راولپنڈی: موٹر وے پولیس کے ایڈیشنل آئی جی سجاد افضل آفریدی حملے میں زخمی، بھائی ہلاک

راولپنڈی کے علاقے فتح جھنگ روڈ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں موٹر وے پولیس کے ایڈیشنل آئی جی سجاد افضل آفریدی شدید زخمی ہوگئے جبکہ ان کا چھوٹا بھائی موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔

مقتول نعمان افضل آفریدی ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کے افسر تھے اور وہ گریڈ بیس میں ترقی کے لیے تربیتی کورس کرنے کے لیے اسلام آباد آئے تھے۔

مقامی پولیس کے مطابق موٹر وے پولیس کے ایڈیشنل آئی جی سجاد افضل آفریدی اپنے چھوٹے بھائی نعمان کے ہمراہ ویک اینڈ پر اپنے گھر جارہے تھے کہ اسی دوران فتح جنگ انٹرچینج کے قریب پولیس کنٹرول پر کسی مشوک گاڑی کی کال چلی جس کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ فتح جنگ انٹرچینج کی طرف جارہی ہے۔

اس کال کے بعد ایڈیشنل آئی جی سجاد افضل آفریدی نے پولیس کے مطابق اس گاڑی کو تلاش کرنا شروع کردیا اور جب تھوڑی دور جا کر کالے شیشوں والی ایک سفید رنگ کی گاڑی نے مذکورہ پولیس افسر کی گاڑی کو اوور ٹیک کیا تو ایڈیشنل آئی جی موٹر وے نے اپنی گاڑی کو اس مشکوک گاڑی کے پیچھے لگا دیا۔

پولیس نے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ فتح جنگ ٹول پلازہ کے قریب یہ گاڑی رک گئی اور جونہی ایڈیشنل آئی جی کی گاڑی قریب آئی تو مشکوک گاڑی سے فائرنگ کی گئی جس سے ایڈیشنل آئی جی کے بھائی نعمان افضل موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

اس واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فتح جنگ ٹول پلازہ پر ایک سفید رنگ کی گاڑی جو کہ پہلے سے ہی کھڑی ہے اس میں موجود افراد ٹول ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ کچھ دیر کے بعد کالے شیشوں والی ایک سفید رنگ کی گاڑی بڑی تیزی میں آتی ہے لیکن ٹول پلازہ کا بیئریر نیچے ہونے کی وجہ سے کچھ لمحموں کے لیے رکتی ہے۔ اتنی دیر میں ایڈیشنل آئی جی موٹر وے کی گاڑی اس مشکوک گاڑی کے پیچھے رکتی ہے اور پھر مشکوک گاڑی میں سوار ملزمان اپنی گاڑی کو ریورس کر کے پولیس افسر کی گاڑی کے ساتھ ٹکراتے ہیں۔ اتنی دیر میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھے نعمان افضل نیچے اترتے ہیں تو ملزمان گاڑی سے فائرنگ شروع کردیتے ہیں۔ اس سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فائرنگ سے نعمان افضل زمین پر گر جاتے ہیں۔

مقامی پولیس کے مطابق نعمان افضل موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ دو گولیاں ایڈیشنل آئی جی موٹر وے سجاد افضل آفریدی کو بھی لگیں جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔

موٹر وے پولیس کے حکام نے اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی درخواست وزارت داخلہ کو بھیج دی ہے۔

اس سی سی ٹی وی فوٹیج میں یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ ایڈشنل آئی جی موٹر وے کا گن مین موقع پر موجود تھا اور جب فائرنگ ہوئی تو اسے کلاشکوف اٹھائے دیکھا جاسکتا ہے۔

سجاد افضل آفریدی کو زخمی حالت میں پمز ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے جہاں پر ڈاکٹروں کے مطابق انھیں دو گولیاں لگی ہیں جن کو نکالنے کے لیے آپریشن کیا جارہا ہے۔

مقتول نعمان کی لاش کو بھی ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے جہاں پر پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد اسے ورثا کے حوالے کردیا جائے گا۔

پولیس نے ملزمان کی کی گرفتاری کے لیے تمام علاقے کی ناکہ بندی کردی ہے لیکن فوری طور پر کوئی ملزم گرفتار نہیں ہوا۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کی ہر پہلو سے تحققیات کر رہی ہے اور پولیس نے ٹول پلازہ پر موجود ملازمین کے ابتدائی بیانات بھی قلمبند کیے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words