کیا پاکستانی ڈرامہ اور سینما فنی اعتبار سے قلاش ہو رہا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اداکار کئی افراد کی محنت کا چہرہ ہوتا ہے۔ ہدایت کار، مصنف، ایڈیٹر، میک اپ آرٹیسٹ اور کیمرہ کے پیچھے موجود کئی اور افراد جب ان کا کام مکمل ہوتا ہے تو ہمیں اداکار کی صورت میں نظر آتا ہے۔ ہم جب ڈرامہ یا مووی دیکھتے ہیں تو ہماری ساری توجہ بھی اداکار کی سمت ہوتی ہے ہمیں کہانی اچھی لگے تو بھی تعریف اداکار کی ہوتی ہے۔ مناظر میں ربط اچھا ہو تو بھی تعریف اداکار کی ہوتی ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو مرد و خواتین اداکار کہیں دوسروں کے حصے کی تعریف بھی خود سمیٹ رہے ہوتے ہیں اور کہیں دوسروں کے حصے کی تنقید بھی برداشت کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک رویہ جو اکثر افراد میں نظر آتا ہے وہ یہ کہ جب وہ کوئی بہت متاثر کن کردار دیکھتے ہیں تو اس کردار کو ادا کرنے والے اداکار سے جذباتی تعلق محسوس کرنے لگتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ یہ صرف ایک کردار کا چہرہ تھا۔ اور اصل زندگی میں وہ کردار جس سے آپ جذباتی تعلق محسوس کر رہے ہیں وہ کہیں نہیں۔

روز کرداروں کی زندگیاں دیکھتے ہوئے ہم انہیں بھی اپنی زندگی میں شامل افراد جیسا محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اور جب ان کرداروں کے چہروں کے حامل اداکار کہیں نظر آئیں تو وہی اپنائیت محسوس ہوتی ہے جیسی کسی عزیز کو دیکھ کر ہوتی ہے لیکن ہم انہیں روز دیکھ رہے ہوتے ہیں وہ ہمیں روز نہیں دیکھتے اس لیے عملی طور پہ یہ اپنائیت دوسری سمت مفقود ہوتی ہے۔ وہ اکثر بہت خوش اخلاقی کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں لیکن انہیں اپنی ذاتی زندگی کے لیے بھی کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔ جو ان کا حق بھی ہے۔

ہم اگر پی ٹی وی کے زمانے کی بات کریں تو اس زمانے میں یہ تعلق اور گہرا تھا کیوں کہ اس وقت ایک ہی چینل تھا۔ جو ڈرامہ نشر ہوتا تھا وہ سب ہی دیکھتے تھے۔ جب تک صرف پی ٹی وی تھا تب بھی پاکستانی ڈرامہ پہ کئی دور آئے ایسا وقت بھی جب اچھے ڈرامے تخلیق ہوئے اور ایسے بھی جنہیں اب کوئی یاد نہیں کرتا وہ ایک مخصوص زمانے کے لیے بنائے گئے اور اس کے ساتھ ہی ماضی میں رہ گئے۔ لیکن پی ٹی وی کے اداکاروں سے ناظرین کا ایک الگ رشتہ بن گیا۔

اکثر اداکاروں کو ہم معیار کی ضمانت سمجھنے لگے کیوں کہ انہیں ہم نے کلاسک ڈراموں میں دیکھا تھا۔ پھر ڈش ٹی وی کا دور آیا کئی گھرانوں میں پاکستانی ڈراموں کے ساتھ ہندوستانی ڈرامے بھی چلنے لگے۔ اور کئی گھرانوں میں ناظرین صرف انڈین ڈراموں کے ہو کر رہ گئے۔ تیرہ اقساط کے ڈرامے دیکھنے وال ناظرین سالوں چلنے والے سوپ سیریلز کے دل دادہ ہو گئے۔ اور جوں ہی پاکستان میں کئی چینلز کی شروعات ہوئی پاکستانی ڈرامے کا بھی الگ دور شروع ہوا۔

اب اتنے سارے چینلز اور اتنے سارے ڈرامے ہیں اور ان میں اتنے ہی نئے پرانے اداکار۔ اب صورت حال یہ ہے کہ سب کو نہ دیکھنا ممکن ہے نہ یاد رکھنا لیکن کچھ ڈرامے اور کچھ اداکار اب بھی ناظرین پہ اپنی چھاپ چھوڑنے میں کامیاب رہے ہیں۔ کچھ ایسے نئے اداکار بھی ہیں جو بلاشبہ کلاسک ڈرامہ دور کے اداکاروں کے پائے کی اور کہیں کہیں ان سے بہتر اداکاری بھی کرتے ہیں لیکن جہاں ایک طرف ہم ڈراموں کے معیار پہ ایک طرح سے کمپرومائز کرچکے ہیں وہیں ساتھ ساتھ ہم نے یہ بھی مان لیا ہے کہ اب پاکستان میں ”وہ“ ٹیلنٹ نہیں رہا جب کہ یہاں بچارے اداکار غیر معیاری ڈراموں کی نظر ہوئے ہیں جس کے باعث ان کے فن کو درست معنوں میں سراہا نہیں جا رہا ۔

آپ جب ان اداکاروں کو کسی سنجیدہ موضوع پہ بنے ڈرامے، مووی یا ویب سیریز میں دیکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہم اب تک انہیں انڈر ایسٹیمیٹ کر رہے تھے۔ بد قسمتی سے جس قسم کے ڈرامے آج کل زیادہ پیش کیے جا رہے ہیں ان میں اداکاری کا مارجن بہت کم ہے ایسے میں اداکار مرد ہو یا خاتون ڈرامہ پیش کرنے والوں کی زیادہ توجہ انہیں خوبصورت تر اور خوبصورت ترین دکھانے پہ ہوتی ہے۔ ڈراموں میں آپ مین لیڈ کرداروں میں سے کسی کو بھی اپنی عام شخصیت سے ریلیٹ نہیں کر پاتے۔

کیوں کہ وہ بہت خوبصورت بہت گلیمرس نظر آرہے ہوتے ہیں ان کے ملبوسات سین کے ڈیمانڈ کے بالکل برخلاف ہمیشہ جدید تراش خراش والے اور مہنگے ہوتے ہیں۔ اسی لیے کئی اچھے اداکار اور اداکارائیں وہ مقبولیت حاصل نہیں کرپا رہیں جو ان کا حق ہے۔ یا تو سطحی فن رکھنے والے نمایاں ہیں یا جو اچھے فن کار ہیں بھی انہیں اس فن کے مظاہرے کے لیے رولز کی ورائٹی میسر نہیں۔ اس کی مثال عمران اشرف سامنے ہیں کہ جب انہیں ایک چیلنجنگ رول کرنے کا موقع ملا تو اس ایک کردار نے پورے ڈرامے کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔

اسی طرح آپ کو اور کئی اداکار نظر آئیں گے جن میں سے کچھ خاتون و مرد اداکاروں کے نمایاں کاموں کے حوالے سے مختصراً تبصرہ بھی یہاں شامل کر رہی ہوں۔ ایسا نہیں ہے کہ جن کا تذکرہ میں اس آرٹیکل میں کر رہی ہوں بس وہی عمدہ اداکار ہیں بس ابتداء کے طور پہ چند اداکاروں کا انتخاب کیا جن کی اداکاری اور کام کے انتخاب نے مجھے متاثر کیا۔ انہی میں چند کے نام یہ ہیں آئمہ زیدی، بلال عباس، آمنہ شیخ، صنم سعید، منشاء پاشا، احمد علی اکبر وغیرہ۔

ان سب کا جس کردار کے حوالے سے یہاں تذکرہ کیا گیا ہے وہ سب یقیناً قابل تعریف ہے۔ آپ جب خود یہ ڈرامے اور موویز دیکھیں گے تو جان پائیں گے کہ یہ دعویٰ کس حد تک درست ہے۔ جن موویز اور ڈراموں کا تذکرہ آگے آنے والا ہے ان میں اور بھی کئی عمدہ اداکار موجود ہیں لیکن ان کا تذکرہ خاص طور پہ اس حوالے سے کیا کیوں کہ یہ نئی نسل کے نمائندہ اداکار ہیں۔ اس کے باوجود یہ اپنے کردار میں اس کی اصل روح ڈالنے کی اتنی ہی صلاحیت رکھتے ہیں جتنا کوئی منجھا ہوا اداکار۔ اور یقیناً وقت گزرنے کے ساتھ ان کے اس فن میں مزید بہتری آتی جائے گی۔ تب تک ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارے چینلز ان چیلنجنگ موضوعات پہ ڈرامے بنانے کی ہمت کرسکیں جہاں ہم ان عمدہ اداکاروں کی جوہر مزید بہتر طور پہ دیکھ سکیں۔

