’ٹیکا‘: کووڈ 19 کی ویکسین پر علی آفتاب سعید کے مزاحیہ گانے پر ’کانسرٹ ملے گا نہ پیسہ‘

عمیر سلیم - بی بی سی اردو ڈاٹ کام

'آپ سماجی مسائل پر گانے بناتے ہی کیوں ہیں اگر اس میں کوئی پیسے یا کیریئر نہیں۔ آپ بھی صرف رومانوی گانے کیوں نہیں بناتے؟' میرے اس بے تکلف سوال پر گلوکار علی آفتاب سعید نے زیادہ سوچے بغیر کہا 'اس کا مختصر جواب ہے میرے اندر کا کیڑا۔'

انھوں نے مزید کہا کہ ‘اس میں میرا کوئی فلسفہ نہیں ہے۔ بس یہ ایسے ہی ہے۔ شاید سب کی وائرنگ مختلف طریقے سے ہوئی ہوتی ہے۔ میری وائرنگ ایسی ہے۔’

پاکستان میں کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ ملک کی میوزک انڈسٹری گلوکاروں کے شوق کے علاوہ بس کولا ڈرنکس کی تشہیر کے پیسوں پر چلتی رہی ہے۔ مگر علی کہتے ہیں کہ اسے فنکاروں کے خوف نے زندہ رکھا ہوا ہے۔

حال ہی میں جب انھیں کووڈ 19 کی ویکسین سے متعلق لوگوں کی غلط فہمیوں کا پتا چلا تو انھوں نے پریشان ہو کر اس کے ‘حفاظتی ٹیکے’ پر گانا بنانے کا سوچا۔

اس گانے میں وہ ویکسین کے ذریعے ‘لوگوں میں چِپ لگانے’ جیسی غلط معلومات کو اپنے منفرد اور مزاحیہ انداز میں رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ‘زندگی روز لگاتی ہے، یہ تو ایک بار کا ٹیکا ہے جی۔’

یہ گانا حال ہی میں یوٹیوب پر ریلیز کیا گیا ہے مگر اس ریلیز سے قبل علی آفتاب سعید اس گانے کا آڈیو لے کر پنجاب حکومت، سندھ حکومت، وفاقی حکومت اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے پاس بھی گئے تھے۔ ‘مجھے معلوم تھا کہ اس گانے پر کانسرٹ ملے گا نہ پیسہ۔ یہ تو بس لوگوں کی آگاہی کے لیے بنایا تھا۔’

ان کی خواہش تھی کہ حکام اس گانے کو استعمال کریں اور لوگوں کو ویکسین لگوانے پر راضی کریں۔

لیکن ان سے خوشی خوشی یہ گانا وصول کر کے داد دینے کے بجائے انھیں الٹے پاؤں واپس بھیج دیا گیا۔ وہ یاد کرتے ہیں کہ ‘سب نے کہا نہیں کوئی چکر نہیں ہے۔’ یعنی دن رات ویکسین لوگوں کو لگوانے کا مشورہ دینے والے حکام کو ان کا ’ٹیکا‘ زیادہ متاثر نہ کرسکا۔

یہ بھی پڑھیے

’لوگ مجھے موٹی کہتے اور میرے بچوں کا مذہب پوچھتے ہیں‘

احمد فراز نے ’سرکار کی نوکری کی لیکن چاپلوسی یا چمچہ گیری کبھی نہیں کی‘

طیارہ ہائی جیکنگ پر فلم ’بیل بوٹم‘ پر تین خلیجی ممالک میں پابندی کیوں

جب ساحر لدھیانوی نے ’بھیس بدلا‘ اور پاکستان چھوڑ کر انڈیا چلے گئے

وہ کہتے ہیں کہ ‘اب میں نے خود ہی اپنے پیسوں سے اس پر ویڈیو بنائی ہے اور اس میں میرا کوئی مالی مفاد نہیں۔’

سماجی مسائل پر اپنے دیگر گانوں کی ہی طرح علی چاہتے ہیں کہ وہ اپنا یہ ہنر معاشرے میں بہتری کے لیے استعمال کریں۔

‘میرے میوزک کا کوئی خریدار نہیں ہے’

علی آفتاب سعید شاید پاکستان کے ان گلوکاروں میں سے ہیں جو اب بھی اپنی موسیقی میں مزاح کا عنصر شامل کرتے ہیں اور سماجی مسئلوں پر بات کرنے سے گھبراتے نہیں۔

