گلف سکائی: آئل ٹینکر کی متحدہ عرب امارات سے مبینہ ہائی جیکنگ کے بعد ایران پہنچنے کی پراسرار کہانی

جوشوہا چیتھم - بی بی سی نیوز

‎گذشتہ برس جولائی میں گلف سکائی نامی آئل ٹینکر عملے سمیت متحدہ عرب امارات کے ساحلوں سے غائب ہو گیا۔

کچھ دن بعد یہ ایران پہنچ گیا اور یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران پر عالمی پابندیوں کے باوجود ایرانی حکومت اس ٹینکر کو تیل کی سپلائی کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

اس ٹینکر کے اغوا کے بعد پہلی بار اس کے عملے نے اس متعلق بی بی سی سے بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں مسلح افراد کے ایک گروپ نے یرغمال بنا لیا تھا۔ کیپٹن کے علاوہ آٹھ افراد پر مشتمل اس عملے نے اپنے تحفظ اور غمِ روزگار کی وجہ سے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔

جیسے ہی متحدہ عرب امارات کے ساحل پر اندھیرا چھانے لگا تو کیپٹن جوگیندر سنگھ جیسے منزل کے انتظار میں کھڑے تھے۔ ان کا گلف سکائی نامی بحری جہاز مالکان کے درمیان قانونی جنگ کی وجہ سے پھنس کر رہ گیا تھا۔

جب جہاز کی کمان کیپٹن جوگیندر سنگھ کے حوالے کی گئی تو انھیں یہ یقین دہانی کروائی گئی کہ جہاز جلد اپنی منزل کی جانب گامزن ہو گا۔

مگر کئی ہفتے اور مہینے گزرنے کے باوجود ایسا نہ ہو سکا۔

انڈیا سے تعلق رکھنے والے اس جہاز کے پورے عملے کا یہ کہنا تھا کہ انھیں کھانا، پانی اور انٹرنیٹ تک محدود رسائی حاصل تھی۔ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے انھیں باہر گھومنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ یہ معاملات اپریل سے اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئے جب ان کی تنخواہ بھی روک دی گئی۔

پانچ جولائی کی شام کو کیپٹن جوگیندر سنگھ ایک نئے سفر کی امید لگائے ہوئے تھے۔ جہاز کے مالکان نے مبینہ طور پر سروے ماہرین کے ایک گروپ کی خدمات حاصل کیں جنھوں نے اس ٹینکر کے نئے استعمال کے بارے میں رائے دینی تھی۔

جب ایک چھوٹی کشتی اندھیرے سے نمودار ہوئی تو تھکاوٹ سے چور افسر نے جہاز کی سیٹوں کے درمیان گزرنے والے رستے کو کم کرنے کے احکامات جاری کیے اور ان سے ملنے چلا گیا۔

کیپٹن کے مطابق پہلے تو سب ایک معمول کی کارروائی لگ رہی تھی۔ نیلے کپڑوں میں ملبوس سات آدمیوں پر مشتمل ایک گروپ جو ہاتھوں میں کلپ بورڈ تھامے ہوئے تھے، عملے کے ساتھ جہاز کا معائنہ کرنے گئے۔

ایک گھنٹے کے بعد ان کا سروے مکمل ہوا اور اس گروپ کے سربراہ جو فربہ تھے اور عمر میں ساٹھ برس سے زائد کے لگ رہے تھے نے اس جہاز کے تمام 28 افراد کو میس (کھانے کے کمرے) میں جمع ہونے کا کہا۔

عملے اور کیپٹن نے بتایا کہ اس کے بعد پھر چیف سرویئر نے کہا کہ یہ جہاز ایک آئل سٹوریج کنٹینر میں تبدیل ہونے جا رہا ہے اور آپ میں سے کون اس پر چند ماہ کے لیے رہنا چاہتا ہے۔ یقیناً اس کے اضافی پیسے بھی ملیں گے۔ مگر جب صرف دو ملاحوں نے ایسا کرنے کی حامی بھری تو اُن کا لہجہ تلخ ہو گیا۔

اس وقت تک آدھی رات ہو چکی تھی اور کیپٹن سنگھ نے سب کو کہا کہ وہ جا کر سو جائیں۔ مگر جب وہ دروازے کے قریب پہنچے تو ان کے مطابق تین آدمی کمرے کے اندر گھس آئے۔

