نتھیا گلی میں جس فائیو سٹار ہوٹل کا افتتاح عمران خان نے کیا، کیا وہ اس کی تعمیر قانون کے خلاف ہوئی؟

محمد زبیر خان - صحافی

’نتھیا گلی میں بظاہر فائیو سٹار ہوٹل کھلنے جا رہا ہے۔۔۔ ہمیں نہیں بتایا جائے گا اس منصوبے کے لیے کتنے درخت کاٹے جائیں گے۔ کیا گلیات کے لیے نکاسی آب کا نظام بنایا گیا ہے؟ اس پراجیکٹ کے لیے پانی کہاں سے لایا جائے گا؟' ٹوئٹر پر فاطمیٰ نامی صارف نے اپنے اعتراضات کا کچھ یوں اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد کے سیاحتی علاقے گلیات میں حکومتی تعاون کے ساتھ کم از کم دو نجی ’میگا پراجیکٹ‘ شروع کیے جا رہے ہیں۔ مگر ان پر محکمہ وائلڈ لائف خیبر پختونخوا نے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

ان میں نتھیا گلی میں ایک فائیو سٹار ہوٹل اور ایوبیہ چیئر لفٹ کی تعمیر نو کے منصوبے شامل ہیں۔ حکومت کی جانب سے انھیں سیاحت اور روزگار کے فروغ کا ذریعہ کہا جا رہا ہے۔

مگر محکمہ وائلڈ لائف کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر یہ تعمیرات ماحولیات اور جنگلی حیات کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ محکمے کے حکام نے فوری طور پر کام بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

صوبائی محکمہ ماحولیات کے مطابق دونوں منصوبوں کے لیے قانون کے تحت ابھی تک محکمے میں نہ تو کوئی ماحولیاتی تشخیصی رپورٹ جمع کروائی گئی ہے اور نہ ہی این او سی یا منظوری لی گئی ہے۔

وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ ایبٹ آباد ڈویژن کے فارسٹ آفیسر کی جانب سے گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ اتھارٹی نے شنگریلا ہوٹل نتھیا گلی والی جگہ اور ایوبیہ چیئر لفٹ مقام (کم از کم ایک سو دس کنال اراضی) لیز کرتے ہوئے ایوبیہ نیشنل پارک کی حدود میں مداخلت کی ہے۔

ماحولیات اور وائلڈ لائف سے متعلق قوانین اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ایوبیہ نیشنل پارک میں کسی قسم کے ترقیاتی کام کیے جائیں جن سے ماحول کو خطرہ ہو۔

نتھیا گلی میں فائیو سٹار ہوٹل کے تعمیراتی منصوبے کا افتتاح خود وزیر اعظم عمران خان نے کیا ہے۔ اس موقع پر وفاقی اور صوبائی وزرا کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی۔

دونوں منصوبوں کے خلاف مقامی آبادیاں احتجاج کر رہی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ منصوبے مقامی لوگوں کے مفادات کا تحفظ کیے بغیر شروع کیے گئے ہیں اور ان سے گلیات کا حسن ’تباہ و برباد ہونے کے علاوہ بدترین ماحولیاتی مسائل پیدا ہوں گے‘ جس سے مقامی لوگوں کی زندگیاں خطرے کا شکار ہو سکتی ہیں۔

لیکن جی ڈی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر پراجیکٹس بابر حنان عباسی کے مطابق ان کا محکمہ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ سے بیٹھ کر معاملات کو حل کر لے گا۔ ’مذکورہ مقامات کا ایوبیہ نیشنل پارک سے کوئی تعلق نہیں ہے تاہم حکومتی ادارے آپس میں معاملات کو حل کر لیں گے۔‘

بابر حنان عباسی کے مطابق دونوں میگا پراجیکٹس میں ماحولیات اور مقامی آبادیوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ’دونوں پراجیکٹس میں ماحولیات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ فائیو سٹار ہوٹل کے منصوبے کے لیے مذکورہ کمپنی نے ایک نجی ماحولیاتی کمپنی کی خدمات حاصل کر کے محکمہ ماحولیات سے این او سی حاصل کرنے کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔‘

’نتھیا گلی میں فائیو سٹار ہوٹل کی تعمیر قوانین کی خلاف ورزی‘

محکمہ وائلڈ لائف کی جانب سے رواں سال اگست میں دو الگ خطوط گلیات ڈیویلمپنٹ اتھارٹی (جی ڈے اے) کو تحریر کیے گئے۔

