انٹرمٹنٹ فاسٹنگ: یہ ڈائٹ پلان کیا ہے اور انڈیا کی معروف کامیڈین بھارتی سنگھ نے اس سے اپنا وزن کیسے کم کیا

سوشیلا سنگھ - بی بی سی

انڈین کامیڈین بھارتی سنگھ کا کہنا ہے کہ انھوں نےاپنا 15 کلو وزن کم کیا ہے۔

بھارتی سنگھ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’میں انٹرمٹنٹ فاسٹنگ یعنی وقفے والی فاسٹِنگ کرتی ہوں اور میں حیران ہوں کہ ایسا کر کے میں نے کتنا وزن کم کیا ہے۔‘

بھارتی کا کہنا ہے ‘میرا وزن 91 کلو گرام سے 76 کلو گرام ہو گیا ہے۔ اب میری سانس نہیں پھولتی اور میں ہلکا محسوس کر رہی ہوں۔

’میرا دمہ اور ذیابیطس بھی قابو میں آگئے ہیں۔ میں اس وقت وقفے وقفے شام سات بجے سے اگلے دن 12 بجے تک کچھ نہیں کھاتی۔

انٹرمٹنٹ فاسٹنگ: بھارتی سنگھ کس ڈائٹ کی بات کر رہی ہیں؟

صحت مند رہنے کے لیے وزن میں کمی اور صحت مند طرز زندگی ضروری ہے۔ لیکن کئی بار لوگ وزن کم کرنے کے لیے ایسے طریقے اپناتے ہیں جس کی وجہ سے وزن کم ہونے کے بجائے بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ یا اس کے مضر اثرات ہونے لگتے ہیں۔

اگرچہ زیادہ تر لوگ روزے کے بارے میں جانتے ہیں لیکن وقفے سے روزے کا مطلب ہے کہ کچھ طے شدہ گھنٹوں میں کھانا نہ کھایا جائے۔

جانز ہاپکنز میڈیسن کے مطابق کسی ڈائٹ کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ کیا کھانا ہے اور کیا نہیں کھانا۔ لیکن وقفے سے روزہ یعنی انٹرمٹنٹ فاسٹنگ میں آپ کو یہ طے کرنا ہے کہ آپ کو کب کھانا چاہیے۔

جانز ہاپکنز میڈیسن صحت کے شعبے میں کام کرنے والی ایک تنظیم ہے۔

انٹرمٹنٹ فاسٹنگ میں آپ ایک دن میں صرف چند گھنٹوں میں کھا سکتے ہیں جو آپ کے جسم میں ذخیرہ شدہ چربی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

ایسے روزے میں آپ ایک مقررہ وقت پر کھانا کھا سکتے ہیں جس میں ایک دن میں کئی گھنٹے کھانا نہ کھانا شامل ہوتا ہے۔

جانز ہاپکنز کے ایک نیورو سائنسدان مارک میٹسن نے 25 برسوں تک انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کا مطالعہ کیا ہے۔

ہاپکِنس میڈیا پر شائع ہونے والی معلومات کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ ’ہمارا جسم اس طرح بنا ہے کہ ہم بغیر خوراک کے کئی گھنٹوں یا کئی دنوں، یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ اور وہ اس وقت کا حوالہ دیتے ہیں جب انسانوں نے کھیتی کرنا بھی نہیں سیکھا تھا۔ جب انسان شکار بنے تو انھوں نے طویل عرصے تک کھانا کھائے بغیر زندگی گزارنا سیکھ لیا تھا۔‘

جانز ہاپکنز میں غذائی ماہر کرسٹی ولیمز کے مطابق انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کی کئی اقسام ہیں اور اسے صرف ڈاکٹر کے مشورے پر شروع کیا جانا چاہیے۔

اس میں سے ایک 16/8 ہے جس میں آپ دن کے 16 گھنٹے کھانے سے دور رہتے ہیں اور باقی آٹھ گھنٹے کھانا کھاتے ہیں۔

ان کے مطابق زیادہ تر لوگ اس طریقے کو پسند کرتے ہیں کیونکہ وہ اسے طویل عرصے تک جاری رکھ پاتے ہیں۔

انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کی ایک قسم 5/2

یہ طریقہ اپناتے ہوئے آپ کو پانچ دن کے لیے عام خوراک لینا ہوگی۔ لیکن ہفتے کے کسی بھی دو دن آپ کو صرف اتنا کھانا کھانا پڑے گا کہ جسم کو صرف 500 سے 600 کیلوریز ملیں۔ اس سے زیادہ نہیں۔

اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ کھانے سے پرہیز کے دو دن کے درمیان ایک عام کھانے کا دن ہونا چاہیے جس میں آپ عام دن کی طرح کھانا کھائیں۔

یہ بھی پڑھیے

ذہنی دباؤ سے موٹاپا کیوں ہوتا ہے؟

ڈپریشن میں زیادہ کھانے سے کیسے بچا جا سکتا ہے اور اس کی وجوہات کیا ہیں؟

کیٹو ڈائٹ کیا ہے اور کیا اس سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے؟