ان مسلح افراد نے سب پر چلا کر کہا کہ فرش پر بیٹھ جاؤ۔ چیف سرویئر نے کہا کہ ہم آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتے مگر جب ہم ایسا کرنے پر آئے تو پھر ضرور ایسا بھی کر گزریں گے۔ اس کے بعد اُنھوں نے کہا کہ امریکہ نے اس جہاز کو چوری کر لیا ہے اور ہم اسے واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

’آپ مکمل طور پر ہمارے رحم و کرم پر ہیں‘

پہلے تو ہم نے یہ سوچا کہ وہ قزاق ہیں مگر وہ بہت پیشہ ور تھے۔ عملے کے رکن کا کہنا تھا کہ وہ جانتے تھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔

عملے کے مطابق جیسے ہی انھوں نے اپنے چہرے نیچے کیے تو ان کے اغواکاروں نے ان کے ہاتھ باندھ لیے اور عملے کی جیب سے سب کچھ نکال لیا۔ عملے کے کچھ ارکان نے چیخنا شروع کر دیا اور اپنی زندگی کی بھیک مانگنا شروع ہو گئے مگر ان کے مطابق ان کے گارڈز نے انھیں گھونسے مارے اور انھیں چپ رہنے کا کہا۔

ایک گھنٹے بعد ان کے نیچے سے فرش ایسے جھومنا شروع ہو گیا جیسے جہاز کا انجن چل گیا ہو اور اس کا لنگر اوپر کھینچا جا رہا ہو۔

عملے کے مطابق جب گلف سکائی نے خور فکان میں آگے بڑھنا شروع کیا تو پھر یہ مزید 12 گھنٹے تک کہیں نہیں رکا۔ جب یہ جہاز رکا تو عملے کے ہاتھ کھول دیے گئے اور انھیں ایک دوسرے کمرے میں منتقل کر دیا گیا۔ یہ افسران کی میس تھی، جس کی کھڑکی کارڈ بورڈ سے ڈھکی ہوئی تھی۔

عملے کے مطابق اس کے بعد کئی دنوں تک انھیں کڑی نگرانی میں رکھا گیا۔ ان کے مطابق ان کے اغوا کار ایک دوسرے کے ساتھ عربی میں بات کرتے تھے۔ جب انھیں میس سے باہر نکل کر قریب ٹوائلٹ استعمال کرنے یا کچن میں جا کر کھانا پکانے کی اجازت دی جاتی تو عملے کے اکثر اراکین جہاز کے اردگرد نئے چہرے دیکھتے تھے۔

ایک شخص نے کہا کہ اس نے ایک شخص سے بات کی جس سے ان کی کچن میں ملاقات ہوئی تھی۔ اس نے بتایا تھا کہ اس کا تعلق آذربائیجان سے ہے۔ جہاز کے قریب دیگر افراد ایک دوسرے کے ساتھ فارسی میں بات کر رہے تھے۔ ان کے خیال میں انھوں نے اپنے ملک میں جہاز کا نظام چلانے کے لیے نئے عملے کی خدمات حاصل کر لی تھیں۔

قید کے دوران کچن میں ان کی ملاقات ایک اور بھاری بھرکم بندے سے ہوئی جس کی عمر 60 برس سے زائد لگ رہی تھی مگر وہ کچھ بول نہیں رہا تھا۔ مغوی عملے کے ایک رکن کے مطابق ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ اُمور کی انجام دہی میں مدد فراہم کر رہا ہو۔ اس کے پاس بندوق تھی مگر وہ کسی بھی قسم کی جارحیت کا مظاہرہ نہیں کر رہا تھا۔

دوسرے ارکان ایک اور اغوا کار کو یاد کرتے ہیں جو گنجا اور توانا تھا۔ یہ شخص بھی 60 برس سے زائد عمر کا تھا۔ اس نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا مگر یہ ضرور بتایا کہ وہ جہاز کے مالک کے لیے کام کرتا تھا۔

