طالبان کا افغانستان: جب طالبان کے خوف سے ہجرت کرنے والے خاندان نے اپنے بچوں کو انگور کی ٹوکریوں میں چھپایا

افغانستان
Getty Images
15 اگست 2021 کو طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل پر قبضہ کر لیا اور ملک کے صدر اشرف غنی افغانستان چھوڑ کر چلے گئے۔ طالبان اس سے قبل نوے کی دہائی میں بھی افغانستان میں برسراقتدار رہ چکے ہیں۔

موجودہ حالات کے پیش نظر بی بی سی نے طالبان کے گذشتہ دور کا افغانستان اور اُس وقت کے حالات کا احاطہ کرنے کے لیے قسط وار مضامین کا سلسلہ شروع کیا ہے جس کی پانچویں قسط آج قارئین کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم نے ایک ایسے فرد کی کہانی تحریر کی ہے، جن کا خاندان دو بار افغانستان سے ہجرت کر چکا ہے۔ ان کی شناخت کے تحفظ کے لیے ان کا نام مخفی رکھا گیا ہے۔


’جب پہلی مرتبہ افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو میرے والد افغانستان میں اپنے آبائی علاقے شبرغان گئے لیکن وہ چند ماہ بعد واپس کوئٹہ آئے کیونکہ طالبان کے مظالم دیکھنے کے بعد ان کے لیے وہاں ٹھہرنا ممکن نہیں تھا۔‘

یہ کہنا تھا کوئٹہ کے علاقے سبزل روڈ پر مقیم ازبک قبیلے سے تعلق رکھنے والے صدیق اللہ (فرضی نام ) کا جنھیں اب تک اپنی زندگی میں دو مرتبہ افغانستان چھوڑ کر کوئٹہ آنا پڑا۔

وہ اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ طالبان کی پہلی حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان گئے مگر اب دوبارہ طالبان کے خوف کی وجہ سے واپس کوئٹہ آ گئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے اپنے والد اور بزرگوں سے ماضی کے طالبان کے مظالم کے بارے میں جو کچھ سنا ان کے مقابلے میں تو موجودہ طالبان مجھے زیادہ ظالم لگ رہے ہیں۔‘

’مجھے اور دیگر بچوں کو انگور کی ٹوکریوں میں چھپایا گیا‘

صدیق اللہ نے بتایا کہ جب روس افغانستان میں آیا تو ان کے والد اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ اپنے آبائی علاقے کو چھوڑ کر پاکستان کی جانب روانہ ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ان کے خاندان کے لوگ پہلی مرتبہ پاکستان آئے تو اس وقت یہاں ضیا الحق کی حکومت تھی۔

طالبان، افغانستان

Getty Images

’میری پیدائش افغانستان میں ہوئی تھی۔ جب خاندان کے افراد نے پاکستان کے لیے ہجرت کی تو اس وقت میری عمر دو تین سال تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے والد نے بتایا کہ سڑک کے راستے شبرغان سے نکلنا نہ صرف مشکل تھا بلکہ ان کے پاس اتنی سکت بھی نہیں تھی اس لیے وہ وہاں سے گدھوں پر نکلے۔‘

میرے والد نے بتایا کہ ’مجھے اور دیگر چھوٹے بچوں کو ان ٹوکریوں میں ڈال کر گدھوں پر لادھا گیا تھا، جن میں انگور ڈال کر مارکیٹ میں فروخت کے لیے لایا جاتا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس وقت انھیں پاکستان آنے میں کسی مشکل کا سامنا کرنا نہیں پڑا تھا۔

’پہلے ہمیں افغان مہاجر کیمپوں میں رکھا گیا لیکن بعد میں وہاں سہولیات کی کمی کی وجہ سے دیگر لوگوں کی طرح میرے والد اور خاندان کے دیگر افراد نے شہروں کا رخ کیا۔‘

صدیق اللہ نے بتایا کہ جب افغانستان میں طالبان کی پہلی حکومت قائم ہوئی تو ان کے والد پہلے اکیلے افغانستان گئے تاکہ وہاں حالات کا جائزہ لے سکیں لیکن وہاں طالبان کے ظالمانہ انداز کو دیکھ کر چند ماہ بعد ہی واپس کوئٹہ آ گئے۔

صدیق اللہ کا کہنا تھا کہ محنت مزدوری کر کے انھوں نے اپنے والد کو موٹر سائیکل خرید کر دی۔

’سریاب کے علاقے میں موٹر سائیکل چھیننے کے دوران مزاحمت پر میرے والد کو ڈاکوﺅں نے فائرنگ کر کے گولی مار دی، جس سے وہ ہلاک ہو گئے۔‘

