں نے بتایا: ‘اگلے دن میں نے انھیں فون کیا اور پوچھا کہ بچہ کیسا ہے؟ مدر ٹریسا کا جواب تھا، بچہ اچھا ہو رہا ہے۔ اٹ از اے فرسٹ کلاس میریکل!’

پوری دنیا کے غریبوں کے کھانے کا خیال رکھنے والی مدر ٹریسا خود کیا کھاتی تھیں؟

سنیتا کمار بتاتی ہیں: ‘ان کا کھانا بہت سادہ تھا۔۔۔ کھچڑی، دال اور دس بیس دن میں ایک بار مچھلی، کیونکہ مچھلی کولکتہ کے لوگوں کی بنیادی خوراک تھی۔ ایک چیز جسے وہ بہت پسند کرتی تھیں۔ وہ تھی چاکلیٹ۔ جب وہ فوت ہو گئیں تو میں نے ان کی میز کا دراز کھولا تو اس میں کیڈبری چاکلیٹ کا ایک سلیب پڑا ملا۔’

لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ اپنے آشرم کے باہر کے لوگوں کی طرف سے دیا گیا ایک گلاس پانی بھی قبول نہیں کرتی تھیں۔۔۔ اور اس کی ایک وجہ تھی۔

مدر ٹریسا

Reuters
یاسر عرفات کے ساتھ مدر ٹریسا

نوین چاولہ کہتے ہیں: ‘مدر ٹریسا اس گھر میں کئی بار آئی ہیں جہاں آپ بیٹھے ہیں، لیکن انھوں نے کبھی ایک گلاس پانی بھی نہیں پیا۔ شروع شروع میں جب وہ راج بھون آتی تھیں تو ہم ان سے پوچھتے تھے کہ کیا آپ چائے لیں گی۔ ان کا جواب ہمیشہ ‘نہیں’ تھا۔’

‘وہ کہتی تھیں کہ نہ ہم امیروں کے ہاں کچھ کھاتے ہیں اور نہ غریبوں کے ہاں۔ جب ہم غریبوں کی جگہ جاتے ہیں تو ان کے لیے ایک کپ چائے یا کولڈ ڈرنک دینا بھی مشکل ہوتا ہے۔ تو اب ہم نے ایک اصول بنا لیا ہے کہ ہم پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں پیتے۔’

‘اندرا میری دوست ہے’

چاہے وہ امریکہ کے صدر رونالڈ ریگن ہوں یا روس کے صدر میخائل گورباچوف، یا جرمن چانسلر ہیلمٹ کول یا یاسر عرفات، ہر ایک کو مدر ٹریسا سے خصوصی لگاؤ تھا۔

سنہ 1977 میں جب اندرا گاندھی الیکشن ہار گئیں تو مدر ٹریسا ان سے بطور خاص ملنے گئیں۔ کسی نے یہاں تک کہا کہ اب اندرا گاندھی سے ملنے کا کیا فائدہ؟

مدر ٹریسا

Reuters

مدر ٹریسا نے جواب دیا کہ 'وہ میری دوست ہیں۔' مزید یہ کہ بنگال کے سابق وزیر اعلیٰ جیوتی بسو اور مدر ٹریسا ایک دوسرے کے مداح ہونے کے باوجود نظریاتی طور پر ایک دوسرے کے مخالف تھے۔

نوین چاولہ کا کہنا ہے کہ ‘میں نے ایک بار جیوتی بسو سے پوچھا تھا کہ آپ کمیونسٹ ہیں، ملحد ہیں۔ اور ان کے لیے خدا ہی سب کچھ ہے۔ آپ میں اور مدر ٹریسا میں کیا مماثلت ہے؟’

‘جیوتی بسو نے ہنس کر جواب دیا، ہم دونوں غریبوں سے پیار کرتے ہیں۔ باسو نے بتایا کہ مدر مجھ سے کہتی تھیں کہ میں کسی بھی وقت بغیر کسی اپائنٹمنٹ کے ان کے کمرے میں جا سکتا ہوں۔ جب وہ بیمار ہوتے مدر ان کے گھر آتیں اور ان کے لیے دعا کرتیں جبکہ جیوتی بسو کو خدا پر یقین نہیں تھا۔’

نوین چاولہ کہتے ہیں: ‘جب مدر ٹریسا بیمار تھیں تو جیوتی بسو ہر روز ہسپتال جاتے تھے۔ ان سے ملتے نہیں تھے، لیکن اپنی حاضری ضرور درج کرتے۔ دونوں کا ایک شاندار رشتہ تھا: غربت اور اچھائی پر مبنی۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words