ملا محمد حسن اخوند: افغانستان میں طالبان کا نئی عبوری حکومت، کابینہ اور پہلے پالیسی بیان کا اعلان

افغانستان میں طالبان کی طرف سے ایک عبوری حکومت اور کابینہ کا اعلان ہوچکا ہے جو کہ ’امارات اسلامیہ‘ کے نام سے اس ریاست کی باگ دوڑ بدھ سے سنبھالے گی۔

طالبان کی حکومت نے اپنے پہلے پالیسی بیان میں عبوری حکومت کے اعلان کے ساتھ یہ یقین دلایا ہے کہ ملک میں اسلامی اور شرعی قوانین کی پارسداری کے لیے محنت کی جائے گی اور قومی مفاد کا تحفظ، افغانستان کی سرحدوں کی رکھوالی، دیرپا امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ طالبان نے امریکہ کے ساتھ امن معاہدے اور غیر ملکی افواج کے انخلا کے ساتھ رواں سال اگست میں کابل کا رُخ کیا تھا۔ صدر اشرف غنی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں اور اب طالبان نے باقاعدہ طور پر اقتدار سنبھال لیا ہے۔

فی الحال خواتین کے بغیر طالبان کی اس نئی کابینہ میں سینیئر طالبان رہنما شامل ہیں جن پر گذشتہ دو دہائیوں کے دوران امریکی اور نیٹو فورسز پر حملوں کے الزام لگتے رہے ہیں۔

نئی افغان حکومت کے سربراہ ملا محمد حسن اخوند، جو کہ تحریک طالبان کے بانیوں میں سے ہیں، کا شمار اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں ہوتا ہے۔ وہ سنہ 1996 سے 2001 تک طالبان کے دور میں نائب وزیر خارجہ رہے تھے۔ ان کے نائبین میں ملّا عبدالغنی برادر اور مولوی عبدالسلام حنفی شامل ہوں گے۔

نئے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی مسلح گروہ حقانی نیٹ ورک کے رہنما رہ چکے ہیں اور ایف بی آئی کو مطلوب ہیں۔ امریکہ نے طالبان سے روابط رکھنے والے حقانی نیٹ ورک کو غیر ملکی دہشتگرد تنظیم قرار دیا تھا۔ ایف بی آئی کی ویب سائٹ پر سراج الدین حقانی کی پروفائل کے مطابق وہ امریکہ کو اس حملے کی تفتیش کے لیے مطلوب ہیں جس میں جنوری 2008 کے دوران کابل کے ایک ہوٹل امریکی شہری سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

طالبان نے ماضی میں کہا تھا کہ وہ ایسی حکومت بنائیں گے جس میں تمام افغانوں کی نمائندگی ہوگی۔ تاہم کابینہ کے اعلان کردہ وزرا پہلے سے اثر و رسوخ رکھنے والے طالبان کے رہنما ہیں۔

دوسری طرف پنجشیر کے قومی مزاحمتی اتحاد نے طالبان کی عبوری کابینہ کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور افغانوں سے اس کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے عالمی برداری سے مطالبہ کیا ہے کہ طالبان کی اس عبوری حکومت کو تسلیم نہ کیا جائے اور اس کے ساتھ کسی قسم کے سفارتی تعلقات قائم نہ کیا کیے جائیں۔

افغانستان میں طالبان کی حکومت کا پہلا پالیسی بیان

طالبان کی حکومت نے ماضی پر نظر دوڑاتے ہوئے اپنے پہلے پالیسی بیان میں کہا ہے کہ پچھلے بیس برسوں کے دوران کیے جانے والے جہاد اور جدوجہد کے دو اہم مقاصد تھے: پہلا، بیرونی قبضے اور ظلم سے ملک کو آزاد کروانا اور دوسرا، ملک میں ایک مستحکم، تابع اور مرکزی اسلامی نظام قائم کرنا۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد

BBC
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد

نئی حکومت کے سربراہ ’امیر المومنین شیخ الحدیث‘ یعنی طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ کے نام سے جاری ہونے والے اس مشن بیان میں ملک کے تمام قابل اور پروفیشنل لوگوں، پروفیسروں، ڈاکٹروں، سائنسدانوں، انجینیئروں، تعلیم یافتہ حلقوں، کاروباری لوگوں اور سرمایہ کاروں کو مخاطب کرتے ہوئے انھیں یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ ’اسلامی امارات ان کی قدر کرے گی۔ ہمارے ملک کو ان کی صلاحیتوں، رہنمائی اور کام کی اشد ضرورت ہے۔‘

اسی طرح، بیان میں مزید کہا گیا کہ، لوگ کو ملک چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے۔ اسلامی امارت کو کسی سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ’سب افغانستان اور اس کے نظام کو مضبوط کرنے میں حصہ ڈالیں گے تو اس طرح ہم اپنے جنگ زدہ ملک کی تعمیر نو کریں گے۔ اسلامی امارات اس ضمن میں سب کو یقین دہانی کرواتی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