افغانستان

Getty Images

صدیق اللہ کے والد اور بزرگوں نے طالبان کی پہلی حکومت کو کیسے پایا؟

صدیق اللہ نے بتایا چونکہ وہ طالبان کے دور حکومت میں اپنے والد اور بہت سارے دیگر لوگوں کے ہمراہ افغانستان نہیں گئے لیکن اپنے والد اور شبرغان میں اپنے بزرگوں سے طالبان کے بارے میں بہت سی باتیں سنیں۔

صدیق اللہ کے مطابق ان کے والد نے بتایا کہ کیسے شبرغان میں لوگ طالبان کے ہاتھوں مارے جارہے تھے اور ’علاقے میں ایک وحشت اور خوف کی فضا تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں پر تشدد اور ان کو مارنا روز کا معمول تھا۔

’میرے والد بتاتے تھے کہ بعض اوقات ایک دن میں کئی کئی افراد بھی مارے جاتے تھے جن میں سے زیادہ تر ازبک اور طالبان کے مخالفین تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ طالبان لوگوں کے گھروں سے چیزیں چھین کر لے جاتے تھے اور کوئی ان سے پوچھ نہیں سکتا تھا کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔

صدیق اللہ کا کہنا تھا کہ وہ خود جب افغانستان گئے تو اپنے والد کی طرح اپنے دیگر بزرگوں سے بھی طالبان کی پہلی حکومت کی مظالم کی داستانیں سنیں۔

’ہمارے بزرگ رشتہ دار بتاتے تھے کہ چونکہ ازبکوں نے طالبان کے خلاف مزاحمت کی تھی جس کی وجہ سے طالبان کا رویہ ازبکوں کے ساتھ بہت سخت تھا۔ وہ خواتین کا خیال رکھتے تھے اور نہ ہی بچوں کا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’افغانستان کے دیگر علاقوں کی طرح شبرغان میں بھی روسیوں کی آمد اور بعد میں آپس کی لڑائیوں کی وجہ سے تعلیم کا نظام تباہ و برباد ہو گیا لیکن جب طالبان آئے تو جو تھوڑی بہت تعلیم تھی وہ بھی ختم ہو کر رہ گئی۔‘

افغانستان

Getty Images

صدیق اللہ کا کہنا تھا کہ ’لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعلیم زیادہ متاثر ہوئی کیونکہ لڑکیوں کے تعلیمی ادارے بند ہو گئے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کے والد اور خاندان کے دیگر بزرگ، طالبان کی حکومت سے کسی طرح بھی مطمئن اور خوش نہیں تھے۔

’میرے والد تو یہ سن کر گئے تھے کہ طالبان کے آنے کے بعد افغانستان پر امن ہو گیا ہے لیکن وہ جلد وہاں کی صورتحال سے بیزار ہو کر واپس پاکستان آ گئے۔‘

’طالبان کے مظالم کو دیکھ کر تو وہ وہاں رک نہیں سکے لیکن جب یہاں آئے تو ڈاکوﺅں کی فائرنگ سے مارے گئے۔‘

بینر

BBC

افغان طالبان کے عروج، زوال اور اب دوبارہ عروج کی کہانی

صحافیوں کی دعوت، بغیر داڑھی اور ویزا اینٹری: طالبان کا افغانستان کیسا تھا؟

افغانستان کے جغرافیے میں چھپا وہ راز جو اسے ‘سلطنتوں کا قبرستان’ بناتا ہے

دو دہائیوں تک امریکہ کا مقابلہ کرنے والے طالبان کے ذرائع آمدن کیا ہیں؟


والد کی طرح صدیق اللہ کی بھی طالبان کے خوف سے نقل مکانی

صدیق اللہ نے بتایا کہ والد کے مارے جانے کے بعد یہاں کوئٹہ میں خود ان کے لیے اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کے لیے حالات سازگار نہ رہے۔

انھوں نے کہا کہ چونکہ طالبان کی حکومت ختم ہو گئی تھی اور وہاں کرزئی کی حکومت قائم ہوئی تھی اس لیے وہ اپنے خاندان کے متعدد دیگر افراد کے ساتھ سنہ 2007 میں واپس افغانستان میں اپنے آبائی علاقے شبرغان ہی چلے گئے۔

صدیق اللہ نے محنت مزدوری کر کے اپنے پرانے گھر کو شبرغان میں تعمیر کیا اور وہاں اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ ایک نئی زندگی کا آغاز کیا۔

صدیق اللہ کا کہنا تھا کہ چھ ماہ قبل پھر سے شبرغان پر طالبان کے خوف بادل منڈلانے لگے کیونکہ طالبان شبرغان کے گردونواح میں پھر سے مضبوط ہونے لگے تھے۔

