کرسٹیانو رونالڈو: مانچسٹر یونائیٹڈ کے سر ایلکس فرگوسن اور رونالڈو کا رشتہ جو کوچ اور کھلاڑی سے کہیں بڑھ کر تھا

عبدالرشید شکور - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

رونالڈو اور فرگوسن
Getty Images
’تھوڑی دیر کے لیے آنکھیں بند کر لیں اور سوچیں کے آپ رونالڈو کبھی گئے ہی نہیں تھے۔‘

یہ الفاظ ایک انتہائی پرجوش کمنٹیٹر کے تھے جو گذشتہ روز رونالڈو کو مانسچسٹر یونائیٹڈ کے لیے لگ بھگ 12 برس بعد گول کرتے دیکھ رہے تھے۔ یہ جوش صرف اس کمنٹیٹر کا ہی نہیں کلب سے انسیت رکھنے والے اکثر مداحوں کا بھی تھا۔

’یہ رونالڈو ہی کر سکتے تھے‘، ایک مداح نے ٹوئٹر پر لکھا اور ایسے ہزاروں دیگر مداح بھی رونالڈو کی صلاحیتوں کے پل باندھتے نظر آئے۔ لیکن جس شخص نے سب سے پہلے ان صلاحیتوں کو پرکھا اور رونالڈو کو دنیا سے متعارف کروایا وہ مانچسٹر یونائیٹڈ کے سابقہ مینیجر سر ایلکس فرگیوسن تھے۔

کرسٹیانو رونالڈو اور سر ایلکس فرگوسن کا تعلق بظاہر کھلاڑی اور مینیجر کا دکھائی دیتا تھا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ اس تعلق کی بنیاد ان جذبات اور احساسات پر قائم ہے جو ایک باپ اپنی اولاد کے لیے رکھتا ہے۔ رونالڈو کے لیے سر ایلکس فرگوسن صرف ایک باس ہی نہیں ہیں۔

مانچسٹر یونائیٹڈ کلب کرسٹیانو رونالڈو کے دل کے قریب ہے لیکن یہ بات سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ دوسری مرتبہ اس کلب میں ان کی آمد کی سب سے بڑی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ سر ایلکس فرگوسن کی قد آور شخصیت ہے۔

رونالڈو نے جب اٹلی کا کلب یوونٹس چھوڑ کر انگلینڈ کی فضاؤں میں واپس آنے کا فیصلہ کیا تو مانچسٹر سٹی ان کے حصول کے لیے پیش پیش تھی لیکن رونالڈو نے اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے کسی اور پر نہیں بلکہ سر ایلکس فرگوسن پر بھروسہ کیا جن کے مشورے نے رونالڈو کے لیے فیصلہ کرنے میں آسانی پیدا کر دی۔

یہی وجہ ہے کہ مانچسٹر یونائیٹڈ سے معاہدے کی تکمیل کے فوراً بعد رونالڈو نے اس واپسی کو سر ایلکس فرگوسن کے نام کرتے ہوئے کہا ʹسر ایلکس یہ آپ کے لیے ہے۔‘

رونالڈو اور فرگوسن

Getty Images

’رونالڈو کو سائن کیے بغیر نہیں جاؤں گا‘

کرسٹیانو رونالڈو کی اٹھارہ سال پہلے سپورٹنگ لزبن سے مانچسٹر یونائیٹڈ میں شامل ہونے کی کہانی بڑی دلچسپ ہے جس کا ذکر سر ایلکس فرگوسن نے اپنی سوانح عمری میں تفصیل سے کیا ہے۔

وہ لکھتے ہیں ʹجب کارلوس کیوروش اسسٹنٹ مینیجر کی حیثیت سے مانچسٹر یونائیٹڈ میں آئے تو انھوں نے مجھے بتایا کہ پرتگال کے کلب سپورٹنگ لزبن کا سترہ سالہ نوجوان کھلاڑی ہے جس پر ہمیں نظر رکھنی چاہیے کیونکہ وہ خاص قسم کا ہے۔‘

