علی شاہ گیلانی کے بعد: کیا مسرت عالم حریت کانفرنس کے 'گیلانیِ ثانی' ثابت ہونگے؟

ریاض مسرور - بی بی سی، سرینگر

حریت کانفرنس مسرت عالم
EPA
مسرت عالم، آل پارٹیز حریت کانفرنس (گیلانی دھڑے) کے نئے سربراہ۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے مقبول مزاحمتی رہنما سید علی گیلانی کی موت کے بعد محبوس رہنما مسرت عالم کو آل پارٹیز حُریت کانفرنس کے گیلانی دھڑے یا حُریت (گ) کا سربرا مقرر کیا گیا۔

50 برس کے مسرت عالم بٹ اپنے 30 برس کے عسکری اور سیاسی سفر کا دو تہائی حصہ جیلوں میں کاٹ چکے ہیں۔ وہ کمسِنی میں ہی ایک مسلح کمانڈر کے طور متعارف ہوچکے تھے۔

سنہ 1990 میں لائین آف کنٹرول (ایل او سی) عبور کر کے وہ پاکستانی زیرانتظام کشمیر میں مسلح تربیت کے بعد انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر لوٹے تو چند ماہ بعد ہی گرفتار ہوئے تاہم گیارہ ماہ کی قید کے بعد جب رہا ہوئے تو دوبارہ عسکری صفوں میں شامل ہوگئے۔ دو سال بعد پھر سے گرفتار کیے گئے اور پانچ سال تک قید میں رہے۔

غیر مسلح مزاحمتی سیاست

سنہ 1997 میں جب وہ دوبارہ رہا ہوئے تو اس بار انھوں نے طے کرلیا تھا کہ وہ غیرمسلح مزاحمتی سیاست کرینگے۔ انہوں نے ‘مُسلم لیگ’ کے نام سے اپنی جماعت قائم کی اور اس کے چیئرمین بن گئے۔

مسلم لیگ کے قیام کے صرف ایک سال بعد کشمیر میں ہندو ادارہ امرناتھ شرائن بورڑ کو 800 کنال سرکاری زمین غیرقانونی طور الاٹ کی گئی تو مسرت نے نوجوانوں کو متحرک کرکے ہندمخالف احتجاجی تحریک چلائی جو کئی ماہ تک جاری رہی اور غلام نبی آزاد کی حکومت کے خاتمہ پر منتج ہوئی۔

ان چند برسوں کے دوران مسرت عالم کشمیر میں ہندمخالف سیاسی مزاحمت کا چہرہ بن گئے۔ مسرت عالم کو آخری مرتبہ اپریل سنہ 2015 میں گرفتار کیا گیا اور تب سے وہ بدستور قید میں ہیں۔

الزامات

کبھی اُن پر یہ الزام عائد تھا کہ انھوں نے حریت کانفرنس کے اعتدال پسند لیڈروں اور حکومت ہند کے درمیان خفیہ مذاکرات کے دوران لوگوں کو مشتعل کیا اور حریت کو تقسیم کردیا اور کبھی یہ الزام عائد ہوا کہ انھوں نے الگ الگ نظریات کے علیحدگی پسند رہنماؤں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کر کے حریت کو متحد کیا۔

تاہم ہر بار ان پر الزام تھا کہ انھوں نے انڈیا کے قومی مفاد کے خلاف کام کیا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں کے دوران مسرت عالم کے خلاف 44 مقدمے درج ہوئے جن میں سے 36 سخت ترین پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت ہیں۔

ان میں سے اکثر مقدمات سے انھیں عدالت نے بری کیا، تاہم پی ایس اے کا قانون پولیس کو اختیار دیتا ہے کہ عدالتی طور بری ہونے کے بعد بھی اُسی ملزم کو دوبارہ حراست میں لے سکتی ہے۔

ابتدائی زندگی

مسرت عالم سرینگر میں لال چوک کے قریب زین دار محلے میں پیدا ہوئے۔ اُن کی بیوی اور معذور بہن آج بھی دو کمروں کے اُسی مکان میں رہتے ہیں جس میں خود مسرت نے پرورش پائی ہے۔

انھوں نے ابتدائی تعلیم عیسائی مشنری ادارہ ٹینڈیل بِسکو میں حاصل کی اور بعد میں سرکاری کالج سے گریجویشن کی ڈگری لی۔ گزشتہ ہفتے انتقال کرنے والے حریت رہنما سید علی گیلانی نوجوانوں میں بے حد مقبول تھے، لیکن علیحدگی پسند کارکنوں میں سے مسرت عالم گیلانی کے بہت زیادہ قریب تھے۔

