پاکستان میں انتخابی اصلاحات: الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال اور بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کے حق کا بل قائمہ کمیٹی سے مسترد

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

انڈیا
AFP
پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں پارلیمانی امور کے بارے میں قائمہ کمیٹی نے ملک میں آئندہ ہونے والے عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال اور بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق بل کو مسترد کردیا ہے۔

ایک حکومتی وزیر نے الیکشن کمیشن پر رشوت لینے کا الزام لگا کر اس بل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 13 ستمبر کو متوقع ہے۔

حکمراں جماعت اکثریت کی بنا پر قومی اسمبلی سے اس بل کو منظور کروا چکی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال پر زور دیتے ہیں اور اس کے علاوہ الگ سے فنڈ بھی رکھے گئے ہیں جبکہ حزب مخالف کی جماعتیں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کو یکسر مسترد کرچکی ہیں اور ان سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات میں الیکٹرانک وونٹگ مشین کا استعمال الیکشن چرانے کے مترادف ہے۔

الیکشن کمیشن نے بھی اس مشین کے استعمال پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اس حوالے سے 37نکات تحریری طور پر قائمہ کمیٹی کے حوالے کیے ہیں۔

ریلوے کے وفاقی وزیر اعظم سواتی کی طرف سے الیکشن کمیشن پر رشوت لینے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں اور اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ ایسے اداروں کو آگ لگا دینی چاہیے۔

الیکشن کمیشن کے حکام نے وفاقی وزیر کی طرف سے ان الزامات کے بعد 13 ستمبر کو الیکشن کمیشن کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔

قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں کیا ہوا؟

سینیٹر تاج حیدر کی سربراہی میں پارلیمانی امور سے متعلق قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انتخابی اصلاحات کے بل پر ووٹنگ ہونا تھی۔

اجلاس شروع ہونے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے سینیٹر اعظم سواتی نے سوال اٹھایا کہ بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر ثمینہ ممتاز سخت ڈپریشن میں ہیں کیونکہ ان کی اس کمیٹی میں شمولیت پر اعتراض اٹھایا گایا تھا جس پر کمیٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو چھوڑیں کیونکہ اگر انھوں نے اس بارے میں کوئی رولنگ دی تو چیئرمین سینیٹ کے عہدے کا تقدس پامال ہوگا۔

واضح رہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر ثمینہ ممتاز کو چیئرمین سینیٹ نے اپنے صوابدیدی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے اس کمیٹی کا رکن بنایا تھا جبکہ سینیٹ کے رولز آف بزنس میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے۔

اعظم سواتی کی طرف سے پھر یہ سوال اٹھایا گیا کہ ووٹنگ میں مزکورہ سینیٹر کو بھی شامل کیا جائے جس پر سینیٹر تاج حیدر کا کہنا تھا کہ ووٹنگ کے دوران کسی بھی رکن کا موجود ہونا ضروری ہے اگر وہ آجائیں تو وہ اپنا ووٹ کاسٹ کرسکتی ہیں۔

حکمراں جماعت کے ارکان نے جب یہ دیکھا کہ اس کے پاس عددی اکثریت بھی نہیں ہے اور حکمراں اتحاد میں شامل سینیٹر ثمینہ ممتاز کو بھی ووٹنگ کے لیے آن لائن نہیں لیا جارہا تو اس کو بنیاد بناتے ہوئے وفاقی وزرا سمیت حکمراں اتحاد میں شامل کمیٹی کے ارکان قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی سے واک آوٹ کر گئے۔

حکمراں جماعت کے ارکان کے بائیکاٹ کے بعد قائمہ کمیٹی نے کثرت رائے سے انتخابی اصلاحات کے بل میں ملک میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات کے دوران الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال اور بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق شقوں کو مسترد کردیا جبکہ انتخابات میں کامیاب ہونے کے60 روز کے اندر حلف نہ اٹھانے والے رکن کی سیٹ خالی تصور کرنے شق کو منظور کرلیا تاہم اس کا اطلاق اگلے عام انتخابات پر ہوگا۔

