آج کے دور میں لوگوں کی پہچان بہت ضروری ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کے دور میں لوگوں کو پہچاننا انتہائی مشکل ہو تا جا رہا ہے۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اندر اور باہر سے ایک جیسے ہوتے ہیں۔ بناوٹی خول کی وجہ سے کچھ لوگ جیسے نظر آتے ہیں ویسے ہوتے نہیں ہیں۔ جس کی وجہ سے ہم بعض اوقات دھوکہ کھا جاتے ہیں اور بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جیسا ہم سوچتے ہیں اور خود جیسے ہوتے ہیں ویسا ہی دوسروں کے بارے میں سوچتے ہیں لیکن لوگ اس کے برعکس نکلتے ہیں۔

یہ سچ ہے کہ ہماری شخصیت کے کئی روپ ہوتے ہیں اور ہر روپ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔

اسی طرح ہر رشتہ کے ساتھ تعلق ’برتاؤ‘ بات چیت کا انداز اور روزمرہ کے معمولات مختلف ہوتے ہیں۔ ہم اسی چادر کو خود پر اوڑھ لیتے ہیں جس طرح کا تعلق ہم نبھانا چاہتے ہیں۔

کچھ لوگ بظاہر ہنسنے والے نظر آتے ہیں۔ زندگی کی تمام آسائشیں ان کو دستیاب ہوتی ہیں جو ایک عمدہ زندگی گزارنے کے لئے ضروری سمجھی جاتی ہیں۔ لیکن وہ اندر سے بہت تھکے ہوئے ’ہارے ہوئے‘ بہت افسردہ ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے غم کو اپنے اندر چھپا کر رکھتے ہیں اور لوگوں کے سامنے خود کو اور اپنی تکلیف کو ظاہر ہونے نہیں دیتے۔

کچھ لوگ اپنا مطلب نکلوانا جانتے ہوتے ہیں۔ لوگوں کے سامنے رو دھو کر اپنی مجبوریاں بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں اور لوگ ہمدردی میں ان کی مدد کر دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو دوسروں سے فائدہ اٹھانے کا فن بخوبی آتا ہوتا ہے۔

پھر آتے ہیں وہ لوگ جو بظاہر بہت محبت کرنے والے ہوتے ہیں۔ آپ کے سامنے ظاہر یہ کرتے ہیں کہ ان کے علاوہ آپ کا کوئی ہمدرد نہیں لیکن آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ’مطلب جیسے ہی آپ نے منہ دوسری طرف کیا وہ آپ کے خلاف انگارے برسانا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے لوگ بہت خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ یہ جڑیں کاٹنے والے ہوتے ہیں۔

پھر کچھ ایسے لوگ دیکھنے میں آتے ہیں جو بہت میٹھے بن کر آپ سے بات کرتے ہیں اور آپ کے دل کی بات اگلوا کر اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ یہ ان کی فطرت کا حصہ بن جاتا ہے۔ بقول واصف علی واصف صاحب کے کہ ”سب کچھ بدل سکتا ہے لیکن فطرت نہیں بدل سکتی“ ۔ جس کی فطرت میں ڈنگ مارنا ہو وہ کیسے اپنی فطرت کے برعکس جا سکتا ہے۔

کچھ لوگ وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں جیسے جیسے وہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچتے ہیں ان میں انا عود آتی ہے۔ وہ خود کو دوسروں سے بالا محسوس کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں ان جیسی محنت کوئی نہیں کر سکتا یا ان جیسا قابل کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔ وہ نئے آنے والوں یا اپنے سے جونیئرز کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اپنے آغاز سفر کو یکسر فراموش کر دیتے ہیں۔ بہت کم ایسے لوگ ہیں جن کو کامیابی یا شہرت کسی تگ و دو کے بغیر مل جاتی ہے لیکن زیادہ تر کامیابی حاصل کرنے کے لئے صرف ماہ و سال نہیں پوری پوری زندگیاں لگ جاتی ہیں اور جب منزل تک پہنچتے ہیں تب تک ان کے پاؤں سفر کی صعوبتوں کو برداشت کر کے لہولہان ہو چکے ہوتے ہیں اکثر کامیابی کی دہلیز تک پہنچنے سے پہلے ہی زندگی کی بازی ہار دیتے ہیں کیونکہ ان کے نصیب میں کامیابی دیکھنا لکھا ہی نہیں ہوتا۔