میرے لیے پاکستانی ڈرامہ ہمیشہ معیار کا استعارہ رہا ہے۔ جب بھی کبھی عمدہ اداکاری، ادائیگی، حقیقت سے قریب تر منظر نگاری دیکھنے کو ملتی ہے تو یوں لگتا ہے کہ پی ٹی وی کا کوئی کلاسک ڈرامہ دیکھ رہی ہوں۔

مگر بد قسمتی یہ ہے کہ اب یہ تجربہ اکثر پاکستانی ڈراموں کو دیکھ کر نہیں ہوتا۔ اچھے سے اچھے موضوع پہ بنا ڈرامہ تشنگی چھوڑ جاتا ہے۔ کہیں مکالمے کی ادائیگی میں کسر ہوتی ہے تو کہیں کردار کی بنیاد میں۔ کہیں دو کرداروں کی آپس میں کیمسٹری کا نہ ہونا الجھاتا ہے تو کہیں واقعات کا حقیقت سے پرے ہونا جھنجھلاہٹ میں مبتلا کر دیتا ہے۔

اکثر ڈراموں کی کہانیاں ملتی جلتی ہیں ساتھ ہی کاسٹ بھی وہی ہوتی ہے کہ مجھ جیسا شخص یہی بھول جائے کہ کب کون سے ڈرامے کی قسط دیکھی۔ کرداروں میں گہرائی تقریباً ناپید ہے۔ ہر کردار سطحی انداز میں پیش کیا جاتا ہے یعنی جو اچھا ہے وہ غیر منطقی حد تک اچھا ہے جو برا ہے وہ غیر منطقی حد تک برا ہے۔

بیک گراؤنڈ میوزک پہ کسی بھی قسم کی محنت کرنا اب شاید فضول سمجھا جاتا ہے۔ آندھی چلنے کا سین ہو یا بارش کا، جھگڑا ہو رہا ہو، توڑ پھوڑ مچی ہو یا دھماکے ہو رہے ہوں کوئی ساؤنڈ افیکٹ دینے کی زحمت اکثر نہیں کی جاتی بلکہ ڈرامے کا آفیشل ساؤنڈ ٹریک چلا دیا جاتا ہے۔ جو کہ اکثر نیم رومانوی قسم کا گانا ہوتا ہے اور خوشی کا موقع ہو یا موت کا بیک گراؤنڈ میں وہی گانا بجتا رہتا ہے۔

سب سے افسوس کی بات جو مجھے دکھی کرتی ہے وہ یہ کہ جن اداکاروں کی ڈرامے ہم بہت شوق سے دیکھا کرتے تھے اور اس لیے کیوں کہ ہم سمجھتے تھے کہ ان کی ناصرف اداکاری معیاری ہوتی ہے بلکہ جس ڈرامے میں یہ ہوں اس کی کہانی بھی معیاری ہوگی اب وہ بھی ایسے ڈراموں کا حصہ نظر آتے ہیں جن میں یہ دونوں خصوصیات نہیں ہوتیں نہ کہانی معیاری ہوتی ہے نہ ان کی اداکاری۔

چلیے یہاں میں کچھ ڈراموں کی مثال دیتی ہوں ساتھ ہی اس پہ بھی بات کرتے ہیں کہ ان ڈراموں کے کون سے پہلو مجھے پسند آئے لیکن یہ میرے پسندیدہ ڈرامے کیوں نہ بن سکے۔

