افغانستان میں طالبان: صوبہ لوگر میں عمارتوں پر گولیوں کے نشان اور زیرِ زمین موجود ذخائر

ملک مدثر - بی بی سی، لوگر

لوگر
BBC
صبح سات بجے ہم کابل سے افغانستان کے صوبہ لوگر کے لیے روانہ ہوئے۔ اس بار ماضی کے برعکس ہماری میزبانی یا رہنمائی طالبان نے کرنا تھی۔

راستے میں تین چار مقام پر طالبان کے چیک پوسٹ تھے۔ ایک چیک پوائنٹ پر گزرتے ہوئے ایک طالب کی نظر میرے کیمرے پر پڑی تو اس نے چیخ کر کہا کہ ’کیمرہ کہاں لے کر جا رہے ہوں‘ لیکن اتنی دیر میں ہم چیک پوسٹ پار کر چکے تھے۔

لوگر افغانستان کے جنوب مشرق میں واقع ہے جہاں جانے کے لیے چمن حضوری اور جادئے میوند سے گزرنا ہوتا ہے۔

لوگر کے دارالحکومت پل عالم پہنچنے پر ہم کلچر اور اطلاعات کے دفتر گئے۔ وہاں دیوار پر لگے پینا فلکس پر تاریخی شخصیات کی تصاویر بھی تھیں لیکن ایک تصویر پر سفید کاغذ تھا۔

میں نے پوچھا یہ کس کی تصویر ہے تو وہاں موجود طالب نے کہا یہ ڈاکٹر نجیب کی تصویر ہے۔

سرکاری دفتر میں میرے لیے یہ بات خوشگوار اور حیران کن تھی کہ وہاں معذور افراد کے لیے الگ راستہ بھی موجود تھا۔

پل عالم کی اچھی بات یہ ہے کہ وہاں خوبصورت سڑکیں اور گرین بیلٹ دکھائی دیے۔ ہمیں وہاں مختلف سکولوں میں بھی جانے کا اتفاق ہوا۔

لوگر

BBC

طالبان پہلے ہمیں لڑکیوں کے ایک سرکاری سکول لے کر گئے اور دروازے پر دستک دی۔ خاتون پرنپسل باہر آئیں اور طالب سے کہا کہ آپ کے پاس تو اجازت نامہ ہی نہیں، میں آپ کو کیسے اندر آنے کی اجازت دے سکتی ہوں۔

خیر کوئی پندرہ منٹ لگے تو محکمہ تعلیم نے خاتون سے بات کی اور پھر ہمیں اندرجانے کی اجازت دی گئی۔ ہم اندر گئے تو حاضری کم تھی تو پرنسپل نے طالبات کی دو کلاسز کو ایک کلاس میں شفٹ کیا۔

پرنسپل نے ہمیں بتایا کہ ابھی تک تو نصاب میں کوئی تبدیلی نہیں کروائی گئی لیکن ہمیں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ شرعی حجاب میں سکول آئیں۔

60 سال کی پرنسپل نے خود بھی گاؤن پہنا ہوا تھا اور چہرے پر سکارف لیا ہوا تھا۔

لوگر

BBC
ایک مسجد جہاں راکٹ گرا

ہم پلِ عالم، پدخواب، نو آباد اور ان کے نواحی علاقوں میں موجود کل چار سکولوں میں گئے۔ لڑکوں کے سکول میں ہزار کے لگ بھگ بچے موجود تھے لیکن ایک سکول کے علاوہ ہم جس بھی سکول میں گئے وہاں اسلامیات پرھائی جا رہی تھی یا قرآن کی کلاس ہو رہی تھی۔

اب معلوم نہیں کہ ایسا طالبان کی وجہ سے تھا یا اس وقت کلاس ہی اس مضمون کی تھی۔

لوگر کے گاؤں اور دیہات میں بھی پکی نالیاں اور سیوریج کا اچھا انتظام تھا اور صاف پانی کی فراہمی کے لیے جھرنے بھی موجود تھے۔

یہ علاقہ کھیتی باڑی اور باغات کے لیے بھی مشہور ہے۔ یہاں کا سیب اور انگور اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔

میں شکر کر رہا تھا کہ میں کابل سے باہر نکلا ہوں اور کھل کر سانس لے سکتا ہوں کیونکہ کابل میں آلودگی اور بے ہنگم ٹریفک ہوتی ہے اور سانس لیتے ہوئے گھٹن کا احساس ہوتا ہے۔

