9/11 حملوں کے 20 برس: گیارہ ستمبر 2001 کو امریکہ میں کیا ہوا تھا؟

پیٹرک جیکسن - بی بی سی نیوز

9/11
Getty Images
20 برس قبل آج ہی کے دن امریکہ کے شہر نیویارک میں دہشت گردی کی وہ کارروائی ہوئی تھی جس نے دنیا کا منظر نامہ ہی بدل کر رکھ دیا۔

وہ 11 ستمبر 2001 کی تاریخ اور منگل کا دن تھا جب خودکش حملہ آوروں نے چار امریکی مسافر بردار طیارے اغوا کر کے انھیں نیویارک اور واشنگٹن میں اہم مقامات سے ٹکرانے کے منصوبے پر عمل کیا۔

ان میں سے تین طیارے تو اپنے مقررہ اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے جبکہ ایک ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی گر کر تباہ ہو گیا۔

ان حملوں کو نائن الیون حملوں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور ان میں تین ہزار کے قریب افراد مارے گئے اور یہ حملے نہ صرف امریکیوں کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے 21ویں صدی کے اذیت ناک ترین واقعات میں ایک قرار دیے جاتے ہیں۔

طیارے کہاں سے اغوا ہوئے اور ان کا ہدف کیا تھا؟

چار امریکی طیارے اغوا کرنے والے ہائی جیکروں کی کل تعداد 19 تھی جن میں سے کم از کم چار پائلٹ بھی تھے۔

نائن الیون حملے

BBC

جو طیارے ہائی جیکروں نے اغوا کیے تھے ان میں امریکن ایئرلائنز اور یونائیٹڈ ایئرلائنز کے دو بوئنگ 767 اور دو بوئنگ 757 طیارے شامل تھے۔

یہ طیارے امریکہ کے مشرقی علاقوں سے مغربی علاقوں کے لیے طویل دورانیے کی پرواز کر رہے تھے اور ان میں اسی تناسب سے زیادہ ایندھن بھی موجود تھا۔

ان دہشت گرد حملوں کا پہلا ہدف نیویارک کے فنانشل ڈسٹرکٹ میں واقع ورلڈ ٹریڈ سینٹر تھا جس کے دو ٹاورز کو امریکن ایئرلائنز اور یونائیٹڈ ایئرلائنز کے دو بوئنگ 767 طیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔

نائن الیون حملے

BBC

امریکی ریاست میساچوسٹس کے شہر بوسٹن کے لوگن ہوائی اڈے سے لاس اینجلس کے لیے پرواز بھرنے والی امریکی ایئرلائنز کی پرواز 11 اغوا کیے جانے کے بعد مقامی وقت کے مطابق صبح 08:46 پر ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے شمالی ٹاور سے ٹکرائی۔ طیارے نے ٹاور کی 93ویں سے 99 ویں منزل کو نشانہ بنایا۔

دنیا ابھی اس جھٹکے سے سنبھل ہی نہیں پائی تھی کہ 18 منٹ بعد دنیا میں کروڑوں افراد نے اپنی ٹی وی سکرینز پر لوگن ہوائی اڈے سے ہی پرواز کرنے والی یونائیٹڈ ایئرلائنز کی پرواز 175کو 09:03 منٹ پر جنوبی ٹاور سے ٹکراتے دیکھا۔

ہائی جیک کیے جانے والے تیسرے طیارے نے ریاست ورجینیا کے واشنگٹن ڈیلس ہوائی اڈے سے پرواز کر کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کا رخ کیا اور وہاں امریکی محکمۂ دفاع کی مشہورِ زمانہ عمارت پینٹاگون کے مغربی حصے کو مقامی وقت کے مطابق 09:37 پر نشانہ بنایا۔

نائن الیون حملے

BBC

یہ بھی پڑھیے

’نائن الیون کا ذمہ دار خود امریکہ‘،خالد شیخ کا اوباما کو خط

نائن الیون حملوں کے 19 سال: القاعدہ اس وقت کہاں ہے اور کتنی طاقتور ہے؟

جب نائن الیون حملوں کا منصوبہ ساز ’میرے ہاتھ آتے آتے رہ گیا‘

نووآرک کے ہوائی اڈے سے اڑنے والے چوتھے طیارے کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس کا ہدف واشنگٹن میں ہی واقع امریکی پارلیمان کی عمارت یعنی کیپیٹل ہل تھی لیکن وہ راستے میں ریاست پینسلوینیا کے مغربی علاقے میں شینکسویل کے مقام پر مقامی وقت کے مطابق 10:03 منٹ پر اس وقت گر کر تباہ ہو گیا جب طیارے کے مسافروں نے دیگر حملوں کی خبر سننے کے بعد مزاحمت کی۔

نائن الیون حملے

BBC

کتنے لوگ مارے گئے؟

ان حملوں میں 19 ہائی جیکروں کے علاوہ 2,977 افراد مارے گئے جن میں سے اکثریت کا تعلق نیویارک سے تھا۔

ان حملوں میں مرنے والوں میں سب سے کم عمر دو سالہ کرسٹین لی ہینسن تھیں جو اپنے والدین، پیٹر اور سو کے ہمراہ ایک طیارے میں تھیں۔

مرنے والوں میں سب سے عمر رسیدہ شخص 82 سالہ رابرٹ نارٹن تھے جو اپنی بیوی جیکولین کے ہمراہ ایک شادی کی ایک تقریب میں شرکت کے لیے طیارے میں سفر کر رہے تھے۔

تباہ ہونے والے چاروں طیاروں میں سوار مسافروں اور جہاز کے عملے کی تعداد 246 تھی جن میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچ سکا۔

نائن الیون حملے

BBC

سب سے زیادہ ہلاکتیں نیویارک میں ہوئیں جہاں ان حملوں کے نتیجے میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دونوں ٹاور منہدم ہو گئے۔ ٹوئن ٹاورز سے طیاروں کے ٹکرانے اور پھر ان کے انہدام کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد 2606 تھی۔

ان میں سے اکثریت فوری طور پر ہلاک ہوئی جبکہ کچھ زخموں کی تالاب نہ لاتے ہوئے ہسپتالوں میں وفات پا گئے۔

جب پہلا طیارہ شمالی ٹاور سے ٹکرایا تو اس وقت ٹاور میں 17,400 افراد موجود تھے۔

طیارہ جس منزل کے ساتھ ٹکرایا اس سے اوپر والی منزلوں پر موجود کوئی شخص بھی زندہ نہیں بچ سکا البتہ جنوبی ٹاور میں طیارہ جس منزل سے ٹکرایا اس کی بالائی منزلوں پر موجود 18 لوگ زندہ بچ گئے۔

نائن الیون حملے

BBC

نیویارک میں طیارے ٹکرانے کے بعد امدادی کارروائیوں کے لیے پہنچنے والے کارکنوں کی بھی بڑی تعداد عمارت کے انہدام کے وقت اس کی زد میں آئی اور ریسکیو عملے کے 441 لوگ بھی زندگی کی بازی ہار گئے۔ فائر اور پولیس ڈپارٹمنٹ کے علاوہ پورٹ اتھارٹی کے ملازمین بھی مرنے والوں میں شامل تھے۔

پینٹاگون پر ہونے والے حملے میں محکمۂ دفاع کی عمارت میں موجود 125 لوگ ہلاک ہوئے۔

ان حملوں میں مرنے والے افراد کا 77 مختلف ممالک سے تعلق تھا۔

ہزاروں لوگ ان حملوں میں زخمی ہوئے اور بعد میں حملے کی وجہ سے دوسری بیماریوں میں مبتلا ہوئے۔ ان میں فائر فائٹر زہریلے ملبے میں کام کرنے کی وجہ سے بیمار ہوئے۔

