آکلینڈ حملہ: نیوزی لینڈ سپرمارکیٹ میں چاقو حملہ کرنے والے شمس الدین عادل کی والدہ ’ایک عرصے سے بیٹے میں تبدیلی محسوس کر رہی تھیں‘

یو ایس مبروک - بی بی سی تمل

محمد شمش الدین احمد عادل
BBC
محمد شمش الدین احمد عادل نے گذشتہ اتوار کو نیوزی لینڈ میں چاقو کے حملے سے چھ افراد کو زخمی کر دیا تھا جس کے بعد وہ پولیس اہلکاروں کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

ان کی ہلاکت کی خبر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے قوم کو سنائی۔ سری لنکا سے تعلق رکھنے والے عادل سنہ 2011 میں پڑھائی کے غرض سے سٹوڈنٹ ویزا پر نیوزی لینڈ گئے تھے۔ تاہم ملک میں قیام کے دوران ان کی شناخت شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی حمایت کرنے والے ایک نوجوان کی بن گئی تھی، جس کے باعث نیوزی لینڈ پولیس سنہ 2016 سے عادل کی مسلسل نگرانی کر رہی تھی۔

تین ستمبر کو انھوں نے آکلینڈ کی کاؤنٹ ڈاؤن سپر مارکیٹ میں یکے بعد دیگرے چھ افراد پر حملہ کیا، جن میں سے بعض کو تشویشناک حالت میں ہسپتال داخل کروایا گیا تھا۔ تاہم پولیس چند منٹوں میں حرکت میں آئی اور انھیں فوری طور پر ہلاک کر دیا گیا۔ اس واقعے کے ایک روز بعد سری لنکن پولیس نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ کٹھن کدی علاقے کا عادل سٹوڈنٹ ویزا لے کر وہاں پڑھنے گیا تھا۔

اس کے بعد سری لنکن انٹیلی جنس افسر عادل کی ماں فریدہ سے پوچھ گچھ کرنے ان کے گھر گئے۔ فریدہ کٹھن کدی میں اپنے گھر میں رہ رہی ہیں۔ جب بی بی سی تمل کی ٹیم ان سے بات کرنے کے لیے پہنچی تو اس وقت بھی انٹیلی جنس افسران ان سے پوچھ گچھ کر رہے تھے۔ ابتدائی طور پر فریدہ نے میڈیا سے کوئی بات چیت کرنے سے انکار کر دیا۔ لیکن ہماری مسلسل کوششوں کے بعد انھوں نے بات کی لیکن کیمرے پر آنے سے انکار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے پاس ان کی کوئی تصویر نہیں ہے۔

نیوزی لینڈ

BBC

'محمد شمس کو فلمیں دیکھنے کا شوق تھا'

فریدہ کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ عادل ان کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا۔ عادل پیدا تو کٹھن کدی میں ہوا تھا، لیکن ان کی والدہ کے مطابق انھیں اس شہر سے کچھ خاص لگاؤ نہیں تھا۔

وہ بتاتی ہیں کہ ‘عادل نے ابتدائی تعلیم ماتاکلپو سینٹ میتھوڈسٹ سنٹرل سکول سے حاصل کی اور بعد میں جب ہم ادولگام منتقل ہوئے تو انھوں نے پانچویں جماعت تک وہاں تعلیم حاصل کی۔ چھٹی سے 12ویں تک انھوں نے کولمبو کے ہندو کالج میں تعلیم حاصل کی۔ جب ہم کولمبو میں تھے تب تک وہ انتہا پسند نہیں بنا تھا۔ ‘اسے سینما جانا بہت پسند تھا۔ فلم سمبو کا مداح تھا اور اس کے گانے بھی گاتا تھا۔’

یہ بھی پڑھیے

نیوزی لینڈ: مارکیٹ میں حملہ ’دہشت گردی‘ قرار، حملہ آور ’دولت اسلامیہ کا حامی‘

کیا کرائسٹ چرچ کے انتقام میں گرجا گھر جلایا گیا؟

نیوزی لینڈ کا حملہ آور پاکستان میں کیا کرتا رہا؟

نیوزی لینڈ: حملہ آور کون ہے؟

فریدہ کے مطابق عادل 2011 میں نیوزی لینڈ گیا اور 2016 میں اس میں تبدیلیاں آنا شروع ہو گئیں۔

جب ہم نے ان تبدیلیوں کے بارے میں ان سے پوچھا تو انھوں نے کہا ‘سنہ 2016 میں اسے ایک حادثہ پیش آیا تھا اور وہ گھر کی چوتھی منزل سے گر گیا تھا۔ اس کا طویل عرصہ علاج کیا گیا اور اس دوران وہ بستر پر ہی رہا۔

اس وقت اس کے غیر ملکی دوستوں نے اس کی مدد کی تھی، مجھے لگتا ہے کہ انھوں نے ہی اسے برین واش کیا تھا۔’ عادل کی والدہ نے بتایا کہ وہ نیوزی لینڈ میں مجرمانہ سرگرمیوں میں بھی ملوث رہا تھا اور 23 جولائی کو ہی جیل سے رہا ہوا تھا۔

نیوزی لینڈ پولیس

Reuters

’عادل میں کوئی تبدیلی محسوس نہیں کی

البتہ عادل اپنی ماں سے فون پر مسلسل بات کرتا تھا۔ ایسی ہی ایک گفتگو کو یاد کرتے ہوئے فریدہ نے کہا ‘ایک بار میں نے اسے فون پر گاڑی خریدنے کے بارے میں بتایا۔

اسے بہت غصہ آیا کہ آپ کو گاڑی کی ضرورت کیوں ہے؟ لوگ شام، عراق اور فلسطین میں بھوکے مر رہے ہیں ان کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے۔’ فریدہ نے یہ بھی بتایا کہ ان کی دو ستمبر کو عادل سے بات ہوئی تھی۔

اس دوران بھی انھوں نے اپنے بیٹے میں کوئی تبدیلی محسوس نہیں کی۔ انھوں نے بتایا کہ ‘کوئی تبدیلی محسوس نہیں ہوئی۔ اسے کھانا لینے باہر جانا پڑا۔ اس نے اپنی بہن کو ریکارڈ شدہ پیغام بھیجا کہ میں باہر جا رہا ہوں، میں آدھے گھنٹے میں فون کروں گا۔’

فریدہ کے مطابق ان کے بیٹے نے جو کچھ تین ستمبر کو کیا وہ ان کے نزدیک کسی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نہیں کیا گیا۔ وہ عادل کی فطرت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ ‘وہ بہت جلد بہت زیادہ غصے میں آ جاتا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words