اس نے مغوی عملے کو بتایا کہ ہم آپ لوگوں کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم صرف جہاز کو اپنے قبضے میں لینا چاہتے ہیں۔ ہم نے اس جہاز کی رقم ادا کر دی تھی مگر رقم روک دی گئی تھی۔ اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ کوئی ملک بھی آپ لوگوں کو لینا نہیں چاہتا حتیٰ کہ آپ کا اپنا ملک بھی انکاری ہے۔ اب آپ لوگ مکمل طور پر ہمارے رحم و کرم پر ہیں۔

دن گزرنے کے ساتھ ساتھ عملے میں خوف بھی بڑھ رہا تھا۔

عملے کے ایک رکن نے کہا کہ کبھی کبھی ہمیں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شاید وہ ہمیں مار دیں گے۔ ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ شاید ہم اپنے گھر والوں کو دوبارہ نہ دیکھ سکیں۔

اگرچہ انھیں چپ رہنے کا کہا گیا تھا مگر وقت گزارنے کے لیے عملہ گارڈز کے ساتھ گپ شپ کرتا تھا۔

ایسی ہی ایک گفتگو ایک رکن کو ہو بہو یاد ہے۔ اس شخص نے عملے کے اس رکن سے کہا کہ ’میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ کا طرز عمل عملے کے دیگر اراکین کے ساتھ کیسا ہے، میں نے آپ کو ایک بہترین انسان پایا، تاہم اگر آپ نے کچھ غلط کیا تو پھر ایسے میں تو میں وہی کروں گا جس کا مجھے حکم ملا ہوا ہے۔ کیونکہ میں آپ کو پسند کرتا ہوں اس وجہ سے میں آپ کو یہ آپشن دے سکتا ہوں کہ آپ کیسے مرنا چاہیں گے: میں آپ کا گلا بھی کاٹ سکتا ہوں یا پھر آپ کے سر میں گولی مار سکتا ہوں۔

’یہ ایک بہت خطرناک صورتحال ہے‘

خوش قسمتی سے عملے کے اس رکن کو کبھی ایسے انتخاب کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

پھر 14 جولائی کو دن کے ابتدائی حصے میں گارڈز عملے کو جہاز کے چھت پر لے آئے۔ عملے کے کچھ اراکین نے فوری طور پر قریبی کنارے سے آنے والی مصنوعی روشنی کے میناروں کو پہچان لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی ایران کا ساحلی شہر بندر عباس تھا۔

اس گروپ کا کہنا ہے کہ انھیں ایک لکڑی کی کشتی میں اتارا گیا اور پھر آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی۔ مگر ان کی آنکھوں پر پردہ ڈالنے سے پہلے ان میں سے کچھ نے یہ دیکھ لیا تھا کہ گلف سکائی کا نام ٹینکر پر کالے حروف میں لکھا ہوا تھا۔

انھیں ساحل پر لے جایا گیا جہاں سے پھر ایئرپورٹ کی طرف سفر شروع کیا۔ جب ان کی آنکھوں سے پٹی اتاری گئی تو عملے کو معلوم ہوا کہ وہ ایک جہاز پر سوار تھے، ایک فوجی طیارے پر۔ ان کے مطابق یہ جیٹ انھیں تہران لے گیا۔

وہاں سے انھیں پھر ایک بس پر سوار کیا گیا اور پھر وہ امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک سڑک پر پہنچ گئے۔

عملے کے مطابق اس کے بعد تین لوگ بس میں سوار ہوئے۔ انھوں نے تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ وہ انڈیا کے سفارتخانے سے آئے ہیں اور اس کے بعد انھوں نے سب کے بارے میں پوچھا اور یہ بھی استفسار کیا کہ وہ ایران کیسے پہنچے ہیں۔

Map

BBC

عملے کے مطابق کیپٹن جوگیندر سنگھ نے انھیں جہاز کے اغوا کے بارے میں بتایا اور وہ یہ سن کر بہت افسردہ ہوئے۔ ان حکام نے بتایا کہ آپ سب کے لیے گھر واپسی کے ٹکٹس کا انتظام کر لیا گیا ہے اور عملے کو ان کے پاسپورٹس اور بورڈنگ پاسز بھی دے دیے گئے، سوائے دو افراد کے جن کے پاسپورٹ کی مدت ختم ہو گئی تھی۔

