افغانستان پر طالبان کا قبضہ: تین ہفتے گزرنے کے باوجود حکومت کیوں نہیں بن سکی؟

خدائے نور ناصر - بی بی سی

کابل
Getty Images
افغانستان کے دارالحکومت کابل پر طالبان کے کنٹرول کو 22 سے زیادہ دن ہوئے ہیں لیکن تاحال اُن کی جانب سے نئے حکومت کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

اگرچہ پہلے یہ اطلاعات تھیں کہ امریکی فوجیوں کے مکمل انخلا کے بعد ہی نئی حکومت کا اعلان کیا جا سکتا ہے لیکن اس انخلا کو بھی ایک ہفتہ ہو چکا ہے۔

اس کے باوجود کہ طالبان کی جانب سے 31 آگست کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اُن کی تنظیم کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی سربراہی میں مرکزی شوریٰ کا تین روزہ اجلاس قندھار میں منعقد ہوا تھا اور اس اجلاس میں نئی حکومت کے بارے میں بڑے اور اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔

تاہم اس تین روزہ اجلاس کو بھی ایک ہفتے سے زیادہ کا عرصہ ہوا اور تاحال نئی حکومت کے اعلان کی تاریخ کے حوالے سے باضابطہ طور پر کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔

بی بی سی افغان سروس کے ریڈیو ایڈیٹر ڈاکٹر داؤد اعظمی کے مطابق نئی حکومت کے اعلان کی تاخیر کی وجوہات بہت ساری ہیں اور اس میں سب سے اہم وجوہات یہ ہیں کہ صدر اشرف غنی کی حکومت اتنی جلدی گری کہ خود طالبان کو بھی اس کی توقع نہیں تھی اور طالبان ذہنی طور پر اس کے لیے تیار نہیں تھے۔

’بین الاقوامی افواج کے مکمل انخلا، تحریک کے درمیان صلاح مشورے اور پنجشیر کی لڑائی دیگر وجوہات تھیں جس کی وجہ سے نئی حکومت کا اعلان تاخیر کا شکار ہوا۔‘

کابل

Reuters

پشاور میں مقیم صحافی مشتاق یوسفزئی بھی ڈاکٹر اعظمی سے اس بات پر متفق ہیں کہ طالبان کو اتنی جلدی توقع نہیں تھی کہ اُنھیں اتنی جلد سب کچھ ہاتھ میں آ جائے گا۔

مشتاق یوسفزئی کے مطابق خود طالبان کے اندر بھی یہ سوالات پوچھے جا رہے ہیں کہ حکومت کے اعلان میں تاخیر کیوں ہیں۔

تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ اس تاخیر کی وجہ طالبان کی جانب سے حکومت میں اُن افراد کو شامل کرنے کی کوشش ہیں جو مقامی اور بین الاقوامی سیاست کے ساتھ ساتھ صحیح نظام حکومت کر سکیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’پہلے دنوں میں بعض عہدوں پر اختلافات تھے، لیکن جب کوئی فیصلہ اُن کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ کرتے ہیں تو پھر اُن کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔ اس لیے اب یہ اختلافات ختم ہوئے ہیں۔‘

مشتاق یوسفزئی سمجھتے ہیں کہ اب طالبان نے حکومت کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور صرف دن کا انتظار ہیں۔

اُدھر کابل میں طالبان کے جانب سے دیگر سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں سے بات چیت کا سلسلہ بھی جاری ہے اور طالبان کی جانب سے اس کمیٹی کے سربراہ خلیل حقانی نے مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ نئی حکومت کی تاخیر کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ایک ایسی حکومت کا اعلان کیا جائے جو دنیا کو قابل قبول ہو۔

یہ بھی پڑھیے

پنجشیر کی مزاحمتی فورس کے فہیم دشتی کی ایبٹ آباد میں گزرے دنوں کی یادیں

’افغانستان کے اندر جو بھی ہو رہا ہے اس سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں‘

کابل کی دیواروں پر مٹتی تصاویر اور نوجوانوں کے ’ٹوٹتے خواب‘

دوسری جانب قندھار اور کابل میں طالبان کے بعض ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ طالبان کے اندر نئی حکومت کے بننے پر اہم منصب یا وزارتوں پر تقرریوں کے بارے میں اختلافات ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایک طرف قندھاری طالبان ہیں جسے عمری گروہ بھی کہا جاتا ہے اور دوسری طرف حقانی گروہ ہے۔