سب سے پہلے بات کرتے ہیں ہم ٹی وی کے ”ڈرامہ پیار کے صدقے“ کی، 2019 میں ہم ٹی وی سے نشر ہونے والا یہ ڈرامہ اس حوالے سے منفرد تھا کہ اس میں ہیرو ہیروئن دونوں کے بنیادی کردار ذہنی اور نفسیاتی مسائل کا شکار نظر آئے۔ ایسے موضوعات اب ہمیں ڈراموں میں بہت کم نظر آتے ہیں۔ یمنا زیدی اور بلال عباس کی اداکاری بھی عمدہ تھی۔ لیکن جس پہلو نے مجھے سب سے زیادہ بے چین کیا وہ تھا ہیرو ہیروئن کے نفسیاتی مسائل کو آگاہی کی بجائے ڈرامے کی ویور شپ بڑھانے کے لیے استعمال کرنا۔

ورنہ مکمل ڈرامہ وہی رومانوی کہانی تھا جیسی ہم اکثر دیکھتے اور پڑھتے ہیں۔ ہیروئن کی ہیرو سے اتفاقاً شادی، ہیرو کی کسی اور میں دلچسپی، اس دوسری کا اپنے مقصد کے لیے ہیرو کو استعمال کرنا، پھر بلاوجہ ہیرو کا ہیروئن سے محبت شروع کر دینا اور پھر دی اینڈ۔ اس ڈرامے کی مصنفہ کا کہنا ہے کہ یہ ان کی اپنی کہانی ہے اور ہیروئن آٹزم کا شکار دکھائی گئی ہے۔ جب کہ جو کردار دکھایا گیا وہ ذہنی طور پہ نابالغ لڑکی کا ہے۔ جسے نفسیاتی اصطلاح میں انٹیلکچوئل ڈس ابیلٹی یا مینٹل ریٹارڈیشن بھی کہا جاتا ہے۔ اس کیفیت کا شکار لڑکی کو رومان کرتے دکھانا ہی باشعور افراد کے دماغ میں کئی سوال پیدا کرتا ہے۔

اگلا ڈرامہ جس پہ میں بات کرنا چاہوں گی وہ نئے دور میں سب سے مقبول ہونے والے ڈراموں میں سے ایک رہا ہے اور وہ ہے ”رانجھا رانجھا کردی“ اس ڈرامے کی سب سے بڑی خوبی بھولا کا کردار تھا جو عمران اشرف نے نبھایا۔ یہ کردار یقیناً بہت مشکل تھا اور ساتھ ہی اس میں کوئی ”ہیرو“ والی بات نہیں تھی ایسے میں اس کردار کو کرنے کی حامی بھرنا اور پھر عمدگی سے نبھانا کڑا فیصلہ تھا جو عمران اشرف نے بخوبی نبھایا۔ اگر اس ڈرامے سے بھولے کی اداکاری کو نکال دیں تو ایک عام سے بھی کم معیار کی کہانی بچتی ہے۔

ایک کوڑا چننے والی لڑکی جو بغیر کسی منطقی وجہ کے اپنے گھر اور خاندانی پیشے سے نفرت کرتی ہے ( شاید اس لیے کیوں کہ کردار تخلیق کرنے والی کے خیال میں یہ پیشہ کم تر ہے ) وہ گھر سے نکل جاتی ہے اور ایک جگہ ”رزق حلال“ کمانے کی کوشش کرتی ہے۔ وہاں ہراسانی کا بھی شکار ہوتی ہے اور جسے پسند کرنے لگتی ہے اس کے لیے زیور چوری کرتے پکڑی جاتی ہے۔ جسے پسند کرتی ہے وہ چونکہ ہیرو نہیں ہے اس لیے بہت برا اور لالچی ہے۔

اس کے محلے کی خاتون جو کہ اسے بچپن میں قرآن پڑھاتی تھیں وہ اسے ایک جواری سے شادی سے بچانے کے لیے بھولا کے گھر لے آتی ہیں جہاں اس کی شادی بھولا سے کردی جاتی ہے۔ وہاں وہ بھولا کا خیال رکھتی ہے اس کے بچے کی ماں بن جاتی ہے اور سب ٹھیک ہو جاتا ہے۔ یہاں منطقی طور پہ کئی سوال جنم لیتے ہیں۔ پہلی بات ہم ڈراموں کہانیوں میں مرضی کے بغیر کی گئی شادیوں کو رومان کے طور پہ کب تک دکھاتے رہیں گے؟ دوسری بات ایک ذہنی طور پہ اس قدر نابالغ شخص کی اولاد ہوتے دکھانے میں کئی تاریک پہلو ہیں جن کو آپ نظر انداز نہیں کر سکتے۔

اب یہاں میرا سب سے بڑا اعتراض جو اوپر موجود دونوں ڈراموں کے لیے میرا رہا وہ یہ کہ دونوں جگہ ذہنی معذوری کو تفریح بنا کر پیش کیا گیا۔ جہاں جہاں ان کا رویہ دکھایا گیا وہ کسی لطیفے کی طرح پیش کیا گیا۔ کہ دیکھنے والے لطف اندوز ہو سکیں جبکہ ان مسائل سے گزرنے والوں کا حق ہے کہ ان کی تکالیف کو درست انداز میں پیش کیا جائے۔ بھولے اور مہ جبین کے سین کامیڈی کے کلپس کے طور پہ سوشل میڈیا پہ وائرل ہوئے جن کے باعث یہ ڈرامے مزید مشہور ہوئے۔ یقیناً ان ڈراموں کو پسند کرنے والے میری رائے سے متفق نہ ہوں مگر اس پہلو پہ سوچیے گا ضرور۔

2018 میں ریلیز ہونے والی پاکستانی مووی کیک کئی اعتبار سے منفرد ہے۔ اس کی پہلی خوبی یہ ہے کہ یہ آپ کو پی ٹی وی کلاسکس کے دور کی یاد دلائے گی۔ جس میں کردار نگاری مکالمہ نکاری، مکالموں کی ادائیگی، کرداروں کا آپس میں تعلق بہت حقیقی انداز سے پیش کیا گیا ہے۔ یہ ایک بظاہر عام سے زمیندار گھرانے کی کہانی ہے جہاں سب نارمل بھی لگ رہا ہے بلکہ شروع شروع میں کسی حد تک شاید آپ کو خوشگوار لگے لیکن آپ کو مکالموں کی ادائیگی، کرداروں کی نشست و برخاست منظر کو پیش کرنے کے انداز سے احساس ہوتا جاتا ہے کہ کہیں کچھ ٹھیک نہیں۔

شروع میں آپ کا تعارف تین بنیادی کرداروں سے ہی ہوتا ہے۔ اماں، ابا اور زرین جس میں سب سے بنیادی کردار زرین کا ہے جو کہ آمنہ شیخ نے نبھایا ہے۔ ابا کے ایک دم آئی سی یو میں ایڈمٹ ہونے پہ دوسری بہن کے کردار کا تعارف ہوتا ہے جس کا نام زارا ہے یہ کردار صنم سعید نے نبھایا ہے۔ ہر سین آپ کو سوچنے پہ مجبور کرتا ہے کہ شاید یہاں جس راز سے پردہ اٹھتا محسوس ہو رہا ہے شاید یہی بنیادی کہانی ہے لیکن بتدریج بہت سے پیچیدہ راز سامنے آتے جاتے ہیں جن کا تعلق آخر کار ماضی کے ایک اہم واقعے سے جڑتا ہے۔

کہانی ایک طرف بدلتی فیملی ڈائنامکس کے گرد بہت عمدگی سے احاطہ کرتی رہی ساتھ ہی ایک مضبوط معاشی پس منظر رکھنے والے گھرانے کا تاریک راز بھی عمدگی پیش کرتی ہے۔ جس راز کا سارا دار و مدار ان کے زمیندار ہونے پہ ہے۔ کہانی میں کوئی ہیرو ہیروئن نہیں سب کردار یکساں اہم نظر آتے ہیں۔ کوئی آئٹم نمبر نہیں جہاں کسی خاتون کے جسم کی نمائش کر کے ویور شپ بٹوری جائے۔ ہر کردار کو بہت حقیقی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ فلم کے سب سے بنیادی کردار زرین اور زارا دو خوش لباس، خوش شکل لڑکیاں ضرور ہیں لیکن کہانی کا تعلق ان کی خوبصورتی سے ہرگز نہیں نہ ہی وہ غیر حقیقی حد تک خوبصورت دکھائی گئی ہیں۔ کیک مووی عاصم عباسی کی تحریر اور ڈائریکشن ہے اور اسے دیکھ کر آپ عاصم عباسی کی جانب سے اور کئی اسی معیار کی موویز دیکھنا چاہیں گے۔ سنجیدہ موضوع پہ بنی یہ مووی کہیں بھی آپ کو بوریت کا احساس نہیں ہونے دیتی۔