لیکن کیا اس اندازِ گلوکاری سے کسی کا گھر بھی چلتا ہے، اس پر وہ کہتے ہیں کہ ‘آپ کو اندازہ نہیں ہوگا کہ میں اپنے بِل کیسے ادا کرتا ہوں۔ میرا میوزک نہیں بکتا۔ اسے کوئی نہیں خریدتا۔ نہ مجھے کنسرٹ پر بلایا جاتا ہے۔’

‘میرے وی لاگز زیادہ لوگ نہیں دیکھتے کیونکہ یہ بعض لوگوں کے لیے قابل برداشت نہیں ہوتے۔ میری بنائی ہر چیز سیاسی نیچر کی ہے اور یہاں اس کا کوئی خریدار نہیں ہے۔’

علی کہتے ہیں کہ ‘میں پڑھاتا ہوں، اپنا پروڈکشن ہاؤس چلاتا ہوں۔ لوگوں کو اس طرح کی ویڈیوز بنا کر دیتا ہوں۔ وہاں سے میرے معاملات چلتے ہیں۔ میرا کوئی ایک کیریئر نہیں، کبھی کبھی سوچتا ہوں میرا کوئی کیریئر ہے بھی یا نہیں۔’

‘میں نے کبھی میوزک سے پیسے نہیں کمائے، بس اس پر اپنے پیسے لگائے ہیں۔ اِدھر اُدھر سے پیسے بچا کر میوزک پر لگا دیتا ہوں۔’

کیسٹ، سی ڈی اور کنسرٹ کا دور جانے کے بعد پاکستان کے کئی گلوکار اب صرف سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر ہی دکھائے دیتے ہیں اور یہی پلیٹ فارم ان کی آمدن کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔

علی کے مطابق اس وقت پاکستان میں ہر طرح کے آرٹسٹ کی ضرورت ہے۔ ’پاکستان میں آرٹ کا قحط ہے۔ سال میں ریلیز ہونے والے نئے گانوں کی تعداد شرمناک حد تک کم ہے۔۔۔ یعنی 24 کروڑ کی آبادی میں 15 گانے والے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ملک میں ’میوزک انڈسٹری کے ساتھ بہت سے مسائل ہیں لیکن ایک مسئلہ ایسا ہے جس پر کوئی بات نہیں کرتا۔ اس میوزک انڈسٹری کو کسی کا شوق یا پیسہ نہیں چلا رہا بلکہ خوف چلا رہا ہے۔‘

مثبت پیغام اپنی جگہ، گانا اچھا ہونا چاہیے

اس سوال پر کہ وہ اپنی موسیقی کو مین سٹریم اور کمرشلائز کیوں نہیں کرتے، ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے خود کو تبدیل کرنے کی، سیاسی یا غیر سیاسی ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اتنا وقت گزر چکا ہے کہ سب کو پتا ہے میں کون ہوں۔ راتوں رات کچھ کرنے سے کام آنا شروع نہیں ہو جائے گا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ وہ صرف اپنے شوق کے لیے گانے بناتے ہیں۔ اس کی مثال وہ کچھ اس طرح بتاتے ہیں کہ گذشتہ سال ریلیز ہونے والے ان کے ایک گانے ’سب نو‘ کی دھن درحقیقت ایک فلمی گانے کے لیے بنائی گئی تھی۔ ’فلم کے پروڈیوسر نے یہ دھن ریجیکٹ کر دی۔ میں نے انھیں پھر دوسری دھن بنا کر دی جو انھیں پسند آئی۔‘

پاپ کلچر میں کسی سماجی مسائل پر روشنی ڈالنے سے اکثر کسی گانے یا فلم کا قد و قامت وسیع ہو جاتا ہے۔ مگر مزاح اور طنز کے ذریعے بات عام لوگوں تک بھی پہنچ پاتی ہے۔

علی آفتاب بھی اپنے گانوں اور وی لاگز میں مزاح استعمال کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ چیزیں خوشگوار بنائی جاسکیں اور دوسرا یہ کہ جسے جو چیز آتی ہے وہ وہی کرسکتا ہے۔ جیسے پینٹر تصویر کے ذریعے حالات حاضرہ کو پیش کرتا ہے اور کامیڈین مزاح کے ذریعے۔‘

’میری کوشش ہوتی ہے کہ اگر گانے میں میسج (پیغام) ہے تو گانے کو میسج نہیں لگنا چاہیے۔ گانا تو گانا ہے۔‘

’اگر گانا اچھا ہی نہیں تو آپ اس میں جتنا مرضی میسج بھر دو، اس کا کوئی فائدہ نہیں۔‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’گانا اگر اچھا ہے تو اس کا مطلب ہے موسیقار اچھا ہے۔‘

’گانے کا سیاسی پہلو ٹھیک ہے یا نہیں، وہ بعد کی بات ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words