طالبان قیادت کے اہم رہنما کون ہیں؟

کابل میں دولتِ اسلامیہ کے ’ہمدرد‘ سمجھے جانے والے مذہبی رہنما کے قتل کے محرکات کیا ہیں؟

پنجشیر کی مزاحمتی فورس کے فہیم دشتی کی ایبٹ آباد میں گزرے دنوں کی یادیں

وہ افغان جو ملک چھوڑ نہ سکے طالبان کے سائے میں ان کی زندگی کیسی ہے؟

خیال رہے کہ ہبت اللہ اخونزادہ ابھی تک عوام کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ ملک میں طالبان کے قبضے کے بعد سے یہ ان کا پہلا پیغام ہے۔

انھوں نے واضح کیا ہے کہ ’اس اصول کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مستقبل میں تمام حکومتی اور روزمرہ زندگی کے امور شرعی نظام کے مطابق چلائے جائیں گے۔‘

مگر ان کا کہنا ہے کہ ’ہم ایک پرامن، خوشحال اور خود مختار افغانستان چاہتے ہیں جس کے لیے جنگ کی تمام وجوہات اور اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ تمام ہم وطن مکمل طور پر پُرامن اور آرام دہ زندگی گزار سکیں۔‘

ہمسایہ ممالک پاکستان، ایران، ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان اور چین کے حوالے سے طالبان کا کہنا ہے کہ ’ہم اپنے ہمسایہ ممالک اور دیگر تمام ممالک کے ساتھ باہمی احترام اور باہمی رابطوں کی بنیاد پر مضبوط اور اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔‘

’ان ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات افغانستان کے اعلیٰ ترین مفادات اور فوائد پر مبنی ہوں گے۔ ہم تمام بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں، قراردادوں اور وعدوں کی پاسداری کریں گے جو اسلامی قانون اور ملک کے قومی اقدار سے متصادم نہیں ہیں۔‘

طالبان کے اہم رہنما اور قیادت

BBC
طالبان کے اہم رہنما اور قیادت

بیان میں افغانستان کے پڑوسیوں، خطے کے ممالک اور پوری دنیا کے لیے پیغام میں کہا گیا کہ ‘افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کی سکیورٹی کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔’ نئی حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ افغانستان کی طرف سے کسی کو تشویش نہیں ہونی چاہیے اور یہ کہ وہ دوسروں سے بھی ایسے رویے کی توقع کرتے ہیں۔

انھوں نے عالمی برادری سے کہا ہے کہ ’ہم دنیا کے ممالک پر زور دیتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ مضبوط اور خوشگوار سیاسی، سفارتی اور اچھے تعلقات کی قدر کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں۔‘

انسانی حقوق اور تمام افغانوں کی نمائندگی یقینی بنانے کے موضوع پر طالبان کا کہنا ہے کہ ’امارات اسلامی مقدس مذہب اسلام کے تقاضوں کے فریم ورک میں انسانی حقوق، اقلیتوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ پسماندہ گروہوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اور موثر اقدامات کرے گی۔‘

یہ بھی پڑھیے

افغانستان کے دیہات: طالبان کا قبضہ، کچھ لوگوں کے نزدیک لڑائی کا خاتمہ ہے

طالبان نے حکومت بنانے میں تاخیر کیوں کی

’میرے والد طالبان کی خوف سے کوئٹہ آئے اور یہاں ڈکیتی میں مارے گئے‘

جب ویڈیو گیم میں لڑائی کو افغانستان میں پاکستانی فوج کی کارروائی قرار دیا گیا

’تمام افغان عوام کو، بغیر کسی امتیاز یا استثنا، اپنے ملک میں عزت اور امن کے ساتھ رہنے کا حق حاصل ہو گا۔ ان کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کی جائے گی۔ امارات اسلامیہ ہر فرد کے اسلامی حقوق کے تحفظ کے لیے بھرپور کوشش کرے گی اور اپنے ملک کے اندر ان کے لیے محفوظ اور آرام دہ ماحول فراہم کرے گی۔‘

تعلیمی شعبے کے حوالے سے پالیسی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’تعلیم ملک کی اہم ترین ضروریات میں سے ایک ہے۔ ہماری حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شریعت کے لحاظ سے مذہبی اور جدید سائنس کی فروغ کے لیے کام کرے اور اس کا فائدہ ہر شخص اٹھائے۔‘

’ہم اپنے ملک میں تعلیم کے شعبے میں ترقی کی راہ ہموار کریں گے اور ہمارے معاشرے میں علم اور آپسی سمجھ داری کا بول بالا ہوگا۔‘

انھوں نے تسلیم کیا کہ افغانستان گذشتہ 40 برس سے جنگ اور معاشی بحران سے دو چار ہے مگر وہ ’اپنے سارے ذرائع معاشی خوشحالی اور ترقی پر لگائیں گے اور ساتھ ہی سیکورٹی کو بھی مضبوط کیا جائے گا‘

