مطالعہ پاکستان سے معذرت کے ساتھ ( 3 )

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ستمبر کا مہینہ ہے اس لئے ہم آج مطالعہ پاکستان کی کتاب میں درج 1965 ء کی جنگ کے احوال پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔ اس تحریر کے لئے میں نے اسلام آباد کے سرکاری اسکولوں میں نویں جماعت کو پڑھائی جانے والی مطالعہ پاکستان کی کتاب سے 1965ء کی جنگ کا احوال پڑھا۔

کتاب کے مطابق بھارت نے اپنے ”توسیع پسندانہ عزائم“ کی تکمیل کے لئے پاکستان کے خلاف کھلی جارحیت کا مظاہرہ کیا اور پاکستان پر حملہ کر دیا۔ پاکستان کے وسائل کم تھے لیکن پاکستان نے جذبہ جہاد سے سر شار ہو کر اپنے سے کیٔ گنا بھاری دشمن کو ”ذلت آمیز شکست“ سے دوچار کیا۔

اس جنگ کے دوران پاکستان کی فضائیہ کے انچارج ائر مارشل (ریٹائرڈ) نور خان تھے۔ ہم اپنی بات نہیں کرتے، دیکھتے ہیں کہ اس وقت کے فضائیہ کے انچارج اس جنگ سے متعلق کیا فرماتے ہیں۔ ایک انٹرویو میں نور خان صاحب نے کہا کے 1965ء کی جنگ کے بعد فوج نے دو جھوٹ گھڑے۔ ایک جھوٹ یہ کہ جارحیت بھارت کی طرف سے ہوئی۔ اور دوسرا جھوٹ یہ کہ اس جنگ میں پاکستان کو عظیم کامیابی نصیب ہوئی۔

ائر مارشل (ریٹائرڈ) نور خان صاحب کے بقول المیہ یہ ہے کہ بعد میں فوج نے اپنے گھڑے ہوئے اس افسانے کو خود بھی سچ مان لیا۔ کیونکہ پھر کبھی اس غلطی کی درستگی کسی نے نہیں کی، اس لئے پاکستانی فوج نے غیر ضروری جنگیں چھیڑنا شروع کر دیں۔

جب مطالعہ پاکستان میں بچوں کو یہ پڑھایا جاتا ہے کہ بھارت نے بلا اشتعال حملہ کیا، تو اس میں حقیقت نہیں۔ یہاں پر جان بوجھ کر آپریشن جبرالٹر کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ اگست 1965 ء میں ہزاروں پاکستانی فوجیوں کو سادہ کپڑوں میں مقبوضہ کشمیر بھیجا گیا۔ ان فوجیوں کا مشن تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے مقامی کشمیریوں کو اپنے ساتھ ملا کر بھارتی فوجیوں کو پورے کشمیر سے باہر دھکیل دیا جائے۔ اس منصوبے کا نام آپریشن جبرالٹر تھا۔

لیکن ہوا یہ کہ کشمیریوں نے پاکستانیوں کی موجودگی کا بھارتی فوجیوں کو بتا دیا۔ اور پھر ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی فوجی اپنے جرنیلوں کے ناقص منصوبے کی نذر ہو گے۔ بہت کم پاکستانی فوجی اپنی جان بچا کر واپس لوٹے۔

پاکستان کا آپریشن جبرالٹر تو ناکام ہو گیا لیکن بھارت سے اس حرکت پر پاکستان کو سبق سکھانے کے لئے ایک بڑی جنگ شروع کر دی۔ یہ تھی بھارت کی جارحیت کی وجہ۔

پاکستان اور بھارت، دونوں کے نقصانات کا جائزہ لے کر ہی جیت اور ہار کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ بلاشبہ پاکستانی افواج نے اپنے سے کیٔ گنا بڑی فوج کا مقابلہ جواں مردی سے کیا۔ لیکن غیر جانبدار تجزیے کے مطابق بھارت سے زیادہ پاکستان کے فوجی شہید ہوئے۔ ٹینک بھی پاکستان کے زیادہ تباہ ہوئے اور پاکستان کے 1840 مربع کلو میٹر کے علاقے پر بھارت کی فوج نے پیش قدمی کر کے قبضہ کر لیا۔ اس کے مقابلے میں پاکستان افواج بھارت کے 540 مربع کلو میٹر علاقے پر ہی قبضہ کر سکی۔

کتاب میں جھوٹ لکھنے کے علاوہ بچوں کے دل میں ہندوؤں سے نفرت بھی ڈالی جا رہی ہے۔ مطالعہ پاکستان کے مطابق پاکستان کا قیام ”ہندوؤں“ کی مرضی کے خلاف وجود میں آیا، اور پاکستان کی ترقی ان کو کھٹکتی تھی، اس لئے پاکستان کو وہ پاکستان کو تباہ کرنا چاہتے تھے۔

بچوں کو یہ پڑھا کر پھر ہم سوچتے ہیں کہ پاکستان میں ہندو محفوظ کیوں نہیں ہیں! کتاب میں مزید لکھا ہوا ہے کہ بھارت پاکستان کو ”فتح“ کرنا چاہتا تھا۔ 1928ء کے پیرس معاہدہ کے بعد بندوق کے زور پر کسی ملک پر قبضہ کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ اب کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک پر فوج کشی کر کے قبضہ نہیں کر سکتا۔ اس سلسلہ میں اقوام متحدہ کے بین الاقوامی قوانین موجود ہیں۔

اگر فوج کشی کر کے قبضہ کرنا ممکن ہوتا تو 1971ء میں پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ تو پھر بھارت نے مشرقی پاکستان کو اپنا حصہ کیوں نہیں بنایا؟ اور اس کے علاوہ دنیا میں 23 ممالک ایسے ہیں جن کی کوئی فوج نہیں۔ پھر ان ممالک کو کوئی ”فتح“ کیوں نہیں کر لیتا!

پاکستان کو ترقی کرنے کے لئے جھوٹ اور نفرت کے اس نصاب سے جان چھڑانی ہو گی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments