انڈیا میں زیورات کے اشتہار میں خواجہ سرا ماڈل نے روایت توڑ کر دل جیت لیے

گیتا پانڈے - بی بی سی نیوز، دہلی

انڈیا میں روایتی زیورات کے ایک اشتہار میں خواجہ سرا ماڈل کو بطور ایک اداکارہ کام کرنے پر خوب داد مل رہی ہے۔

ایک منٹ 40 سیکنڈ کی اس ویڈیو میں ٹرانس جینڈر خاتون کے کردار کی زندگی پر ایک نظر ڈالی گئی ہے۔ نوجوانی میں ان کے چہرے پر بال دکھائے گئے اور خود اعتمادی کی کمی دکھائی گئی۔ اور پھر وہ ایک بااعتماد دلہن کے طور پر نظر آتی ہیں۔

22 سالہ میرا سنگھانیا ریحانی نے کیرالا کی ایک جیولری کمپنی بھیما کے اشتہار میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے ان کے گھر والے انھیں محبت سے قبول کر لیتے ہیں۔ ان کی زندگی میں ہر کامیابی کا جشن زیورات کے تحفے سے منایا جاتا ہے۔

پیور ایز لو (محبت جیسا خالص) نامی یہ اشتہار یوٹیوب پر نو لاکھ بار دیکھا جا چکا ہے جبکہ اپریل میں اس کے ریلیز کے بعد سے انسٹاگرام پر 14 لاکھ ویوز آچکے ہیں۔ اسے بڑے پیمانے پر پسند کیا جا رہا ہے۔

میرا دلی یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں اور پارٹ ٹائم ماڈل ہیں جنھوں نے دو سال قبل اپنے خاندان سے ٹرانس جینڈر ہونے کا اعتراف کیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ جب انھیں اس اشتہار میں کام کرنے کے لیے کہا گیا تو پہلے وہ اتنی پُراعتماد نہیں تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں نہیں چاہتی تھی کہ میری ٹرانس شناخت کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ میں پریشان تھی کیونکہ فلم میں زندگی کے مختلف لمحات دکھائے جاتے ہیں۔ اور ٹرانس بننے سے پہلے میں ایک آدمی ہوں جس کی داڑھی ہے۔‘

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’لیکن جب میں نے سٹوری پڑھی اور ڈائریکٹر کے بارے میں تحقیق کی تو میں نے ہاں کہہ دیا۔ اور میں خوش ہوں کہ میں نے اس اشتہار میں کام کیا۔ یہ کرنے کے بعد میں اپنی شناخت کے ساتھ زیادہ مطمئن ہوں۔‘

انڈیا میں ٹرانس جینڈر افراد کی کل آبادی قریب 20 لاکھ ہے۔ اور سنہ 2014 میں سپریم کورٹ نے کسی دوسرے صنف کے برابر حقوق دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

لیکن ٹرانس جینڈر افراد کے ساتھ بد سلوکی اور معاشرے میں ان کی اپنائیت کی کمی اب بھی پائی جاتی ہے۔ کئی افراد کو خاندان والے گھر سے نکال دیتے ہیں یا اکثر شادیوں اور بچوں کی پیدائش پر ناچ گانے سے پیسے کماتے ہیں۔ یا وہ بھیک مانگنے اور سیکس ورکر بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

مگر کیرالہ انڈیا میں ٹرانس جینڈر برادری کے لیے سب سے اچھی ریاستیوں میں سے ہے۔ سنہ 2015 میں یہاں ٹرانس جینڈر پالیسی متعارف کرائی گئی تاکہ اس اقلیتی گروہ کے خلاف تعاصب ختم کیا جاسکے۔ مگر ٹرانس جینڈر افراد سے نفرت کیرالہ میں بھی اتنی ہی بڑی حقیقت ہے جتنی باقی انڈیا میں۔

نویا راؤ بھیما میں آن لائن مارکیٹنگ ہیڈ ہیں اور یہ اشتہار ان کا ہی آئیڈیا تھا۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مہم پر ساتھیوں نے ’خوف اور خدشات‘ ظاہر کیے تھے۔ وہ بتاتے ہیں ’ہمارے گذشتہ اشتہاروں میں خوشحال خواتین دلہنیں نظر آتی تھیں۔ ہمیں فکر تھی کہ لوگ اس پر کیا ردعمل دیں گے۔‘

’ریاست میں ہماری اکثر دکانیں دیہی علاقوں میں ہیں۔ ہمیں معلوم نہیں وہاں لوگوں میں ان مسائل پر کتنی آگاہی حاصل ہے۔‘

مگر 96 سال پرانی اس زیورات کی کمپنی نے، جس کی جنوبی انڈیا میں درجنوں دکانیں ہیں اور متحدہ امارات تک یہ برانڈ پھیلا ہوا ہے، نے فیصلہ کیا کہ وہ اس اشتہار پر کام کریں گے تاکہ ’سماجی پیغام‘ کے ذریعے لوگوں کو اس پر بات کرنے کا موقع دیا جائے۔

راؤ کا کہنا ہے کہ انھیں معلوم تھا مہم پر منفی ردعمل آسکتا ہے۔ گذشتہ سال تشنق نامی زیورات کے برانڈ کے اشتہار پر آنے والے ردعمل سے بھی وہ گھبرا رہے تھے۔ اسے سوشل میڈیا پر منفی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا جب اس میں ہندو مسلم شادی پر قدامت پسند حلقوں نے ناراضی ظاہر کی۔

یہ بھی پڑھیے

’داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔۔۔‘

اشتہار میں مسلمان گھرانے میں ہندو بہو دکھانے پر ایک بار پھر ’لو جہاد‘ پر بحث

’بائیکاٹ نیٹ فلکس‘: مندر میں بوسے کی فلمبندی پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ

میرا کا کہنا ہے کہ انھیں ’منفی تبصروں کی توقع تھی خاص کر جب اس میں ایک ہندو شادی دکھائی گئی جو کہ براہ راست ہندو پدرشاہی نظام کو چیلنج کرتا ہے۔‘

’پیور ایز لو پر نفرت انگیز ردعمل بھی آیا ہے‘

راؤ کے مطابق ’اشتہار پر کچھ تنقید بھی ہوئی ہے کہ ہم نے ایسی چیز کو دکھایا جو غیر قدرتی ہے اور کئی لوگ سماج میں اس کی موجودگی کو تسلیم نہیں کرتے۔ مگر ہمارے انباکس میں مثبت پیغامات کی بھرمار ہے۔ ایل جی بی ٹی کیو آئی برادری کے کئی لوگوں نے ہم سے رابطہ کیا اور بتایا کہ اس اشتہار سے انھیں دلی خوشی ہوئی ہے۔‘

ویڈیو کمپنی فائرورک میں رائٹر اور برانڈ سٹریٹجسٹ سودھا پلائی نے اس اشتہار کو ’انقلابی‘ قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے یہ اشتہار ایک ملیالم نیوز چینل پر دیکھا اور سوچا کہ بے شک وہ اس سے زیورات فروخت نہ کرسکیں لیکن اگر اس کا مقصد لوگوں کی توجہ حاصل کرنا تھا تو وہ اس میں کامیاب ہوئے ہیں۔‘

’میں نے ایسا کبھی نہیں دیکھا کہ ایک روایتی برانڈ اتنا بڑا قدم اٹھائے۔ ایک رویتی جیلر کا اتنا بڑا خطرہ مول لینا انقلابی تھا۔‘

انسٹاگرام پر کئی لوگوں نے اسے ’کمال‘ یا ’خوبصورت‘ کہا۔ کچھ نے تسلیم کیا کہ یہ دیکھ کر وہ روئے بھی۔

یوٹیورب پر ایک کمنٹ میں ایک صارف کا کہنا تھا کہ ’شکریہ آپ نے مجھے کچھ ایسا دکھایا کہ اب میں بھی سکرین پر آنے کی خواہش کرسکتی ہوں۔‘

’مجھے رونا آ گیا کہ آپ نے اس فلم میں ٹرانس جینڈر شخص کا استعمال کیا۔۔۔ پہلی بار مجھے احساس ہوا ہے کہ میری کہانی بھی اہم ہے۔۔۔ اور ہم بھی خوشی کے مستحق ہیں۔ یہ بہترین ہے۔‘

انڈیا میں فلموں اور پاپ کلچر میں اکثر ٹرانس جینڈر افراد کو مزاحیہ کرداروں میں دیکھا جاتا ہے۔ پلائی کا کہنا ہے کہ ایسی تشہیری مہم ’گیم چینجر‘ ثابت ہو سکتی ہیں۔

پلائی نے کہا کہ جب انھوں نے سوشل میڈیا پر اس اشتہار کی تعریف کی تو انھیں قدامت پسندوں انڈینز اور غم و غصے کا اظہار کرنے والے ٹرولز کا بھی سامنا کرنا پڑا جو متوقع تھا۔

’کچھ اختلاف رائے ضرور تھا لیکن ایسی لوگ بہت کم تھے جن سے مجھے ڈر لگا۔ 95 فیصد سے زیادہ ردعمل مثبت تھا اور یہ اپنے آپ میں دل جیت لینے والی بات ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words