یہ دونوں انڈیا کے سفارتکاروں کے ساتھ چلے گئے جبکہ دیگر کو معمول کی کمرشل پرواز پر ملک واپس بھیجا گیا۔ عملے کے متعدد اراکین کا کہنا ہے کہ انھیں عام مسافروں کے درمیان بٹھا دیا گیا جو بظاہر اس سب سے واقف تھے جو ان کے ساتھ ہوا تھا۔

بازیابی کے بعد عملے کے یہ اراکین 15 جولائی کو انڈیا کے دارالحکومت نیو دہلی کے ایئرپورٹ پر اترے۔ ان کی ٹیم کے دیگر دو اراکین بعد میں 22 جولائی کو انڈیا پہنچے۔ گھر بھیجنے سے قبل انڈیا کے حکام نے انھیں ایک ہوٹل کے کمرے میں بھیج دیا اور کہا کہ وہ اپنی حفاظت کی غرض سے اس ہوٹل میں ہی قیام رکھیں۔

انھیں کہا گیا کہ وہ باہر نہ جائیں کیونکہ یہ ایک انتہائی خطرناک صورتحال ہے۔ ان میں سے ایک نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں کہا گیا تھا کہ اس جہاز پر جو لوگ تھے وہ انھیں یرغمال بنا سکتے ہیں۔

’ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ ایک ایرانی بحری جہاز ہے‘

اس واقعے کو ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ گلف سکائی کا عملہ ابھی بھی جواب کا متلاشی ہے کہ کیسے اور کیوں یہ بحری جہاز مبینہ طور پر قبضے میں لیا گیا تھا۔

وہ ابھی اپنی دو لاکھ ڈالرز بقایا تنخواہ کے لیے بھی قانونی چارہ جوئی کر رہے ہیں جو اس وقت سے نہیں ملی جب یہ بحری جہاز متحدہ عرب امارات میں روک دیا گیا تھا۔

اس کیس کو سب سے پہلے رپورٹ کرنے والے سمندروں میں انسانی حقوق نامی برطانوی فلاحی ادارے کے سربراہ ڈیوڈ ہیمنڈ کا کہنا ہے کہ ’سمندروں میں سفر کرنے والوں کو عام طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے، انھیں بھی بنیادی انسانی حقوق دیے جانے چاہییں اور مزدوروں کے حقوق کے تحت موجود بین الاقوامی قانون کے تحت تحفظ ملنا چاہیے لیکن بین الاقوامی قانون کا اطلاق ایک مستقل مسئلہ ضرور ہے۔‘

مبینہ قبضے کے وقت اس بحری جہاز پر ریاست کامن ویلتھ آف ڈومینیکا کا جھنڈا لگا ہوا تھا اور حکام اور عملے کو ملازمت پر رکھنے والی کمپنی سیون سیز نیویگیشن کا کہنا ہے کہ وہ عملے کی تنخواہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

گلف سکائی کے مستقبل کے بارے میں سوالات اب بھی موجود ہیں۔ تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ یہ بحری جہاز کہاں ہے یا اسے کس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ لیکن اس بارے میں جو محدود معلومات ہمارے پاس موجود ہیں اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اسے قبضے میں کیوں لیا گیا۔

ریکارڈ کے مطابق اس کا ٹرانسپونڈر (وہ آلہ جس کے ذریعے بحری جہاز کا موجودہ مقام معلوم کیا جاتا ہے) اس کے قبضے میں لیے جانے کے کئی ہفتوں تک بند رہا۔ اگست 2020 کے اواخر میں جب اسے دوبارہ آن کیا گیا تو یہ بحری جہاز جنوبی ایران سے متصل ساحلی پٹی سے گزر رہا تھا۔

قبضے میں لیے جانے کے بعد سے اس کا نام تبدیل کر کے ریما رکھ دیا گیا ہے اور اس پر موجود جھنڈا اب ڈومینیکا کے بجائے ایران کا ہے، یعنی اب یہ ایران کے کنٹرول میں ہے۔ اسے قبضے میں لیے جانے کے بعد تہران میں موجود ایک کان کنی کی کمپنی موشٹاگ نے خرید لیا ہے۔