سر ایلکس فرگوسن کہتے ہیں ʹہم نے جم رائن کو پرتگال بھیجا تاکہ وہ اس نوجوان کا میچ دیکھ کر ہمیں بتا سکیں، انھوں نے واپس آ کر کہا ’زبردست‘۔ ہم نے فوری طور پر رونالڈو کا نام سپورٹنگ لزبن کو دے دیا لیکن ہمیں جواب ملا کہ وہ انھیں مزید دو سال رکھنا چاہتے ہیں۔‘

سر ایلکس فرگوسن کہتے ہیں ʹاسی دوران مانچسٹر یونائیٹڈ کی ٹیم نے 2004 کی یورپیئن چیمپئن شپ کی تیاری کے سلسلے میں ایک میچ سپورٹنگ لزبن کے خلاف کھیلا۔

’اس میچ میں رونالڈو نے اپنی جھلک دکھائی۔ میں نے مانچسٹر یونائٹڈ کے چیف ایگزیکٹیو پیٹر کینئن سے کہا کہ جب تک ہم رونالڈو کو سائن نہیں کر لیتے گراؤنڈ سے باہر نہیں جائیں گے۔ کینئن نے جب سپورٹنگ لزبن کے حکام سے اجازت مانگی کہ کیا وہ رونالڈو سے بات کر سکتے ہیں تو انھیں بتایا گیا کہ ریال میڈرڈ نے پہلے ہی ان کے لیے 80 لاکھ پاؤنڈ کی پیشکش کر رکھی ہے۔‘

سر ایلکس فرگوسن کہتے ہیں ʹمیں نے اس موقع پر پیٹر کینئن سے کہا کہ ’فوری طور پر انہیں 90 لاکھ پاؤنڈ کی پیشکش کر دیں۔ میں نے اس موقع پر رونالڈو سے بھی بات کی کہ یونائیٹڈ انھیں سائن کرنا چاہتی ہے۔

’انہیں یہ بھی بتایا کہ ہم آپ کو ہر ہفتے نہیں کھلائیں گے لیکن آپ بہت جلد فرسٹ الیون کے کھلاڑی بن جائیں گے۔ آپ ابھی سترہ سال کے ہیں ہم آپ کا خیال رکھیں گے۔ ہم ان سے معاہدے میں دیر نہیں کرنا چاہتے تھے اس لیے فوری طور پر رونالڈو کی والدہ بہن اور ان کے وکیل کو بھی بلوا لیا گیا۔‘

فرگوسن نے اپنی کتاب میں لکھا ہے ’اس رات میں جیک لندن کے ناول پر مبنی فلم وائٹ فینگ دیکھ رہا تھا جو کلون ڈائیک میں سونے کی تلاش سے متعلق تھی۔ اس روز لزبن میں مجھے بھی یہی کچھ محسوس ہو رہا تھا۔ میں بھی کسی کی تلاش میں تھا۔ یہ تلاش ایک کروڑ 20 لاکھ پاؤنڈ کے معاہدے کے تحت پایہ تکمیل کو پہنچی تھی۔‘

رونالڈو اولے اور فرگوسن

Getty Images

’رونالڈو میرے تمام کھلاڑیوں میں سب سے بہترین‘

سر ایلکس فرگوسن اپنی سوانح عمری میں لکھتے ہیں ʹمیں نے آج تک جتنے بھی کھلاڑیوں کے ساتھ کام کیا ان میں رونالڈو سب سے زیادہ خداداد صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ یہ ایک خاص قسم کا ٹیلنٹ تھا اور بحیثیت مینیجر میرے لیے ایک زبردست تجربہ بھی تھا۔‘

سر ایلکس فرگوسن ان دنوں کو یاد کرتے ہیں جب رونالڈو مانچسٹر یونائیٹڈ میں نئے آئے تھے ان کے انداز سے ظاہر ہو گیا تھا کہ وہ آسانی سے ہار ماننے والے کھلاڑی نہیں ہیں اور اپنے حوصلے اور اعتماد سے انھوں نے جلد ہی مینجمنٹ اور ساتھی کھلاڑیوں کے دل میں جگہ بنا لی تھی۔

سر ایلکس فرگوسن کہتے ہیں ʹآپ رونالڈو کا کوئی بھی میچ ویڈیو پر دیکھ لیں ان میں کوئی بھی میچ ایسا نہیں ہے جس میں انھوں نے گول کرنے کے کم از کم تین مواقع اپنے کھلاڑیوں کے لیے پیدا نہ کیے ہوں۔‘

