آر ایس ایس کا طالبان سے موازنہ کرنے پر جاوید اختر نشانے پر

انڈین نغمہ نگار اور راجیہ سبھا کے سابق رکن جاوید اختر کی جانب سے ایک نیشنل ٹی وی چینل پر دیے جانے والے بیان پر تنازع پیدا ہو گیا ہے۔

جمعے کے روز جاوید اختر نے انڈیا کے ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی پر طالبان کا موازنہ ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے کیا تھا۔

انڈیا کی حمکران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے جاوید اختر کے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے ان سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔

بی جے پی رہنما رام کدم نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’جب تک جاوید اختر آر ایس ایس کے کروڑوں کارکنوں سے ہاتھ جوڑ کر معافی نہیں مانگتے، ان کی اور ان کے خاندان کی کوئی بھی فلم انڈیا کی سر زمین پر نہیں چلے گی۔‘

کدم نے مزید کہا کہ ’بیان دینے سے پہلے جاوید اختر کم از کم یہ سوچ لیتے کہ اسی سنگھ پریوار سے تعلق رکھنے والے لوگ آج اس ملک کی سیاست چلا رہے ہیں۔ اگر یہاں طالبان کا نظریہ ہوتا تو کیا وہ ایسی بیان بازی کرنے کے قابل ہوتے؟ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کا بیان کتنا کھوکھلا ہے۔‘

رام کدم مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کی گھاٹکوپر سیٹ سے انڈیا کی قانون ساز اسمبلی کے رکن ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کیا انڈیا صرف ہندوؤں کا ہے؟

دلی فسادات پر جاوید اختر کی ٹویٹ، سوشل میڈیا پر تنقید

گلزار کی ’بیڑی جلائی لے‘ سے جاوید اختر کا ’جیا جلے‘

دوسری جانب آشوتوش دوبے جو خود کو بی جے پی مہاراشٹر یونٹ کا قانونی مشیر بتاتے ہیں، انھوں نے جاوید اختر کے خلاف ممبئی پولیس میں شکایت درج کروائی ہے۔

دوبے نے ٹوئٹر پر لکھا کہ انھوں نے جاوید اختر کے خلاف متعلقہ تھانے میں آر ایس ایس کا طالبان سے موازنہ کرنے کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔

جاوید اختر نے کیا کہا؟

جاوید اختر نے جمعے کے روز این ڈی ٹی وی کے ایک شو میں شرکت کی تھی۔

اس دوران انھوں نے کہا تھا کہ ’جس طرح طالبان ایک اسلامی ریاست چاہتے ہیں، اُسی طرح ایسے لوگ بھی ہیں جو ہندو راشٹر چاہتے ہیں۔ یہ تمام لوگ ایک ہی نظریے سے تعلق رکھتے ہیں، چاہے وہ مسلمان ہوں، عیسائی ہوں، یہودی یا ہندو۔‘

’ظاہر ہے کہ طالبان ظالم ہیں اور ان کے اقدامات قابل مذمت ہیں لیکن جو آر ایس ایس، بجرنگ دل اور وی ایچ پی جیسی تنظیموں کی حمایت کرتے ہیں، وہ سب ایک جیسے ہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words