یہ اونچا نیچا پہاڑی علاقہ ہے۔ یہاں کی خوبصوتی آپ کو متاثر تو ضرور کرے گی لیکن یہاں بھی ٹوٹے ہوئے گھر اور عمارتیں آپ کو جنگ کی تباہ حالی کا پتا دیتی ہیں۔

بہت سے گھر کچی مٹی کے بنے ہوئے تھے، جو تباہ ہو گئے اور وہاں لوگ اب ان کو دوبارہ بنا رہے ہیں۔

وہاں ہماری ملاقات ایک شحص سے ہوئی جو ایک سرکاری سکول میں ملازم تھا۔ اس کا گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا اور اس نے اپنے ہمسائے کے گھر پناہ لی ہوئی تھی جس کا اپنا گھر بھی آدھا تباہ ہو چکا تھا۔

اس نے ہمیں بتایا کہ میرا گھر آرمی کی چیک پوسٹ کے قریب تھا تو اسے گورنر نے سکیورٹی وجوہات کے نام پر دیگر آٹھ گھروں سمیت گرا دیا۔

لوگر، لڑائی میں گرنے والے مکانات

BBC

نو آباد نامی علاقے میں بھی ایسی ہی صورتحال تھی لیکن پدخواب کا علاقہ جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا۔ وہاں آپ کو گھروں، بازار، دیواروں، مسجدوں سمیت تقریباً ہر عمارت کی دیوار پر جنگ کے اثرات دکھائی دیں گے۔

کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں گھروں، بازار، دیواروں، مسجدوں سمیت ہر عمارت کی دیوار پر جنگ کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔

لوگوں نے بتایا کہ دو تین ہفتے پہلے تک یہاں مسلسل شدید لڑائی تھی اور لوگ گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے تھے۔

چند لوگوں سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ پہلے لوگ آپس لڑتے تھے لیکن اب نہیں لڑ رہے۔

یہ بھی پڑھیے

طالبان کے ہاتھ جنگی طیارے، گاڑیاں تو لگ گئیں مگر کیا وہ انھیں استعمال کر سکتے ہیں؟

ترکی اور قطر کو طالبان کی ’لائف لائن‘ بننے سے کیا فائدہ؟

افغانستان سے امریکی انخلا: دنیا کا سب سے طاقتور ملک جنگیں کیوں ہار جاتا ہے؟

لوگر، دیوار پر گولیوں کے نشانات

BBC

واپسی کے سفر میں ہم آثار قدیمہ کی سائٹ سے گزرے۔ جاتے ہوئے میں نے اپنے ساتھ موجود مقامی شخص سے پوچھا تھا کہ آثار قدیمہ کی سائٹ مس عینک کہاں ہے؟ تو اس نے بتایا تھا کہ بائیں جانب۔

مس عینک کی زمین ایسی ہے کہ زمین سے مٹی اٹھائیں تو نیچے چمکتی ہوئی دھاتیں صاف دکھائی دیتی ہیں۔

یہاں کوئی دو مربع کلومیٹر کا علاقہ اس چینی کمپنی نے ٹھیکے پر لیا ہوا ہے جس کے پاس پاکستان کا سینڈیک پراجیکٹ بھی ہے۔

چینی باشندوں کو یہ اجازت دی گئی تھی کہ وہ یہاں اوپن کاسٹ مائننگ کریں لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اسی کی حدود میں وہ آثارِ قدیمہ کی سائٹ بھی ہے۔

آثار قدیمہ

BBC

مجھے یاد ہے کہ سنہ 2015 میں جب میں وہاں گیا تھا تو بدھا کے مجسمے تو موجود تھے لیکن ان کے سر نہیں تھے۔

میں نے ماہر آثار قدیمہ کے ایک اہلکار سے پوچھا کہ ان کے سر کہاں ہیں تو انھوں نے بتایا کہ طالبان ان کے سر توڑ نہ دیں، اس خدشے کے پیش نظر ہم نے وہ اتار کر میوزیم میں رکھ دیے ہیں۔

وہاں کھدائی کے دوران جو چیزیں بھی ملیں، جیسے بدھا کے مجسمے یا نوادرات، ان کو پلاسٹک کور میں لپیٹا جا رہا تھا لیکن یہ ایک بڑا کام تھا اور اسے کرنے کے لیے عملہ بہت ہی کم تھا۔

فی الوقت تو طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد ہی یہ واضح ہو گا کہ زمین کے اوپر موجود تاریخی مقامات کا کیا ہو گا اور زیر زمین ذخائر نکالنے کے لیے چین اور انڈیا سمیت کوئی یہاں کا رخ کرے گا یا نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words