امریکی انخلا کے بعد معاشی مشکلات پر طالبان کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ’گھریلو ریونیو یعنی آمدنی کو دیکھ بھال کر اور پوری شفافیت کے ساتھ خرچ کریں گے۔ ہماری حکومت بیرونی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرے گی اور مختلف تجارتی شعبے بے روزگاری کو کم کرنے کی کوشش کریں گے۔‘

کابل، احتجاج

Reuters
نئی عبوری افغان حکومت کے اعلان کے روز کابل میں احتجاجی مظاہرہ بھی دیکھا گیا

’ہمارا سب سے اہم ہدف اپنے ملک کو جلد از جلد اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہوگا۔ اللہ نے چاہا تو بہت جلد ہم اپنے جنگ زدہ ملک میں تعمیر نو اور بحالی کا کام کریں گے۔‘

افغانستان کی اسلامی حکومت چاہتی ہے کہ ملک ’جلد سے جلد ترقی کرے اور ملک کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے انسان کو بنیادی ضروریات مہیا کرائی جائیں، ساتھ ہی غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ کیا جائے۔‘

’اس کام کو انجام دینے کے لیے ہم ملک کے سبھی تاجروں، سرمایہ کاروں اور سمجھ دار افغانوں سے تعاون چاہتے ہیں کہ وہ افغانستان کو غربت سے اٹھانے، معیشت کو مضبوط کرنے، اور ملک میں سرمایے کے صحیح استعمال میں ہماری مدد کریں۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیا ملک کا اہم حصہ ہے۔ ’ہم میڈیا کی آزادی، اس کے فنکشن اور اس کے معیار کی بہتری کے لیے کام کریں گے۔ ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ ہماری نشریات میں اسلامی اصولوں، قومی مفاد اور غیرجانبداری کا خیال رکھا جائے۔‘

بیان میں ملک میں موجود تمام غیر ملکی سفارت کاروں، سفارتخانوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سرمایہ کاروں کو یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ انھیں کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور یہ کہ اسلامی امارات ان کی مکمل حفاظت اور سکیورٹی کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہی ہے۔ ’ان کی موجودگی ملک کی کی ضرورت ہے، اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ اپنا کام سکون سے جاری رکھیں۔‘ افغانستان کی نئی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کسی سے دشمنی نہیں چاہتی۔ ’افغانستان سب کا مشترکہ گھر ہے۔ ہم ان کے حقوق اور جائز خواہشات کا خیال رکھیں گے اور ان کی صلاحیتوں کو ملک کی ترقی کے لیے کام میں لائیں گے۔‘

’کسی کو مستبقل کے بارے میں پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ اسلامی امارات اپنے لوگوں کے ترجمان کی حیثیت سے ان تمام مسائل سے آگاہ ہے جن کا ہمارے لوگوں کو سامنا ہے۔‘

بیان میں کہا گیا کہ حکومت کی پہلی ترجیح تمام مسائل کو جائز اور مناسب طریقے سے حل کرنا ہے۔ اس میں اعتماد کا اظہار کیا گیا تھا کہ ’عام لوگ ہمیشہ کی طرح اسلامی امارات کی حمایت جاری رکھیں گے۔ ان تمام سکالروں، قبائلی عمائدین اور بزرگوں کی کوششیں قابل قدر ہیں جو عوام میں آگاہی پیدا کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں۔‘

اسلامی امارات کا کہنا تھا کہ نظام کی بقا اور مضبوطی کے لیے عوام کا کردار بہت اہم ہے اور یہ کہ اسلامی امارات کو ملک میں اسلامی نظام کے تحت تعمیر نو، امن و امان سے زندگی گزارنے اور مل کر ملک کی تعمیر نو کے لیے عوام کی مسلسل حمایت کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ خواتین کی عدم شمولیت پر طالبان نے کہا ہے کہ کابینہ کی یہ فہرست حتمی نہیں ہے۔

کابینہ اور پالیسی بیان کا اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا ہے کہ جب طالبان کی جانب سے انتقامی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ طالبان نے ایسا نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا اور عام معافی کا بھی اعلان کیا تھا۔

ملک میں ذرائع نے بی بی سی کو بیا ہے کہ طالبان کے بعض جنگجو ایسے لوگوں کو ڈھونڈ رہے ہیں جنھیں انھوں نے معاف کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ جبکہ مبینہ ہلاکتوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں جن میں دو سینیئر پولیس اہلکار شامل ہیں۔

ملک چھوڑنے والی خواتین کو طالبان سے موصول ہونے والے پیغامات میں کہا گیا ہے کہ وہ واپس آئیں اور ‘اسلامی طرز زندگی گزاریں۔’

ملک میں موجود افغان خصوصی فورسز کے ایک سابق سپاہی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ‘جب سے طالبان اقتدار میں آئے ہیں، انھوں نے قتل و غارت نہیں چھوڑا۔’ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے بعض ساتھیوں کو بھی ہلاک کر دیا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words