ووٹنگ مشین کے بارے میں سیاسی جماعتوں میں اختلاف رائے کیوں ہے؟

عمران خان

Getty Images
وزیر اعظم عمران خان ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال پر بضد ہیں

پاکستان تحریک انصاف

حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف اور خاص طور پر وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ ملک میں آئندہ ہونے والے عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو استعمال کیا جائے۔ وزیر اعظم کے بقول ووٹنگ مشین کے استعمال سے شفاف الیکشن کروانے میں مدد ملے گی اور کسی کو بھی الیکشن کے نتائج پر اعتراض نہیں ہوگا۔

لیکن اعتراض کیا جاتا ہے کہ حکومت نے الیکشن کمیشن اور پارلیمنٹ میں موجود حزب مخالف کی جماعتوں کو اعتماد میں لیے بغیر وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین تیار کرنے کا حکم دیا۔

مشین تیار ہونے کے بعد اس کا عملی مظاہرہ الیکشن کمیشن سمیت دیگر فورم پر کروایا گیا۔

پارلیمانی امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر بابر اعوان کا کہنا ہے کہ ای وی ایم کا انٹرنیٹ سے کوئی لنک نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس مشین سے نکلنے والی ہر چیز ٹرانسپیرنٹ ڈبے میں گرے گی۔

بابر اعوان کے بقول اگر الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں کسی ٹمپرنگ کی شکایت ہو تو اس کو موقع پر ہی درست کیا جاسکے گا۔

حکومت کا موقف ہے کہ انڈیا سمیت دنیا کے پیشتر ممالک میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال ہوتا ہے اور تمام سیاسی جماعتیں ان انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرتی ہیں اس لیے پاکستان میں اس مشین کو متعارف کروایا جا رہا ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ ان مشینوں کی خریداری کے لیے بجٹ، سکیورٹی اور سٹوریج کے لیے الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے جس کا ابھی تک الیکشن کمیشن نے جواب نہیں دیا۔

حزب مخالف کی جماعتوں کا موقف

پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ انتخابی اصلاحات کے معاملے پر حکومت نے انھیں اعتماد میں نہیں لیا اور اپنی من مانی کرتے ہوئے انتخابی اصلاحات کے بل کو قومی اسمبلی سے منظور کروا لیا۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی شاہنواز رانجھا کے مطابق ان کے دور حکومت میں انتخابی اصلاحات کے بارے میں جو کمیٹی قائم کی گئی تھی اس نے بہت سارا کام کیا ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس کمیٹی میں پاکستان تحریک انصاف سمیت اس وقت پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی تھی۔ شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت انتخابی اصلاحات لانے میں سنجیدہ ہے تو وہ پارلیمانی کمیٹی کی تجاویز سے استفادہ حاصل کرسکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جس ملک کا وزیر اعظم قائد حزب اختلاف سے بات چیت تو دور کی بات ہاتھ ملانے کا بھی روادار نہ ہو تو وہاں پر متفقہ طور پر اصلاحات کیسے لائی جاسکتی ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات تمام سیاسی جماعتوں کا مشترکہ معاملہ ہے لیکن حکومت دھونس کے ذریعے ان اصلاحات کو لانا چاہتی ہے وہ کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ملک میں بسنے والے زیادہ تر لوگ بینکوں کے باہر لگی ہوئی اے ٹی ایم مشین چلانے کا پتا نہیں ہے وہ کیسے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال کریں گے۔‘

شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ دنیا کے متعدد ملکوں اور خاص طور پر یورپی ملکوں نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کے بعد اس کو مسترد کردیا ہے۔

ووٹ

EPA

انھوں نے کہا کہ ’حکومت بھی اس بات کا تسلیم تو ضرور کرتی ہے کہ انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کا کام ہے لیکن دوسری طرف ان پر مبینہ طور پر دباؤ ڈالتے ہوئے الیکشن کمیشن کے حکام کو اس بات پر مجبور کر رہی ہے کہ وہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے حق میں بات کرے اور حکومت کی اس خواہش کو پورا کرے۔

انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ابھی ووٹنگ مشین کے استعمال کی منظوری بھی نہیں دی لیکن اس کے باوجود حکومت نے موجودہ بجٹ میں ان مشینوں کی خریداری کی مد میں کروڑوں روپے رکھے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے تحفظات

انتخابی اصلاحات کے بل اور آئندہ عام انتحابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کے بارے میں الیکشن کمیشن نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ ایسا کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کرنا ضروری ہے لیکن حکومت سادہ اکثریت سے اس بل کو پارلیمنٹ سے منظور کروا کر اس پر عمل درآمد کرنے پر بضد ہے۔

الیکشن کمیشن کے حکام نے ای وی ایم کے استعمال کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے37 نکات تحریری شکل میں پارلیمانی امور کے بارے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتائے ہیں۔

ان تحفظات میں سب سے بڑا نکتہ ہے کہ الیکٹرانک مشین قابل بھروسہ نہیں ہے اور اس کے استعمال سے دھاندلی کو نہیں رو کا جاسکتا اور اس مشین کو کسی وقت بھی ہیک کیا جاسکتا ہے۔

الیکشن کمیشن نے اپنے تحفظات میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ اس مشین کے سافٹ ویئر میں کسی وقت بھی تبدیلی لائی جا سکتی ہے اس کے علاوہ الیکشن کمیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے کہ ہر مشین ایک ہی دن میں صحیح طریقے سے کام کرے گی۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ملک میں شرح خواندنگی کم ہونے اور ووٹروں میں اس مشین کے استعمال کے بارے میں میں آگہی نہ ہونے کی وجہ سے اس مشین کو انتخابات میں استعمال کرنا ٹھیک نہیں ہوگا۔

الیکشن کمیشن نے اپنے تحفظات میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے سٹاف کو اس مشین کے استعمال کی تربیت دینے میں وقت بہت کم ہے اس کے علاوہ سب سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ اس مشین کے استعمال کے سلسلے میں سٹیک ہولڈز یعنی سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے موجود نہیں ہے اور ایسی صورت حال میں انتخابات میں غیر جانبدارانہ ہونے پر سوال اٹھیں گے۔

اپنے تحفظات میں الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا معاملہ جلد بازی اور عجلت میں کیا گیا ہے جو کہ بین الاقوامی معیار کی نفی ہے۔

الیکشن کمیشن نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے بارے میں اپنے تحفظات میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ یہ مشین ووٹروں کے کم ٹرن آؤٹ، ریاستی مشینری کے ناجائز استعمال، الیکشن میں دھاندلی، بددیانت پولنگ سٹاف کی تعیناتی اور انتخابی لڑائی جھگڑوں کو بھی نہیں روک سکتی۔

الیکشن کمیشن نے اپنے تحفظات میں ان یورپی ملکوں کا بھی ذکر کیا ہے جہاں پر الیکٹرانک ووٹنگ کا استعمال اس مشین پر اٹھنے والے اعتراضات کی وجہ سے روک دیا گیا ہے۔ ان ملکوں میں جرمنی، ہالینڈ، اٹلی، فرانس اور آئرلینڈ شامل ہیں۔

انتخابی امور کی نگرانی کرنے والے ادارے پلڈیٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ حکومت دوسرے سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر انتخابی اصلاحات لانا چا رہی ہے جو کہ ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے انعقاد سے قبل ہی اس کو متنازع بنانے کی طرف ایک قدم ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ بات ان کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ وزیر اعظم عمران خان الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال پر ہی کیوں ضد کر رہے ہیں جبکہ دوسرے سٹیک ہولڈر اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جس طرح ملکی سیاست میں تلخی بڑھتی جارہی ہے اور سیاسی اختلافات ذاتی احتلافات میں تبدیل ہو رہے ہیں، تو ایسے حالات میں متفقہ انتخابی اصلاحات لے کر آنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words