وزن کم کرنے کے بارے میں پانچ مغالطے

لیکن ماہرین صحت کا یہ بھی کہنا ہے کہ 24، 36، 48 اور 72 گھنٹوں کی طرح طویل عرصے تک کھانا نہ کھانا آپ کے جسم کے لیے مہلِک ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ اتنی دیر تک نہ کھانے کی وجہ سے سے آپ کے جسم میں چربی جمع ہونے لگتی ہے۔

اور ڈاکٹر ولیمز آپ کو مشورہ دیتے ہیں کہ پانی اور صفر کیلوری والے مشروبات جیسے بلیک کافی اور چائے کا استعمال کریں۔ یعنی صحیح اور صحت مند کھانے پر توجہ دیں۔

لیکن اس ڈائٹ میں کس قسم کا کھانا کھایا جائے؟

ڈاکٹر شکھا شرما کا کہنا ہے کہ اس پر بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ میں کھانے کے وقت آپ کیا کھا رہے ہیں۔

ان کے مطابق ’اگر ہم ویدک سائنس کو دیکھیں تو یہ بھی کہا گیا ہے کہ غروبِ آفتاب کے بعد نہ کھائیں کیونکہ اس کے بعد لیا گیا کھانا ہضم نہیں ہوتا۔‘

’اگر ہم گرمیوں میں غروب آفتاب کی بات کرتے ہیں تو یہ ساڑھے سات بجے تک اور سردیوں میں ساڑھے پانچ بجے کے بعد ہونے لگتا ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ ضروری ہے کہ اُن آٹھ گھنٹوں میں آپ کیا کھا رہے ہیں، اس کا خیال رکھیں۔‘

وہ کہتی ہیں ‘اگر آپ برگر اور پیزا یا میٹھی چیزیں کھا رہے ہیں تو آپ کے جسم پر اثر پڑے گا۔ لہذا اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ آپ اس مدت کے دوران صحیح اور متوازن غذا لیں۔‘

ڈاکٹر شکھا غذائیت سے بھرپور خوراک کی بات کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وقفے سے روزے میں اس پر تو بات کی جاتی ہے کہ کب نہ کھایا جائے۔ لیکن کیا کھائیں اس پر زیادہ بحث نہیں ہوتی۔

وہ مزید وضاحت کرتی ہیں ‘یہ ایک عام مسئلہ ہے جو وقفے سے روزہ رکھنے والوں میں دیکھا جاتا ہے کہ وہ صبح ناشتہ یا دوپہر کا کھانا نہیں کھاتے لیکن اس دوران ان کی چائے اور بسکٹ چلتے رہتے ہیں اور پھر شام کو بھوک لگتی ہے تو کینٹین سے کچھ لے کر کھا لیا جاتا ہے۔ اور رات میں جب فرصت ہوتی ہے تو وہ ایک بہت بڑا ڈنر لیتے ہیں۔ یہ صرف جسم کو نقصان پہنچاتا ہے۔‘

ڈاکٹر شکھا کا کہنا ہے کہ جب دن میں جسم کا میٹابولزم زیادہ ہوتا ہے تو آپ نے اسے بھوکا رکھا اور جب یہ گر رہا ہوتا ہے تو آپ کھا رہے ہوتے ہیں۔ پھر تینوں چیزیں آپ کے جسم پر موٹاپے اور غذائی اجزا کی کمی کا کام کرتی ہیں۔

وہ تجویز کرتی ہے کہ اگر آپ وقفے سے 16/8 گھنٹے روزہ رکھیں تو 16 گھنٹوں میں آپ سبز چائے، سبزیوں کا رس لے سکتے ہیں۔ اور باقی آٹھ گھنٹوں میں آپ اناج کھا سکتے ہیں بشمول کینوا، براؤن چاول سے بنا پوہا یا اڈلی، دلیہ اور میوسلی۔ مٹھائی میں چینی کا استعمال نہ کریں اور آپ گُڑ کو چینی کے متبادل کے طور پر لے سکتے ہیں۔

ان کے مطابق کوئی بھی ڈائٹ پلان وزن کم کرنے کا ایک شارٹ کٹ نسخہ ہے اور جب آپ اسے چھوڑ دیں گے تو اس کے منفی اثرات آتے ہیں۔ ’آپ کا وزن اس وقت تک کنٹرول میں رہے گا جب تک کہ آپ صحیح اور متوازن غذا کے ساتھ اس پر عمل کریں۔‘

نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق میں جانز ہاپکنز کے نیورو سائنسدان مارک میٹسن نے بتایا کہ وقفے سے روزہ رکھنا جسم کے لیے مفید ہے اور مختلف قسم کی دائمی بیماریوں جیسے ٹائپ ٹو ذیابیطس، دل کا عارضہ اور پیٹ کی جلن جیسی بہت سی بیماریاں سے بچا جا سکتا ہے۔

مگر ڈاکٹر شکھا شرما نے خبردار کیا ہے کہ لوگ وزن کم کرنے کے لیے مختلف ڈائٹ پلان اپناتے ہیں لیکن جب وہ معمول کے عمل میں واپس آتے ہیں تو ان کا وزن دوبارہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔

’کیونکہ زیادہ تر معاملات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ لوگوں کے کھانے کی عادت میں سدھار صرف مختصر مدت کے لیے ہی آتا ہے۔جس کے جسم پر منفی اثرات ہوتے ہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words