ٹریننگ میں چلانا اور ڈرامہ رچانا

سرایلکس فرگوسن بتاتے ہیں کہ ’ابتدا میں ٹریننگ کے دوران جب کوئی رونالڈو سے گیند حاصل کرنے آتا تو وہ زور سے چلاتے تھے لیکن پھر انھیں اندازہ ہو گیا کہ اس طرح کے ڈرامے سے وہ کسی کی توجہ حاصل نہیں کر سکتے اور شورمچانے کا کوئی فائدہ نہیں تو انھوں نے یہ سلسلہ بند کر دیا۔‘

البتہ مانچسٹر یونائیٹڈ کے آخری سیزن میں انھوں نے فاؤل پر فائدہ حاصل کرنے کے لیے متعدد بار ڈرامہ بھی رچایا۔ بولٹن کے خلاف انھوں نے اسی طرح پنالٹی بھی حاصل کی جو حقیقت میں بنتی نہیں تھی۔

رونالڈو

Getty Images

’یہ میچ میں ہیڈ سے گول نہیں کرتا‘

فرگوسن کو اپنے اسسٹنٹ منیجر والٹر اسمتھ کی وہ بات یاد ہے جب انھوں نے کہا کہ ’آپ ہمیشہ کہتے ہیں کہ رونالڈو ہیڈ سے گول کرنے میں کمال رکھتے ہیں لیکن وہ ایسا صرف ٹریننگ میں کرتے ہیں میچ میں نہیں۔‘

چند روز بعد جب برمنگھم کے خلاف میچ میں رونالڈو نے ہیڈ سے گول کیا تو فرگوسن نے پلٹ کر والٹر سمتھ کی طرف دیکھا تو انھوں نے فوراً جواب دیا ’مجھے معلوم ہے، مجھے معلوم ہے۔‘

رونالڈو کی خواہش لیکن فرگوسن کی ضد

سر ایلکس فرگوسن اکثر اپنے اسسٹنٹ کارلوس کیوروش سے یہ پوچھا کرتے تھے کہ ہم کب تک رونالڈو کو مانچسٹر یونائیٹڈ میں رکھ پائیں گے جس پر کارلوس کا جواب ہوتا تھا کہ اگر رونالڈو پانچ سال یہاں گزارنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ آپ کی جیت ہو گی کیونکہ ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے کہ پرتگال کا ایک سترہ سالہ کھلاڑی کسی دوسرے ملک جائے اور اتنا لمبا عرصہ وہاں گزار سکے۔

یہ بھی پڑھیے

رونالڈو کی مانچسٹر یونائیٹڈ میں ڈرامائی واپسی: ’پوری دنیا جیسے رک سی گئی ہو‘

رونالڈو کی ’معمولی سی حرکت‘ اور کوکا کولا کو چار ارب ڈالر کا نقصان

’چھپانے کو کچھ نہیں اس لیے کسی کا خوف بھی نہیں‘

رونالڈو کا غصے میں پھینکا ہوا آرم بینڈ 75 ہزار ڈالر میں نیلام

سرالیکس فرگوسن کہتے ہیں کہ ʹرونالڈو نے یونائٹڈ کے ساتھ چھ سال گزار دیے یہ ہمارے لیے بونس تھا۔ اس دوران ہم نے یورپیئن کپ اور پریمیئر لیگ کے تین ٹائٹل جیتے تھے۔‘

پھر وہ وقت بھی آن پہنچا جب رونالڈو نے ریال میڈرڈ کی مشہور سفید شرٹ پہننے کی خواہش ظاہر کر دی۔ سر ایلکس فرگوسن کو بخوبی اندازہ تھا کہ اگر ریال میڈرڈ نے 80 ملین پاؤنڈ پیش کر دیے تو رونالڈو کو جانا ہی پڑے گا لیکن ریال میڈرڈ کے اعلیٰ حکام کے رویے نے سر ایلکس فرگوسن کو مشتعل کر دیا تھا جسے وہ ’متکبرانہ‘ قرار دیتے ہیں۔