اگست 2020 کے آخری دنوں میں اس بحری جہاز نے مغرب میں خلیجِ فارس کی جانب سفر شروع کیا اور اس کا ٹرانسپونڈر آخری مرتبہ 30 اگست کو بند ہوا جب وہ ایران کے ایک اہم ساحلی شہر بندر بشہر کے ساحل کے جنوب میں 60 کلومیٹر دور تھا۔

لائڈ لسٹ انٹیلیجنس کی مچیل بوکمین کا ماننا ہے کہ یہ بحری جہاز اب بھی اسی خطے میں کام کر رہا ہے اور اب یہ ایران کے ’مقبوضہ بحری جہازوں‘ کا حصہ ہے جو پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کو اس کا تیل دنیا بھر میں بھیجنے میں مدد دے رہے ہیں۔

بوکمین کہتی ہیں کہ ’کیونکہ اس کا ٹرانسپونڈر آن نہیں کیا گیا اس لیے ممکنہ طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اب ایک ’مدر شپ‘ بن چکی ہے یعنی یہ خام تیل ذخیرہ کرتی ہے جسے دیگر ٹینکرز کے ذریعے ٹرانسپورٹ کیا جاتا ہے۔

’اگر یہ کبھی ایران کے پانیوں سے باہر آتا ہے تو اس کی نشاندہی کر لی جائے گی، سب کو معلوم ہے کہ یہ ایرانی بحری جہاز ہے۔‘

قبضے سے قبل بھی امریکی حکام کو شک تھا کہ اس بحری جہاز کے ایران سے روابط ہیں۔

اس وقت اس کی مالک ٹی ایم ایس نامی کمپنی تھی جس نے اسے ایک یونانی کمپنی سے 2019 میں خریدا تھا۔ لیکن جیسے ہی اس بحری جہاز کی ڈلیوری ہوئی تھی، امریکہ نے اس فروخت کی ساری رقم ضبط کر لی تھی۔

امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے دو ایرانی باشندوں پر ایرانی حکام کی طرف سے ٹی ایم ایس کمپنی کو استعمال کرتے ہوئے اس بحری جہاز کو خریدنے پر امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ان افراد میں سے ایک امیر دیانت ہیں جو اس بحری جہاز پر مبینہ قبضے کے بعد اسے خریدنے والی کمپنی ایم ٹی ایس کے مینیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔

ٹی ایم ایس اور ایم ٹی ایس دونوں نے رابطہ کیے جانے پر کوئی جواب نہیں دیا۔

’میں خود کو کہیں بھی محفوظ محسوس نہیں کرتا‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے گلف سکائی کے عملے کے سابق اراکین نے بتایا ہے کہ انھیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کی سیاست کے درمیان پس چکے ہیں۔ ان میں سے اکثر کے مستقبل پر سوالیہ نشان اب بھی موجود ہے۔

یہ بحری جہاز اتنی آسانی سے متحدہ عرب امارات سے کیسے نکلا جبکہ حکام کی جانب سے اسے ضبط کیا گیا تھا؟ ایران نے بحری جہاز کو محفوظ پناہ کیوں دی؟ اگر بحری جہاز کے اس وقت کے مالکان نے سروے کرنے والوں کی جہاز میں آمد کا انتظام کیا تھا تو کیا وہ بھی اس مبینہ قبضے میں شامل تھے؟

سیون سیز نیویگیشن نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے حکام کو اس بحری جہاز کی گمشدگی کے بارے میں رپورٹ کرنے میں اتنا وقت کیوں لگا؟ اس کمپنی کے ڈائریکٹر شیخ شکیل احمد کا کہنا ہے کہ ان کا عملے سے رابطہ مبینہ قبضے کی رات کو منقطع ہوا، اور انھوں نے بندرگاہ کے حکام سے رابطہ کر کے اس بارے میں پوچھا۔

یہ بات چیت بی بی سی کی نظر سے بھی گزری ہے اور اس میں بندرگاہ کے حکام کی جانب سے انھیں بتایا گیا کہ گلف سکائی اب بھی لنگر انداز ہے۔ حالانکہ اس کے مبینہ قبضے کے واقعے کو کئی روز گزر چکے تھے۔ اس بات چیت کے بعد بھی متحدہ عرب امارات کے حکام کو اس بحری جہاز کی گمشدگی کی اطلاع دینے میں مزید تین روز لگے۔