حکومت کی جانب سے نتھیا گلی میں صوبے کے پہلے بین الاقوامی فائیو سٹار ہوٹل کی تعمیر کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ ہوٹل نتھیا گلی میں ایوبیہ نیشنل پارک کے داخلی راستے کے ساتھ ملحق سابق شنگریلا ہوٹل کے مقام پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔

محکمہ وائلڈ لائف نے اپنے خط میں کہا ہے کہ فائیو سٹار ہوٹل کی تعمیر کے لیے ’جی ڈی اے کے عملے نے ایوبیہ نیشنل پارک کی حدود میں تجاوز کیا۔ یہ تجاوز نہ صرف ملکی قوانین بلکہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔‘

دوسرے خط میں کہا گیا ہے کہ ایوبیہ چیئر لفٹ کی تعمیر نو منصوبے میں جی ڈی اے نے زمین مونال گروپ کو لیز کی ہے جس میں سے ساٹھ کنال زمین ایوبیہ نیشنل پارک کی حدود میں آتی ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ کمپنی نے وہاں پر اپنا ابتدائی کام شروع کر دیا ہے جو کہ غیر قانونی ہے۔ ’کمپنی کو اس سے فی الفور روکا جائے ورنہ محکمہ وائلڈ لائف خود کو حاصل کردہ قانونی اختیارات پر کارروائی کرے گا۔‘

دونوں خطوط میں وائلڈ لائف ایکٹ 2015 اور آرڈنینس 2020 کے حوالے دیے گئے ہیں جس کے تحت ایوبیہ نیشنل پارک کو محفوظ رکھنا آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔

نتھیا گلی میں فائیو سٹار ہوٹل سے ’سیاحت، روزگار کے فروغ کا ویژن‘

تحریک انصاف کی حکومت کا کہنا ہے کہ نتھیا گلی میں فائیو سٹار ہوٹل سے پاکستان میں سیاحت اور مقامی لوگوں کے لیے روزگار کو فروغ ملے گا۔

جی ڈی اے کے مطابق دونوں منصوبے علاقے میں حکومت کی ہدایات پر سیاحت کے فروغ کے لیے شروع کیے گئے۔ ان منصوبوں کی منظوری ’صوبائی کابینہ کے اجلاسوں میں دی گئی۔‘

نتھیا گلی میں قائم ہونے والے فائیو سٹار ہوٹل کے لیے 22 کنال جگہ بیرن گروپ اور ہلٹن ہوٹل کو مشترکہ طور پر چالیس سال لیز پر 86 کروڑ روپے کے عوض دی گئی ہے۔ کمپنی نے اس کے لیے 36 کروڑ ادا کر دیے ہیں اور باقی رقم بیس سال میں دو اقساط میں ادا کرنے کی پابند ہے۔

یہ چار منزلہ ہوٹل ہو گا جس میں 140 کمرے ہوں گے جب کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ریستوران، ہال اور دیگر سہولیات دستیاب ہوں گی۔ اس کو سٹیل سٹریکچر میں تیار کیا جائے گا۔ ممکنہ طور پر یہ ہوٹل 2024 میں تیار ہو جائے گا۔

ایوبیہ چیئر لفٹ کی تعمیر نو منصوبے میں مونال گروپ کو 106 کنال جگہ چالیس سال لیز کرایہ پر دی گئی ہے۔ اس کا سالانہ کرایہ نو کروڑ ساٹھ لاکھ ہے جبکہ 45 کروڑ روپے لیز کی مد میں یک مشت ادا کیے جائیں گے۔ ہر تین سال بعد کرایے میں دس فیصد اضافہ ہو گا۔

اس منصوبے میں 106 سیٹوں پر محیط ڈیجیٹل چیئر لفٹ کی تنصیب کی جائے گئی۔ ایوبیہ ٹاپ جہاں پر نیلم ویو ہوٹل کی عمارت موجود ہے وہاں مونال ہوٹل تعمیر کیا جائے گا جبکہ اس سے متصل رقبے پر تقریباً چالیس کنال پر تھیم پارک تعمیر کیا جائے گا۔ اس میں مختلف کیبن وغیرہ موجود ہوں گے۔ بین الاقوامی معیار کا ریزواٹ بھی قائم کیا جائے گا۔