رونالڈو اور فرگوسن

Getty Images

سر ایلکس فرگوسن کہتے ہیں ʹریال میڈرڈ کے صدر فلورینٹینو پیریز نے دنیا کے سامنے یہ بیان دیا تھا کہ ہم ریال میڈرڈ ہیں ہم سب سے بڑے ہیں۔

’یہ ان کا ایک چالاک انداز ہوا کرتا تھا کہ کس طرح دنیا کے مشہور کھلاڑیوں کو حاصل کرنا ہے۔ پیرز سے قبل ان کے سابق صدر ریمن کالڈرن نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ رونالڈو ایک دن ریال میڈرڈ کے کھلاڑی بنیں گے۔‘

سر ایلکس فرگوسن کو رونالڈو کی اہمیت اور اپنی عزت کا بخوبی اندازہ تھا۔ انھوں نے فیصلہ کر رکھا تھا کہ جو کلب بھی ریکارڈ مالیت کی پیشکش کرے گا وہ رونالڈو کو اسی کے حوالے کریں گے۔

فرگوسن نے رونالڈو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا ’مجھے معلوم ہے کہ تم ریال میڈرڈ جانا چاہتے ہو لیکن ریمن کالڈرن نے معاملے کو جس طرح بگاڑا ہے میں ایسے میں تمہیں گولی مار دوں گا لیکن اس سال تمھیں ہرگز نہیں جانے دوں گا۔‘

آنکھ مارنا رونالڈو کو مہنگا پڑ گیا

سنہ 2006 کے عالمی کپ کے کوارٹرفائنل میں انگلینڈ اور پرتگال کی ٹیمیں مدِمقابل تھیں۔ دو دوست وین رونی اور کرسٹیانو رونالڈو مخالف سمت میں ایک دوسرے کے سامنے موجود تھے۔اس دوران پرتگال کے دفاعی کھلاڑی ریکارڈو کاروالو سے گیند چھیننے کی کوشش میں وین رونی نے انھیں لات ماری جسے وہ غیرارادی کہتے ہیں تاہم اس دوران دوسرے کھلاڑی بھی جمع ہو گئے اور رونی نے رونالڈو کو دھکا دیا۔

اس صورتحال میں رونی کو ریڈ کارڈ دکھایا گیا لیکن اس واقعے کا حیران کن لمحہ جسے کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کیا وہ رونالڈو کا اپنی ٹیم کے بینچ کی طرف دیکھتے ہوئے آنکھ مارنا تھا۔

رونالڈو

Getty Images

درحقیقت وہ رونی کو ریڈ کارڈ دکھانے کے لیے ریفری پر دباؤ ڈالنے میں پیش پیش بھی تھے۔

سر ایلکس فرگوسن کہتے ہیں ʹاس صورتحال میں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ یہ دونوں کھلاڑی دوبارہ ایک ساتھ مانچسٹر یونائیٹڈ میں نہیں کھیل پائیں گے۔ رونالڈو کو بھی بخوبی اندازہ تھا کہ وہ کشتیاں جلاچکے ہیں اور ان کے لیے دوبارہ مانچسٹر یونائیٹڈ جانا ممکن نہیں ہو گا۔

’میڈیا انھیں مار ڈالے گا لیکن اس دوران وین رونی نے بڑے دل کا مظاہرہ کیا اور رونالڈو سے متعدد بار بات کی اور انھیں یقین دلایا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا جیسا وہ سوچ رہے ہیں۔‘

سر ایلکس فرگوسن کا کہنا ہے ’اس واقعے کے بعد جب رونالڈو مانچسٹر یونائیٹڈ کی طرف سے پہلا میچ کھیلنے میدان میں اترے تو میں ڈائریکٹرز باکس سے دیکھ رہا تھا کہ ایک شخص رونالڈو کو نامناسب انداز میں مخاطب کر کے شور مچا رہا تھا لیکن پہلا ہاف ختم ہونے سے پانچ منٹ پہلے رونالڈو کو گیند ملی انھوں نے چار کھلاڑیوں کو ڈاج دیا اور بھرپور شاٹ سے اسے گول میں پہنچا دیا۔

’اب وہ شخص اس کے بعد اپنی نشست سے دوبارہ اٹھنے کی ہمت نہیں کرسکا تھا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words