غیر لچکدار سیاسی موقف

مسرت نے سنہ 2000 کے وسط میں اُس وقت کے پاکستانی حکمران پرویز مشرف کے کشمیر فارمولے کی شدید مخالفت کی اور مشرف کے چار نکاتی فارمولے کی حمایت کرنے والوں کو ‘منحرف’ بھی قرار دیا۔

وہ گیلانی کی طرح ہی مسئلہِ کشمیر پر کسی بھی طرح کی لچک کے خلاف ہیں۔ مبصرین کہتے ہیں کہ مسرت کو اُن کے سخت گیر موٴقف کی وجہ سے ہی گیلانی کا جانشین مقرر کیا گیا ہے۔

کیا خلاٴ پورا ہوگا؟

کشمیر کے سبھی سیاسی حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ سید علی گیلانی کی موت نے کشمیر کی مزاحمتی سیاست میں ایک بڑا خلا پیدا کیا ہے۔ تاہم عوامی حلقے اور مبصرین اس بات پر الگ الگ نکتہ نگاہ رکھتے ہیں کہ آیا مسرت عالم بٹ واقعی ‘گیلانی ثانی’ ثابت ہوں گے۔

مبصرین کے ایک طبقے کا کہنا ہے کہ انڈین حکومت نے ایک طویل عمل کے ذریعہ کشمیر کے سیاسی منظرنامے سے پاکستان نواز حریت کانفرنس کو ہٹا دیا ہے۔ نئی دلی ایک یونیورسٹی میں تحقیق کر رہے ایک کشمیری سکالر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا:

‘سنہ 2014 میں جب نریندر مودی نے بھارت کی حکومت سنبھالی تو نئی دلی نے حریت کانفرنس کی بساط لپیٹنے کی شروعات کی۔ پہلے ہی جماعت اسلامی اور لبریشن فرنٹ کو کالعدم قرار دیا گیا تھا اور پھر سنہ 2019 میں خودمختاری کا خاتمہ کر کے ہندنواز سیاست کا نیم علحیدگی پسندانہ موقف بھی ختم کردیا گیا۔ اب نہ گیلانی صاحب ہیں نہ صحرائی صاحب اور نہ مزاحمتی سیاست کے لیے میدان ہی ہے۔ ایسے میں مجھے نہیں لگتا کہ مسرت عالم سید علی شاہ گیلانی کی کمی کو پورا کریں گے۔’

’علیحدگی پسند موقف آج بھی ریلیونٹ ہے‘

تاہم قانون کے پروفیسرڈاکٹر شیخ شوکت حُسین کہتے ہیں کہ ‘مسرت عالم کو گیلانی گروپ کا سربراہ وقت کی ضرورت کے پیش نظر بنایا گیا ہے، کیونکہ گیلانی غیرلچک دار موٴقف رکھتے تھے اور مسرت عالم بھی وہی شبیہہ رکھتے ہیں۔’

ڈاکٹر شوکت اس خیال سے اتفاق نہیں رکھتے کہ مودی حکومت کے سخت گیر رویہ کی وجہ سے علیحدگی پسند سیاست اب کشمیر کے حالات سے متعلق نہیں رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘اگر وہ لوگ ریلیونٹ نہیں ہیں تو جیل میں کیوں ہیں۔ اُن کا جیل میں ہونا ہی اس بات کی علامت ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے ایسے کردار ہیں جن کا جیل سے باہر ہونا سیاست کو متاثر کرسکتا ہے۔’

مسرت عالم کی رہائی کے امکانات

ان دونوں نکتہ ہائے نظر کے باوجود بعض حلقے کہتے ہیں کہ مسرت کو حریت کا چئیرمین منتخب کرنے کا مطلب ہے کہ اب اُن کی رہائی کے سبھی امکانات معدوم ہوگئے ہیں۔ کشمیر یونیورسٹی کے ایک طالب علم کا کہنا ہے:

‘حریت کا چئیرمین بننا ایک بات ہے، اور زمین پر مزاحمتی سیاست کرنا دوسری بات۔ خود مسرت بھی قید میں ہیں اور حریت کے درجنوں دوسرے رہنما اور کارکن بھی۔ کشمیر میں جو کارکن گرفتار نہیں ہوئے وہ خاموش ہوگئے ہیں، وہ انتظار کر رہے ہیں اور اُمید کررہے ہیں کہ نئی دلی میں کوئی نئی حکومت بن جائے تو کشمیر میں مزاحمتی سیاست کو سپیس (ایک موقع) مل جائے۔ لیکن یہ سب بہت دُور کی بات ہے۔’

