ذرا اپنے اندر بھی جھانکیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ذرا اپنے اندر بھی جھانکیں

میرے ابو مرحوم فرماتے تھے کہ بیٹا بے شک سچ اور حقیقت تلخ ہوتی ہے۔ اور اس کا سامنا کرنا بھی بہت مشکل ہوتا ہے۔ آپ اگر سچ پر بھی ہیں تو کچھ مکار اور جھوٹے لوگ مل کر آپ کو جھوٹا ثابت کرنے میں کامیاب بھی ہو جائیں۔ اور آپ یہ حقیقت جانتے ہیں کہ آپ سچ پر ہیں۔ مگر معاشرے کے وڈیروں نے مل کر آپ کی عزت کا جنازہ نکالا ہے۔ اسی بات کو برداشت کرنا ہی کہانی کا مقصد ہے۔ میں بات کر رہا ہوں اس بیٹی کی جس نے پورے پاکستان کی عزت کو خاک میں ملا دیا اور بائیس کروڑ عوام کے سر نیچے کر دیے۔

اس محترمہ نے اسلام اور تہذیب کو مذاق بناتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ چھ محرم الحرام بروز ہفتہ چودہ اگست 2021 بمقام مینار پاکستان مناؤں گی جس جس نے میرے ساتھ ویڈیوز اور تصاویر بنانی ہے وہ مینار پاکستان پہنچ جائے۔ اس محترمہ نے ویسے تو اسلام میں عورت کے سارے حقوق کے منافی کام کیا۔ اور محرم الحرام کے تقدس کو پامال کیا یہ الگ بات ہے۔ یہ محترمہ جو اپنے آپ کو پاکستان کی بیٹی کہتی ہے۔ اس نے ٹک ٹاک پر فحش کپڑے پہن کر ایک غیر محرم کے ساتھ ویڈیوز بنا رہی ہے۔

کیا اس وقت پاکستان کی بیٹی کو اپنی عزت یاد نہیں رہی۔ وہ ریمبو نامی انسان اس کو اپنے باہوں میں اٹھائے اس کو باغ کی سیر کروا رہا تھا۔ اس محترمہ کو اگر پردہ اور حجاب سے اتنی محبت ہوتی تو تنگ کپڑے پہن کر دنیا کو اپنا جسم نہ دکھاتی۔ میرے لحاظ سے یہ ایک پلان ورک تھا جو کہ اس دن عملی جامہ پہنانا تھا۔ یہ الگ بات ہے اس عورت کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا جو ہوا میں اس کی پر زور مذمت کرتا ہوں۔

مگر یہ ساری کہانی اس کے اپنے ٹیم ممبر سے اس نے خود کروائی اور اپنے ہی کیمرہ مین سے یہ سب ریکارڈ بھی کروایا ہونا تو یہ چاہیے تھا جب لوگوں کے ہجوم نے اس پر حملہ کیا تو اس کے ساتھ جو بیس سے تیس لوگ تھے ان کو چاہیے کہ اس کو وہاں سے نکالتے مگر مجال ہے کہانی مکمل ہونے تک اس کو کسی نے ہلایا بھی ہو۔ اسی لیے وہاں پر کچھ بے حیا اور بدتہذیب لوگ تھے۔ جو ان کے ڈرامے کا حصہ بننے میں پیچھے نہیں رہیں۔ شرم آ نی چاہیے تھی ان نوجوانوں کو جو بنا سوچے اپنے آپ کو استعمال کروانے میں کامیاب ہوئے۔

اسی لیے میں اکثر یہ بات کرتا ہو اگر ہم وقت سے پہلے ذرا بھی سوچ لیں تو ہم بڑے سے بڑے نقصان سے بچ سکتے ہیں۔ مگر یہاں پر ہر بندہ اپنی فیم بڑھانے کے لیے اور کیمرہ کی آنکھ میں آ نے لیے اپنی ہر چیز کو داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ اب اس محترمہ کو دوپٹہ، حجاب، اور پردہ بھی یاد آ گیا ہے اور سوشل میڈیا کے ساتھ الیکٹرانک میڈیا اور خصوصی ڈیلی پاکستان کو اس پر بہت ترس آ یا ہے اس کے سر پر پیار کا ہاتھ رکھا اس وقت ڈیلی پاکستان کو یاد نہیں تھا۔

جب یہ محترمہ فحش کپڑوں میں ویڈیوز شوٹ کرتی تھی۔ کاش اس وقت بھی ڈیلی پاکستان اتنی سی تبلیغ کر دیتا کہ بہن یہ کام غیر مناسب ہے۔ اور اسلام عورت کو اس چیز کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ مگر افسوس کہ اس سائیڈ پر کسی کا دماغ کام نہیں کرتا ہے۔ میرا تو تمام پلیٹ فارم سے ایک ہی سوال ہے کہ عورت کا اسلام کے اندر کیا مقام ہے۔ اور اس کو کس کس کام سے روکا گیا ہے اور کیا کیا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ ہی سوال ان مردوں سے بھی ہے۔

آخر کیوں ہم نام کے مسلمان بنتے جا رہیں ہیں۔ ہماری اپنی مائیں، بہنیں کیوں پردہ سے اور اسلامی نظام سے نفرت کرتی ہیں۔ آخر کب تک گجرانوالہ، رنگ روڈ اور مینار پاکستان جیسے واقعات ہوتے رہیں گے اور دنیا ہمارا مذاق بناتی رہیں گے۔ جب ایسے غلیظ پروپیگنڈا کو فروغ دیا جاتا ہے تو اس وقت ہماری تعلیمی قابلیت اور شعور کہاں چلا جاتا ہے۔ اگر معاشرے میں ایک فرد گندگی کو پسند کرتا ہے۔ تو ہم سب اس کے سہولت کار کیوں بن جاتے ہیں۔

ہم مل کر اس کے خلاف مزاحمت کیوں نہیں کرتے ہیں۔ اس محترمہ کو پاکستان کے میڈیا نے شہرت دلوا دی مگر پوری دنیا ہمارے ماحول اور ملک پاکستان کا نام بدنام کروا دیا۔ آ خر اس محترمہ نے کون سا کمانڈو گوریلا کورس کر رکھا تھا کہ ہزاروں مردوں میں گھس گی۔ اور سر سے دوپٹہ اترا ہوا فحش لباس میں ملبوس جلوہ گر ہو گئی۔ مینار پاکستان میں تو درجنوں فیملی آتی ہیں کبھی کس کی مجال کہ کسی ہماری ماں، بہن یا بیٹی کو ہاتھ بھی لگائے۔

اس واقعہ کے بعد ذرا سوچیں ہمارے ملک کی سیاحت کو کتنا نقصان ہوا ہوگا اور کتنے غیر ملکی فیملی یہ سوچ کر یہاں شاید نہ آئیں کہ پاکستان عورت کے لے ایک غیر محفوظ ملک ہے۔ میرے بھائیو جیسے اس محترمہ کو اپنی عزت پیاری ہے اس کا میں نام نہیں لینا چاہتا ہم سب کو ہمارے ملک کی عزت پیاری ہے۔ یہ پاک مٹی ہماری ماں ہے۔ جب اس پر کوئی آواز اٹھاتا ہے۔ تو یقین مانے میرے وجود میں خون ایسے جوش مارتا ہے کہ ابھی دشمن کو نیست و نابود کر دو۔ مگر ہم نے مل کر اس ملک کو مثالی بنانا ہے۔ اور ہمیں لڑائی جھگڑے سے بچنا ہے۔ تاکہ دنیا کو ہمارے مہذب ہونے کا ثبوت مل سکے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments