فورٹ نائٹ پرو: مشہور گیمر بینجی فشی کی اماں بھی پروفیشنل گیمر بن گئیں

جو ٹیڈی - سائبر رپورٹر

Benjy and Anne Fish
Galaxy Racer
این فش کہتی ہیں کہ فورٹ نائٹ گیم میں ان کی مہارت ’بیٹے سے بہت کم ہے‘
آن لائن گیم فورٹ نائٹ کے مشہور کھلاڑی بینجی فشی کی ماں بھی پروفیشنل گیمر بن گئی ہیں اور انھوں ای سپورٹس کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت انھیں گیم کھیلنے کے عوض معاوضہ ملے گا۔

اٹھاون سالہ این فش گذشتہ تین برسوں سے اپنے بیٹے بینجی فشی کی مینیجر ہیں۔

برطانیہ سے تعلق رکھنے والی این فش کا کہنا ہے کہ وہ رواں برس فروری سے آن لائن گیمز کھیل رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے، جو فورٹ نائٹ گیم کے دنیا کے بہترین دس کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں، سے جڑے رہنے کے لیے آن لائن گیم کھیلنے کا فیصلہ کیا۔

اور جلد ہی این فش کے فالوورز کی تعداد لاکھوں میں ہو گئی جس کی وجہ سے ای سپورٹس نے ان کے ساتھ معاہدہ کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ فورٹ نائٹ کھیلیں گیں یا اسے لائیو سٹریمنگ کریں گی۔

این فش اپنی گیمز کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹویچ‘ پر سٹریم کرتی ہیں جہاں ان کے فالوورز کی تعداد 430,000 سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ وہ اپنی ویڈیوز کو یوٹیوب پر ڈالتی ہیں جہاں ان کے فالوورز کی تعداد 165,000 ہے۔

Anne Fish

Galaxy Racer
این فش اپنے کمرے میں ویڈیو گیم کھیلتی ہیں جبکہ ان کے بیٹا دوسرے کمرے میں بیٹھا پروفیشنل مقابلوں میں حصہ لے رہا ہوتا ہے

این فش جس کمرے میں آن لائن گیم کھیل رہی ہیں، اس کے ساتھ والے کمرے سے ان کا بیٹا بینجی فشی بھی گیم کھیل رہا ہے۔ این فش اپنے فالوورز کو بتاتی ہے کہ ان کی اگلی منزل ’ایک ملین‘ ہے۔

جس کمرے سے وہ بات کر رہی ہیں اسی کمرے میں ایک لاکھ یوٹیوب سبسکرائبر کی ٹرافی بھی نظر آ رہی ہے۔

گیمنگ کمپنی کے ساتھ معاہدے کے بعد این فش کو ماہانہ آمدن ملے گی۔ البتہ انھوں اپنے معاہدے کی تفصیلات کسی کو نہیں بتائیں، اس لیے ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ انھیں کتنی رقم ملے گی۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں گیمنگ: ٹوکن والی گیم سے ٹیکن تک کا سفر

ویڈیو گیمز میں ڈگری تو کر لی، مگر کیا ملازمت بھی ملے گی؟

’میرا بیٹا آن لائن گیمز سے جوئے کی لت کا شکار بنا‘

انھیں ایسی ویڈیوز کی بھی ادائیگی ہو گی جو وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ڈالیں گی۔ اس کے علاوہ مختلف سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر مداحوں سے بات کرنے کے عوض بھی انھیں ادائیگیاں ہوں گی۔

این فش کہتی ہیں کہ پندرہ برس پہلے بیٹے کی نینٹینڈو 64 کھیلنے کے بعد سے انھوں نے کبھی گیم کنٹرولر کو ہاتھ تک نہیں لگایا تھا۔

وہ بتاتی ہیں ’میں شروع میں (فورٹ نائٹ) میں بہت خراب تھی۔ جب میں گیم میں ماری جاتی تو میں چھپ جاتی تھی۔