مسرت عالم ہی کیوں؟

بعض حلقے یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ کیا جیل سے ایک جونئیر کارکن کا انتخاب کرنا حریت کی زمینی ساکھ کے خاتمے کا عندیہ ہوسکتا ہے؟

اس حوالے سے مبصرین کا کہنا ہے کہ کم و بیش سبھی سینیئر حریت رہنما جیلوں میں ہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ گیلانی حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے سربراہ تھے اور نئے رہنما کا انتخاب اُن ہی لوگوں میں سے کرنا تھا جو گیلانی گروپ میں شامل تھے۔

چونکہ دیگر بزرگ کشمیری رہنما پروفیسر عبدالغنی بٹ ، سید آغا حسن بڈگامی اور مولانا عباس انصاری میر واعظ عمرفاروق کی سربراہی والی حریت کانفرنس کے ساتھ وابستہ ہیں لہذا ان کا انتخاب تکنیکی طور پر ناممکن تھا۔

لیکن عمر میں مسرت سے بڑے اور سینیئر علیحدگی پسند رہنما شبیر احمد شاہ گرفتاری سے قبل باقاعدہ طور پر گیلانی گروپ میں شامل ہوچکے تھے۔

شبیر احمد شاہ کا مزاحمتی سفر کم و بیش ساٹھ برسوں پر محیط ہے اور انھیں مسلسل قید و بند کے لیے عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ‘ضمیر کے قیدی’ کے خطاب سے بھی نوازا ہے۔ اس کے باوجود شبیر شاہ کو مسرت کا نائب مقرر کیا گیا ہے۔

اس اعتراض کے جواب میں پروفیسر شیخ شوکت حُسین کہتے ہیں: ‘گیلانی غیرلچکدار موقّف کے لئے نوجوانوں میں مقبول تھے اور مسرت نے اس ورثے کو اپنا سیاسی تعارف بنایا ہے۔’

پروفیسر کے مطابق، ‘شبیر شاہ ایک نہایت سینیئر لیڈر ہیں لیکن وہ ایک زمانے میں مذاکراتی سیاست کی وکالت کرتے رہے ہیں اور نئی دلی کے ساتھ بھی سفارتی مذاکرات میں شامل رہے ہیں۔ ظاہر ہے معاملہ گیلانی کے جانشین کا تھا تو اس میں مسرت واحد دستیاب چوائیس تھے۔’

کابل کنیکشن؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار ہارون قریشی کا کہنا ہے کہ جیل میں قید کسی رہنما کو تحریک کی کمان سونپنے کا مطلب ہے کہ مزاحمتی سیاست کا دائرہ تنگ کر دیا گیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘لیڈر کا کام ہوتا ہے اپنی بصیرت لوگوں کے سامنے ظاہر کرنا۔ مسرت صاحب جواں سال اور شعلہ بیان لیڈر ہیں لیکن وہ عرصے سے قید ہیں، ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ موجودہ حالات کو آج کس زاویے سے دیکھتے ہیں۔ یہ سب ایسے وقت ہوا ہے جب حریت پر پابندی عائد ہونے کی افواہیں گرم ہیں۔’

ہارون قریشی مزید کہتے ہیں کہ ‘ایسے میں ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ محض ایک اعلان سے گیلانی صاحب کی موت سے پیدا ہونے والا خلاٴ پورا ہو جائے گا۔’

ہارون کہتے ہیں کہ موجودہ حالات ماضی سے بہت مختلف ہیں۔ ‘اب تو ہندنوازوں کو بھی قدغنوں کا سامنا ہے۔ کل ہی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے صرف اتنا کہا کہ گیلانی صاحب کے جنازے میں عوامی شرکت کی اجازت نہ دینا غیرجمہوری ہے اور آج انھیں گھر پر نظر بند کردیا گیا۔ ایسے میں علیحدگی پسند سیاست اور وہ بھی گیلانی برانڈ کی سیاست کیسے ممکن ہے؟’

تاہم بعض دیگر مبصرین کہتے ہیں کہ کابل میں انتقالِ اقتدار اور بھارت کی بڑھتی مشکلوں کے پس منظر میں اگر مستقبل قریب میں بھارت پاکستان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے پر مجبور ہوگیا تو کشمیر میں مزاحمتی سیاست دوبارہ اُبھر سکتی ہے اور غالباً مُسرت عالم کا انتخاب اُسی وقت کی پیشگی تیاری ہو سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words