اگرچہ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پیر کو ہونے والے پریس کانفرنس میں اس بات کی تردید کی کہ طالبان کے درمیان ہونے والے اختلافات کی وجہ سے نئی حکومت کے اعلان میں تاخیر ہوئی ہے لیکن بعض ذرائع کے مطابق آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض کے حالیہ دورہ کابل کی بھی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ طالبان اندر کے اختلافات کو دور کر لیں۔

کارنیگی انڈاؤمنٹ تھنک ٹینک سے منسلک جنوبی ایشیائی اُمور کے تجزیہ کار عقیل شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس آئی سربراہ کے دورہ کابل کی ایک وجہ طالبان کے درمیان اختلافات کا خاتمہ تھا تاکہ وہ جلدی حکومت بنانے کا اعلان کریں۔

کابل

Reuters

لندن میں مقیم افغان صحافی اور تجزیہ کار سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کہ نئی حکومت بنانے میں طالبان کو اندرونی اور بیرونی دونوں عوامل کو دیکھتے ہوئے اعلان کرنا ہوگا اور شاید یہی وجہ ہے کہ حکومت بنانے کے اعلان میں تاخیر ہوئی۔

’اندرونی عوامل یہ ہیں کہ حکومت میں افغانستان کی تمام اقوام کی نمائندگی صحیح تناسب کے ساتھ ہو اور بیرونی یہ ہیں کہ ایسی حکومت جو بین الاقوامی برادری کو قابل قبول ہو۔‘

اُن کے مطابق طالبان یہ سمجھتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری کے نزدیک تمام اقوام کی نمائندہ حکومت پھر بھی ایک مقامی مسئلہ ہے لیکن طالبان حکومت کی پالیسیاں اہم ہیں۔

سمیع یوسفزئی کے مطابق حکومت میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ طالبان کے بعض رہنما اب بھی اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں ہیں اور طالبان یہ نہیں چاہیں گے کہ وہ جس رہنما کو وزیر داخلہ یا وزیر خارجہ منتخب کریں، وہ اس لسٹ کی وجہ سے بیرونِ ملک سفر ہی نہ کر سکیں۔

سمیع یوسفزئی مشتاق یوسفزئی کی اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ طالبان نے تمام عہدوں کے لیے نام فائنل کر لیے ہیں۔

سمیع یوسفزئی کہتے ہیں ’گذشتہ بارہ یا تیرہ دنوں سے مسلسل طالبان قیادت عہدوں کے لیے ناموں پر غور کر رہی ہے لیکن اب تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔‘

طالبان کی حکومت کیسی ہوگی؟

اگرچہ طالبان کی جانب سے تاحال اپنی نئی حکومت کی بناوٹ کے بارے میں زیادہ بات نہیں کی گئی ہے لیکن ڈاکٹر اعظمی سمجھتے ہیں کہ طالبان کی نئی حکومت میں کابینہ ہوگی، جو کابل میں ہوگی اور اُن کے سربراہ وزیرِ اعظم یا رئیس الوزرا ہوں گے۔

’حکومت اور نظام کے عمومی سربراہ خود طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ ہوں گے جو قندھار میں مقیم ہوں گے۔‘

کابل

EPA

اُن کے مطابق طالبان سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے تین نائب جن میں ملا عبدالغنی برادر، ملا محمد یعقوب اور سراج حقانی ہیں۔

’ملا عبدالغنی برادر، ملا محمد یعقوب اور سراج حقانی تینوں کو منصب دیے جائیں گے جن میں کہا جاتا ہے کہ ملا محمد یعقوب اور سراج حقانی کو شاید وزارتیں ملیں اور ملا عبدالغنی برادر وزیراعظم یا رئیس الاوزرا یا اُس کے نائب ہوں گے۔‘

دوسری جانب صحافی مشتاق یوسفزئی اپنے ذرائع کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ طالبان قیادت نے رئیس الوزرا یا وزیراعظم کے لیے مولوی محمد حسن اخوند کا نام منتخب کر لیا ہے تاہم اس حوالے سے طالبان نے اب تک کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words