افغانستان میں طالبان اور اسامہ بن لادن کی القا‏‏عدہ کے درمیان معاہدہ کتنی اہمیت رکھتا ہے؟

دریس ال بے - بی بی سی مانیٹرنگ

طالبان اور القاعدہ کے مختلف رہنما
BBC
افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں واپسی کے بعد ان کے دیرینہ اتحادی القاعدہ کے ساتھ ان کے تعلقات سے متعلق ایک اہم سوال پیدا ہو رہا ہے۔

القاعدہ طالبان کے ساتھ ایک معاہدے جسے بیعت یا ‘بیع’ کہتے ہیں، کا پابند ہے جو اسامہ بن لادن نے 1990 کی دہائی میں طالبان رہنما ملا عمر سے کی۔

اس کے بعد سے اس عہد کی کئی بار تجدید کی گئی لیکن یہ بھی درست ہے کہ طالبان نے عوامی طور پر اسے ہمیشہ تسلیم نہیں کیا ہے۔

امریکہ کے ساتھ سنہ 2020 کے امن معاہدے کے تحت طالبان نے القاعدہ یا کسی دوسرے شدت پسند گروپ کو اپنے کنٹرول والے علاقوں میں کام کرنے کی اجازت نہ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ انھوں نے 15 اگست کو کابل پر قبضے کے بعد اس عہد کا اعادہ بھی کیا ہے۔

لیکن وہ القاعدہ کو عوامی طور پر مسترد کرتے بھی دکھائی نہیں دیتے ہیں اور القاعدہ نے امریکہ کے خلاف اپنے رویے کو یقینی طور پر نرم نہیں کیا ہے۔

بیعت کی اہمیت

عربی لفظ بیع یا بیعت ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے کسی مسلمان رہنما سے وفاداری کا عہد اور یہ بہت سے جہادی گروہوں اور ان سے وابستہ افراد کے مابین وفاداری کی بنیاد ہے۔

اس میں دونوں فریقین کے لیے مخصوص ذمہ داریاں ہوتی ہیں اور اس میں کسی رہنما کی بیعت کا مطلب اس کی اطاعت کرنا ہے۔ اسلام میں عہد توڑنا سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔

القاعدہ کے معاملے میں یہ طالبان کے بانی ملا عمر اور ان کے جانشینوں کے ساتھ ان کی مؤثر طریقے سے اطاعت ہے کیونکہ القاعدہ نے انھیں ‘امیر المومنین’ کا اعزازی لقب دے رکھا ہے۔

شاید یہی ملا عمر کی طرف سے نائن الیون کے حملوں کے بعد اسامہ بن لادن کو امریکیوں کے حوالے کرنے سے انکار کا ایک سبب تھا جس کے نتیجے میں سنہ 2001 میں امریکی قیادت میں افغانستان پر حملہ ہوا۔

حالیہ دنوں میں بیعت کی خلاف ورزی کی ایک مشہور مثال اس وقت سامنے آئی جب عراق میں القاعدہ کے الحاق نے مرکزی کمان کے ساتھ اپنے عہد پر عمل کرنے سے انکار کر دیا اور اسی وجہ سے وہ ٹوٹ گیا اور اس کے بعد وہی گروہ نام نہاد دولت اسلامیہ (آئی ایس یا داعش) کے طور پر دوبارہ سامنے آیا۔

اسامہ بن لادن

Getty Images
اسامہ بن لادن نے حملے کے بعد بھی امریکہ کو دھمکیاں دینا جاری رکھیں

بہرحال دولت اسلامیہ اور القاعدہ ایک دوسرے کے شدید حریف ہیں۔

تاہم القاعدہ ہی واحد جہادی گروپ نہیں ہے جس نے افغان طالبان کے ساتھ بیعت کی ہے۔ پاکستانی طالبان نے پہلے بھی ان سے وفاداری کا عہد کیا تھا اور حال ہی میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد اس کی تجدید کی ہے۔

مرے ہوئے شخص کے ساتھ عہد

سنہ 2011 میں بن لادن کی موت کے بعد ان کے جانشین ایمن الظواہری نے القاعدہ اور اس کی علاقائی شاخوں کی جانب سے ملا عمر کو اپنی بیعت پیش کی۔

اس کی تجدید سنہ 2014 میں عراق اور شام کے علاقوں میں دولت اسلامیہ کی اپنی خلافت کے اعلان کے بعد کی گئی۔