نائن الیون حملے

BBC

حملہ آور کون تھے؟

ان حملوں کی منصوبہ بندی القاعدہ نامی شدت پسند گروہ نے افغانستان میں کی تھی۔

القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو اسلامی دنیا کے جھگڑوں کا ذمہ دار قرار دیا۔

19 حملہ آوروں کی چار ٹولیوں نے یہ کارروائیاں کیں۔ ان چار ٹولیوں میں تین ٹولیاں پانچ پانچ افراد پر مشتمل تھیں جبکہ ایک میں چار افراد تھے جن کا طیارہ پینیسلونیا میں مسافروں کی مزاحمت کی وجہ سے گر کر تباہ ہو گیا۔

نائن الیون حملے

BBC

ہر گروپ میں ایک ایسا شخص موجود تھا جس نے طیارہ اڑانے کی تربیت حاصل کر رکھی تھی۔ انھوں نے یہ تربیت امریکہ کے فلائنگ سکولوں سے ہی حاصل کی تھی۔

اسامہ بن لادن کی طرح 15 ہائی جیکروں کا تعلق سعودی عرب اور دو کا تعلق متحدہ عرب امارت سے تھا۔ بقیہ دو میں سے ایک کا تعلق مصر جبکہ دوسرے کا لبنان سے تھا۔

نائن الیون حملے

BBC

امریکہ نے کس طرح جواب دیا؟

نائن الیون حملوں کے ایک ماہ سے کم عرصے میں صدر جارج ڈبلیو بش نے القاعدہ کو ختم کرنے اور اسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے کے لیےایک عالمی اتحاد کے ہمراہ افغانستان پر پلغار کر دی۔

امریکی فوج 2011 میں بالاخر پاکستان میں اسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے اور ہلاک کرنے میں کامیاب ہوئی۔

نائن الیون حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز خالد شیخ محمد کو 2003 میں پاکستان سے گرفتار کر کے گوانتانامو بے رکھا گیا جہاں وہ اب بھی موجود ہیں اور مقدمے کی کارروائی شروع ہونے کی منتظر ہے۔

نائن الیون حملے

BBC

القاعدہ اب بھی موجود ہے۔ وہ افریقی صحرائے اعظم کے جنوبی حصے میں مضبوط ہے۔ اس کے ارکان اب بھی افغانستان میں موجود ہیں۔

بیس برسوں بعد امریکی افواج افغانستان سے واپس جا رہی ہیں جس کے بعد ایسے خدشات جنم لے رہے ہیں کہ شدت پسند اسلامی گروہ ایک بار پھر واپس آ سکتا ہے۔

نائن الیون کی میراث

نائن الیون حملوں کے بعد ہوائی سفر کو محفوظ بنانے کے لیےحفاظتی اقدامات کو سخت کیا گیا۔

نائن الیون حملے

BBC

امریکہ میں ہوائی سفر کو محفوظ بنانے کے لیے ’ٹرانسپورٹیشن سیکورٹی ایڈمنسٹریش’ کا قیام عمل لایا گیا جس کے فرائض میں ہوائی اڈوں اور ہوائی جہازوں میں سکیورٹی کو سخت کرنا تھا۔

ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے ٹوئن ٹاورز کے ملبے کو وہاں سے اٹھانے میں آٹھ ماہ لگے۔ گراؤنڈ زیرو پر ایک میوزیم بن چکا ہے اور اس کے اردگر مختلف ڈیزائن کی عمارتیں کھڑی ہو چکی ہیں۔

اب ٹوئن ٹاور کی جگہ ’ون ورلڈ ٹریڈ سنٹر یا فریڈم ٹاور تعمیر ہو چکا ہے جس کی اونچائی 1,776 فٹ ہے اور یہ تباہ ہونے والے شمالی ٹاور جس کی اونچائی 1368 فٹ تھی سے 408 فٹ بلند ہے۔

پینٹاگان کی تعمیر نو میں ایک سال سے بھی کم وقت لگا اور اگست 2002 میں پینٹاگون کا عملہ واپس اسی جگہ واپس پہنچ چکا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words