والد کی آخری رسومات زبردستی ادا کی گئیں، سید علی گیلانی کے بیٹوں کا دعویٰ

ریاض مسرور - بی بی سی ، سرینگر

گیلانی
Getty Images
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں جموں اور کشمیر کی علیحدگی کی تحریک کے سینئیر رہنما سید علی گیلانی کے جنازے کے حوالے سے تنازع پیدا ہو گیا ہے۔

سید علی گیلانی جن کی عمر 92 برس تھی یکم ستمبر کی شب سرینگر میں وفات پا گئے تھے اور ان کی تدفین 2 ستمبر کو علی الصبح کر دی گئی تھی۔

ڈاکٹر نعیم نے، جو کہ سید علی گیلانی کے بیٹے ہیں، کہا ہے کہ ’ہمیں اپنے والد کی آخری رسومات کو اسلامی طریقے سے ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ ہمارا حق تھا لیکن وہ ہم سے چھین لیا گیا۔ ہم اس کی وجہ سے بہت افسردہ ہیں۔‘

ڈاکٹر نعیم اور ان کے بھائی ڈاکٹر نسیم کا کہنا ہے کہ وہ اپنے والد کے جنازے میں شریک نہیں ہو سکے۔

دونوں بھائیوں کا الزام ہے کہ جب سید علی گیلانی کی گذشتہ بدھ کو موت واقع ہوئی تو پولیس اور حکومتی اہلکار زبردستی ان کے والد کی لاش کو لے کر چلے گئے۔

دونوں بھائیوں کے مطابق وہ انھیں ’آخری غسل بھی نہیں دے سکے، نہ ہی نماز جنازہ پڑھائی گئی اور نہ ہی ہم انھیں قبر میں اپنے ہاتھوں سے اتار سکے۔‘

ڈاکٹر نسیم کہتے ہیں کہ سید علی گیلانی کا آکسیجن لیول ان کی موت سے کچھ منٹ پہلے تک بالکل نارمل تھا۔ اسی وقت ان کے طبی معالج عمر کو بلایا گیا جو طویل عرصے سے ان کا علاج کر رہے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ عمر کو سمجھ آ گئی تھی کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اور پھر سکمز ہسپتال کے ڈائریکٹر کو بلایا گیا جنھوں نے بتایا کہ گیلانی وفات پا چکے ہیں۔

اسی وقت پولیس اور پیراملٹری فورسز نے ان کے گھر کا گھیراؤ کر لیا۔ دو سینئیر پولیس افسران نے خاندان کے ساتھ ان کے جنازے کے حوالے سے بات کی۔ ڈاکٹر نسیم کہتے ہیں کہ ہم نے انھیں بتایا کہ نماز جنازہ صبح ادا کی جائے گی تاکہ تمام رشتہ دار آ کر ان کا چہرہ دیکھ سکیں۔

گیلانی کا گھر

Getty Images

وہ بتاتے ہیں کہ ’ہمارے گھر میں موجود خواتین نے پولیس سے کہا کہ وہ سید علی گیلانی کے جسم کو نہ چھوئیں۔ لیکن پھر رات تین بجے وہ دوبارہ آئے اور پھر جب ہم نے رات کو ان کی آخری رسومات ادا کرنے سے انکار کیا تو انھوں نے زبردستی ان کی لاشں لے لی اور خاندان کے افراد کے بغیر آخری رسومات ادا کر دیں۔‘

تاہم دوسری جانب پولیس ان الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ سید علی گیلانی کا جسد خاکی چھینا نہیں گیا تھا بلکہ پولیس نے قبرستان تک پہنچنے میں خاندان کی مدد کی تھی جو کہ گھر سے 300 میٹر دور واقع ہے۔

مزید پڑھیے

سخت سکیورٹی میں سید علی گیلانی کی تدفین کے بعد وادی میں کرفیو

سید علی گیلانی: ’ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے‘ کا نعرہ لگانے والا کشمیری رہنما

’بابا شیشے میں دِکھے اور بولا مجھے باہر نکالو، میں نے شیشہ توڑ دیا‘

کشمیر رینج کے آئی جی ویجے کمار کا کہنا ہے کہ پولیس نے کورونا وائرس کے پروٹوکول کے تحت آخری رسومات ادا کیں۔ امن و امان کو لاحق خطرات کے پیش نظر آخری رسومات جلد ادا کی گئیں۔‘

پولیس کا الزام ہے کہ سید علی گیلانی کا جسد خاکی پاکستانی جھنڈے میں لپٹا ہوا تھا

جموں اور کشمیر پولیس نے دو ستمبر کو کہا کہ بڈگام میں ایک ایف آئی آر کاٹی گئی ہے جو کہ شر پسند عناصر کے خلاف ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر ان لوگوں کے خلاف ہے جنھوں نے انڈیا مخالف نعرے لگائے اور دیگر ملک دشمن سرگرمیاں کیں۔

پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ علیحدگی پسند رہنما کا جسم پاکستانی جھنڈے میں لپٹا ہوا تھا۔

اس کیس میں کسی کا نام شامل نہیں اور نہ ہی کسی کو گرفتار کیا گیا ہے۔

یہ واضح نہیں کہ کیسے نامعلوم افراد نے ملک کےخلاف نعرے بازی کی اور جب آخری رسومات پولیس کی نگرانی میں ادا کی گئیں تو کیسے سید علی گیلانی کے جسم کو پاکستانی جھنڈے میں لپیٹا گیا۔

انڈین فوج

Getty Images

ڈاکٹر نسیم کا کہنا ہے کہ پولیس افسران ان کے والد کے کمرے میں گئے جہاں ان کا جسد خاکی تھا۔

’پولیس چیف وجے کمار نے ہمارے گھر کے صحن میں کھڑے ہو کر میرے بھائی نعیم سے کہا کہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے آخری رسومات جلد ادا کرنا ہوں گی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ہم اس وقت صدمے میں تھے، ہم نہیں جانتے کس نے پاکستان کا جھنڈا تابوت کے گرد لپیٹا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بھی علی گیلانی کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انھوں نے ساری زندگی کشمیری عوام اور ان کے حقِ خود ارادیت کے لیے جدوجہد میں گزاری اور قابض انڈین ریاست کی جانب سے قید اور تشدد سہنے کے باوجود ڈٹے رہے۔‘

عمران خان نے اعلان کیا کہ پاکستان میں علی گیلانی کی وفات پر سرکاری سطح پر سوگ منایا جائے گا اور پاکستانی پرچم سرنگوں رہے گا۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے بھی علی گیلانی کی وفات پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

جموں اور کشمیر میں پولیس اور سکیورٹی فورسز ہائی الرٹ پر ہیں، تاہم سید علی گیلانی کی وفات کے بعد اب صورتحال پر امن ہے۔ تاہم نارکارا میں، جو کہ بڈگام کا علاقہ ہے، پتھراؤ بھی کیا گیا۔

پولیس نے کہا ہے کہ امن قائم کرنے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور شر پسند عناصر کو گرفتار کیا گیا ہے۔

رواں برس جون میں سینئیر حریت رہنما محمد اشرف سحرائے کی پولیس کی حراست میں ہلاکت ہوئی تھی۔ وہ پولیس سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں تھے۔ بعد میں پولیس نے ان کے بیٹوں کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے والد کے جنازے میں ملک مخالف نعرے لگائے ہیں۔ پولیس نے ان کے بیٹوں کو حراست میں بھی لیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words