لیکن جولائی سنہ 2015 میں طالبان نے اعلان کیا کہ ملا عمر دو سال پہلے مر چکے ہیں۔ شرمندگی کی بات یہ تھی کہ الظواہری نے ایک مردہ شخص سے بیعت کی تھی۔

الظواہری نے 13 اگست سنہ 2015 کو نئے رہنما ملا اختر محمد منصور کے ساتھ اپنے عہد کی تجدید کی اور ‘مقبوضہ مسلم سرزمین کے ہر ایک انچ کو آزاد کرانے کے لیے جہاد’ کا عزم کیا۔

منصور نے ‘بین الاقوامی جہادی تنظیم کے رہنما’ کی بیعت کو جلدی سے تسلیم کر لیا اور اس طرح القاعدہ کے عالمی جہادی ایجنڈے کی بظاہر توثیق ہوگئی۔

یہ طالبان کے اپنے پیغام سے سراسر متصادم ہے اور یہ اس گروپ کو افغانستان میں اسلامی حکومت کے نفاذ اور پڑوسی ریاستوں کے ساتھ معمول کے تعلقات تک محدود کر دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

افغانستان میں ’القاعدہ طالبان کی صفوں میں شامل‘

حامد کرزئی نے دہائیوں تک طالبان، امریکہ اور مجاہدین کے درمیان توازن کیسے رکھا

کیا طالبان کی واپسی افغانستان کو القاعدہ اور دہشتگرد تنظیموں کا گڑھ بنا دے گی؟

مئی سنہ 2016 میں امریکی فضائی حملے میں منصور کی ہلاکت کے بعد موجودہ رہنما ہیبت اللہ اخوندزادہ نے گروپ کی قیادت سنبھالی تو طالبان نے الظواہری کی جانب سے نئے سرے سے کیے گئے وعدے کو عوامی طور پر تسلیم نہیں کیا۔

اور نہ ہی انھوں نے اسے مسترد کیا۔

بیعت کی موجودہ حیثیت کے بارے میں یہ ابہام دونوں گروہوں کے مابین تعلقات کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کرتا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

اقتدار میں واپسی کے بعد طالبان کو اب دو سمتوں میں کھینچا جا رہا ہے۔

القاعدہ سے طالبان کے تعلقات سخت گیر جہادی حلقوں میں ان کی ساکھ کو مستحکم کرتے ہیں اور القاعدہ کے ساتھ تاریخی وفاداری کا مطلب یہ ہے کہ وہ اب اقتدار مل جانے کے بعد اپنے اتحادی کو چھوڑنے کے خواہشمند نہیں ہیں۔

لیکن طالبان امریکی امن معاہدے کے تحت بھی اپنی ذمہ داریوں اور حکومت کے لیے عملی نقطہ نظر کے پابند ہیں جو انھوں نے قبول کیا ہے۔

القاعدہ اور اس سے ملحق علاقائی گروہوں کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات نے افغان گروپ کی ‘فتح’ پر تعریف کے پل باندھ دیے ہیں اور اخوندزادہ کی ‘امیرالمومنین’ کی حیثیت کی توثیق کی ہے۔

طالبان نے فلسطینی اسلامی تحریک حماس جیسے دوسرے گروہوں کے پیغامات کو تسلیم کرنے کے باوجود عوامی طور پر ان پیغامات کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

لیکن بن لادن کے قریبی ساتھی امین الحق کی افغانستان آمد کی اطلاعات سے پتا چلتا ہے کہ دونوں گروہوں کے درمیان روابط برقرار ہیں۔

اور القاعدہ مبینہ طور پر حقانی نیٹ ورک کے ساتھ مضبوط روابط رکھتی ہے جو کہ طالبان کا حصہ ہے۔

یہ مسائل طالبان کو درپیش حقیقی مخمصے کی مثال ہیں۔

ایک طرف وہ بین الاقوامی سٹیج پر پہچان کے خواہاں ہیں اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ سب ان کی جانب سے انتہا پسندی کو مسترد کرنے کے ساتھ مشروط ہے۔

دوسری طرف وہ القاعدہ کے ساتھ 20 سال سے زیادہ کے اپنے اتحاد کو آسانی سے نظر انداز نہیں کر سکتے۔

ایسا کرنا ان کے عسکریت پسندوں اور دیگر انتہا پسند گروہوں کو ان سے دور کر سکتا ہے جنھوں نے افغانستان پر قبضہ کرنے کا پُرجوش انداز میں جشن منایا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words