ایوبیہ چیئر لفٹ کی تعمیر نو پر تحفظات

محکمہ وائلڈ لائف نے جی ڈی اے کو لکھے خط میں کہا ہے کہ ایوبیہ نینشل پارک میں 33 ممالیہ جانور، دو سو سے زیادہ قسم کے پرندوں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ ’ایوبیہ چیئر لفٹ والے مقامات پر تعمیرات سے ماحولیاتی اور قدرتی نظام کو ناقابل تلافی نقصانات ہوسکتے ہیں۔‘

اس میں متنبہ کیا گیا ہے کہ خطرے کا شکار جنگلی حیات کی آماجگاہ سکڑ سکتی ہے جس سے جنگلی جانور انسانوں کے آمنے سامنے آ سکتے ہیں۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ایوبیہ نیشنل پارک سے ملحق اور بلندی پر واقع مقامات پر بلند و بالا عمارات بنانے سے جنگلی حیات اور نباتات کو نقصان ہونے کے ساتھ ساتھ زمین کے کٹاؤ میں اضافہ ہوگا اور پانی کے چشمے آلودہ ہوں گے جس سے انسانی زندگیاں بھی خطرے کا شکار ہوں گی۔

خط میں کہا گیا ہے کہ میگا پراجیکٹ کے لیے ماحولیاتی تشخیصی رپورٹس لازمی ہیں۔ ’محکمہ جنگلات اور محکمہ وائلڈ لائف سے ضروری این او سی بھی حاصل کرنا لازم ہے۔‘

چیئر لفٹ کی تعمیر نو کا معاہدہ ’ماحول کے قتل عام کا لائسنس ہے‘

ادھر گلیات تحفظ موومنٹ کے چیئرمین سردار صابر کے مطابق ایوبیہ چیئر لفٹ کی تعمیر نو منصوبے پر جی ڈی اے نے جس کمپنی کو لیز دی ہے اس کو ’درختوں، ماحولیات اور جنگلی حیات کے قتل عام کا لائنس بھی دے دیا ہے۔‘

ان کا دعویٰ تھا کہ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کمپنی کو ’درختوں کی کٹائی، کسی بھی تعمیراتی منصوبے کے لیے کسی بھی ادارے بشمول محکمہ جنگلات، محکمہ ماحولیات اور وائلڈ لائف سے کسی قسم کے این او سی کی ضرورت نہیں ہے۔ اس قسم کے معاہدے سے درحقیقت گلیات تباہ و برباد ہو جائے گا۔ یہاں کے لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔‘

ماحولیات کے لیے کام کرنے والے ممتاز قانون دان ظفر اقبال ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ایوبیہ چیئر لفٹ منصوبے کی تعمیر نو کا معاہدہ ’پڑھ کر بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جی ڈی اے نے اس پر دسخط کر کے قوانین کے ساتھ شدید ترین مذاق کیا ہے۔ ایسے اقدامات کیے ہیں جس کا اسے کوئی اختیار حاصل ہی نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ ایسے ہی ہے کہ ’کسی کو کہا جائے کہ قتل کرو اور تمھارے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو گی۔‘

تاہم بابرحنان عباسی نے کمپنی کے ساتھ کیے گئے معاہدے میں اس شق سے انکار نہیں کیا بلکہ ان کا کہنا تھا کہ ایوبیہ چیئر لفٹ تعمیر نو کے معاہدے میں ’یہ شق صرف اور صرف سرمایہ کار کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے شامل کی گئی تاکہ یہ منصوبہ جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچ سکے اور اس میں تاخیر نہ ہو۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جی ڈی اے ہر صورت میں اس بات کو یقینی بنائے گا کہ تمام قوانین پر مکمل عملدرآمد ہو جس میں تمام ضروری این او سی بھی شامل ہیں۔‘

واضح رہے کہ جی ڈی اے نے اس معاہدے کے تحت کمپنی کو مذکورہ مقام پر لیز دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نو سال کی بچی جو تیل کی کمپنی کے خلاف مقدمہ جیت گئی

کے ٹو بیس کیمپ تک موٹر سائیکل ایڈونچر پر تنقید کیوں کی جا رہی ہے؟

جنگل ’سمارٹ‘ کیسے بنتا ہے اور اس حکومتی منصوبے سے پاکستان کو کیا فائدہ ہو گا؟

’10 بلین ٹری سونامی‘ منصوبہ: پاکستان کے ماحول دوست اقدامات کا عالمی سطح پر اعتراف