’پھر آہستہ آہستہ میں بہتر ہوتی گئی۔ میرے ریفلیکسز نوجوان کھلاڑیوں جیسے نہیں ہیں اسی لیے مجھے زیادہ سٹریجک ہونا پڑتا ہے۔ میں سوچتی تھی کہ اگر میں ایک اکیلے کھلاڑی کے طور پر چیمپئنز ڈویژن تک پہنچ جاؤں تو یہ بہت اچھا ہو گا۔ تو پھر میں چیمپئنز ڈویژن تک پہنچ گئی۔‘

این فش کہتی ہیں کہ ’اب میں کئی مقابلوں میں حصہ لے رہی ہوں لیکن ابھی تک کوئی انعامی کپ نہیں جیت پائی۔ مجھے وہاں تک پہنچنے کے لیے طویل سفر کرنا ہو گا۔ لیکن میں کوشش کر رہی ہوں۔‘

گیلیکسی ریسر کے چیف ایگزیگٹو آفیسر پول رائے بتاتے ہیں کہ انھوں نے اٹھاون سالہ این فش کے ساتھ کیوں معاہدہ کیا ہے۔

’گیلیکسی ریسر کے لیے مواد پیدا کرنے والوں میں بینجی فشی کی ماں کے شامل ہونے پر بہت خوش ہیں۔ انھوں نے فورٹ نائٹ کے ٹورنامنٹ ’دی اوبامیانگ کپ‘ میں اپنی مہارت کو منوایا ہے۔ اس صنعت میں ان کے تجربات اور بینجی فشی کی دیکھ بھال کے ان کے تجربے کی وجہ سے ای سپورٹ انھیں گیلیسکی ریسر فیملی میں خوش آمدید کہتا ہے۔‘

این فش کے بیٹے بینجیفش کہتے ہیں کہ ’یہ بہت عجیب ہے کہ آپ کی امی بھی ایک منجھی ہوئی گیمر ہے۔‘

’یہ بہت ہی عجیب ہے۔ کیونکہ میں ہمیشہ ایک گیمر بننا چاہتا تھا اور یہ حقیقت کہ آپ کی امی بھی ایک پروفیشنل گیمر ہے، بہت ہی زبردست ہے۔‘

’تین سال پہلے تو میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ اگر آپ مجھے بتاتے کہ میری ماں گیم کھیلتی ہے، تو مجھے یقین نہ آتا ہے۔ یہ بہت ہی حیران کن ہے۔‘

Anne Fish

Twitch/Mamabenjyfishy1
این فش نے اپنے بیٹے سے تعلق برقرار رکھنے کے لیے فورٹ نائٹ گیم کھیلنا شروع کی اور پھر ان کے فالوورز کی تعداد بڑھتی گئی

کئی ویب سائٹس کے مطابق بینجی فشی کا شمار فورٹ نائٹ گیم کے ٹاپ دس کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ ان کا شمار ایسے کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جو فورٹ نائٹ ورلڈ کپ 2019 میں بھی شریک ہوئے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنی اماں کو کچھ گُر بتائے ہیں لیکن زیادہ تر وہ خود ہی کھیلتی ہیں۔

این فش کہتی ہیں کہ یہ ان کا خواب ہے کہ وہ اس قابل ہو جائیں کہ اپنے بیٹے کے ساتھ مقابلے پر آ جائیں لیکن اس کے لیے انھیں بہت منزلیں طے کرنی ہیں۔

این فش کہتی ہیں۔ ’ اگر میں ورلڈ کپ کے مقابلے میں اپنے بیٹے کے مدمقابل آجاؤں تو یہ بہت ہی زبردست ہو گا۔

’لیکن ابھی تک میری اور بینجی کی مہارت میں بہت فرق ہے۔ میں نہیں سمجتھی کہ میں کبھی اس کے درجے تک پہنچ پاؤں گی۔ لیکن میں کوشش ضرور کروں گی۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words