لیکن اس دنیا میں اچھے برے ہر طرح کے لوگ موجود ہیں یاد رہے کہ اچھا یا برا ہمیں ہماری سوچ اور عمل بناتے ہیں۔ کچھ لوگوں پر اللہ تعالی کا خاص کرم ہوتا ہے وہ کامیابی کو اللہ کی دین سمجھتے ہیں۔ کسی مقام پر پہنچ کر وہ لوگوں کی مدد کرنا اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں۔ نہ صرف آنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ ان کے لئے سازگار ماحول بھی مہیا کرتے ہیں۔ اپنا علم و تجربہ بلا معاوضہ لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ ایسے لوگ دنیا میں بہت کم ہوتے ہیں ورنہ شہرت ’عزت و وقار ان کو مغرور بنا دیتا ہے۔ ایسے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالٰی دے کر بھی آزماتا ہے اور لے کر بھی۔ کب شہرت سے زوال آ جائے کسی کو معلوم نہیں۔

کسی کو آگے بڑھتے ہوئے دیکھنا اس کو اس کے کام کو سراہنا بہت مشکل کام ہوتا ہے اور ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ یہ اعلٰی ظرف کسی خاص بندے میں ہوتا ہے جو کہ اللہ تعالٰی کی خاص عنایت ہوتی ہے۔ لوگ تعریف تو دور کی بات کسی کے کام کو اس کی محنت کو تسلیم تک نہیں کرتے۔

ہمیں لوگوں کی پہچان کرنا آنا چاہیے تاکہ ایسا نہ ہو کہ لوگ ہمیں بے وقوف بناتے چلے جائیں اور ہماری معصومیت کا فائدہ اٹھائیں اس سے پہلے سنبھل جانا ہمارے لئے بہتر ہے۔

اللہ تعالٰی سے ہر وقت دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں اس قابل بنائیں کہ ہم دوسروں کے لئے مشعل راہ بن سکیں ان کی رہنمائی کر سکیں۔ ہمیں اللہ تعالٰی تکبر سے بچائیں اور اپنی جانب سے دینے والا اور بانٹنے والا بنائیں پھر چاہے وہ دولت ہو ’علم ہو‘ تجربہ ہو ’خوشیاں اور مسکراہٹیں ہوں یا کوئی آسائش۔

یہ یاد رکھیں کہ بانٹنے سے کبھی کچھ کم نہیں ہوتا۔ جب سب اللہ کا کرم ہے تو اس میں تکبر و گھمنڈ کیسا۔ اگر وہ نواز سکتا ہے تو واپس بھی لے سکتا ہے۔ ہمیں اپنی سوچ کو ہمیشہ مثبت رکھنا چاہیے اور دوسروں کے کام آنا چاہیے تاکہ اپنے لئے اور دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کر سکیں۔

چونکہ آج کل کے دور میں مادہ پرستی غالب ہے اور لوگ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے تمام حربے استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں لوگوں سے تعلقات رکھنے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ جس طرح ہر چمکتی چیز دھات ’سونا یا ہیرا نہیں ہوتی‘ اسی طرح سارے بظاہر خوش اخلاق دکھائی دینے والے لوگ بھی قابل بھروسا نہیں ہوتے۔

تعلق کاروباری ہو یا ذاتی ہمیں ہوش مندی سے کام لینا چاہیے اور جلد بازی سے پرہیز کرنا چاہیے۔ لوگوں کو سمجھنے اور پرکھنے میں خاصہ وقت درکار ہوتا ہے۔ کسی کی نیت پر بے جا شک کرنا بھی مناسب نہیں لیکن کسی پر اندھا اعتماد کرنا بھی تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

ایک مشہور کہاوت ہے کہ لوگ کتابوں کی طرح ہوتے ہیں۔ کچھ اپنے سرورق کی کشش سے دھوکہ دیتے ہیں اور کچھ اپنے اندر چھپے ہوئے اعلٰی مواد سے حیرت زدہ کر دیتے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments