گولڈ میڈ لسٹ پہلوان انعام بٹ: ٹوکیو اولمپکس میں حصہ نہ لینے کا افسوس، لیکن اب اگلے اولمپکس پر نظر ہے

عبدالرشید شکور - بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان کے مشہور نوجوان پہلوان انعام بٹ کے لیے کسی بھی بین الاقوامی مقابلے میں گولڈ میڈل جیتنا اب معمول بن گیا ہے۔ وہ جس ایونٹ میں بھی حصہ لیتے ہیں اس کے اختتام پر گولڈ میڈل کے ساتھ ان کی پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے تصویر ضرور سامنے آتی ہے۔

انعام بٹ کی تازہ ترین کامیابی اٹلی میں منعقدہ ورلڈ بیچ ریسلنگ سیریز میں رہی ہے جس کی 90 کلوگرام کیٹگری میں انھوں نے گولڈ میڈل جیتا ہے۔

انعام بٹ نے اس ایونٹ کے فائنل میں یوکرین کے پہلوان کو تین صفر سے شکست دی۔ سیمی فائنل میں انھوں نے رومانیہ کے پہلوان کو بھی تین صفر سے ہرایا تھا۔

ورلڈ بیچ ریسلنگ سیریز کیا ہے؟

انعام بٹ نے اٹلی سے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ʹیہ ایک عالمی ایونٹ ہے جس میں ورلڈ چیمپئن شپ کے پہلوانوں کے علاوہ وہ پہلوان بھی حصہ لے رہے ہیں جنھوں نے اولمپکس میں تمغے جیتے ہیں۔ میں نے 90 کلو گرام کی جس کیٹگری میں مقابلہ کیا ان میں اولمپک برانز میڈلسٹ پہلوان بھی شامل تھے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ماضی کے مقابلے میں یہ ایونٹ قدرے مشکل تھا کیونکہ اس مرتبہ اس میں ایران، روس اور بلغاریہ کے ورلڈ کلاس پہلوان بھی شریک تھے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے ورلڈ بیچ ریسلنگ مقابلے سخت ہوتے جارہے ہیں اور اسے جیتنا مشکل بھی ہوتا جارہا ہے۔‘

سیریز میں کتنے ایونٹس ہیں؟

انعام بٹ کہتے ہیں ʹورلڈ بیچ سیریز کا ٹائٹل ورلڈ بیچ ریسلنگ چیمپئن کے ٹائٹل سے علیحدہ ہے۔ اٹلی میں اس سیریز کا پہلا ایونٹ ہوا ہے جبکہ ابھی اس کے مزید دو ایونٹس باقی ہیں اور ان کے میڈلز علیحدہ سے ہوں گے۔ اگلا ایونٹ 10 اور 11 ستمبر کو یونان میں ہے جس کے بعد 24 اور 25 ستمبر کو تیسرا اور آخری ایونٹ رومانیہ میں ہوگاʹ۔

انعام بٹ کا کہنا ہے ʹمیری پوری کوشش ہے کہ میرا یونان کا ویزا اٹلی میں ہوتے ہوئے ہی لگ جائے اور میں وہاں جاکر سیریز کے دوسرے ایونٹ میں حصہ لے سکوں۔ میں نے اس سلسلے میں وفاقی وزیر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اور پاکستانی سفیر سے بھی بات کی ہے اور مجھے امید ہے کہ میں ان سب کے تعاون سے یونان کے مقابلے میں بھی حصہ لینے میں کامیاب ہو سکوں گا جس طرح میں نے اٹلی کے ایونٹ میں حصہ لیا ہے۔‘

ٹوکیو اولمپکس میں حصہ نہ لینے کا دکھ

انعام بٹ کو ٹوکیو اولمپکس میں حصہ لینے کا بہت افسوس ہے۔ وہ کہتے ہیں ʹکسی بھی کھلاڑی کے لیے اس سے زیادہ بڑی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ اولمپکس میں اپنے ملک کی نمائندگی کرے اور خاص کر ایسے وقت میں جب آپ اس قابل ہوں کہ آپ وہاں اچھی کارکردگی دکھاسکتے ہوں۔‘

انعام بٹ کا کہنا ہے ʹمیں ابھی جن کھلاڑیوں کے ساتھ مقابلہ کر رہا ہوں ان میں بیشتر اولمپکس میں حصہ لے چکے ہیں۔افسوس کہ مجھے اولمپکس میں حصہ لینے کا موقع نہ مل سکا۔ کووڈ کی صورتحال نے دنیا کا منظرنامہ ہی بدل دیا ہے۔ سپورٹس کا بہت نقصان ہوا۔ ٹریننگ کیمپس بند ہوگئے۔ اس سے پہلے بھی صورتحال کچھ اچھی نہیں تھی۔ 2018 کے بعد ہمارے کیمپ نہیں لگے تھے۔ میں متعدد کوالیفائنگ مقابلوں میں نہیں جاسکا۔ فرانس کے ایونٹ میں شرکت سے محروم رہا۔ کووڈ کی وجہ سے انٹرنیشنل ایونٹس میں جانا بہت مہنگا ہوگیا تھا۔ قرنطینہ کی لازمی شرط کی وجہ سے بیرون ملک قیام کا دورانیہ بڑھ گیا تھا جس کے اخراجات پورے نہیں کیے جاسکتے تھے۔‘

انعام بٹ کہتے ہیں ʹٹوکیو اولمپکس تو گزر گئے اب ہمیں اگلے اولمپکس پر توجہ دینی چاہیے اور اس کے لیے ہمارے پاس چار نہیں بلکہ صرف تین سال ہیں لہٰذا ابھی سے ہمارے اداروں کو اس کی منصوبہ بندی کرکے ٹریننگ کا عمل شروع کرنا ہوگا۔‘

گوجرانوالہ پہلوانوں اور ویٹ لفٹرز کا شہر

انعام بٹ کہتے ہیں ʹخوشی کی بات یہ ہے کہ ان دنوں میرے شہر گوجرانوالہ کا بہت زیادہ ذکر ہو رہا ہے۔ چند روز پہلے حیدر علی نے پیرالمپکس میں گولڈ میڈل جیتا ہے۔

ویٹ لفٹر طلحہ طالب نے اولمپکس میں عمدہ کارکردگی دکھائی ہے جبکہ ٹیسٹ کرکٹر حسن علی بھی اسی شہر سے تعلق رکھتے ہیں۔

اگر دیکھا جائے تو یہ ٹیلنٹ آج سے نہیں ہے بلکہ کافی عرصے سے موجود ہے۔ پہلوانی اور ویٹ لفٹنگ کی ایک تاریخ موجود ہے تاہم آج کل پذیرائی زیادہ ہونے لگی ہے۔ سوشل میڈیا بہت متحرک ہے جس کی وجہ سے ہماری کارکردگی زیادہ نمایاں نظرآنے لگی ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words