کوئٹہ

BBC

انھوں نے بتایا کہ وہ وہاں سے قندھار آئے اور وہاں محنت مزدوری کا سلسلہ شروع کیا۔

’میں جب چھ ماہ قبل قندھار آیا تو وہاں نہ صرف محنت مزدوری کے مواقع زیادہ تھے بلکہ طالبان ک اثرورسوخ بھی اتنا زیادہ نہیں تھا جتنا شبرغان کے نواحی علاقوں میں تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ جب قندھار میں محنت مزدوری کے لیے ماحول سازگار پایا تو پاکستان آنے کی بجائے تین ماہ تک ادھر محنت مزدوری کرتے رہے اورگھر والوں کے لیے خرچہ بھیجتے رہے۔

انھوں نے بتایا کہ جب پورے افغانستان میں طالبان کے دوبارہ آنے کی خبریں آئیں تو پھر وہ تین ماہ قبل وہاں سے پاکستان کے لیے نکل پڑے۔ صدیق اللہ اسپن بولدک پہنچے اور پھر وہاں سے پاکستان میں داخل ہوئے۔

’اس وقت چونکہ بہت زیادہ سختی نہیں تھی اس لیے وہ بارڈر کراس کرنے کے بعد آسانی سے کوئٹہ آئے۔‘

صدیق اللہ موجودہ طالبان کو کیوں زیادہ ظالم سمجھتے ہیں؟

صدیق اللہ نے اس بات سے بالکل اتفاق نہیں کیا کہ ماضی کے مقابلے میں موجودہ طالبان تبدیل ہو گئے ہیں بلکہ ان کا کہنا تھا اب ان کو جو خبریں مل رہی ہیں، ان کو دیکھتے ہوئے وہ سمجھتے ہیں کی موجودہ طالبان پہلے کے طالبان کے مقابلے میں زیادہ ظالم ہیں۔

صدیق اللہ نے بتایا چونکہ ان کے بچے، بھائی اور دیگر رشتہ دار شبرغان میں تھے اس لیے جب موقع ملتا تو ان پر فون سے رابطہ کرتے یا ازبک قبیلے کے جو جاننے والے افراد وہاں سے آتے تو ان سے بھی حال احوال ہو جاتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جن علاقوں میں طالبان کا کنٹرول تھا وہاں سے گھروں سے سامان چھیننے اور لوگوں کو بے عزت کرنے کی خبریں سننے کو ملتی تھیں۔

’جو کچھ میں نے پہلے کے طالبان کے بارے اپنے بزرگوں سے سنا، اب تو ان کے مقابلے میں لوگوں کے گھروں سے زور زبردستی اشیا لے جانے اور لوگوں کو بے عزت کرنے کی زیادہ خبریں آرہی ہیں۔‘

طالبان، افغانستان

Getty Images

ان کے مطابق لوگوں نے بتایا کہ طالبان نے ایک مرتبہ پھر سکولوں کو بند کر دیا ہے۔

’مجھے یہ خبر بھی سننے کو ملی کہ طالبان کے آنے کے بعد نہ صرف سکول بند ہوئے بلکہ انھوں نے دو تین سکول نذر آتش بھی کیے۔‘

انھوں نے کہا کہ دیگر بری خبروں کے ساتھ ساتھ انھوں نے یہ خبر بھی سنی کہ ایک مرتبہ پھر لوگوں کو جان سے مارنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

بچوں کی یاد میں آنسو

صدیق اللہ کا کہنا تھا کہ قندھار سے وہ جب کوئٹہ آئے تو ان کے پاس کرائے کے سوا کوئی پیسے نہیں تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب طالبان کے آنے کے بعد چونکہ ان کا واپس افغانستان جانے کا کوئی ارادہ نہیں اس لیے انھیں کوئٹہ میں ایک شخص نے اپنے خالی پلاٹ پر ایک عارضی گھر بنانے کی اجازت دی ہے۔

کوئٹہ

BBC

’میرے پاس چونکہ کوئی رقم نہیں تھی اس لیے میری حالت پر ترس کھاتے ہوئے خالی پلاٹ پر دو کمروں پر مشتمل گھر تعمیر کرنے کے لیے مجھے پیسے بھی دیے۔‘

انھوں نے کہا کہ چونکہ کسی مزدور کو یہاں کام پر لانے کی سکت نہیں تھی اس لیے وہ خود اس گھر کو بنا رہے ہیں اور یہاں موجود ان کے دیگر رشتہ دار مدد کر رہے ہیں۔

صدیق اللہ کا کہنا تھا کہ وہ چھ ماہ سے اپنے بچوں سے دور ہیں۔

’جب تنہائی میں بچے یاد آتے ہیں تو آپ یقین کریں میں بہت روتا ہوں۔ میرے بچے بھی وہاں سے واپس پاکستان کے لیے روانہ ہوئے ہیں۔ بس دعا ہے کہ وہ خیریت سے میرے پاس پہنچ جائیں تاکہ ہم ایک مرتبہ پھر کوئٹہ میں مل کر زندگی کا آغاز کر سکیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words