متحدہ عرب امارات کے محکمہ میری ٹائم ٹرانسپورٹ افیئرز کے ڈائریکٹر عبداللہ الحیاس اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ ان کے ملک کا مبینہ قبضے میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔ تاہم وہ یہ ضرور مانتے ہیں کہ جب یہ بحری جہاز بندرگاہ کے حکام کے ریڈار سے غائب ہوا تو انھوں نے اسے ڈھونڈنے کے لیے مستعدی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیے

قزاقی اور دنیا کے خطرناک ترین سمندر

عالمی وبا کے دوران قزاقی کے واقعات میں اضافہ

ستر دن قزاقوں کی قید میں رہنے والا بحری عملہ کیسے آزاد ہوا؟

اس سوال کے جواب میں کہ یہ بحری جہاز اتنی آسانی سے بندرگاہ سے کیسے نکلا کیپٹن الحیاس کا کہنا ہے کہ ضبط کیے جانے والے بحری جہازوں کی ہائی جیکنگ بہت کم ہوتی ہے۔ کسی بھی ایسے بحری جہاز کو کہیں اور ضبط کر لیا جاتا ہے اور عملے کے اراکین کو کہیں اور کام کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

جہاں بحری جہاز کا عملہ جوابات کا متلاشی ہے، وہیں اکثر افراد کو ان کی بتائی گئی کہانی پر اعتبار نہیں ہے۔ کچھ افراد کا ماننا ہے کہ عملے کے اراکین بھی اس ملوث ہو سکتے ہیں۔

کیپٹن عبداللہ الحیاس کہتے ہیں کہ ’ہمیں خوشی ہے کہ وہ خیریت سے گھر پہنچ چکے ہیں اور محفوظ ہیں لیکن اب بھی اس بارے میں متعدد سوالات موجود ہیں۔‘

اس وقت ایک اور خدشہ یہ بھی ہے کہ یہ بحری جہاز مبینہ قبضے کے بعد اتنی جلدی کیسے سفر کرنے لگا۔ عام طور پر ایک بحری جہاز کے انجنوں کو بہترین حالت میں لانے کے لیے اور اس کا لنگر ہٹانے کے لیے خاصا وقت درکار ہوتا ہے۔

شکیل کا کہنا ہے کہ بحری جہاز کے انجن کی حالت خاصی خستہ ہو چکی تھی اور اس کا کئی ماہ سے باضابطہ طور پر معائنہ نہیں کیا گیا تھا۔

ان کا ماننا ہے کہ جس نے بھی گلف سکائی پر قبضہ کیا اسے اس کے عملے کے اراکین سے مدد ضرور ملی ہو گی، تاکہ جہاز کے انجن کو جانچا جا سکے اور یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ بحری جہاز ایران تک جا پائے گا یا نہیں۔

بحری جہاز کے عملے کے جن اراکین نے بی بی سی سے بات کی ہے انھوں نے ایران کی مدد کرنے کے الزام کی تردید کی ہے۔

ایک ملاح نے کہا کہ ’یہ شرمناک ہے۔ اگر کسی کا دماغ اپنی صحیح جگہ پر ہو گا تو وہ ہمیں موردِ الزام نہیں ٹھہرائے گا۔ اگر ہم اس میں ملوث ہوتے اور ہمیں ایرانیوں کی جانب سے رشوت دی گئی ہوتی تو آج ہم اپنی تنخواہوں کے لیے کیوں لڑ رہے ہوتے؟‘

گلف سکائی کے موجودہ مقام سے لاعلمی اور اس کے مالکان کی خاموشی کے باعث اس کے سابقہ عملے کو انصاف ملنا خاصا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

اس وقت عملے کے جتنے بھی اراکین سے بی بی سی نے بات کی وہ واپس سمندر میں جا چکے ہیں اور دنیا بھر کے مختلف بحری جہازوں کے عملے کا حصہ ہیں۔ لیکن یہ فیصلہ ان کے لیے آسان بالکل بھی نہیں تھا۔

کپیٹن سنگھ کہتے ہیں کہ ’میں پریشان ہوں، میں کہیں بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتا لیکن میں اپنے بچوں کا پیٹ کیسے پال سکتا ہوں، یہ وہ اکلوتا کام ہے جس میں مجھے مہارت حاصل ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words