نتھیا گلی میں فائیو سٹار ہوٹل کی تعمیر پر کیا تحفظات ہیں؟

گلیات تحفظ موومنٹ کے جنرل سیکریٹری سردار افتخار کا کہنا تھا کہ ’ہم لوگ گلیات کے رہنے والے ہیں۔ ہر قانون کی رو سے گلیات کے جنگلات، جنگلی حیات، ماحولیات کے مالک اور ان کے محافظ ہیں۔

’ہم لوگ چاہتے ہیں کہ گلیات کا حسن قائم رہے۔ ایوبیہ نیشنل پارک میں جنگلی حیات محفوظ رہے مگر جی ڈی اے کے موجود منصوبوں سے لگتا ہے کہ وہ گلیات کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔‘

سردار افتخار کا کہنا تھا کہ ’نتھیا گلی کے ٹاپ پر ایوبیہ نیشنل پارک کے داخلی راستے پر بغیر قانونی تقاضے پورے کیے بغیر 24 کنال جگہ لیز پر دینا اور پھر اس کا افتتاح کرنے کا مطلب مقامی آبادیوں کو تباہ و برباد کرنا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس وقت پہلے ہی گلیات میں قائم 137 غیر قانونی عمارتوں کے خلاف قانونی اور اخلاقی جنگ لڑ رہے ہیں۔۔۔ اب جی ڈی اے کی جانب سے اپنے ہی قوانین کے برخلاف چار منزلہ عمارت اور 140 کمروں کی اجازت دے کر گلیات کی قبر کھودی جا رہی ہے۔‘

’ہم جب پوچھتے ہیں کہ یہ بتاؤ 140 کمروں میں پانی کی نکاسی کیسے ہو گی۔ کیا یہ پانی دریائے ہارو میں جائے گا اور پینے کے پانی کو آلودہ کرے گا؟ زیر زمین گٹر بنائیں گے تو پھر بھی تباہی ہے اور (دریا کے) پانی میں چھوڑیں گے تو پھر بھی تباہی ہے۔ پانی کہاں سے آئے گا؟‘

وہ کہتے ہیں کہ ایسے سوالات کرنے پر ان کے خلاف مقدمات درج کیے جاتے ہیں۔

سردار افتخار نے واضح کیا کہ وہ ’گلیات میں ایکو سیاحت کو تو خوش آمدید کہتے ہیں اور اس کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کو بھی تیار ہیں۔‘

’مگر یہ بلند و بالا عمارتیں تباہی کا پیغام لے کر آئیں گی۔ ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سیاح گلیات کے قدرتی حسن سے لطف اندوز ہونے کو آتے ہیں۔ گلیات کو عمارتوں کا جنگل لاہور، کراچی اور اسلام آباد نہ بنائیں۔ اس کو گلیات ہی رہنے دیں۔‘

ماحولیات کے شعبے کے قانون دان امان ایوب کا کہنا ہے کہ ایسی ہر رپورٹ کو منظر عام پر لانے کی ضرورت ہے جس سے ماحولیات کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہو۔

’ماحولیاتی تشخیصی رپورٹ اور محکمہ ماحولیات سے این او سی حاصل کرنے کے لیے لازمی ہے کہ اس کی سماعت کھلی کچہری میں ہو۔ مگر ابھی تک اس پراجیکٹ کی رپورٹ کے لیے کسی بھی کھلی کچہری کا انعقاد نہیں کیا گیا اور نہ اشتہار جاری نہیں ہوا ہے۔

ظفر اقبال ایڈووکیٹ کے مطابق انھوں نے اس حوالے سے کھلی کچہری کے انعقاد کی تاریخ مانگی مگر کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ملک کے وزیر اعظم کی جانب سے بظاہر ملکی قوانین کی خلاف ورزی پر بہت دُکھ پہنچا ہے۔ ان کو تمام تقاضے پورے کرنے سے پہلے منصوبے کا افتتاح نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘

دوسری جانب جی ڈی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر بابر حنان عباسی کے مطابق ہوٹل بنانے والی کمپنی نے محکمہ ماحولیات سے این او سی حاصل کرنے کی کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔ ’باقاعدہ طور پر محکمہ ماحولیات کو خطوط لکھ دیے ہیں۔ ہم یقین دلاتے ہیں کہ ہوٹل کی تعمیر میں بھی تمام قانونی تقاضے پورے ہوں گے۔ ماحولیات کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words