لال کبوتر بھی آج کل بننے اور پسند کی جانے والی اکثر موویز سے ذرا ہٹ کے ہے۔ یہ میاں بیوی کی خوش گوار بات چیت سے شروع ہوتی ہے جو کہ گاڑی میں ایک سگنل پہ موجود ہیں اور اچانک ہی شوہر جو کہ ایک رپورٹر بھی ہے اسے قتل کر دیا جاتا ہے۔ یہاں سے تین کرداروں کی کہانیاں شروع ہوتی ہیں اس لڑکی کی جس کا شوہر مار دیا گیا اور وہ انصاف کی تلاش میں ہے، ایک کرپٹ پولیس افسر جو کرپٹ بھی ہے لیکن ساتھ ساتھ اپنی چھوٹی سی فیملی کے لیے ایک آئیڈیل شوہر اور باپ بھی ہے۔

اور تیسری طرف ایک عام سا ٹیکسی ڈرائیور ہے جو غربت سے تنگ آ کر کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔ یہاں شوہر کے قتل کے لیے انصاف ڈھونڈتی ”عالیہ ملک“ نامی خاتون کا کردار منشا پاشا نے ادا کیا ہے، ٹیکسی ڈرائیور عدیل کا کردار احمد علی اکبر نے ادا کیا ہے اور پولیس افسر کا کردار راشد فاروقی نے ادا کیا ہے۔ یہ مووی آپ کو کراچی کی گلیوں میں لے جاتی ہیں کراچی والوں کی زندگی قریب سے دکھاتی ہے۔ عام لوگوں کی زندگی اور اسی کے درمیان سانس لیتے جرائم کی جھلک دکھاتی ہے اور بتدریج کراچی کے لینڈ مافیا تک پہنچا دیتی ہے۔

اس سب کا عالیہ ملک کے شوہر کے قتل سے کیا تعلق ہے یہ آپ کو مووی دیکھ کر ہی پتا چلے گا۔ اس مووی کی سب سے اچھی خصوصیت اس کے کرداروں کا عام متوسط طبقے کے لوگوں سے قریب تر ہونا ہے۔ جہاں یہ عمدہ ہدایت کاری اور کہانی کا کمال ہیں وہیں یہ ماننا بھی ضروری ہے کہ اسے ہمارے سامنے عمدگی پیش کرنے والے اداکار بھی تعریف کے مستحق ہیں۔ اس میں نسبتاً کمزور پہلو اس کا اختتام ہے جو اگر عام کرائم مووی جیسا نہ ہوتا تو کہانی مزید متاثر کن ہوتی۔ اس مووی میں بھی کوئی آئٹم سانگ نہیں ہے میوزک موقعے کی مناسبت سے بیک گراؤنڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ جو مووی کو مزید حقیقت سے قریب تر بناتا ہے۔

مجموعی طور پہ دیکھا جائے تو ہمارے یہاں اب بھی ٹیلنٹ موجود ہے اور کئی افراد اسے سلیقے سے پیش بھی کر رہے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی اکثریت سطحی معیار کے ڈرامے اور موویز کی ہے حالاں کہ اچھے اور معیاری موضوعات پہ بنے ڈرامے اور موویز کو پذیرائی بھی ملتی ہے لیکن پروڈیوسر آسان کام کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ہمیں یہ نکتہ نہیں بھولنا چاہیے کہ فنکار بھی مزدور ہے وہ ہدایتکار ہو، موسیقار، قلم کار اداکار یا کریو کا کوئی بھی اور شخص وہ بالآخر جاکر پروڈیوسر یا پروڈکشن کمپنی کے سامنے مجبور ہوجاتا ہے۔ اور آپ کو کئی مشہور پراجیکٹس کے اداکاروں کی طرف سے یہ شکایات سننے کو ملتی رہتی ہیں کہ ڈرامے سے پروڈیوسر نے تو خوب کما لیا لیکن سالوں گزرنے کے بعد بھی ان کی محنت کی ادائیگی اب تک نہیں ہوئی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 101 posts and counting.See all posts by absar-fatima

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments